You are currently viewing ترجمہ نگاری کے اصول و ضوابط:حقائق پر مبنی چند معروضات

ترجمہ نگاری کے اصول و ضوابط:حقائق پر مبنی چند معروضات

 

 

اسعد اللہ

ترجمہ نگاری کے اصول و ضوابط:حقائق پر مبنی چند معروضات

Abstract: In this Research paper, Asadullah, a part-time news reader and translator at All India Radio, Government of India, and a Research scholar at Jawaharlal Nehru University, New Delhi, has discussed the principles and procedures of translation in the modern era and its objectivity. Whether the original text and its essence can be found in the translated work or not. In this context, what strategy should the translator adopt so that the translated book/Text/Manuscripts or Prose & Poetry can show its perfection according to the original? What are the requirements of translation in the present era and why should translation be done? What expansions can this bring in our civilized values ​​and cultural values? Apart from this, this paper has discussed the values ​​and traditions of translation, how it can be made useful and efficient for Public & the Country, and what qualities should a good and experienced translator have.

زبان قدرت کا عطیہ ہے اور اس عطیہ کا استعمال کیسے اور کیوں کر کیا جائے گا اس کے لئے اصول اور ضابطوں کا معرض وجود میں آنا انسانی ذہن کی اپج ہے۔علمی دماغ کی اختراع ہے۔اور اس اختراع کے پس پردہ ایک’داستان‘ ہے اور اس داستان کا’ناول‘ یہ ہے کہ بات میں شگفتگی اور مٹھاس آجائے۔اور اس ناول کا ’افسانہ‘ یہ ہے کہ کانوں کو بھلی لگے اور ذہن د ماغ کی بھو ل بھلیاں تھوڑی دیر سہی،تاج محل کی مصنوعی خوبصورتی کااپنے لفظوں میں اشتراک کرے۔آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ تاج محل کی بناوٹ اور تعمیری روح کی نقل کوشش تو کی جاسکتی ہے کیوں وہ فن تعمیر ات (Architectures)کے عجائبات میں سے ایک ہے، لیکن کیا نقل کے بعد تاج محل کی روح بھی فن تعمیرات کے تمام لوازمات کے ساتھ مشاہدین کے لئے پیش کیا جا سکتا ہے۔اس سوال کا جواب ہم آپ کے لئے چھوڑ کرارسطو کا فلسفہ’اصل اور نقل‘کی بحث کے ساتھ اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں۔آیا ترجمہ اصل کے مطابق ہو سکتا ہے یا کیا جا سکتا ہے۔اصول اور ضابطے کی دنیا میں چل کر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت حد تک نقل، اصل کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے اور اس کی بہترین مثال موجودہ دور کے بہترین مترجم یعقوب یاور اور ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی کے ساتھ ساتھ آکاشوانی اردو کے مترجمین میں سے کئی ایک نام ہیں جو برجستہ اور فی البدیہہ ترجمے کے میدان میں مہارت رکھتے ہیں۔جس میں اردو ادب کی چاشنی اور حلاوت بیک وقت کانوں میں رس گھولتی  ہے۔

