You are currently viewing افسردگی

افسردگی

  سہیم الدین خلیل الدین صدیقی

اورنگ آباد ،دکن

(۱)

افسردگی

          وہ کئی دنوں سے پریشان حال تھا۔کہیں ملازمت نہیں مل رہی تھی۔اب دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہوچکے تھے وہ کئی انٹرویو دے چکا تھا۔اُس کے والد اس سے بس اتنا کہتے کے انسا ن کو کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔اسی حوصلے نے اسے ہارنے نہیں دیا۔آج اُس کاانٹرویو تھا۔

           ماں نے جلدی جلدی ناشتہ تیار کر کے اس کے لیے دسترخوان بچھا دیا،اس نے جلدی جلدی ناشتہ کیاپھروہ بس اسٹاپ پر پہنچ گیا اورلمبی قطار میں کھڑا کئی لوگوں کو دیکھنے لگا۔ کوئی آفس کو جارہے ہیں،کوئی اخبار پڑ رہاہے،چائے کی دکان میںٹی وی پر نیوز چل رہی ہے،وہ بس کا انتظارکررہاہے۔پھر بس آتی ہے وہ اُس میں داخل ہوتا ہے ، اُس بس میںاتنی بھیڑ ہے کہ تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں ہے،وہ کسی طرح قدم بڑھاتے ہوئے بس میں چڑھ گیا۔

          اب وہ سوچ رہا ہے کہ مجھے اگر آج ملازمت مل جائے توکئی مسائل حل ہو جائیں، وہ اسی سوچ میں محو تھا کہ بس ٹھہرگئی، وہ بس سے اُترگیا۔سامنے ہی سٹی پوسٹ آفس تھاجہاں اس کا آج انٹرویو تھا،وہ اندر داخل ہوتاچلا گیا ، لمبی قطار میں بیٹھے دوتین گھنٹے انتظار کرنے کے بعد اس کا نمبر آیا۔

          کلرک آواز لگائی۔

          امجد حیدر!

           وہ ۔۔۔م مـ مـ۔۔۔میں ہوںکہتے ہوئے اُٹھتا ہے۔

           کلرک اس کانام وپتہ رجسٹر میںتحریر کرتاہے۔

          امجد حیدر اندرکے کمرے میں داخل ہوتا ہے، وہاں چار آفسر بیٹھے ہوے ہیں،وہ اپنے تمام اسنادسے بھری فائل انکی طرف بڑھاتا ہے،وہ آفسراس کی اسنادکو دیکھتے ہیں پھر انٹرویوشروع ہوتا ہے۔آفیسرکہتاہے :

          ’’آپ کا نام کیاہے ؟‘‘

          امجد جواب دیتا ہے ، شیخ امجد حیدر!!

          آفسر پوچھا ، ذرا آپ اپنی کو لیفیکشن سے متعلق بتا ئیے۔

          وہ جواب میں کہتا ہے،میںB.Aگرایجویٹ کے ساتھ ساتھMS-CIT, اور Typing فسٹ کلاس پاس ہوں۔

          کچھ دیر آفسرس امجد کے اسناد دیکھتے ہیں، پھر اُسے سلیکٹ کرتے ہیں، اُسے دوسرے دن سے کام پر آنے کی ہدایت ملتی ہے، وہ خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ آتاہے۔ اپنے والدین کو اس با ت کی خوش خبری سناتا ہے ،سب مل کر رات کا کھانا کھاتے ہیں،کچھ دیر تک باتیں کرتے ہیں،پھر امجداپنے کمرے میںچلا جاتا ہے، بستر پر آرام کرتے ہوئے سوچتا ہے ، کل آفس کا پہلا دن ہے، وہ دن کس طرح سے گز ر ے گا،کون میرا دوست بنے گا۔اور کون میراد۔و… نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔خدا بچائے ۔کل ۔آفس کے منیجرکا مزاج کس طرح ہوگا پھر کئی کروٹے بدلنے کے بعد اُسے نیندآتی ہے۔

          صبح ہوتی ، ماںآوازدیتی ہے،

          بیٹاامجد!!

