You are currently viewing اُردو اور لوک ادب: ایک غلط فہمی کی اصلاح

اُردو اور لوک ادب: ایک غلط فہمی کی اصلاح

اُردو اور لوک ادب: ایک غلط فہمی کی اصلاح

ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی ،اورنگ آباد دکن

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو،

سوامی رامانند تیرتھ مہا ودیالیہ امباجوگائی، ضلع بیڑ (مہاراشٹر)

تمہید:

اُردو زبان یا اُس خطّے کے لوک ادب کے بارے میں اُردو کے اپنے مؤرخین، ناقدین اور بعض اہلِ علم کا غفلت آمیز اور تحقیر بھرا رویّہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ یہ رویّہ بالکل وہی ہے جو صدیوں تک یورپ کے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے اہلِ دانش نے اپنے ہاں کے لوک ادب کے بارے میں رکھا تھا۔ انیسویں صدی تک وہاں بھی لوک ادب کو اَن پڑھ، جاہل اور ”اوباش” عوام کی بہکی ہوئی کہانیاں اور بے سُری تک بندیاں تصور کیا جاتا تھا۔ ادبی تاریخ میں ان کا ذکر کرنا بھی گویا ایک عیب سمجھا جاتا تھا۔

متن:

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آج کے جمہوری دور میں بھی اُردو کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے کہ اس کے پاس لوک ادب کا کوئی معتبر سرمایہ نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک کی دیگر زبانیں اپنی جڑوں سے وابستہ اس دولت کو محفوظ کرکے اپنے ادبی خزانے کو وسعت دے رہی ہیں، جبکہ اُردو کو اس سعادت سے محروم تصور کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں ایک ممتاز ہندی ادیب نے اپنی کتاب میں یہ دعویٰ کیا کہ اُردو نہ تو عوام کی زبان ہے اور نہ ہی اس کا کوئی لوک ادب موجود ہے؛ لہٰذا اسے ایک مستقل اور منفرد زبان کی حیثیت دینا قرینِ انصاف نہیں۔ ان کے مطابق اُردو محض شہری اشراف کا لسانی اظہار ہے، جب کہ ہندی، پنجابی، ہِنگلا اور دیگر زبانوں کی جڑیں عوامی اور دیہی تہذیب سے پیوست ہیں۔

یہ دعویٰ حقیقت کے بالکل منافی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اُردو بولنے والوں نے اپنی ماؤں کی لوریاں نہ سنی ہوں؟ کیا ان کے گھروں میں بچوں کی پیدائش، شادی بیاہ، تہوار، موسمِ برسات اور سرد راتوں کی محفلوں میں وہی کچھ نہیں ہوا جو صدیوں سے ہماری تہذیبی روایت کا حصہ ہے؟ کیا ان کے یہاں نانی اور دادی کی کہانیاں، سنگیت، ڈھول کی تھاپ، ساون کے جھولے اور میلوں کی رونقیں موجود نہیں رہیں؟ یقینی طور پر ایسا نہیں۔ اُردو بولنے والے یہ سب کچھ صدیوں سے شہر، قصبوں اور دیہات میں کرتے آئے ہیں۔

درحقیقت ہندوستان کے شمالی حصّے میں اُردو اور ہندی کا تہذیبی دائرہ ہمیشہ مشترک رہا ہے۔ موسم، رسم و رواج، معاشرتی اقدار اور بولیوں کا اختلاط صدیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو، ہندی، برج، اودھی، پنجابی اور مراٹھی کے لوک گیتوں، کہانیوں اور محاوروں کا ایک وسیع مشترکہ خزانہ ہے۔ مختلف علاقوں کے گیت اپنی بولیوں، ماحول، تاریخ اور ثقافتی تجربات کی رنگینی لیے ہوئے ہیں۔

لوک ادب کی تعریف:

لوک ادب کی تعریف کے بارے میں مغربی ماہرین کے درمیان بھی اختلافات رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ عشقیہ داستانیں، رزمیہ کہانیاں یا راجاؤں کے تفریحی قصے جو بعد میں عوام میں مقبول ہوئے—لوک ادب کہلائے جا سکتے ہیں؟ تاہم چند خصوصیات ایسی ہیں جو ہر دور اور ہر خطّے کے لوک ادب میں مشترک ہیں:

