You are currently viewing اقبال مجید کے افسانے’آگ کے پاس بیٹھی عورت‘میں دلت ثقافت

اقبال مجید کے افسانے’آگ کے پاس بیٹھی عورت‘میں دلت ثقافت

ڈاکٹر محمد شاہد زیدی

اقبال مجید کے افسانے’آگ کے پاس بیٹھی عورت‘میں دلت ثقافت

 اردو افسانہ نگاری میں پریم چند، علی عباس ،حسینی،کرشن چندر، بیدی،عصمت اور منٹو کے نام قابل ذکر ہیں جنہوں نے جہاں مختصر افسانے کو ایک نئی سوچ، نئی فکر سے آشنا کیا وہیں روایتی اور رومانی انداز کو ترک کر کے حقیقت کی ایک نئی فضا ہموار کی۔ دور جدید کے افسانہ نگاروں میں اقبال مجید ایک خاص مقبولیت ر ر کھتے ہیں۔ اردو میں جب بھی معتبر افسانہ نگاروں کی کوئی فہرست مرتب کی جائے گی تو اقبال مجید کی شمولیت ناگزیر ہوگی۔ ان کی تخلیقات میں افراط تفر یظ نہیں۔زندگی، سماج اور تہذیب کی نہ ہمواریوں پر ان کی گہری نظر ہے۔ تہذیب و ثقافت کے بدلتے ہوئے تیور پر ان کی خصوصی توجہ ہمیشہ رہی ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی انسانی قدریں ان کی نگاہ میں رہی ہیں۔ نوع انسانی کے تہذیبی علامات میں تنوع اور بے ربطی ان کے خاص موضوع ہیں۔ اقبال مجید ان تخلیق کاروں میں سے ہیں جنہوں نے بعد  کی نسلوں کے لئے ایک نئی راہ ہموار کی۔ انہوں نے بیانیہ، تمثیلی اور علامتی ہر طرح کی  کہانیاں لکھیں اور ہر اسلوب میں کامیاب نظر اتے ہیں۔ ان اسلوب کے علاوہ ان کی کہانیوں میں سماج کا وہ طبقہ بھی نظر اتا ہے جس کو ہندوستانی سماج میں پس ماندگی نصیب ہوئی، جس کو حقارت کی نظروں سے دیکھا گیا، جن کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا، جس کو دلت، اچھوت یا نچلا طبقہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں اقبال مجید کا افسانہ “آگ کے پاس بیٹھی عورت” قابل ذکر ہے جس میں انہوں نے اسی طبقے کے احساسات کو زبان عطا کی۔

                                           اقبال مجید کے چھ افسانوی  مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ‘دو بھیگے ہوئے لوگ’  ‘ایک حلفیہ بیان’  ‘شہر بد نصیب’  ‘ تماشہ گھر’  ‘ آگ کے پاس بیٹھی عورت’  اور ‘خاموش مکالمہ’  شامل ہیں۔ انہیں مجموعوں میں سے افسانوی مجموعہ “اگ کے پاس بیٹی عورت” 2010 میں شائع ہوا۔ اسی عنوان سے مجموعے میں ایک افسانہ بھی شامل ہے جو کہ دلت استحصال اور اس کے سبب دلتوں میں پنپنے والے بدلے کے جذبات کو  بےحد فنکارانہ انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ افسانہ اقبال مجید کے دلت مسائل پر لکھے گئے افسانوں میں سے ایک کامیاب افسانہ ہے۔ بیانیہ اسلوب میں لکھا گیا یہ افسانہ حقیقت نگاری کی عمدہ مثال ہے۔ اس افسانے میں پروڈیوسر اور ایک خاتون  رپورٹر کے کردار  اہم ہیں جن کے ذریعے کہانی اگے بڑھتی ہے۔ پروڈیوسر دلت بستیوں میں رہنے والے اچھوت طبقے کے حالات زندگی پر فلم بنانا چاہتا ہے جس سے کہ موجودہ دور میں ان کے مسائل و حالات کا خلاصہ کیا جا سکے اور سچائی کھل کر سامنے آۓ۔ پوری کہانی اسی موضوع کے ارد گرد گھومتی ہے۔ پروڈیوسر ایک ایسے لکھنے والے کو منتخب کرتا ہے جو اس موضوع پر اچھے ڈھنگ سے کہانی لکھ سکے۔ افسانے کا راوی خود کہانی کار ہے اور وہ فلم کی اسکرپٹ لکھنے میں پروڈیوسر کی مدد کر رہا ہے وہ دلت استحصال کے خلاف ہے لیکن پروڈیوسر دلت استحصال پر اس لیے فلم بنانا چاہتا ہے کہ اسے مالی منافع ہو۔ دونوں فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھ کر فلم کی کہانی پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ دراصل پروڈیوسر دلتوں کا وائلنس دکھانا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسی وائلنس کی وجہ سے اس کی فلم مقبول ہو جاۓ گی اور تجوری پیسے سے بھر جاۓ گی۔ اس لئے وہ کہتا ہے:

” ہر معنی کے اندر ایک روشنی ہوتی ہے، اس روشنی کی طاقت کتنی دور تک اجالا کر سکتی ہے اور اس اجالے میں کیا کیا دکھائی دیتا ہے بس ہمیں ایسی Situation چاہئے اس فلم میں۔”اس بار لڑکی نے پروڈیوسر کو اگے موقع نہیں دیا اور بے صبری سے اپنی بات شروع کرتے ہوۓ مجھ پر سیدھا ایک سوال داغ دیا۔۔۔۔۔” آپ وائلنس کو کیا سمجھتے ہیں؟ میں یکایک پوچھے سوال پر چکرا گیا  ابھی سنبھلنے بھی نہ پایا تھا کہ دوسری سگریٹ جلا کر مجھے گھورتے ہوئے بولی ” آپ یہ جان لیجئے کہ ہم فلم بنانے کے بہانے ایک طرح کے تشدد کے پیشے میں داخل ہو رہے ہیں۔”

” Exactly” پروڈیوسر نے اپنا ایک ہاتھ اپنے ہی گھٹنے پر زور سے مارا اور بولا  ” دیکھئے پیشہ ورانہ تشدد کا نظریہ  یہ ہے کہ جس حقیقت کو آپ بیان کر رہے ہیں وہ سیدھی سیدھی ایک گھماسان جنگ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، ایسی جنگ جس میں کچھ سوچنے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی بھی مہلت نہیں ہے۔ یہ آپ اچھی طرح سے جان لیجئے کہ ہمیں کسی پرتشدد عمل کے پیچھے اس کی سماجی پیچیدگیوں کو فوکس نہیں کرناہے۔ہم کوئی سماجی ذمہ داری نبھانے کے لیے فلم نہیں بنا رہے ہیں، ہم کچھ ٹھیک کرنے یا کسی پرابلم کا حل بتانے کے لئے کام نہیں کر رہے ہیں”  یہ سن کر پروڈیوسر کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے فوراً بول پڑی  ” کیونکہ ہمارے جینیٹک  انجینئر یہ بتا رہے ہیں کہ انسان   Genetically  اور Neurologically    ازل سے ہی ناقص پیدا ہوا ہے۔ اس لئے اس کے سماج میں شیکسپئر ہمیشہ پیدا ہونگے اور ٹریجڈی لکھی جاتی رہے گی۔ پھر پروڈیوسر نے بات اگے بڑھائی ” جب سے دنیا بنی آپ دیکھ رہے ہیں کہ ادھر کچھ ٹھیک ہوتا تو ادھر کچھ بگڑ جاتا ہے، ادھر کوئی ہنستا ہے تو ادھر کوئی رونے لگتا ہے، ہمیں ان چکروں میں نہیں پڑ نا، سب کما رہے ہیں، جیبیں بھر رہے ہیں، ہمیں بھی بھرنا ہے۔ تماشائی کے لئے تشدد کو چرس کی سگریٹ کا ایک کش بنانا ہے ہمیں۔ اس اتنے بڑے شہر میں لوگ چھوریوں اور پستولوں سے ہی نہیں مر رہے ہیں، جیو اور جینے دو صرف کتابوں کے لئے ہے، سب اسکائی اسکر یپر میں نہیں رہتے بہتوں کو فٹ پاتھ پر رہنا پڑتا ہے۔”  (  آگ کے پاس بیٹھی عورت، اقبال مجید، ص 167۔166)