           اُٹھ جائو صبح ہو گئی  آفس جاناہے،

          وہ اُٹھ جاتاہے، غسل کرتاہے،چائے پیتاہے، ناشتہ کرتاہے،اور پھر آفس کے لئے نکلتا ہے،بس اسٹاپ کی قطا ر میںکھڑا ہوتا ہے۔ کچھ دیر انتظارکے بعدوہ بس میں بیٹھ کرپوسٹ آفس جاتا ہے،کھڑکی سے وہ باہر دیکھتاہے کے بہت اونچی اونچی عمارتیں کھڑی ہیں، اُن عمارتوںمیں بڑی بڑی دُکانیں ہیں، کئی مختلف اقسام کی گاڑیاں چل رہیں ہیں۔اور بچّے اسکول جارہے ہیں، لوگ سینکڑوں کی تعداد میں راستے پرچل رہے ہیں،پھر یکایک بس ٹہرتی ہے امجد بس سے اُترتا ہے۔

          سامنے ہی پوسٹ آفس ہے،وہ اندر داخل ہوتاہے،کیا دیکھتا ہے کہ پچاس سے بھی زائد افراد وہاں موجودہیں،اور وہ سب اپنے اپنے کاموں میںمصروف ہیں،سامنے ہی میزکے پاس ایک کُرسی خالی ہے وہ اُس کرسی کے قریب جاتا ہے اور اس پش وتاب پڑجاتا ہے کہ کیا میں اس کرسی پر بیٹھ جائویا نہیں۔! ابھی اس پیش وتاب سے باہر نکلا بھی نہیں تھاکے اس کے قریب میں ایک پچاس پچپن سال کا بوڑھا کلرک اس کے قریب آجاتاہے۔ اس کلرک کی آنکھوںپربڑے بڑے کانچ کاعینک ہے۔وہ کلرک امجد سے پوچھتاہے،کیا  آپ نئے کلرک ہوں؟

          وہ جواب دیتا ہے،  جی  ہاں ۔!

          آج ہی جوائن کیا ہے۔

      سنیئرکلرک  اُسے اس کا کام سمجھاتا ہے اور اپنا تعارف کراتا ہے کہ میں نیتیش مہتہ ہوں،اور آپ کا نام کیا ہے؟ وہ نوجوان کہتا ہے۔

          میرانام امجد حیدر ہے۔

          پھر وہ دونوں اپنی اپنی میز پر بیٹھتے ہیں،دونوںکی میزیں قریب قریب ہیں،وہ کام بھی کرتے ہیںاور کچھ وقفہ وقفہ سے باتیںبھی کرتے رہتے ہیں، اب دونوں میںگہری دوستی ہوجاتی ہے۔ نتیش مہتہ عمر رسید شخص ہے اوراُنکا تعلق ایک متوسط خاندان سے ہے ،وہ بڑے ہی سنجیدہ ،خوش مزاج شخص ہے، وہ دوپہر کا لنچ ساتھ کرتے ہیں اور خو ب باتیں بھی کرتے ہیں،اب دن کا کام ختم ہونے کو ہے۔لوگ منھ ہاتھ دھورہے ہیں،امجد کہتا ہے:

           مہیتا جی!

            آپ کی  فیملی میں کون کون ہیں، مہیتہ جی کہتے ہیں۔

          میں ،میری پتنی ،اوردولڑکیاں،اتنا کہے کر وہ خا موش ہوگئے۔

          اُس نے پوچھا !

          ’کیالڑکیوںکی شادی ہوچکی ہیں؟

          اُنھوںنے ٹھنڈی آہ بھری اور لمبی سانس بھر کر کہنے لگے، رشتے تو کئی آئے لیکن لڑکیاں انکار کر دیتی ہے۔

          امجد نے پوچھا!

