You are currently viewing امین اعجاز کی شاعری فن کی باریکی اور اظہار کی تازگی سے معمور

امین اعجاز کی شاعری فن کی باریکی اور اظہار کی تازگی سے معمور

(حافظ)افتخاراحمدقادری برکاتی 

امین اعجاز کی شاعری فن کی باریکی اور اظہار کی تازگی سے معمور

 اُردو نعت گوئی میں اسلوب کی یکسانیت بہت نمایاں ہے جب کہ عصرِ حاضر کا جدید ذہن رکھنے والا قاری کچھ نیاپن چاہتا ہے اور طرزِ بیاں کے لیے آفاق کا متلاشی ہے۔ وہ رسمیات کی سطح سے اوپر اٹھ کر آج کے انسان کی حسیات اور جدید شاعری کی لفظیات سے آراستہ ایک ایسی نعت کا ماحول چاہتا ہے جو عقیدت کی روحانی فضا میں رہتے ہوئے عصری مسائل کا شعور بھی رکھتی ہو اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے سیرتِ سرورِ کونین ﷺ کی روشنی میں عملی قوت کو بھی بیدار کر سکے اور ان مسائل کے حل کی طرف بھی رہنمائی کرے۔ ساتھ ہی ساتھ امت واحدہ کے تصور کو قوی کرتے ہوئے ملت میں زندگی کی حرارت، اسلام اور بانئی اسلام کے پیغام کی حقانیت کو عام کرنے کی دعوتی ضرورت کو بھی پورا کرتی ہو۔ اس تناظر میں جب ہم امین اعجاز برہان پوری کی نعتیہ شاعری پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ ان کی نعتیہ شاعری ان معیارات پر پورا اترتی ہے۔ ان کے کلام میں بے کراں وارفتگی، والہانہ پن، سرشاری، اور گہری ارادت کا سمندر موجزن ہے اور ان کا قومی و ملی احساسات سے لے کر انسانی اور آفاقی تصورات و نظریات پیش کرنے کا سلیقہ بھی خاصا مختلف ہے۔ امین اعجاز برہان پوری کی زندگی اور تخلیقات دونوں اس بات کی آئینہ دار ہیں کہ وہ کبھی تشکیک کی زد میں نہیں آئے۔ انہیں کبھی خرد کو رہنما بنانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ انہوں نے زندگی کے ناہموار راستوں سے گزرتے ہوئے کسی نئی صداقت کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ غارِ حرا سے ابھرنے والی صداقت پر ان کا پختہ ایمان تھا اور اسی روشنی کو وہ ہر صداقت کا ماخذ تسلیم کرتے تھے۔ ان کے پورے کلام میں یقین کی روشنی جابجا پھلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

   دوسری طرف اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ شاعری کو معرفت کے اظہار اور جذبات و احساسات کی پیش کشی کے لیے استعمال کرنا ایک مشکل کام ہے۔ بیشتر شعراء یا تو حسن و عشق کی داستان بیان کرکے شاعری میں نام کما لیتے ہیں یا پھر حمد و نعت و منقبت لکھ کر مذہبی شاعری کی حیثیت سے اپنا مقام بنا لیتے ہیں۔ بیک وقت حسن و عشق کی کیفیات کو بیان کرنا اور روحانی فیوضات کی پیش کشی کی طرف توجہ دینا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں بلکہ جس شاعر کو الله رب العزت کی طرف سے توفیق حاصل ہوتی ہے وہی اس تیز دھاری تلوار پر اپنے قدم جما کر آگے بڑھتا ہے۔ بلا شبہ یہ اعجاز بھی امین اعجاز برہان پوری کی نعتیہ شاعری میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاصر شعراء نے خاص نعت کے حوالے سے شناخت پیدا کی ان میں امین اعجاز برہان پوری کا نام ایک معتبر حیثیت رکھتا ہے۔ ذوقِ نعت اُن کے خمیر میں رچا بسا ہوا تھا۔ آپ کا حمد و نعت پر مشتمل دیوان بنام ”یٰس و طہ” مختلف طرزِ اظہار کی نمائندگی کرتا ہے۔ آپ کا یہ نعتیہ دیوان نبی کریم ﷺ کے الفت و محبت کی لازوال دولت سے مالامال ہے۔ عشق رسول ﷺ کی گرمی شاعر کی شاعری دسترس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ”یٰس طہ” کے ذریعہ دلی کیفیات کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ مدح رسول ﷺ کا بھی حق ادا کیا ہے۔

