You are currently viewing اردو فکشن:تفہیم و تجزیہ(تنقیدی مضامین)

اردو فکشن:تفہیم و تجزیہ(تنقیدی مضامین)

 

اردو فکشن:تفہیم و تجزیہ(تنقیدی مضامین)

 مصنف:ابراہیم افسر

ضخامت:240صفحات

قیمت:399روپے

اشاعت:2025

ناشر:اصیلا آفسیٹ پرنٹرس،کلاں محل،دریا گنج،نئی دہلی110002-

 مبصر:تنویر احمد،ریسرچ اسکالر،شعبہ اُردو،دہلی یونی ورسٹی،دہلی110007-(موبائل6006499352)

          عصر حاضر میں تفہیم رشید کے حوالے سے کوئی بھی ادبی بحث ابراہیم افسر کا ذکر کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔رشید شناسی کے حوالے سے ابراہیم افسر ایک خاص پہچان و اعتبار حاصل کر چکے ہیں اس بات کا اندازہ رشید حسن خاں کے حوا لے سے ان کے تحقیقی و تنقیدی کارناموں سے لگایا جاسکتا ہے پیش نظر کتاب”اردو فکشن:تفہیم و تجزیہ“سے پہلے ابراہیم افسر کی تقریبا ایک درجن کتابیں: رشید حسن خاں تحریروں کے آئینے میں (دو جلدیں)،رشید حسن خاں کے انٹرویوز،نیر مسعود بہ نام رشید حسن خاں،رشید حسن خاں کی غالب شناسی،رشید حسن خاں کے تبصرے و تجزیے،رشید حسن خاں کی ادبی جہات، معیار و میزان (رشید حسن خاں کی کتابوں پر تبصرے اور تجزیے)، مشاہیر ادب کے خطوط رشید حسن خاں کے نام شائع ہوچکی ہیں۔ان کے علاوہ فراز کے حوالے سے دو کتابیں ”احمد فراز کے انٹرویوز“، ”احمد فراز کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ“ اور”صادق کے ہندی مضامین“ منظر عام پر آ کر ادبی حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔

          اردو اکادمی دہلی کے تعاون سے شائع ہوئی زیرِ تبصرہ کتاب اردو فکشن: تفہیم و تجزیہ، مطالعہ رشید سے ہٹ کر فکشن تنقید کے حوالے سے ابراہیم افسر کی پہلی کوشش ہے۔کتاب کے آغاز میں ”فکشن تنقید کا نیا استعارہ” کے عنوان سے ڈاکٹر محمد مستمر نے اور ”ابراہیم افسر کی فکشن شناسی” کے عنوان سے توصیف بریلوی نے ابراہیم افسر کی تحقیق و تنقید پر عمدہ گفتگو کی ہے۔پیش لفظ میں ابراہیم افسر نے فکشن کے ساتھ اپنی دلچسپی اور کتاب کے وجود میں آنے کے محرکات پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب میں فکشن تنقید کے حوالے سے الگ الگ عنوانات کے تحت مندرجہ ذیل بیس مضامین شامل ہیں۔ارتضی کریم کی تنقید فہمی ‘عجائب القصص’کے تناظر میں،ناول ”غالب” کا تنقیدی تجزیہ،ناول ”دھنورا” کا تجزیاتی مطالعہ،سماجی رزمیہ:ناول ”لفظوں کا لہو”،ناول ”جے این یو کمرہ نمبر 259” کا تنقیدی جائزہ،ڈراما ضحاک کی عصری معنویت،ڈراما اس شکل سے گزری غالب کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ،اردو فکشن کا داستان گو:انتظار حسین،صادق کی فکشن تنقید کا جائزہ،ہیرا نند سوز کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ،طارق جمیل کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ،اردو فکشن کی عہد ساز ادیبہ:بانو آپا،ستیہ پال آنند کے منتخب افسانے کا تنقیدی مطالعہ،”کہانی محل” کا تنقیدی جائزہ اور چند معروضات،نفسیاتی تجسس کی ترجمان افسانہ نگار: شائستہ فاخری،نگار عظیم کے افسانوں میں عورت کا بدلتا روپ،احمد رشید (علیگ) کے افسانوں میں اساطیری بیانیہ،افرازی نظام اور جنسی نفسیات کا ترجمان: محمد مستمر،نسل نو کا نمائندہ افسانہ نگار:توصیف بریلوی  اور ایک عورت کی نوٹ بک کا تنقیدی جائزہ۔