           بھلا ایسا کیوں۔۔۔۔؟

          مہیتا جی کچھ دیر خامو ش رہے پھر دبی دبی آواز میں کہنے لگے۔

           کیا بتائو ں اب امجد صاحب!

           یہ کہتے ہوئے ان کاجی بھر آیا۔۔۔!

          وہ مزیدکچھ ہمت جوٹاکرکہنے لگے۔

      لڑکے والوں کو جہیز دینا پڑے گا،اس مہنگا ئی کے دور میںگزارا مشکل سے ہوتا ہے۔ کچھ روپیئے بچیوں کی پڑھائی میں صرف ہوجاتے ہیں،کچھ بیوی کی بیماری پر اورجو کچھ بچتے ہیں وہ گھر کے خرچ میں ختم ہوجاتے اوراب اس مہنگائی کے دور میں لڑکے والے لاکھوں روپیئے مانگتے ہیں۔ اس بات کا احساس میری لڑکیوں کو بخو بی ہیں،اور اس بات کی بھی فکر ستاتی ہے کہ لڑکے والوںکی ڈیمانڈسے کم دوںتو کہیں وہ میری لڑکیوں کے سا تھ ظالمانہ سلوک  نہ کریں، اور اس ظلم کو نہ سہے پانے کے کارن میری لڑکیاں کچھ غلط قدم نا اُٹھائے جیسے روزانہ نیوز پیپر س میں ہم پڑھتے ہیںیا ٹی وی پردیکھتے ہیں اس با ت سے میرا جی گھبراتا ہے،دیکھتے ہیں ،بھگوان کی کیا مرضی ہے۔ کبھی تو کوئی ایساملے گا جسے ہُنڈے کا کوئی لالچ ناہو،اتنا کہتے ہی ان کادل بھر آ یا آنسوں پلکو ں پر تھم گئے۔

           امجد افسردہ ہو گیا،وہ سوچنے لگا خُدانے انسان کے دلوںمیںلالچ کیوںڈالی ہوگی،اس کا مقصدکیا ہوگا؟کیاکبھی ایسا بھی دور آئیگا جو لڑکیاں جہزکے وجہ سے اپنے گھر پر بیٹھے نہ رہیں ،کیا کبھی اُنکی شادیاں ہوگی۔لڑکے جہز کی مانگ کرنا بند کرینگے ،اتنے میں آفس چھوٹ گیا،مہیتہ جی اور امجد دونوں خاموشی سے دھیرے دھیرے قدم رکھتے ہوئے آفس کے سیڑھیاں اُتر رہے ہیں، گویا قدموں میں کوئی جان نہ ہو اور منھ میں زبان نہ ہوں۔

(۲)

          اسی بے چینی میں امجد اپنے گھرپہنچا ماں نے اسے گرم پانی مُنھ ہاتھ دھونے کے لئے دیا، لیکن اُس کے چہرہ کی وہ اُداسی ختم نہ ہوئی۔ما ں نے کھانا پروسہ لیکن اُس نے روزانہ کے معمول سے کم کھایا،اور اپنے کمرے میںچلا گیا،ماں اس کے بدلے ہوئے بر تائو کو سمجھ گئی،اور امجد کے پیچھے اس کے کمرے میں چلی گئی اور اُس کی ادا سی کا سبب پوچھا۔

           امجد مہتا جی کا سارا احوال سنایا اُس کی ماں نے اُسے تسلی دی کے اس دُنیا  میںجتنے بُرے و لالچی لوگ ہیں اُتنے ہی اچھے اور ایماندار لوگ بھی ہوتے ہیں ۔ اُنھیں بھی اچھے داماد ضرورملے گا بے شک خدا صبر کرنے والے کے ساتھ ہوتاہے۔اب تم سو جاو صبح آفس جانا ہے،یہ کہہ کرامجد سے رخصت لی ۔

          لیکن ابھی بھی وہ کروٹے بدل رہاتھا ، وہ سوچ رہا تھاکہ کیا کبھی لالچ کا دورختم ہوگا، لوگ اپنے بھلائی کے ساتھ ساتھ دوسروںکے بارے میں سوچنے لگے نگے کیوں نہ اس کی شروعات اپنے ہی گھر سے کی جائے ،کیا میں انکی لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں؟

          کیا میں مہتا جی کو اس بات کی خبر دوں، کیا میںاپنے والدین کو یہ بات بتاوں کیا میری بات وہ مانے نگے، لیکن  مذہب اس کی آزادی دیتا ہے۔۔۔!