   امین اعجاز برہان پوری لکھتے ہیں؛

موت  کو  بھی  گلے  لگایا  ہے

زندگی سے نبھائی بات کوئی

اس شعر میں جس انداز سے زندگی اور موت کے فلسفہ کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اس سے خود شاعر کے فکری سطح کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ قیاس کرنے میں کوئی تعامل نہیں ہوتا کہ امین اعجاز برہان پوری کی شاعری چاہے حسن و عشق کا بیان ہو یا عرفانیات کا دفتر، بہر حال اس کلام کو حقیقت میں موت و زندگی کا فلسفہ ہی قرار دیا جائے گا۔ شاعر نے اپنی حسی اور فکری سطح کو نمایاں کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی لئے اس شعری مجموعہ کو صرف دل و دماغ روشن کرنے والی شاعری نہیں بلکہ جذبات و احساسات سے بھر پور فکری خصوصیت کی علم بردار شعر گوئی سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ آپ کی شاعری کی یہ خوبی ہے کہ کہیں بھی سطحی و عامیانہ خیالات کی پیش کشی اور رنگینی و رعنائی کی نمائندگی کی طرف توجہ نہیں دی گئی بلکہ نعتیہ شاعری میں بھی حکیمانہ بصیرت کو شامل کرکے یہ ثابت کیا گیا کہ بندئہ مومن کا دل جب الله رب العزت سے لو لگا لیتا ہے تو اسے ہر شہ میں جلوئہ خداوندی محسوس ہوتا ہے اور اسی نمائندگی کا اظہار امین اعجاز برہان پوری کی شاعری کا مؤثر انداز ہے۔ جس میں آپ نے شاعر مشرق کے رنگ سے استفادہ کرکے فکر کی بالیدگی کا ایسا سامان فراہم کیا جس کے توسط سے آپ کی الہامی فکر کی نشاندہی ہوتی ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے باکمال مشقت اور کڑی محنت کے توسط سے جس قسم کے کلام کو عوام کے روبرو پیش کیا وہ عارفانہ مزاج اور حکیمانہ خیالات کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔

   امین اعجاز برہان پوری کے نعتیہ دیوان ”یس و طہ” میں کہیں آورد کی کیفیت دکھائی نہیں دیتی۔ حمد و نعت لکھنے کے دوران الفاظ کے اظہار کی کیفیت کو روانی کے ساتھ بیان کرنے کا حسن امین اعجاز برہان پوری کی شاعری کی امتیازی خصوصیت ہے۔ شاعری میں روانی اور اظہار کو تاثیر سے وابستہ کرنے کا عمل ان شاعروں کا حصہ ہوتا ہے جو قدرتی طور پر شعر گوئی کو اپنی فطرت کا حصہ بناتے ہیں ورنہ لاکھ کوششوں کے بعد بھی اس انداز کے شعر لکھنا مشکل ہے جو امین اعجاز برہان پوری کی شاعری میں اپنے جملہ اوصاف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگرچہ ”یس و طہ” کا ابتدائی حصہ حمدیہ کلام مشتمل ہے لیکن نعت کے میدان میں بھی امین اعجاز نے جس قسم کے دل کو چھو لینے والے اشعار لکھے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعری انہیں نہ صرف ورثے میں ملی تھی بلکہ خود اس خداداد صلاحیت کا وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اظہار کرتے ہیں۔