اقبال مجید نے اس اقتباس میں زندگی کی تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے کہ ایک پروڈیوسر کے لیے تشدد صرف پیشہ ہے۔ وہ تشدد دکھا کر پیسہ کمانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ہنسنا رونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کو اپنی جیب بھرنے کے علاوہ استحصال زدہ طبقے پر ہو رہے ظلم اور زیادتیاں نظر نہیں آتی ہیں۔ اس کہانی کی شروعات ہی ان جملوں سے ہوتی ہے:

  ” سور پالنے والوں کی بستی کی روزمرہ کی زندگی، ان کی گندگی، ان کی عورتوں کی برہنگی اور ننگے دھڑ کیچڑ میں لتھڑے اور گرد سے اٹے بالوں والے ناک بہاتے اور غلاظت میں لوٹتے بچوں پر فلم بنا کر بڑے انعامات کی دوڑ میں شامل ہونے والے فلم ساز۔۔۔۔۔   ”   ( آگ کے پاس بیٹھی عورت، اقبال مجید، ص 165)

پروڈیوسر فلم کو ایک دلت بستی میں فلمانا چاہتا ہے۔ فلم کا پورا سیٹ تیار ہو چکا ہے جو نچلے طبقے کی بستی میں لگایا گیا ہے۔ ڈائریکٹر دلتوں (ہریج ) کی بستی میں پہنچ جاتا ہے اور دلتوں کے مکھیا کے گھر پہنچ کر اس سے گھلنے ملنے کا ناٹک کرتا ہے۔ مکھیا دو تین کرسیاں منگوا کر پہلے ہی سے رکھ چکا تھا لیکن یہ تینوں اسی کی چارپائی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ پاس میں ہی ایک عورت آگ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے جو مکھیا کی بیوی ہے اسی کے قریب ہی زمین پر ایک بچہ سو رہا تھا۔وہ عورت ادھیڑ عمر کی تھی اس نے اپنے زیادہ بدن کا حصہ کالی اوڑھنی سے چھپا رکھا تھا جس کی اوٹ سے اس کی تھرکتی اور بولتی آنکھیں اس کے پل پل کے متغیر محسوسات کو آن کی آن میں ایسے واضح اشاروں میں بیان کر رہی تھی جن کے لیے مز ید کسی بولی ہوئی زبان کی ضرورت نہ تھی، یعنی وہ ڈائریکٹر کو حقارت کی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ افسانے کا راوی آگ کے پاس بیٹھی اس نیم برہنہ عورت کی آنکھوں میں اس نفرت کی جھلک دیکھ لیتا ہے۔ اقبال مجید نے نفرت کی اس شدت کو جن الفاظ میں بیان کیا ہے وہ ہے:

’’آگ کے پاس وہ عورت بیٹھی تھی جو صرف آنکھیں کھولے سہما دینے والی بجلیاں چمکا کر ہمیں دیکھ لیا کرتی تھی۔وہ آنکھیں اپنے مقابل کی نظریں جھکا دینے والی آنکھیں تھیں، لگتا تھا زندگی کے حوادث نے کوٹ کوٹ کر ان میں بصیرت بھر دی تھی۔ اس بصیرت میں ایک مقناطیسی زور اور کشش تھی۔ وہ آنکھیں اپنی دونوں بھوؤں کے زاویے کو ایک پل میں ایسے بدل کر اور پھر ہمارے وجود کو مسترد کرتے ہوئے لپلپاتی تلوار کی طرح پورے منظر کو کاٹتی ہوئی گزر جاتی تھیں”  (آگ کے پاس بیٹھی عورت، اقبال مجید، ص 173)