            وہ ہندو اور میں مسلم، سماج کیا کہے گا، اسی بے چینی میںساری رات امجد کروٹے بدل بدل کر کانٹتا ہے، وہ ْصبح جلدی اُٹھ کرآفس آتاہے۔

          اوروہ ادھر اُدھر دیکھتا ہے، کیا مہتاجی آگئے۔۔! اُس کی نگا ہیں آفس کے دروازے پر لگی ہے۔

          اتنے میں مہتا جی آتے ہیں،وہ انتہائی خوش مزاج معلوم ہوتے ہیں، امجد ان سے دریافت کرتاہے۔

          کیا بات ہے؟  مہتا جی ! کافی خوش نظرآرہے ہو۔

           وہ مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں، میری بڑی لڑکی کو دیکھنے کے لیے آج شام لڑکے والے آرہے ہیں۔مجھے لگتا ہے کل کچھ بات ضرور بن جائے گی۔ وہ دونوں خوشی خوشی کام کرتے ہیں، ہنسی خوشی اُس دن کا سارا کام ختم ہوتا ہے ، دونوں اپنے اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔

          اگلی صبح ہوتی ہے، امجد اور مہتہ جی دونوں اپنی اپنی میز پر خاموش بیٹھے ہیں۔

           امجددیکھ رہا ہے کہ مہتہ جی کے چہرہ پر پھر سے ایک مایوسی کی لہردکھا ئی دے رہی ہے۔ وہ ماتھے پر ہا تھ دھرے خاموش بیٹھے ہیں۔ آنکھیں نیچے کی طر ف کچھ تک رہی ہیں، امجد نے دریافت کیا۔

          مہیتا جی۔۔۔۔!

          مہتہ جی۔!! اُنہوںنے خاموشی سے اپنے سر کو اٹھایا،اور کھوئی ہوئی نگاہ سے دیکھنے لگے۔

          اُس نے پوچھا! کیا بات ہے ؟

          مہتہ جی بالکل خاموش ہے۔

          مہیتاجی کچھ تو بتائیے لڑکے والوںنے پھر کوئی ڈیمانڈرکھی ہے۔

          انہوںنے جواب دیا، نہیں بھائی ۔! ایسی کوئی بات نہیںہے ُان کی آنکھ بھر آئی۔ وہ کچھ دیر خا موش رہے پھر کہنے لگے۔

          لڑکے والوں کی کوئی ڈیمانڈ نہیں تھی۔  وہ تو شانا بشانا تیار تھے۔ لیکن، میری لڑکی نے انکار  ۔۔۔۔۔ ۔!  !  !

            اتنا کہتے ہی اُن کا جی بھر آیا اور خا موش ہوگئے۔

          انکار ۔ ۔۔لیکن کیو ں!

          امجد نے پھر دریافت کیا ! کیا لڑکے میں کوئی خامی تھی؟

          وہ کہنے لگے نہیںبھائی امجد ، لڑکا بہت اچھاتھا، اچھی شکل صورت تھی، وِدیش میں جاکر مہینے کے تیس چالیس ہزار کماتاہے ۔اپنے نذدیک کا ہے، لیکن کیا کریں میری بڑی لڑکی نے شادی سے انکار کردیا ۔

          امجد نے مزیدپوچھا بھلا ایساکیوں۔۔!