عزت مآب اہل علم!یہ سچ ہے کہ فکر ی بالیدگی اور اس کوپروان چڑھانے میں زبان کا ضابطہ اور اس کے اصول اہم عوامل میں سے ایک ہیں۔زبان کامطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی اس طرح سے کرے کہ اس کی بات ایک بڑے طبقہ تک پہونچ سکے۔خواہ تقریری شکل میں یا پھر تحریری۔ورنہ بولی اور زبان، میں جوبنیادی فرق ہے اس سے ہم سب واقف ہیں۔اس کلیہ کو ہم یہاں نہیں چھیڑنا چاہتے۔ترجمہ نگاری نہایت فنکاری اور چابکدستی کا کام ہے۔لفظوں کامناسب استعمال جہاں ایک طرف ہمیں ادب شناس اور زبان دانی کی سحرانگیز وادیوں کی سیر کراتاہے وہیں دوسری طرف ذرا سی بھول یا کوتاہی معانی ومطلب بگاڑ دیتی ہے۔اس لئے مترجم کے لئے ضروری ہے وہ دونوں زبانوں Target Languageاور Source Language پر عبور رکھتا ہو۔جس زبان ’سے‘ ترجمہ کررہاہو اور جس زبان ’میں‘ ترجمہ کررہا ہواس زبان کی ساختیات،لفظیات، منظر پس منظر پر بھی قدرت ہونا چاہیے۔یہاں تک ثقافت اور اس ملک کی تہذیب سے واقفیت اس کے ترجمہ میں چار چاند لگا دیتی ہے۔ترجمہ نگاری کی وجہ سے ہی آج دنیا کی مختلف تہذیبوں،روایتوں اور تمدن وثقافت سے ہمیں آگہی بھی حاصل ہوئی ہے۔دنیا کی تمام زبانیں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان زبانوں میں وہاں کے ادبا اور دانشوروں نے اپنے ملکی،ملی،قومی مسائل کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب وتمدن کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔سوال یہ ہے اگر ذولسان یا کثیر لسانی ثقافت کا چلن نہ ہوتا تو آیا ہم ہندوستان میں بیٹھے بیٹھے دیگر ملکوں کی تہذیب سے آشنائی حاصل کر پاتے۔جواب یہ ہے کہ یقینا یہ مشکل معاملہ ہوتا۔اس ضمن میں ’فن ترجمہ کاری،مباحث‘ کا یہ اقتباس ہماری بات کی تائید کرتا ہے ملاحظہ فرمائیں ”عیسائی مذہبی انتہا پسندوں نے یونان کے علمی اثاثہ کو معدومیت (Extinction) سے دو چار کر دیا تھا۔ عیسائی دنیا کے روشن خیال لوگوں نے فن ترجمہ کاری کے ذریعے یونانی علمی ورثے کو محفوظ کیا جسے بعد میں منتقل کر کے اسے ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید حقیقت بنا دیا۔ مسلمانوں نے دور بنوامیہ اور دور بنو عباس میں ترجمہ کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اس ضمن میں مسلم اسپین کے مفکرین اور عالموں کا کردار سب سے زیادہ لائق تحسین ہے۔ مسلم اسپین فن ترجمہ کاری اور علمی وادبی ترقی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھا۔یورپ نے اپنی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے دوران ترجمہ کاری کے ذریعے بھی یونانی اور اسلامی فکر و فلسفہ، فکری تحریکوں، سماجی رویوں تاریخ و سیاست اور سائنس و طب سے متعلقہ صدیوں پر بنی عملی و فکری ورثہ کو اپنے ہاں منتقل کیا۔ یہ بات بجاطور پر کہی جاسکتی ہے کہ ترجمہ کاری کا فن نہ ہوتا تو شاید یونانیوں کا عظیم علمی ورثہ وقت کی گہری گردشوں میں دفن ہو چکا ہوتا اور آج کوئی شخص سقراط، افلاطون، ارسطو یا سوفوکلیز، یوری پیڈیز کے ناموں سے واقف نہ ہوتا“۔(1؎)

سفرناموں کے جو تراجم آئے چاہے سفر نامہ ابن بطوطہ ہو یا میگسینتھ کی انڈیکا ہو یا اس قبیل کے دیگر سفرنامے اس میں ہمارے سامنے قدیم ہندوستانی معاشرت کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور لگتا ہے کہ رئیس جعفری ندوی کے قلم نے ہمیں ہندستان کی سیر کرادی ہے۔ یہ ان کے ترجمہ کا کمال اور زبا ن پر عبورکی عکاس بھی ہے۔برصغیر میں ناول، تاریخ، تمدن،سیاست، معاشرت، حکومت کے طور طریقوں سے متعلق ہزاروں کتابیں اب تک اردو زبان میں ترجمہ ہوکر منظر عام پر آگئیں ہیں جن سے عوام وخواص کو نہ صرف فائدہ ہورہا ہے بلکہ فن ترجمہ نگاری کوبھی عروج حاصل ہوا۔اس درمیان فن ترجمہ نگاری کے متعلق کئی کتابیں بھی منظر عام پر آئیں اور نیوز کی دنیا نے توترجمے کی روایت کو ایسے بلند مقام پر لاکھڑا کیا جس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ہرآن غیر ملکی خبریں ترجمہ ہوکراخبارات، ٹیلی یژن اور شوسل میڈیا کی زینت بن کر ہرانسانی ذہن کو دستک دے رہی ہوتی ہیں اور فوری رد عمل کی منتظربھی۔جب سیاست کی دنیا سے رہنماؤں نے غیر ملکی دورے کرنا شروع کیا تو ایسے میں فی البدیہہ مترجم کی ضرورت آن پڑی اور ایسے ایسے مترجم آئے جنہوں نے اپنے نام کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کا بھی نام روشن کیااور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ہندوستان کی مختلف عصری دانش گاہوں میں اس کے لئے الگ سے شعبہ جات قائم کئے گئے اور ایک اچھا خاصہ بجٹ اس کے لئے مختص کیا گیا، کیوں کہ حکومت کو بھی معلوم ہے اگر غیر ملکی زبان دا ں نہیں ہوں گے تو حکومتی کام کاج میں بھی دقتیں پیش آئیں گی اور حکومتی پالیسیوں کی نشر واشاعت عالمی پیمانے پر ممکن نہ ہوسکے گی۔موجودہ دورمیں یہ دنیا عالمی گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے۔ زندگی کے ہر گوشہ سے متعلق یہ تبدیلی ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے۔