کچھ دیر بعد ڈائریکٹر جو کہ اعلی ذات کا مرد ہے اسے پیاس کا احساس ہوتا ہے۔ وہ مکھیا سے پانی پینے کے لیے مانگتا ہے۔ مکھیا ہاتھ کے اشارے سے بیل گاڑی کے پاس کھڑے ایک لڑکے کو کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ددّ ا جل لے آؤ۔” بیل گاڑی والا ایک سینی میں اسٹیل کا جگ اور کچھ شیشے کے گلاس لے کر ان کے پاس آتا ہے اور رکھ دیتا ہے۔مکھیا بولتا ہے:

 ” پانی برتن سب ٹھاکر کے گاؤں کا ہے۔”  (آگ کے پاس بیٹھی عورت، اقبال مجید، ص۔ 172)

کہیں نہ کہیں اقبال مجید اس کردار کے ذریعے سے برہمنی نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اعلی طبقے کے لوگ ادنی طبقے کے یہاں کھانے اور پانی پینے سے ناپاک،اچھوت ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ سماج کا سب سے نچلہ طبقہ ہے، وہ اچھوت ہے، دلت ہے۔ حالانکہ فوراً بعد اقبال مجید اس نظام کو خارج کرنے کی کوشش کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں۔ مکھیا کو پتہ ہے کہ یہ لوگ میرے برتن میں پانی ہرگز نہیں پئیں گے لیکن ڈائریکٹر بار بار مکھیا سے اس گلاس میں پانی پینے کی ضد کرتا ہے جو مکھیا کی بیوی کے پاس پڑا تھا۔

” ڈائریکٹر نے پھر سے کہا۔ وہ گلاس اٹھاؤ ہم تمہارے برتن میں پانی پیئیں گے۔”مکھیا دو پل گردن جھکائے چپ رہا پھر بولا نہیں صاحب وہ آپ کے لیے نہیں ہے”بھئی ہمارا نام رام کمار شرما ضرور ہے لیکن ہم تمہارے بھائی ہیں۔۔۔ اچھا اچھا  پھر اس نے اٹھ کر چولہے کے  پاس بیٹھی عورت کو مخاطب کیا ارے وہ گلاس تو دینا۔۔۔۔”  ( آگ کے پاس بیٹھی عورت، اقبال مجید، ص۔173)

 ڈائریکٹر کی ضد پر آگ کے پاس بیٹھی مکھیا کی عورت اس گلاس میں پانی بھجواتی ہے ڈائریکٹر  وہ پانی پی لیتا ہے اور وہ گلاس پھر اسی عورت کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ ڈائریکٹر مکھیا سے بار بار پہنچتا ہے کہ آخر اس گلاس میں پانی دینے میں کیا قباحت تھی تو مکھیا کہتا ہے:

’’ وہ آپ کے پانی پینے کے لیے نہیں تھا صاحب۔”کیوں؟ تم پی سکتے ہو، ہم نہیں پی سکتے؟ ڈائریکٹر نے پوچھا۔ “اس سے ہماری عورت سور کے بیمار بچے کو دودھ پلاتی ہے”  ( آگ کے پاس بیٹھی عورت، اقبال مجید، ص۔174)

 آرٹ ڈائر یکٹر یہ سن کر سناٹے میں آجانا ہے لیکن وہ عورت بے حد اطمینان کا سانس لیتے ہوئے ایسی مطمئن اور مسرور نظر آتی ہے جیسے اس نے اپنے تمام استحصال کا بدلہ ایک ہی پل میں لے لیا ہو۔