کہاں روح الامیں ہیں اور کہاں ہدہد کی دربانی

کہاں  سرکار  کی  مسند  کہاں  تخت   سلیمانی

بظاہر زیب تن پوشاک میں پیوند ہیں لیکن ترے

قدموں  میں  دارائی  تری  ٹھوکر  میں سلطانی

کہاں ہے حسنِ یوسف اور کہاں حسنِ شہ بطحہ

وہاں  تنہا    زلیخا   اور  یہاں   کونین   دیوانی

ترے  کردار  اور  گفتار  کی  عظمت کا کیا کہنا

حیات   طیبہ   ہے    ہو    بہو    تفسیرِ   قرآنی

نبوت  کے دُر  یکتا  نہیں  کونین   میں  تم  سا

نہ سایہ آپ  کا  دیکھا  نہ  پایا   آپ  کا   ثانی

اندھیری قبر کا خوف وخطر اعجاز ہوکیوں کر

لحد پُر نور کر دے گی مرے زخموں کی تابانی

  کلام کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کی ذہنی وسعت اور خیال کی باریکی کے حسین امتزاج سے ”یس و طہ” کا وجود عمل میں آیا۔ جس میں شاعرانہ حسن کاری کے ساتھ ساتھ علم عروض کی شاندار روایات کا ایسا وصف موجود ہے کہ جس کی وجہ سے اس شاعری کو والہانہ کلام کے نام سے معنون کیا جاسکتا ہے۔ جس دل میں خوف خدا و حب رسول ﷺ موجود ہوتا ہے اس دل کی کیفیت کا اظہار امین اعجاز کی شاعری ہے۔ بلاشبہ امین اعجاز برہان پوری کی شاعری کا وہ انداز جس کے ذریعہ شاعر روحانی مدارج طے کرتا ہے اور اپنی ذات میں حب نبوی ﷺ کو شامل کرکے اس کیفیت پر نہ صرف فخر کرتا ہے بلکہ یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ جلوئہ خداوندی صرف اس وجہ سے اس کی ذات کا حصہ بن سکتا ہے کیوں کہ وہ حب نبوی ﷺ سے سر شار ہے۔ حب نبوی ﷺ ہی کو سب کچھ سمجھنا اور اس کے توسط سے قربِ خداوندی کے حصول کو لازمی قرار دیتے ہوئے جس منظر نگاری کو کام میں لاکر امین اعجاز برہان پوری نے شاعری کی، اس کے ہر شعر سے روحانی کسب کی شان نمایاں ہوتی ہے اور اندازہ ہوتا ہے آپ نے جذبات کی زباں نہیں بلکہ محبت کی کیفیت کو اپنے قابو میں کرلیا ہے تب کہیں نعت گوئی کے لئے ایسے الفاظ شاعری کی فکر کا وسیلہ بنے ہیں۔ اس قسم کی کیفیت کو محسوس کرنے کے لئے قارئین امین اعجاز برہان پوری کے یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:

قدرت   کا  وہ   انمول  نگینہ    ہے   مدینہ

خود  اپنی مثال    آپ  مدینہ   ہے    مدینہ

ذرے ہیں جہاں  رشک گہر خاک  ہے اکسیر

وہ  شان   کریمی   کا  دفینہ    ہے    مدینہ

یوسف کی زلیخائی بھی قربان ہے جس پر

کونین  میں  اک  ایسی  حسینہ  ہے  مدینہ

الله  سے  ملنے  کا   وسیلہ  ہیں  محمد ﷺ

ساحل  ہے   اگر   مکہ   سفینہ   ہے   مدینہ

بٹتی   ہے شب  و  روز  جہاں دولتِ دارین

الله  کی   رحمت   کا    خزینہ    ہے  مدینہ

اس ارض مقدس ہی کو حاصل یہ شرف ہے

اس  فرش  پہ  فردوس  کا  زینہ ہے مدینہ

اعجاز  یہ  آقا  کے  غلاموں  کی ہے  پہچان

دل  گنبد  خضرا  ہے   تو  سینہ  ہے  مدینہ

وہ  جس کی زیارت کو ترستے ہیں فرشتے

اعجاز    مدینہ    ہے    مدینہ   ہے   مدین

 بلا شبہ ”یٰس و طہ” عشق سرکار ﷺ کی ایک لازوال شعری دستاویز ہے جس کا ایک ایک مصرع محبت رسول ﷺ کی خوشبؤں سے مہک رہا ہے۔ شاعری میں دل بستگی کا سامان اور اظہار کے منفرد رویہ کے ذریعہ امین اعجاز برہان پوری نے کمال فن کا مظاہرہ کیا۔ اکثر یہ دیکھا گیا کہ جو شاعر فن کا راز داں ہوتا ہے اس کی شاعری میں فنی خوبیاں تو رچ بس جاتی ہیں لیکن تاثیر اور برجستگی نمایاں نہیں ہوتیں جب کہ امین اعجاز برہان پوری کے اکثر کلام فن کی باریکی اور اظہار کی تازگی سے معمور ہیں اس لئے اس قسم کی شاعری کا استقبال کیا جانا چاہیے۔

Leave a Reply