You are currently viewing امیر اور غریب

امیر اور غریب

مصطفیٰ لُطفی المنفلوطی 

مترجم:  نوید رضا

امیر اور غریب

(افسانہ)

گزشتہ رات میں ایک بد حال شخص کے پاس سے گزرا۔ میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنا ہاتھ پیٹ پر رکھے ہوئے گویا کسی درد کا شکو ہ کر رہا ہو۔ مجھ سے اُس کی حالت دیکھی نہ گئی، میں نے دریافت کیا تو بولا: “بھوک سے بے حال ہوں۔”میں نے (کچھ کھانے کو  دے کر) اسے تسلی دی اور آگے بڑھ گیا۔

اسی رات میں ایک دولت مند اور آسودہ دوست سے ملاقات کرنے گیا۔مجھے یہ دیکھ کر  حیرت ہوئی کہ وہ بھی اپنے  پیٹ پرہاتھ رکھا ہوا ہے اور درد کا وہی شکوہ کر رہا ہے جو اس بد حال کی زباں پر تھا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا، بد ہضمی ہو گئی ہے ( بسیار خوری ،پیٹو کھا کی بیماری) میں نے دل میں سوچا کتنی عجیب بات ہے! اگر امیر فاضل  کھانا مسکین کو دے دیتا تو نہ اسے فاقے کی شکایت ہوتی اور نہ ہی اس کو بدہضمی کی۔امیر کو اتنا ہی کھانا چاہئے تھا جتنے سے اس کی بھوک اور  پیاس مٹ سکے۔ لیکن اس خود غرض نے مبالغہ سے کام لیا اور  غریب کی پلیٹ سے نوالے چھین کر اپنا دسترخوان سجایا، تو خدا نے اُس کی سنگ دِلی کا بدلہ اُسے بدہضمی کی صورت میں دیا،تاکہ ظالم اپنے ظلم میں بے چین  رہے اور اس کو اپنی زندگی خوشگوار نہ لگے ۔ یوں وہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ “امیر کی بد ہضمی  غریب کی بھوک کا انتقام ہے۔”

 آسمان نے اپنی بارش روک رکھی ہے نہ زمین نے سبزہ اُگانا چھوڑا ہے، امیر  نے غریب سے دونوں نعمتیں چھین کر اس سےحسد کیا  اور دونوں نعمتوں سے اسے محروم رکھا۔ یوں غریب مفلس و نادار اپنے ظلم کی شکایت کرتا رہ گیا۔اس کے قرض خواہ زمین و آسمان نہیں بلکہ امیر تھے۔

کاش مجھے بھی وہ منطق سمجھ آجاتی جو ان کو آتی ہے تو پھر میں بھی ان کی طرح وہ دلیل سمجھ پاتا جس سے امیر لوگ ثابت کرتے ہیں کہ مال و دولت پر غریبوں سے زیادہ ان کا حق ہے۔ اگر طاقت ہی دلیل ہے، تو پھر اسی دلیل سے وہ غریبوں اور کمزوروں  کی جانیں بھی کیوں نہیں لیتے جس طرح کہ ان سےمال  و دولت چھین لیے؟ زندہ انسان کی نظر میں جتنی جان کی قیمت ہے بھوکے کے لیے ہاتھ کا نوالہ اس سے کم قیمت نہیں۔ اور اگر ان کی دلیل وراثت ہے کہ ہم اپنے آبا و اجداد کے مال کے وارث ہیں تو ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ  تم نے اپنے باپ دادا سے دولت تو ورثے میں لے لی،لیکن اُن کے ظلم کیوں نہیں لیے؟

 تمہارے آبا واجداد تو  یہ مال کمزوروں سے چھین کر امیر ہوئے تھے پس ان پر فرض تھا کہ وہ اسے ان غریبوں کو لوٹاتے۔ اور اب جب تم ان کے  ورثے پر مصر ہو تو اُن کا وارث بنو صاحب مال کو اس کا مال واپس دینے میں، نہ کہ لوٹ مار جاری رکھنے میں۔

