
شبنم آرا
امی جان(افسانہ)
قدرت نے اس کائنات میں ایک ایسی انمول اور عظیم ہستی تخلیق کی ہے جسے ہم ماں کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔اس سرزمین پر اس کا کوی نعم البدل نہیںہے۔اس کی بے مثال قربانی،اس کا تیاگ،اس کی ممتا،اس کا والہانہ پن،اس کے بے لوث جذبہ شفقت کی نظیر ابھی تک کسی بھی حوالے سے نہیں ملی ہے۔شاید اسی لیے اس کے قدموں تلے جنت تعمیرکی گئی۔۔۔اپنے بچوںسے اس کا مشفقانہ رویہ اتھاہ سمندر کے مانند ہے۔اس کے جیتے جی کیا مجال کے کوئی اس کے بچوں کو غلط انداز نظروں سے دیکھ لے۔لیکن جب وہ اس دار فانی سے رخصت ہو جاتی ہے تو ایک خلا سا چہار جانب چھا جاتا ہے۔اداسی،مایوسی،سوناپن گھر کے کونے کونے سے اس کی یادیں،اس کی خوشبویں،اس کی باتیںہمارے ذہن کو جھنجھوڑتی ہیں۔۔۔۔شا ید اسی وجہ سے اس سال شہوار گرمیوں کی چھٹیوں میںقطعی گھر جانے کے لیے امادہ نہیں تھی لیکن بچے اسکول کی چھٹیاں شروع ہونے سے پہلے سے ہی پوری تیاری میں تھے کہ اس بار نانا،نانی کے ہی گھر جانا ہے اورگرمی کی چھٹیوں کا لطف دیہات کی کھلی فضاؤںمیںہی لے کر دم لیں گے۔۔۔معصوم بچوں کی ضد کے سامنے اسے اپنی رضامندی کا اظہار کرنا ہی پڑا۔ شہوار نے امی جان کے گھر جانے کے لیے رخت سفر تو باندھ لیا لیکن تمام سفر اسے امی جان کے اچانک سب کو چھوڑ کر چلے جانے کا درد و غم اس کے دل و دماغ پرطاری رہا۔۔۔۔بار بار امی جان کا چہرہ نظر کے سامنے گومتا رہا۔الگ الگ مواقع پر ان کے چہرے کے مختلف تاثرات نظر کے سامنے گردش کرتے رہے اور دل کو پر ملال کرتے رہے۔۔۔۔۔ابا جان کے چہرے کی اداسی دیکھی نہیں جا رہی تھی۔۔۔۔گھر مانوں،کھنڈر سا محسوس ہو رہا تھا ہر طرف ویرانی ہی ویرانی کے بادل منڈلا رہے تھے۔گھر کے سارے ساز و سامان بے ترتیب بکھرے پڑ ے تھے اور ان پر گرد و غبار کی ایک پرت جمی ہوئی تھی۔۔۔گھر کی ایک ایک چیز جنھیں امی جان نے بڑے پیا ر سے بنایا اور سجایا تھا لیکن آج وہ سب جیسے حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیںاور ان کی یادوں کو تازہ کر رہی تھیں،جو بہت ہی اذیت ناک تھیں۔۔۔شہوارکے گھر پہنچنے کی اطلاع آہستہ آہستہ محلے میں پہنچ گئی اور دھیرے دھیرے ملنے والوں کی بھیڑ سی لگ گئی۔۔۔سبھوں کے چہرے پر افسوس اور اداسی کی کیفیت طاری تھی۔۔۔امی جان کی غیر موجودگی کا احساس ہر کسی کے چہرے سے عیاں ہو رہا تھا۔۔۔یہ وہ لوگ تھے جو امی جان کے ہر دکھ درد اور ان کی خوشی میں شریک رہتے تھے۔۔اپنے اپنے انداز سے سبھوں نے ان کے ساتھ گزارے ایک ایک لمحے کو یاد کیا اور افسوس کا اظہار کیا۔۔۔بچے بھی جس جوش و خروش سے نانا،نانی کے گھر جانے کے لیے بے چین و بے تاب تھے وہاں جانے کے بعد انھیں بھی نانی کی کمی کا دکھ ہوااور وہ خوشی نہیں ملی جو انھیں پہلے ملا کرتی تھی۔نانی کی محبت، ان کا پیار اور ان کی شفقت کو بچے ہر پل یاد کرتے اور اپنی تکلیف کو اپنی والدہ سے تبادلہ خیال کرتے۔۔۔شہوار کو سب سے زیادہ فکر اپنے ابا جان کی ہو رہی تھی جو اب بالکل تنہا اور بے سہارا رہ گئے تھے۔