ظ انصاری کا یہ مشہور جملہ ہے کہ ’ترجمہ کی اوکھلی میں سر نہیں دینا چا ہئے‘اس جملے کو خلیق انجم نے اپنی مرتب کر دہ کتا ب ’فن ترجمہ نگاری میں جگہ دی ہے۔ اس جملے کی تشریح جو ہم سمجھ سکے وہ یہ کہ ترجمہ نگار ی ایک باریک بیں کام ہی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ترجمہ کے اصول کے متعلق یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ترجمہ منشائے مصنف ہونا چاہئے یہ بحث کبھی بہت زوروں پر تھی،مثال کے طور پرہندوستان  میں جب لوگ قرآن کریم کی عربی میں صرف تلاوت کرتے تھے اس میں کیا لکھا ہے اور کیا نہیں۔اس کی پروا کم ہوتی تھی ثواب کی نیت زیادہ رہتی ہے وجہ اور بھی ہوسکتی ہے لیکن جب شاہ رفیع الدین نے 1786میں اور شاہ عبدا لقادر دہلوی نے 1790میں مکمل ترجمہ کیا تو دونوں ہستیوں کو اس  بات کا خدشہ تھا کہ عوام کے عتاب سے وہ بچ نہیں سکتے۔اور کہا بھی گیا کہ یہ دیکھئے جناب نے خدائی کلام کا ترجمہ کر ڈالا۔اور پھر جو لے دے ہوئی اس کو بس وہی لوگ جھیل سکتے تھے۔تفصیل کے لئے دیکھئے محدث کا شمارہ اورپروفیسر غلام یحییٰ انجم کی کتاب ’قرآن کریم کے ہندوستانی تراجم و تفاسیر کا اجمالی جا ئزہ‘۔اس ضمن میں شمس الرحمن فاروقی کا مقالہ ’دریافت اور بازیافت‘کا یہ اقتباس پیش کیا جا رہا ہے وہ لکھتے ہیں ”کامیاب ترجمہ وہ ہے جو اصل کے مطابق ہو (یا بڑی حد تک اصل کے مطابق ہو) اور خلاقانہ شان رکھتا ہو۔ ظاہر ہے کہ ان دنوں باتوں کا یک جا ہونا تقریباً ناممکن ہے لیکن ترجمے میں کامیابی کا تصور بہت وسیع ہے اور اگر چہ کوئی بھی شخص اس کامیابی کی پوری وسعت کا احاطہ نہیں کر سکتا، اچھے اور خوش نصیب مترجم اس کے بڑے حصے کا احاطہ ضرور کر سکتے ہیں کامیاب ترجمہ اس معنی میں خلاقانہ نہیں ہوتا کہ مترجم اصل کی جگہ اس کے برابر کوئی دوسری نظم یا ناول لکھ دیتا ہے۔ مترجم اصل فن پارے کو اپنی زبان میں دوبارہ خلق کرتا ہے اور نظم یا ناول لکھ دیتا ہے۔ مترجم اصل فن پارے کو اپنی زبان میں دوبارہ خلق کرتا ہے اور اس طرح نہیں کہ پہلے وہ اصل فن پارے کو مار ڈالے اور پھر اسی کو اپنی زبان میں دوبارہ زندہ کرے اور نہ اسے یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ وہ خود اصل فن پارے کا مصنف ہے اور اب اس فن پارے کو وہ ترجمے والی زبان میں لکھ رہا ہے۔ سافکلیز کا ترجمہ کرتے وقت از را پاؤنڈ نے یونانی دیہاتی لوگوں کو لندن کی کا کنی Cockneyزبان بولتے ہوئے دکھایا ہے۔ اس سے انگریزیت تو ترجمے میں آگئی لیکن یونا نیت غائب ہو گئی۔ یہ بات صحیح ہے کہ بقول ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ یہ بڑی غلطی ہوگی کہ ہم از را پاؤنڈ کے تراجم کو اس کے طبع زاد کلام سے الگ کر کے دیکھیں۔ لیکن ایلیٹ کے اس جملے کا اطلاق از را پاؤنڈ کے ان ترجموں پر زیادہ ہوتا ہے جو اس نے غیر زبانوں کی شاعری اور خاص کر چینی اور لاطینی شاعری کے لیے کیے ہیں“۔(2؎)