ان کے خالق گمنام ہوتے ہیں۔

یہ گیت فرد کے نہیں بلکہ مجموعی جذبات کے ترجمان ہوتے ہیں۔

ان کی تخلیق محنت کش طبقات کی اجتماعی محنت اور تجربات کا نتیجہ ہوتی ہے۔

اس کا آہنگ کسی ضابطے کا پابند نہیں بلکہ عوام کی فطری موسیقیاتی حس کے تابع ہوتا ہے۔

ان کہانیوں اور گیتوں کا سرچشمہ عوام کے دکھ سکھ، مشاہدات، معاشی مصائب اور بہتر زندگی کے خواب ہوتے ہیں۔

لوک ادب میں ہنسی بھی ہے اور الم ناکی بھی، حزن بھی ہے اور طرب بھی۔ یہ عوام کی دانش، جذبات اور تفریح—تینوں کا حسین امتزاج ہے۔ ہمارے ہاں بھی ڈوم، میراثی، بھانڈ اور وپھالی جیسے طبقات صدیوں تک گیت گاتے، محفلوں میں قصے سناتے اور سماج کی دھڑکن بنتے رہے ہیں۔

تاریخی واقعات سے مزیّن لوک گیت:

اُردو کے لوک ادب میں تاریخ کی گہری چھاپ بھی نظر آتی ہے۔ مثلاً جب اورنگ زیب عالمگیر کی دکن مہمات کے دوران شمالی ہند کے لوگ برسوں اپنے اہلِ خانہ سے جدا رہے تو عوامی دلوں میں کس قدر درد و اضطراب پیدا ہوا—اس کا عکس ان لوک گیتوں میں جھلکتا ہے۔ ایک عورت اپنی سہیلی سے یوں کہتی ہے:

بیٹھی رہوں قرار سے، من مول رکھوں دھیر

اب کے بچھڑے تب ملیں جب پھر آئے عالمگیر

ایسے ہی ایک اور دلگداز گیت میں ایک بہن اپنے بھائی سے فراق کو یوں بیان کرتی ہے:

بیریا! تیری لاش پر بہنا ہو جائے قربان

ٹیکا، جھمکا، کنگن پہنچے سب پر ہے دھتکار

یہ محض چند مثالیں ہیں۔ ایسے لاکھوں گیت ہیں جن میں عوام کا دکھ، جدائی، وطن دوستی، مذہبی جذبات اور فطری احساسات سمٹ آئے ہیں۔ حیات اللہ انصاری، اظہر علی فاروقی اور دیگر محققین نے ایسے سینکڑوں گیت جمع کیے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اُردو کے لوک ادب کا سرمایہ نہ صرف وسیع ہے بلکہ تہذیبی طور پر نہایت اہم بھی۔

ماحصل:

اُردو کا لوک ادب نہ صرف موجود ہے بلکہ متعدد زبانوں کے اشتراک سے تیار ہونے والا ایک بے مثال ورثہ ہے۔ یہ عوامی جذبات، تاریخی تجربات، موسموں کی رمق، تہواروں کی چہل پہل، رشتوں کی لطافت، دکھ سکھ کے رنگ اور جینے کی امنگ—سب کا آئینہ دار ہے۔ لہٰذا اُردو کو اشرافیہ کی زبان یا لوک روایت سے محروم قرار دینا علمی بددیانتی اور تاریخی ناسمجھی کے مترادف ہے۔

اُردو کے اس وسیع لوک سرمایہ کو پہچاننا، جمع کرنا اور اسے ادبی تاریخ کا لازمی حصّہ بنانا نہ صرف ضروری ہے بلکہ وقت کی اہم ترین علمی ضرورت بھی ہے۔

Dr. Sahimoddin Khaliloddin Siddiqui (Aurangabad Deccan)

Assistant Professor, Department of Urdu,

Swami Ramanand Teerth Mahavidyalaya Ambajogai District Beed (Maharashtra)

8087933863.

***

Leave a Reply