عمر کے اس موڑ پر شریک سفر کا ساتھ نہیں ہونا کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے اس درد کو وہی محسوس کر سکتے ہیںجو ان حالات سے دوچار ہونگے۔بڑھاپا کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔والدین اپنی تمام قربانیاں، اپنی اولاد کی خوشیوں کے لئے نچھاور کر دیتے ہیں۔ہمہ وقت وہ ان کی کامیابی و کامرانی کے لئے کوشاں رہتے ہیں، ان کی خواہشات کی تکمیل کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں،ان کی ضروریات کو پورا کرتے کرتے خود کونظر انداز کر دیتے ہیں،لیکن آج نئی نسل اپنی دنیا میں اس قدر مگن ہے کہ اسے والدین کی اولاد کے تئیںمحنت و مشقت اور قربانیوں کو یاد کرنے کی بھی مہلت نہیں ہے۔۔۔۔وہ اس تیز رفتاربھاگتی زندگی کی دوڑ میںآسمان کی بلندیلیوں پرپہنچنے کے خواب کی تکمیل میں کوشاں ہے۔۔۔۔ان کے سامنے اس کی اذدواجی زندگی زیادہ اہم ہے۔بیوی اور بچوںکو اولیت ا و ر ترجیح دینے کے طریقہ کار نے ضعیف اور معمر ماں باپ کو ایک بوجھ بنا دیا ہے۔۔۔کچھ مجبوریاں بھی ہیں۔۔۔ اور۔۔۔ کچھ بے حسی ولا پرواہی کی وجہ سے ان کی موجودگی اب بچوںکو بے معنی سی لگنے لگی ہے۔۔۔۔جیسے والدین گھاٹے کا سودا ہوں۔۔۔آج کل والدین اپنی اولاد سے بات کرنے کو ترس جا رہے ہیں۔وہ اپنے احساسات اور جذبات کو اپنے لخت جگر کے سامنے کہہ نہیں سکتے ہیں،انھیں خوف ہے کہ بچوںکوہماری باتیںکہیں بری نہ لگ جائیں۔۔۔ ایک زمانہ تھا کہ خاندان کے سب سے بڑے فرد (جس کو گھر کا سربرا ہ ِْْْمکھیا) کہتے ہیں ان کے اشارے پر گھر کا پورا نظام منحصر تھا اور سبھی لوگ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے تھے ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے لیکن آج سب کچھ بدل گیا ہے۔اب اجتماعی زندگی پر انفرادی زندگی کو فوقیت دی جا رہی ہے۔بچے اس قدر غافل اور بے حس ہو چکے ہیں کہ انھیں اپنوں کی خیر خبرلینے کی نہ ہی فرصت ہے اور نہ ہی انھیں یاد ہے۔ والدین اپنی ادنی سے ادنی ضروریات کے لیے دوسروں کے محتاج بنے ہوئے ہیں اور اپنے دکھ سکھ کااکیلے ہی سامنا کر رہے ہیں۔شاید اولاد کے انھیں رویوں کی وجہ سے ضعیفوںکی عافیت گاہ(اولڈ ہاوس) جیسے ٹھکانوں کی بنیادیں ڈالی گئیں۔ اس کالی کوٹھری میں والدین کیسے اپنے شب و روز گزارنے پر مجبور ہوتے ہونگے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔۔۔وقت انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے اور کس موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے کہ اپنے ہی بنائے گھروندوں میں بوجھ بن جاتے ہیں۔اس پناہ گاہ میں لاغر اور ضعیف ماں باپ کیسے ایک ایک پل کو بتانے پر مجبور ہونگے،اپنی تمام عمر کی محنت و ریاضت پر کتنا افسو س اور پچھتاوا ہوتا ہوگا اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیںنا ممکن ہے۔۔۔۔اپنے کلیجے پر ایک بھاری بوجھ لئے انسان اس سیاہ قید خانے میںموت کا منتظر رہتا ہو گا ۔۔۔۔