بنی نوع انسان میں کیسے کیسے بے رحم اور سخت دل لوگ ہیں! کوئی اپنے آرام دہ بستر پر بے فکری کی نیند سوتا ہے، اوراس کو اپنے اس  پڑوسی کی آہیں سن کر  ذرا بھی  تکلیف نہیں ہوتی جو سردی سے کانپ رہا ہوتا ہے،تو کوئی انواع و اقسام کے کھانوں سے بھرے دسترخوان پر بیٹھا ہے، جس میں قیمہ بھی ہے تو قورمہ بھی، میٹھا بھی ہے اور نمکین بھی، لیکن اس کی اس خواہش پر اس بات کا علم کبھی آڑے نہیں آتا کہ اس کے اقربا اور قریبی رشتداروں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پیٹ اس دسترخوان کے پس خوردہ  ٹکڑوں کو ترس رہے ہیں۔ دسترخوان کے ان  پس خوردہ ٹکڑوں کی خواہش میں ان کی رال ٹپک رہی ہے، لیکن ان کے دل بالکل بھی نہیں پسیجتے  اور نا ہی حیاان کی زبان کو لگام دیتی ہے، بلکہ بعض تو غریب کے کان پر ہی اپنی مال و دولت کے قصے سنانے لگتے ہیں، بسا اوقات  اپنے خزانے کی اشرفیاں اور جواہر گنوانے میں  نیز فرشی و رہائشی کمروں کو شمار کرانے میں بھی اس سے مدد لیتے ہیں تاکہ اُس کی دل آزاری ہو ،اپنی زندگی اس کو  دوبھر لگے اور وہ اپنی زندگی سے متنفر ہو جائے۔وہ  اپنے ہر قول و فعل سے گویا یہ کہتے ہیں:

“میں نیک بخت اس لئے  ہوں کہ میں امیر ہوں، اور تُو بدبخت اس لئے  ہے کہ تو غریب ہے!”

مجھے یقین ہے کہ اگر امیروں کو اپنے کاموں میں کمزوروں اور غریبوں کی محنت درکار نہ ہوتی کہ وہ اُنہیں اپنی ضروریات اور لوازم ِزندگی میں ایسے ہی استعمال کرتے ہیں جیسے گھر کا ساز و سامان استعمال کرتے ہیں اور اپنی ضروریات میں ان کوویسے ہی استعمال کرتے ہیں جیسے اپنی سواریوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اور اگر وہ انہیں اپنے ارد گرد رہنے کو ترجیح نہ دیتے تاکہ ان کی غلامی اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے دیکھ کر لطف اندوز ہو سکیں، تو ضرور وہ اُن کا خون چوس لیتے جس طرح ان سے ان کی روزی روٹی  چھینی ہے بلکہ انہیں زندگی سے ہی محروم کر دیتے جس طرح اُنہیں لذتِ حیات سے محروم کیا ہے۔

میں انسان کو تب تک انسان نہیں سمجھتا جب تک اُسے مُحسن نہ پاؤں، کیونکہ میرے نزدیک انسان اور حیوان میں اصل فضیلت صرف ’’احسان ‘‘کو حاصل ہے۔ میں اس حوالے سے تین طرح کے آدمی  دیکھتا ہوں:

  1. وہ جو دوسروں پر اس لئے احسان کرتا ہے تاکہ اُسی احسان کو اپنے فائدے کی سیڑھی بنا ئے۔یہ ایسا جابر و خود غرض آدمی ہے، جو احسان کو بھی غلامی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
  2. وہ جو صرف اپنے آپ پر احسان کرتا ہے، دوسروں پر نہیں۔یہ ایسا کھلا لالچی ہے کہ اگر جان لے کہ بہتا خون تھوس سونے میں تبدیل ہو جائے گا  تو اس کے لئے سب کو ذبح کر ڈالے۔
  3. وہ جو نہ خود پر احسان کرتا ہے نہ کسی اور پر۔یہ احمق بخیل ہے، جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنا خزانہ بھرتا ہے۔

رہا چوتھی طرح کا آدمی جو خود پر بھی احسان کرے اور دوسروں پر بھی۔ تو مجھے نہ  اس کے ٹھکانے کی کوئی خبر ہے اور نا ہی اس تک پہنچنے  کا کوئی راستہ معلوم۔

شاید یہی وہ انسان ہے جسے یونانی فلسفی دیوجانس کلبی دن دہاڑے چراغ لے کر ڈھونڈ رہا تھا، اور  اس سےاس بابت  پوچھا گیا کہ تم دن میں چراغ لیکر کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے کہا: “انسان تلاش کر رہا ہوں!”

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میر تقی میر

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

مرزا غالب

Leave a Reply