 ترجمہ شدہ کتاب یا فن پارہ تخلیق کے زمرہ میں نہیں آتا لیکن مترجم اپنی ترجمہ نگاری کی بدولت اس کو فن پارہ سے قریب تر کر دیتا ہے۔ترجمہ کے اصول میں سے یہ بھی ہے کہ الفاظ و معانی اور اس کے علامات و استعارات پر بھی دھیان دیا جائے جس سے کہ فن پارہ اصل کے مطابق قاری یاسامع کے سامنے آسکے۔اصطلاح کا ترجمہ اصطلاح سے کیا جانا چاہئے یہ بہتر ہوگا۔تفصیل کے لئے وحید الدین سلیم کی کتاب ’وضع اصطلاحات دیکھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پرپوسٹ آفس اور ڈاک گھر دونوں مشہور ہیں لیکن اردو میں ڈاک گھر زیادہ مستعمل ہے اس لئے پوسٹ آفس لکھنے سے گریز بہتر سمجھا جا تا ہے لیکن ای میل کو ’برقی خط‘ کچھ لوگ لکھتے ہیں لیکن یہ اصطلاح ابھی عام فہم نہیں ہے۔ ’برقی خط‘ زبان زد یا عام و خواص میں مقبول نہ سہی لیکن وضع اصطلاحات کے اصول کے مطابقE-Mailکاترجمہ’ برقی خط‘ مناسب ہے اس ضمن میں وحیدا لدین سلیم اشارہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ”اس میں ذرا شبہ نہیں کہ جو حضرات سماع پرست ہیں اور قیاس پسند نہیں ہیں ان اصولوں اور طریقوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھا ئیں گے اور فرمائیں گے کہ اب سے پہلے جو الفاظ بن چکے ہیں۔ان پرقیاس کرکے نئے الفاظ بنا نا اورلوگوں کو اس کی ترغیب دینا سراسر حماقت ہے۔مگر میرا روئے سخن ان قدامت پرست افراد کی طرف نہیں ہے۔میرے مخاطب وہ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جن کے دماغ جدیدمعلومات سے اور دل تازہ خیالات سے لبریز ہیں۔جو اپنی معلومات اور خیالات کی وسعت کے لئے زبان کی موجودہ حالت کو کافی خیال نہیں کرتے،جو چاہتے ہیں کہ اپنی زبان کو یورپ کی ترقی یافتہ زبانوں کی بلندی پر پہنچائیں اور جن کے سینوں میں جدت و اصلاح کی اُمنگیں موجزن ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس روشن خیال گروہ کے افراد ان اصولوں اور طریقوں کا بغور مطالعہ کریں گے اور اُن پر عمل کر کے نہ صرف نئی نئی علمی اصطلاحیں تیار کریں گے بلکہ شاعری اور انشا پردازی کا میدان وسیع کرنے کے لیے ہزاروں جدید الفاظ وضع کر ڈالیں گے اور اُن کو اپنی تقریروں اور تحریروں میں بے تکلف استعمال کریں گے، کیوں کہ جدید الفاظ کے رائج کرنے کا بس یہی ایک گُر ہے۔ میں نے خود بھی ہمیشہ اسی گر پر عمل کیا ہو اور اس کا یہ نتیجہ ہواکہ ہماری تقریری اور تحریری زبان میں چپ چاپ بہت سے نئے الفاظ داخل ہو گئے ہیں“۔(3؎)