          کتاب میں شامل مضامین نہ صرف تنقید کی فنی کسوٹی پر کھرا اترتے ہیں بلکہ مکمل تنقیدی شعور اور آگاہی کا بین ثبوت ہیں۔یہ مضامین ابراہیم افسر کے مطالعے کی گہرائی اور گیرائی کی سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ابراہیم افسر کے یہاں فکر و نظر کے ساتھ تنقیدی زبان بھی سلجھی ہوئی اور عام فہم ہے جس سے قاری کسی الجھن کا شکار نہیں ہوتا۔کتاب میں شامل پہلے مضمون ”ارتضیٰ کریم کی تنقید فہمی عجائب القصص کے تناظر میں ”میں ابراہیم افسر ارتضیٰ کریم کی تنقیدی بصیرت پر گفتگو کرتے ہیں۔ عجائب القصص کا تنقیدی جائزہ ارتضیٰ کریم نے اپنے ایم فل کے مقالے میں پیش کیا تھا۔ابراہیم افسر اس مضمون میں ارتضیٰ کریم کے تحقیقی مطالعہ کی روشنی میں ایک خاص نقطے کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اردو داستانوں میں عام فہم اور سادہ اسلوب کے حوالے سے باغ و بہار کے ساتھ ساتھ عجائب القصص بھی اپنی خاص اہمیت و افادیت رکھتی ہے۔ مضمون میں علامہ اقبال کی نظم غلام قادر روہیلہ کی یک طرفہ بیانی کو بھی اپنی گفتگو کا حصہ بنایا ہے۔

          مضمون ”ڈراما ضحاک کی عصری معنویت”میں ابراہیم افسر محمد حسن کی ڈراما نگاری بالخصوص ڈرامہ ضحاک کے حوالے سے مدلل گفتگو کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ ڈراما ضحاک صرف ایمرجنسی کا المیہ نہیں ہے بلکہ ظالم و جابر اور تشدد کرنے والے ہر ایک حکمراں کی کہانی ہے۔ڈرامے میں محمد حسن نے اشتراکیت کی زبان اختیار کر کے جس طرح  اشتراکیت کا پرچار کیا ہے اسے بھی زیر بحث لایا ہے،فریدوں کے جملے اس کی بین مثال ہیں۔سب سے اہم بات موصوف نے ڈرامے کے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوے موجودہ حالات میں ڈرامے کی معنویت پر قابل تحسین گفتگو کی ہے واقعی ہی اکیسویں صدی کی ان کی دو دہائیوں میں یہ ڈرامہ اپنی پوری  معنویت کے ساتھ زندہ ہے۔”ڈراما ‘اس شکل سے گزری غالب’ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ” بھی نہایت عمدہ مضمون ہے۔یہ مضمون نہ صرف صادق کی تحقیق و تلاش کا پتادیتا ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ غالب کے سفر کلکتہ اور پنشن کے مقدمات کی روداد بیان کرتا ہے۔مضمون میں غالب پر لکھے جانے والے ڈراموں کی فہرست کے ساتھ غالب کی ضد،خود داری اور مقاصد کے حصول میں ہمیشہ سرگرداں رہنے کا ذکر بھی ہے۔صادق کی اردو،ہندی واقفیت پر بھی بات ہوئی ہے۔غالب کے سفر کلکتہ اور پنشن کے مقدمات کے حوالے سے صادق کے اس ڈرامے کی روشنی میں ابراہیم افسر کا یہ مضمون نہایت معلوماتی ہے۔جے این یو کمرہ نمبر 259 مضمون میں موصوف نے بڑے بے باک انداز میں ناول کے محاسن و معائب دونوں پر بحث کی ہے خاص کر ناول کے اسلوب میں انشائیہ نگاری کی جھلک اور صحافتی رنگ کی نشاندہی کرتے ہوئے اچھی خاصی تنقیدی گفتگو کی ہے۔