           مہیتہ جی کہنے لگے۔میری لڑکی کے دماغ میں شادی کرنے کاکوئی وِچار نہیں ہے۔اب تک اُسے جہیزکے کارن کئی لڑکے والو ں نے ٹھوکرادیاتھا، میں نہیں جانتاکے اُس کے ذہن میں کیاچل رہاہے،اب وہ کہتی ہے کے میں شادی نہیں کرنا چاہتی ہوں۔

           اس کے ماں نے۔ میںنے۔ اُسے بہت سمجھایاکہاکہ اس دور میں اکیلی لڑکی کا رہنا بہت مشکل ہے،وہ ہر جگہ تنہاہ کھڑی نہیں رہے سکتی ہے اُسے کہیں نہ کہیںکبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے، اکیلے سماج میں جینا بہت کٹھین ہوتاہے،سماج کی بُری نگاہ تنہاہ لڑکی کو اپنے ہوس کا نشانا بنانے میں زیادہ سمئے(وقت) نہیں لگاتی،ماں تیری دل کی مریض ہے اور باپ بوڑھا ہو چُکا ہے بھلا کب تک رہے گا۔، لیکن ویشوںپر کچھ اثر نہ ہوا۔

          الٹا وہی ہم سے کہنے لگی کہ’’ ماں آپ کو نسی صدی میں جی رہی ہو، آج قانون ہے،کورٹ کچہری ہے، ایجوکیشن ہے، ہر طرح کی سہولت ہیں، آج کے زمانہ میں لڑکیاں چاند پر پہنچ چُکی ہے،پردھان منتری ہے، بڑی بڑی کھلاڑی ہیں، ایکٹرسیس ، سائنٹیسٹ ، ایرہوسٹیس ، انجینئر ، ڈاکٹر ،کنڈیکٹر وغیرہ ہیں، اُنھیں کسی کاڈر نہیںہے،تومجھے کس کا ڈر ہے، آج لڑکیاں لڑکوں کے دوش  بدوش کام کرتی ہے،  میں بھی سرویس کرونگی ، جہاں تک شادی کا سوال ہے۔ بغیر شادی کے بھی زندگی جیئے جاسکتی ہیں وہ بھی ہنسی خوشی اورکامیابی کے ساتھ اور ایسی کامیاب عورتیںبھی ہمارے سامنے ہیں۔ آپ نے پرتیبھاتائی پاٹل، سوشمیتا سین ، کِرن بیدی وغیرہ کونہیں دیکھا ،سب کامیاب اور خود کفیل ہیں،میں بھی کامیاب اور خود کفیل بن سکتی ہوں، شادی کرنا گھر بسانا  صرف جنسی تعلق قائم اور بچے پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

           اتنا کہتے ہی  مہتہ جی کے آنکھوںسے آنسوں جاری ہوگئے۔

          امجد نے لمبی آہ بھرکر انھیںتسلی دیتے ہوئے کہا ،بھگوان پربھروسہ رکھو، سب ٹھیک ہوجائیگا،  اُس کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔

(۳)

          کئی مہینے گذر گئے اب امجد کا ٹرانسفر دہلی ہو گیا،تمام آفس کے لوگ اُسے الوداع کہہ رہے ہیں، اور روشن مستقبل کی دُعائیں دیتے ہیں، لیکن مہتہ جی کے آنکھوں  میں ایک ہمدردی اور چہرہ پر لاکھو سوال ہیں،گویا وہ امجد سے بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن لفظوں کا انبار ختم ہو چُکا ہیں۔مہتہ جی امجد کے رُخصتی میں ہاتھ ہلارہے ہیں۔

          امجد دہلی کے لئے کوچ کرتا ہے۔ پھر کچھ ددنوں تک دونوں کے درمیان خط کتابت ہوتی ہے اور آگے چل کر دھیرے دھیرے یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے ۔