اخبارات یا کسی نیوز ایجنسی کے ترجمہ میں بہت دقیق،پیچیدہ یا کوئی مبہم الفاظ لکھنے سے گریز کرنا چاہئے۔اس کی بڑی وجہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اخبارات،ریڈیو،ٹیلی ویژن ہر فرد اپنے حساب سے پڑھتا،سنتا اوردیکھتا ہے۔اس کے شائقین میں سے ہر طبقے کے افراد ہوتے ہیں۔اس ضمن میں مترجم کو خیال رکھنا ہوگا۔مثال کے طور پر حکومت ہند کی معاشیات سے متعلق وزارت نے GSTمیں ابھی کچھ اصلاحات کی ہیں اور انگریزی میں اس سلسلہ میں Next Generationکا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے اسے ہم بجائے اگلے پیڑھی یا مرحلے کے ’اگلے سلسلے کی جی ایس ٹی اصلاح‘ لکھیں تو بہتر ہوگا اور یہ عام فہم اورذہن کے لئے قابل رسا بھی ہے۔ اسی طرح سے (Special Intensive Revision SIR)کا تر’جمہ خصوصی گہری نظر ثانی‘ کے بجائے ’تفصیلی نظر ثانی مہم‘ لکھنا اس کی نوعیت کے لحاظ سے مناسب ہے۔اگر کوئی بائبل کا ترجمہ کر رہا ہے یا اس کی کسی آیت کو پڑھ کر لکھناچاہتا ہے تو اس میں مذکور کردہ معروف نام مثال کے طور پر یعقوب،یو سف،عیسیٰ، موسیٰ کوبجائے جیکب،جوزف،جیسس،موسس لکھنے کے اس کے اردو میں مروجہ نام سے ہی لکھا جا ئے گا۔اسی طرح قرآن کے ترجمہ میں بھی ہمیں خیال رکھنا چاہئے کہ کلاس میں پڑھا ہوا ترجمہ اور خطبے یا کسی جلسے میں سامعین کو سنایا جانے والا ترجمہ کس طرح کیا جانا چاہئے جس سے ہماری بات سامع تک اس طرح پہونچے کہ اس میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔یاد رہے کہ علمی ترجمہ اور اس کی نوعیت اور کسی انسان تک اپنی بات پہونچانے کی کئی شکلیں ہیں۔ یہی حال ترجمہ کرتے وقت ہمیں دھیان میں رکھنا ہوگا کہ ہم کس کے لئے یہ ترجمہ کر رہے ہیں۔اگرمترجم کو عربی،فارسی،انگریزی،اردو یا کسی دیگر زبان میں مہارت حاصل ہے تو اسے ترجمہ کرتے وقت یہ آسانی ہوتی ہے کہ دیگر زبانوں کی تشبیہ و استعارات،محاکات و تخیلات کو جس زبان میں ترجمہ کر رہا ہو اس میں آسانی سے پیش کر سکتاہے۔اگر ایسا ہوتا ہے وہ ترجمہ بذات خود تخلیق کے زمرہ میں آئے گا۔مزیدوضاحت کے لئے پروفیسر ظہور الدین کا یہ اقتباس پیش کیاجا رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”ترجمہ نگار کی اپنی شخصیت بھی بسا اوقات اس کے کام میں معاونت کر کے اُسے کامیابی سے ہم کنار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ترجمہ نگار خود بھی تخلیقی ادیب ہے تو اس سے نہ صرف اُسے بنیادی فن پارے کی مناسب تفہیم اور اس کے دوسرے انسلاکات تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ ترجمہ کرتے وقت وہ اُن احساسات و مدرکات کو بہ آسانی صفحہئ قرطاس پر منتقل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ جو زیریں لہر کی طرح فن پارے میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں اور جن تک تخلیقی ذہن ہی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ خود بھی اسی صنف سے تعلق رکھنے والا تخلیق کار ہے جس کا ترجمہ وہ کر رہا ہے تو کیا کہنے، پھر تو اس کے ترجمے کی کامیابی یقینی ہے۔ تاہم اس سے میری مراد ہرگز یہ نہیں کہ دوسرے ترجمہ نگار بہتر کار کردگی کا ثبوت نہیں دے سکتے۔ ترجمہ نگار کی مشق، اس کا مطالعہ و مشاہدہ اس کے تخلیق کار نہ ہوتے ہوئے بھی اُس سے اچھے ترجمے کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر عمر خیام کی رباعیات کے اُن ترجموں کو پیش کیا جا سکتا ہے جو فٹس جیرالڈ نے کئے ہیں یا اقبال کی ’اسرار خودی‘ کے اس ترجمے کو لیا جاسکتا ہے جسے نکلسن نے کیا ہے۔اکثر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نثر کے مقابلے میں نظم کا ترجمہ کرنا ناممکن اگر نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ نظم کا کارگاہ موضوع اور ہیئت کے خوبصورت امتزاج کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس میں مفہوم کی قوس قزح کے ساتھ ہی آوازوں کا زیر و بم، الفاظ کی نشست و برخاست، ردیف و قافیے کا آہنگ نظم کی معنویاتی وحدت کو اجاگر کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں اور ان تمام عناصر کا دار و مدار زبان کے اُس جمالیاتی آہنگ پر ہوتا ہے جو صدیوں کے سفر کے دوران وہ اپنے بولنے والوں کے فکری و جذباتی میلانات اور ماحول کے فطری تقاضوں کے درمیان تطابق پیدا کر کے اُسی طرح حاصل کرتی ہے جس طرح شہد کی مکھی ایک ایک پھول سے رس چوس کر شہد اکٹھا کرتی ہے۔ کسی مخصوص شعری آہنگ کا دوسری زبان میں اپنے سارے جمالیاتی انسلاکات کے ساتھ منتقل ہو جاناآسان نہیں ہے۔اس لئے نظم کا ترجمہ اکثر و بیشتر ادھورا ہی رہتا ہے۔یہاں مفہوم تو منتقل ہو جاتا ہے۔جمالیاتی آہنگ منتقل نہیں ہوپاتاکیوں کہ وہ اس زبان کا جز لاینفک ہوتا ہے جس میں نظم نے بنیادی طور پر جنم لیا ہے“۔(4؎)