          ”سماجی رزمیہ ناول لفظوں کا لہو” مختصر لیکن عمدہ مضمون ہے۔سلمان عبدالصمد کی نفسیات شناسی یا مطالعہ نفسیات اور ”لفظوں کا لہو”کے حوالے سے موصوف نے آسان عام فہم زبان میں اہم باتیں کی ہیں موصوف کا یہ جملہ توجہ طلب ہے ”یہ لکھوں کہ ناول نگار نے قاری کی نفسیات کو بھی اپنے قابو میں رکھا تو مبالغہ نہ ہو گا” مضمون پڑھ کر معلوم ہوتاہے کہ ناول نگار نے سماجی مسائل،زرد صحافت،عورتوں کے حقوق و آزادی کے ساتھ زندگی کے دیگر شعبوں کے مسائل پر بات کی ہے۔”اردو فکشن کا داستان گو:انتظار حسین”مضمون میں موصوف نے نہایت سلیقے کے ساتھ انتظار حسین کی ادبی زندگی کو موضوع بحث بنایا ہے،انتظار حسین کے ادبی کارناموں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کے فکر و فن پر مدلل بحث کی ہے۔انتظار حسین کی فکشن کے موضوعات،اسلوب و آہنگ اور فنی انفرادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔انتظار حسین کے یہاں ہجرت کا کرب،تقسیم کا المیہ اور اسلوب میں داستانوی رنگ و آہنگ اور ناسٹلجیا کی منطق نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔موصوف نے ان سب اوصاف کے حوالے سے انتظار حسین کے اہم افسانوں:آخری آدمی،زرد کتا،کچھوے،شہر افسوس،دیوار،آخری موم بتی،خواب اور تقدیر اور سیڑھیاں وغیرہ پر عمدہ تجزیاتی گفتگو کی ہے۔”اردو فکشن کی عہد سازادیبہ:بانو آپا”بانو قدسیہ کی فکشن کے حوالے سے ابراہیم افسر کا یہ مضمون معلوماتی نوعیت کا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ بانو قدسیہ کی ادبی زندگی کا آغاز ایسے وقت میں ہوتا ہے جب اردو فکشن کے معتبر نام افسانوی ادب کے دستے کی قیادت کر رہے تھے۔بانو قدسیہ بھی اس دستے کا حصہ بنیں اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب بانو نے افسانوی ادب کی رہنمائی کی۔موصوف نے بانو کی حیات و خدمات کا نقشہ کھینچتے ہوے ان کے شاہکار ناول ”راجہ گدھ” کے تنقیدی مطالعے کی روشنی میں ان کے فن پر بہترین گفتگو کی ہے۔مضمون میں بانو کے ادبی سفر کے آغاز و ارتقا،افسانوی مجموعوں،ٹی وی و ریڈیائی ڈراموں اور ناولوں کا تعارف کراتے ہوے،ان کے فنی اختصاص پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔

          المختصر کتاب کی ورق گردانی کے بعد میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اردو فکشن: تفہیم و تجزیہ جانبداری اور تنقیص کے غیر تنقیدی رویوں سے بہت دور صحت مند ادبی تنقید کا بہترین نمونہ ہے۔موصوف نے تنقیدی بحث میں تجزیاتی و تاریخی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے بالکل عام فہم و سادہ تنقیدی اسلوب میں فکشن تنقید و تفہیم کی عمدہ مثال پیش کی ہے۔

Leave a Reply