          اب امجد کو وہاں پانچ چھے برس گزر جاتے ہیں ۔ لیکن ہر وقت ہرپل ممبئی کے آفس ،مہتہ جی اور دیگر ساتھیو کی یاد ستاتی رہتی ہے، اور ایک دن وہ کام کے سلسلے میںوہ اپنے ممبئی کے پرانے آفس آتا ہے۔وہاںآکر وہ کیا دیکھتا ہے کہ مہتہ جی کی میز پر کوئی اور نوجوان لڑ کا بیٹھاہواہے،وہ آفس کے دوسرے ورکر س سے مہتہ جی کے متعلق معلومات حاصل کرتا ہے کہ وہ کہا ںہے؟ تواسے یہ علم ہو تا ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔

          کیاکہا؟ امجد چونک جاتا ہے ، اورلمبی آہ بھرکر اُن کے آفسوس میںسٹپٹاکر کُرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر کچھ دیر بعد خود کو سنبھلتا ہے اور اپنے پرانے منیجر کے آفس میں داخل ہوتا ہے، اور منیجرسے کچھ رسمی باتیں کرنے کے بعد دریافت کر تا ہے کہ مہتہ جی کا دیہانت کب اور کیسے ہوا؟  منیجرآفسو س کرتے ہوئے  جواب دیتا ہے کہ:

          ُُ’آپ کے یہاں سے جانے کے دوسال بعدوہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔‘

           امجد آفسوس زدہ ہو جاتا ہے،اورآفس کا کام کسی طرح سے ختم کرکے وہ وہاں سے سید ھے مہتہ جی کے گھر چلاجاتا ہے ،لیکن اُن کے گھر پر کوئی نظر نہیں آتا ،وہ پڑوسیوں سے پوچھتا ہے۔

          مہتاجی کے گھر والے کہاںرہتے ہیں؟

          لوگ کہتے ہیں۔کچھ تین سال گزر ر چکے ہیں۔ مہتہ جی کی پتنی کادیہانت ہوئے،اُن کی پتنی کی موت کے دو ماہ بعدمہتہ جی گزر گئے، اُن کی بڑی بیٹی کو بھی یہاں سے گئے ہوئے کافی سمئے ہو چُکا ہے، پتہ نہیںوہ اب کہاں رہتی ہے،پڑوسیوںکی یہ  باتیں سُن کرامجد کی آنکھیں نم ہوجاتی ہے۔

          امجداپنا آفس ورک ختم کرکے واپس دہلی چلا جاتاہے۔

(۴)

          بیس بائیس بر س گزر جاتے ہیں، وہ اب ســینئر آفسر بن جاتا ہے،اب انٹرویو لینے کا کام اِس کے ذمہ دیا جاتا ہے، اُس کے آفس میں اب کلر ک کا انٹر ویو ہوتا ہے،تمام نوجوان لڑکے لڑکیاں انٹرویو کے لیے لمبی قطار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

           انٹر ویو شروع ہوتا ہے،امجداُن حضرات کا انٹرویو لیتاہے،کچھ لوگوںکے گزرنے کے بعدایک لیڈی کا نمبر آتا ہے ،جس کی عمر ۴۵سے۵۰ سال ہیں وہ انٹرویو کے لیے کمرے میں داخل ہورہی ہے، اُس کے چہرے پہ کئی جھُریاں ہیں،آنکھوں پر بڑے بڑے کانچ کی عینک لگی ہوئی ہے جیسے کبھی مہتہ جی لگاتے تھے،اس کے گلے میں ایک بوسیدہ پرس لٹکاہوا ہے۔وہ ساڑی پہنے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوتی ہے ۔

          اب وہ لیڈی امجد کے اشارے پر کُرسی پر بیٹھ جاتی ہے،اور اپنے مختلف اسناد کی فائل آفیسرکی طرف بڑھاتی ہے،وہ اُس کے اسناد پروہ اُس لیڈی کانا م پڑھتاہے تو چونک جاتا ہے،اُ س پر لکھا ہے۔