ترجمہ کرتے وقت اصل زبان کی فصاحت کو برقرار رکھا جائے گا۔علمی اور عوامی اصطلاح ہو تو اس کو اپنی زبان میں جو رائج ہے اسی کے حساب سے ترجمہ کیا جائے گا ایک مثال جو کہ برصغیر کے مایہ ناز اسلامی اسکالر علامہ ابوالحسن علی میاں ندوی کی کتاب’مختارات‘ میں أمیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ضمن میں لکھا ہے کہ وہ کس طرح سے دنیا کو دیکھتے تھے۔پہلے اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔”یا دنیا أبی تعرضت۔أم لی تشوفت! ھیھات ھیھات! غری غیری!قد بتتک ثلاثاً، لا رجعۃ لی فیک!فعمرک قصیر ، وعیشک حقیر،وخطرک کبیرا“۔(5؎) یہاں ایک لفظ ہے ”بتتک“جس کا Root Word’ب ت ت‘ (یعنی بت،یبت،بتاً وبتاتاً۔باب نصر ینصر سے ہے)۔ ’بت الأمر‘ یہ حکم نافذ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔لیکن ترجمہ کرتے وقت اگر یہ لکھا گیا کہ ’اے دنیا! مجھ سے دور ہوجا،دور ہوجا۔میں نے تجھ پر حکم جاری یا نافذ کیا ہے تو پورے جملے کا مطلب اور مفہوم دونوں پیچیدہ ہوجائے گا۔اس لئے اس کو دنیا کی بے ثباتی پر مربوط کرتے ہوئے ترجمہ اس طرح سے کیاجائے کہ ”اے دنیا! مجھ سے دور ہوجا، دو ر ہوجا۔میں نے تجھے تین طلا ق دے دی ہے تو مطلب صاف اور مفہوم واضح ہو کر سامع یا قاری کے سامنے آتا ہے۔ثلاثاً کا لفظ ’ببتک‘ کی وضاحت کر رہا ہے۔کیوں کہ اتنی بات ہر کوئی جانتا ہے کہ تین طلاق دینے کے بعد، جس طرح رجعت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ٹھیک اسی طرح سے اہل اللہ،عارف باللہ،صوفیا اور سالکین اپنا معاملہ دنیا کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔

مترجم کے لئے ضروری ہے کہ وہ جس فن پارہ کا ترجمہ کر رہاہے اس کے اصل غایت اور موضوع سے واقف ہو۔یہ نہ ہو کہ اسے زبان تو اچھی آتی ہے یعنی دلچسپی اسے کسی اور علم سے ہے مثال کے طور پر معاشرتی علوم (Social Science)سے اسے بے حد لگا ؤ ہے اوردونوں زبانوں کی کتا ب کا مطالعہ کرتا ہے لیکن اس زبان دانی کی بدولت وہ ناول کا ترجمہ کرنے بیٹھ گیا جو کہ لکھا گیا تھا رشین میں پھر اس کا ترجمہ ہواانگریزی میں۔ اور اس نے اسے ہندی یا اردو یا دیگر زبانوں میں ترجمہ کر دیا۔ اسے منتقلی تو کہہ سکتے ہیں لیکن ترجمہ نہیں۔ہاں اگر وہ رشین زبان و ادب اور اس کی ثقافت سے بھی واقف ہو پھر انگریزی بھی اُسے آتی ہے تو ایسا ترجمہ شاہکار(Masterpiece) کہلائے گا یعنی فن پارہ کی اصل روح (Essence)کو و ہ کھنچ کر اپنے ترجمے میں ایسا رکھے گا کہ قاری آہ اور واہ کی صدائیں بلند کرے گا۔اس کی ایک مثال لے لیجئے۔علامہ شبلی نعمانی نے’شعر العجم‘ میں فارسی شعرا ء کا انسائیکلو پیڈیا اپنے زمانے کے لحاظ سے دستیاب شدہ مواد سے تیار کیا اور جہاں جہاں فارسی شعرا کے کلام کا اردو میں ترجمہ پیش کیاہے۔ لگتا نہیں ہے کہ یہ ترجمہ ہے بلکہ اس شعر کا جوہر عود کر اردو میں منتقل ہوگیا ہے۔ اس کے پیچھے دو سبب ہیں ایک تو یہ کہ شبلی زبان کا بادشاہ تھا دوسری اس کا مطالعہ کائنات اور الفاظ کی گیرائی اور گہرائی حد درجہ کمال کو پہونچی ہوئی تھی۔مطالعہ کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کچھ بہترین غذادماغ کو فراہم ہوئی ہے۔ یہ شبلی کی نثر اور اس کے ترجمہ کا جادو ہے۔یا ادبی لحاظ سے یہ کہہ لیا جائے کہ سحر انگیزی ہے۔مہدی افادی نے اپنے مقالے ’شعرالعجم پر ایک فلسفیانہ نظر‘جو کہ 1910میں ماہنامہ’مشرق‘میں شائع ہوا تھا لکھتے ہیں کہ ”اگر اشعار کی لطافت اور خوبی ایک وجدانی چیز ہے اور اس کا سمجھنا ذوق صحیح پر منحصر ہے، اور ان خوبیوں کا دکھانا بڑے اہل کمال کا کام ہے، تو میں خوش ہوں کہ شبلی،حضرت حالی کے حریف مقابل نہ سہی تاہم وہ شاعری کے ملکہ راسخہ، اور ادبی نکتہ سنجیوں کے لحاظ سے اتنی اونچی سطح پر ہیں کہ بڑے بڑے مستشرقین یورپ بھی ان کی گرد کو نہیں پہنچ سکتے“۔(6؎)

اسی طرح مترجم کے لئے ضروری ہے کہ مصنف کہنا کیا چاہتا ہے یعنی کی اس کی منشا کیا ہے مثال کے طور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI)نے کچھ دنوں پہلے ایک تشہیری مہم کی شروعات کی جس کا نعرہ تھا (Nothing like voting, I vote for sure)اس کا اردو میں لفظی ترجمہ ہوگا ’ووٹ دینے جیسا کچھ نہیں،میں ووٹ دینے کے لئے پریقین ہوں‘۔لیکن ادبی ترجمہ اس طرح کیا جائے تو اچھا لگے کہ ”ووٹ ہماراجمہوری حق،میں ووٹ ضروردوں گا۔(Democracy is our right, cast your precious vote and keep the fire ignite) اس کاترجمہ میرے خیال سے ایسا مناسب ہوگا کہ جمہوریت ہمارا حق ہے،اپنا قیمتی ووٹ ڈالئے اور سرشاری کا لطف لیجئے۔اردو ترجمے کے اصول میں سے یہ بھی ہے کہ فعل کے متعلقات اور اس کے صلا ت کا خیا ل رکھا جا ئے۔نحوی اور صرفی تراکیب کا خیال رکھا جائے۔الفاظ کی تقدیم و تاخیر اور معطوف اور معطوف علیہ اور اس کے عامل کا دھیان ہر حال میں پیش نظر رہے۔یہی حال ضمائر کے ضمن میں بھی ہے۔دونوں زبانوں کے طرز کلام اور روز مرہ کی گفتگو کا پاس رکھا جائے۔ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