 اس افسانے کا اختتام بے حد متاثر کرنے والا ہے۔ وہ عورت جو اگ کے پاس بیٹھی تھی۔المونیم کے گلاس کو لوہے کے چمٹے سے پکڑ کر لپکتے ہوئے شعلوں پر رکھ کر گرم کر رہی تھی۔ گویا وہ جتانا چاہتی ہے کہ ڈائریکٹر کے اس گلاس میں پانی پینے کی وجہ سے وہ گلا جھوٹا ہو گیا ہے اور اب وہ اس قابل بھی نہیں رہا ہے کہ سور کے بچے کو اس میں دودھ پلایا جا سکے اس لئے وہ اس گلاس کو آگ میں تپا کر اس کے مضر اثرات کو زائل کرنا چاہتی ہے۔ اور وہ اس گلاس میں پانی پینے والوں کو یوں دیکھ رہی تھی جس کے لیے بے رحم تشدد کی دنیا کی کسی زبان کے بھی الفاظ نہیں۔ صرف کیمرا ہی بیان کر سکتا تھا۔

 اقبال مجید نے اس افسانے میں یہ دکھایا ہے کہ جس طرح کبھی اونچی ذات کے گھر میں اس کے برتن میں کوئی پانی پی لیتا، کھانا کھا لیتا تو اس برتن کو پھینک دیا جاتا تھا اسی طرح آگ کے پاس بیٹھی عورت برہمن کے ذریعے اس کے گلاس میں پانی پی لینے پر المونیم کے گلاس کو پاک کرتی ہے کہ اس کے گلاس میں ایک برہمن نے پانی پیا تھا۔ بدلے کی آگ اس انتہا تک پہنچ جاتی ہے اس عورت کو یہ بھی گوارا نہیں کہ اس کے گلاس میں کوئی برہمن پانی پئے۔ زمانہ کس طرح بدل رہا ہے احتجاج کس کس طرح سے سامنے آرہا ہے اقبال مجید یہی دکھانا چاہتے ہیں۔

مختصر یہ کہ اقبال مجید کے افسانے آگ کے پاس بیٹھی عورت کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے دلت مسائل کو پوری درد مندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ دلتوں سے متعلق اقبال مجید کے یہاں ایک نئی سوچ کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ وہ نہا یت ہی غور و فکر کرنے والے سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے۔ جس طرح سے پریم چند، کرشن چندر، عصمت اور منٹو وغیرہ نے اپنی کہانیوں میں پس ماندہ طبقے یعنی ایک سسکتے ہوئے سماج کے احساسات و مسائل کو زیر بحث لایا، اسی طرح اقبال مجید کے یہاں بھی غر یب، مفلس اور کمزور و بے بس عوام کے لیے ہمدردانہ خیال ظاہر ہوتا ہے ۔ لیکن ان کی ہمدردی مصنوعی یا نمائشی نہیں ہے۔ اقبال مجید کے فکر و فن کی ہی بلاغت اور گہرائی ہے کہ وہ موضوع کی تہ تک جاتے ہیں اور نئے سیاق و سباق میں کبھی علامتی آواز میں اور کبھی اپنے مخصوص اسلوب میں دلکش اور موثر آواز سے پیش کر جاتے ہیں۔ یہ اسلوب پریم چند اور کرسچن چندر سے مختلف اور آگے کا ہے اور آج کا ہے۔ اس لیے کہ آج دلت کے مسائل پریم چند کے عہد سے بہرحال مختلف ہیں ان میں پیچیدگی اور نئی قسم کے الجھاؤ آگئے ہیں، استحصال کی نئی نئی شکلیں بھی آگئی ہیں۔ ان تمام شکلوں اور پہلوؤں کو نزدیک سے سمجھنا اور اسے تخلیقی پیرائے میں پیش کرنا اقبال مجید کا طزۂ امتیاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں ممتاج و منفرد مقام رکھتے ہیں ۔

ڈاکٹر محمد شاہد زیدی

 اسسٹنٹ پروفیسر اردو گورنمنٹ پی۔جی کالج

 سوائی مادھوپور(راجستھان)9461103904

رابطہ:m.zaidishahid@gmail.com

Leave a Reply