          ’’مس ویشالی مہتا ڈوٹرآف نتیش مہتا‘‘

           پھر امجدکو اچانک کچھ یاد آتا ہے۔آواز دب جاتی ہے، پھر وہ کہتا ہے؛

          ’’کیا آپ اُس مہتہ جی کی لڑکی ہے، جوکبھی’ممبئی کے سینٹرل پوسٹ آفس‘ میں سنئیرکلرک ہو اکرتے تھے۔‘‘

           وہ لیڈی کہتی ہے۔

          جی ہاںسر! آپنے درست فرمایا وہ میرے پیتاجی تھے،لیکن سر آپ انھیں کیسے جانتے ہیں؟

          وہ آفیسرکہتاہے؛

          ’’وہ میرے بہت عزیز دوست تھے،اور ساتھ ہی ساتھ میرے سنیئرکلرک تھے، جب میں ’ممبئی کے سینٹرل پوسٹ آفس‘ میں کام کرتا تھا، ایک زمانے میں وہ میرے ایڈیل ہوا کرتے تھے،میں آج جو کُچھ ہو ں اُنہیں کے مشوروںپرعمل کرکے پہنچا ہوں۔‘‘

          اتنے میںوہ لیڈی دبی ہوئی آواز میںآہ بھر کردھیرے سے کہتی ہے، اور میں اُنہی کی بات نہ ماننے کے کارن یہاں پہنچی ہوں، اور اب تک مختلف طرح کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں اتنا کہے کر وہ رونے لگتی ہے۔

          امجداپنے چپراسی موہن کوبیل بجاکر بلاتا ہے اور پانی لانے کا اشارہ کرتا ہے، موہن پانی لے کر آتا ہے اور ِمس مہتہ کو دیتا ہے۔

          امجد موہن سے کہتا ہے کہ بقیہ انٹرویولنچ کے بعد ہونگے یہ آپ سب کو اطلاع دے دوں۔ اُدھر موہن یہ اطلاع بقیہ حاضرین کو دیتا ہے۔ اِدھر امجد مِس مہییتہ سے مخاطب ہو کر کہتاہے کہ مجھے بیحد آفسو س ہے کہ میں نے آپ کو اداس وغمگین کر دیا۔لیکن مجھے یہ بتائیے کے آپ کا یہ حا ل کس طرح اور کیسے ہوا؟

          وہ ایک لمبی سانس بھرکر کہنے لگتی ہے؛

          ماں کے سور گواس کے دو مہینے بعدپیتا جی بھی بھگوان کے پاس چلے گئے۔اُس کے ایک سال بعد میری چھوٹی بہن انجلی نے اپنے پسند کے لڑکے سے شادی کرلی،اور اپنے پتی سورج کے ساتھ وہ بھی ودیش چلی گئی، پہلے تو وہ بار با ر فون کیا کرتی تھی، لیکن دھیرے دھیر ے یہ سلسلہ ختم ہوگیا، میں نے شادی سے تو پہلے ہی انکار کردیا تھا۔  ماتا ،پیتا  اور بہن کے جانے کے بعد میںاکیلی ہوگئی تھی،اب مجھے تنہائی کانٹنے کو دوڈنے لگیں۔

          پھرمیں نے ایک کال سینٹر پر نوکری شروع کر دی، وہاں میری ملاقات رمیش پاٹل سے ہوئی ، ملاقات دوستی میںتبدیل ہوگئی، دوستی کب پیار میںتبدیل ہوگئی پتہ بھی نہ چلا۔میں جب تک اس کے ساتھ رہتی مجھے ایسا محسوس ہوتا،جیسے کے اس جہاں میں میرابھی کوئی ہے۔اُس نے مجھے شادی کے خوبصورت خواب دکھائے اور اِسی بہانے مجھے پونہ لے گیا،پھر ایک چھوٹا سا مکا ن دلا یا،وہاںمجھے ایک آفس میں نوکری مل گئی، میں اور رمیش دونوں اُس مکان میںبغیرشادی کے آزادنہ طورپر تین سال تک ایک ساتھ رہے۔ اس دوران جب بھی میں نے اُس سے شادی کے لیے کہاتو وہ دن بدن مختلف بہانے بناکر ٹالتا رہاہے،پھر مجھے یکایک میری دوست پوجا سے یہ معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے ہی شادی شُدہ  ہے ،یہ سنتے ہی میرے ارمانوں پر گھڑوں پانی پڑھ گیا۔