بہ ہرسو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم (7؎)

حضرت امیر خسرو کے اس شعر کا ترجمہ یہ ہے کہ کل رات میرا قیام جس جگہ تھا وہ جگہ میرے لئے انجان تھی۔تاہم ہر طرف’محبوب سے وصال‘ کی خواہش کی جا رہی تھی۔اب یہاں پر ’رقص بسمل کا لفظی ترجمہ’زخمیوں کا رقص‘۔ آدھا یا نیم کٹے ہوئے جانور سے کیا جائے گا تو مفہوم دقت طلب ہوگا۔اس لئے ’رقص بسمل‘کا ترجمہ حقیقی معنی میں نہیں بلکہ مجازی معنی کے ساتھ کیا جائے گا۔ یعنی محبوب سے وصال اور ملن کی خواہش میں ہونے والی اذیت اور انتظار کی یہ اذیت سالک کے لئے خوشگوار ہوتی ہے۔سرور بارہ بنکوی،قاسم نیازی،ناصر مصباحی کا شعر ہے ؎

دست و پا ہیں سب کے شل،اک دست قاتل کے سوا                  رقص کوئی بھی نہ ہوگا،رقص بسمل کے سوا

کل وہی بن جائیں گے یارو،ہمارے چارہ گر                  آج ہر لمحہ جنہیں اک رقص بسمل چاہئے

رقص بسمل کے مقد ر میں ہے دشت و صحرا                   اور مجرے سر بازار ہوا کرتے ہیں

عزت مآب اہل علم!ترجمے کے اصول اور ضابطے سے متعلق یہ چند معروضات تھیں جو پیش کر دی گئی ہیں،مشینی ترجمے اور خالص ادبی یا صحافتی ترجمہ کے اپنے کچھ خاص اصول اور نکات ہیں اس کو ہم نے یہاں ذکر نہیں کیا ہے۔یعنی کہ ترجمہ اصل کے مطابق ہواور فن پارہ کی روح اس میں کھنچ کر آجائے تو بہتر مانا جا تا ہے۔اصطلاح کا ترجمہ اصطلاح سے،تشبیہ، مشبہ بہ، استعارہ،کنایہ یا ہر زبان کی جو اپنی فصاحت وبلاغت ہوتی ہے اس کے مطابق ترجمہ کیاجائے تومطالعہ کرتے وقت قاری خود میں سرشاری کی کیفیات اور حظ محسوس کر تا ہے۔ایک اعلیٰ پایہ کا مترجم اپنے ترجمے کے ذریعہ، قاری کو مصنف کی دنیا میں سیرکراتے ہوئے اس کواپناہم خیال بنا لیتاہے۔وہ اپنے ترجمہ سے ہمارے احساسات و ادراک میں ایک جمالیاتی کیفیت پنہاں کر دیتا ہے۔یہی مترجم کی اصل خوبی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے ترجمہ شدہ فن پارہ کے توسط سے اپنے قاری کو اپنا ہمنوا اور ہمساز بنا کر صفحہ قرطاس کی مضراب پر اپنے قلم سے ایسے تار چھیڑدے جس کی دھن میں قاری مگن ہوکرکتب بینی کا لطف حاصل کرتا رہے۔

٭٭٭٭

مراجع و مصادر:

(1)صفدر رشید۔فن ترجمہ کاری،مباحث۔ص7، پورب اکادمی اسلام آباد، 2015۔

(2)ایضاً ص 26۔

(3) وحیدا لدین سلیم۔وضع اصطلاحات۔ص 10/11۔ترقی اردو بیورو نئی دہلی 1980۔

(4)ظہورالدین، پروفیسر۔فن ترجمہ نگاری۔ص10۔سیمانت پرکاشن نئی دہلی 2006۔

(5)ندوی،علامہ ابوالحسن۔مختارات من أ دب العرب۔ص 20۔موسسۃ الصحافۃ والنشر ندوۃ العلما ء لکھنؤ2003۔

(6)مہدی بیگم۔افادات مہدی۔ص 162۔تعلیمی پریس لاہور طبع چہارم 1949۔

(7)نو رالحسن مودودی صابری رحمانی،سید۔نغما ت سماع۔ص228۔شائع 3ستمبر 1935۔

 

Leave a Reply