اولاد کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہمارا یہ سلوک اورہمارے یہ رویے ایک دن اس کہاوت کے مثل ہوںگے کہ۔۔۔۔ آج ہم جو بوئیں گے وہی کل کاٹیںگے۔۔۔۔شہواربہت ہی غمگین اوراداس تھی اور ان تمام حالات کے بارے میں بہت ہی باریک بینی اور سنجیدگی سے سوچ رہی تھی کہ ابا جان نے آواز دی۔شہوار۔۔۔شہوار۔۔کہاں ہو؟ شہوار چونک گئی اور ان سے مخاطب ہوئی۔۔۔ہاں ابّاجان! آج بچے کیا کھانا پسند کریں گے؟ آج ان لوگوں کی نانی ہوتی تو خوشی سے پھولے نا سماتی،ان کی پسند نا پسند کا کتنا خیال رکھتی۔۔۔یہ سب کچھ سوچ کروہ آبدیدہ ہو گئے۔۔شہوار نے ابّا جان کو ڈھارس بڈھائی اور صبر کی تلقین کی۔۔۔۔شاید اللہ پاک کے گھر امی جان کی سخت ضرورت تھی جبھی تو اس قدر عجلت میں انھیں بلا لیا،اللہ پاک ان کو غریق رحمت کرے۔اور ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھے۔۔۔شہوار کے لاکھ سمجھانے کے بعد بھی اباّ جان اپنے فیصلے پرا ٹل رہتے کہ ہمیں یہیں رہنا ہے چاہے جس حال میں رہیں۔۔۔موت بر حق ہے جس حال میں جانا ہو گا چلے جائیں گے۔۔۔جب بھی طبیعت اداس ہوتی ہے قبرستان جا کر وظیفے پڑھتے ہیںاور مغفرت کی دعائیں مانگتے ہیں۔ان کے ساتھ گزارے ایک ایک پل کو یاد کرتے ہیں اور افسردہ ہو جاتے ہیں۔۔۔۔تنہائی انسان کو اند ر سے توڑ دیتی ہے۔۔مایوسی کا شکار بنا دیتی ہے۔۔بے بس کردیتی ہے۔بچے بار بار کہتے کہ نانی جان کی کمی بہت ستا رہی ہے۔۔۔ہمیں بالکل اچھا نہیں لگ رہا ہے،ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہمیں آنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔۔۔۔لیکن شہوار سوچتی کے بیٹیوں کے لئے امی جان کا گھر دنیا کا سب سے پر سکون گھرہوتا ہے۔یہا ں آنے کے لیے میرا دل ہر وقت بے قرار رہتا ہے،بے چین رہتا ہے۔۔۔ اور یہاں سے جانے کے وقت آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔یہ گھر اور اس گھر میں رہنے والی ایک ایک چیز مجھے بہت ہی عزیز ہے۔بہت یاد آتا ہے وہ دن جب امی جان کہتی تھیں کہ بیٹا آج یہ بناؤ تمہارے ہاتھ کے بنائے کئی پکوان کھانے کو ترس جاتی ہوں۔۔۔۔مجھ سے ہوتا نہیں ہے۔۔اس عمر میںبھی امی جان گھر کے سارے کام کاز خود ہی کرتی رہیںاور ایک دن خاموشی سے اس دار فانی کو خیر باد کہہ کرسے چلی گئیں۔۔۔ عورت اپنے گھر میں کتنا ہی پر سکون اور پر مسرت کیوں نہ ہو اپنے ماں باپ کے گھر جانے کے لئے ہر وقت بے قرار رہتی ہے۔وہاںاس کا بچپن، اس کا ماضی،اس کے سہانے دن،وہاں کی مٹی کی خوشبو اوربے شمار یادیں ہوتیں ہیںجو اسے والدین کے گھر کی دہلیز کی جانب کھینچتی ہیں۔۔۔۔بچوں کی چھٹیاں آہستہ آہستہ اختتام کی جانب بڑھ رہی تھیں۔۔۔شہوار کے دل میں عجب سی اضطرابی کیفیت اور بے چینی سی محسوس ہو رہی تھی۔دل گویا ہولے ہولے سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔اس کی وجہ ابّا جان کی فکر تھی۔۔۔ان کا چہرہ نظر کے سامنے باربار آرہا تھا۔۔۔۔پھروہی اکیلا پن،تنہائی،اداسی،اور افسردگی کے بادل اس کی نگاہوں کے سامنے منڈلانے لگے۔۔۔