          جب میں نے رمیش سے پوچھا کے تمہاری شادی ہو گئی ہے، وہ پہلے تو پردہ ڈالنے لگا ۔لیکن میں نے زیادہ زور دیا تو وہ کہنے لگا۔ہاںیہ سچ ہے میں شادی شدہ ہوں،میں نے اس کے خلاف رِپٹ لکھوائی،لیکن وہ کیس بھی زیادہ دن تک نہ چلا،اور عدالت میں بھی اپنی آبرو ریزہ ریزہ ہوگئی جب تک روپیہ پیسہ تھا کیس بھی چلتا رہا ،جب پیسہ ختم ہوا تو کاروائی بھی ختم ہوگئی،میں نے اس سے اپنے تعلقات قطع کر دیے لیکن بہت دیر ہوچکی تھی، اُس کے عشق کی چاہت میںمیں نے اپناسب کچھ چین و سکون ،عزّت و آبرو،روپیہ پیسہ،شہرت، مان مریادہ گنواںدی تھی، اب کھانے پینے کے لالے ہو گئے تھے، میں نو کریاں تلاش کرنے لگیں،اس دوران کئی نوکر یا ں ملی لیکن وہاں کے لوگوںکی نظر میرے کام پرنہ ہوتے ہوئے میر ے جسم پرٹیکی رہتی ۔۔۔ !

            اتنا کہتے ہی ویشالی مہتہ کی آنکھوں سے آنسو ں جاری ہوگئے۔

          وہ سیسکیاں بھرتے ہوئے کہنے لگی،پھر مجھے اپنی تنہائی کا احساس ہونے لگا۔

            ماں ،پِتاجی سچ ہی کہتے تھے کہ اس دنیا میںکسی بھی لڑکی کا تنہا ہ رہنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے چاہے وہ لڑکی خود کفیل ہوں یا غیر کفیل ہوں اسے کسی نہ کسی کے سہارے کی ضرورت ،ضرور پڑتی ہے،پھر مجھے پِتاجی کی ہر کہیں ہوئی باتیں یاد آنے لگی ،جس طرح دو پہیہ مل کر ایک گاڑی بنتی ہے ، اُسی طرح دو انسان مل کر ہی زندگی کو چلا سکتے ہیں، جب کسی سے شادی کرنے کا ارادہ کیا تو عمرگزر چکی تھی،بال سفید ہوگئے تھے اور وقت گزر گیا تھا، تنہائی اب کانٹنے کو دوڑنے لگی تھی ، زیادہ عمری نے کئی نوکریاں چھوڑوادی۔ کل آپ کے آفس کا اشتہار پڑھاتو دہلی چلی آئی،اتنا کہے کر وہ خا موش ہو گئی،آنکھو ںسے آنسوں اب بھی جاری وساری تھے۔

          امجد اُس کی سر گذشت غور سے سُن رہا تھا، وہ افسوس زدہ ہوگیااوریہ سو چنے لگا کے اس دُنیا میں تنہاہ رہنا کتنا دشوار ہوتا ہے،اور وہ بھی ایک لڑکی کا جس کے ماں باپ اس جہاں سے کُوچ کر گئے ہو ، جب وہ تنہاہ ہو گئی ہو تو زما نے کی بری نگاہ اس کی آبرو کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے او ر اس کے حُسن کو سر بازار نیلام کر دیتی ہے ، آواز دبا دیتی ہے، اور ایک بے بس لڑکی مورڈن ذہانت کو اپنا تی ہے تو وہ بد نظامیوںکا شکار ہوکر رہے جاتی ہیں۔

٭٭٭

Leave a Reply