You are currently viewing تلوک چند محروم کی نظموں میں دیومالائی عناصر

تلوک چند محروم کی نظموں میں دیومالائی عناصر

 

 

محمد ناصر

تلوک چند محروم کی نظموں میں دیومالائی عناصر

              تلوک چند محروم ایک ایسے شاعر تھے جو جدید و قدیم شاعری کی کشمکش ،نظم و بزم کی کیفیات، مناظر فطرت کی نیرنگیاں، انسانی جذبات کی بے قراری ایسی  تمام تر صفات ان کے قلم کی مرہون منت ہیں۔ ان کی شاعری میں بہاروں کا ذکر رنگین الفاظ اور شگفتہ خیالات کے وہ نمونے موجود ہیں جو نظم نگاری میں آفتاب و مہتاب ہیں۔  محروم صاحب جب اپنی نظموں میں خزاں کا ذکر کرتے ہیں تو واردات قلبی کے قریب سے قریب تر پہنچ جاتے ہیں،اور آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیتے ہیں۔ ان کی زبان میں سلاست و روانی کے اعلی مثالیں موجود ہیں۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جو کئی زبانوں کا استعمال اپنے شاعری میں کیا کرتے تھے۔ شاعری میں حسب ضرورت فارسی الفاظ و ترکیبوں کا استعمال کرتے تھے۔ تلوک چند محروم لفظوں کے انتخاب میں صوتی اثر کا وہ خاص خیال رکھتے تھے۔ محروم صاحب انسان دوست ،وسیع القلب انسان تھے۔  وہ تمام مذاہب کا احترام کیا کرتے تھے۔ ہر مذہب کے پیشواؤں کے لیے ان کے دل میں بے حد احترام تھا وہ مذہب سے عقیدت رکھتے تھے ان کی نظمیں “سیتا کی جی کی فریاد”مہاتما بدھ”خواب جہانگیر”مرزا غالبـ” اور نور جہاں کا مزار” اس کی شاہد ہیں۔نور جہاں کے مزار کے بارے میں محروم صاحب کے فرزند کا بیان ہے کہ ”میٹریکولیشن کے بعد سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں داخل ہونے کے لیے بنوں سے لاہور آئے۔ راستے میں پہلی بار ملک نور جہاں کا مقبرہ دیکھا۔ ان کی مشہور نظم ”نور جہاں کا مزار” اسی زمانے کی یادگار ہے۔ والد بتاتے ہیں کہ اب تو مقبرے کے چاروں طرف بیلیں چڑھی ہوئی ہیں، اور ویرانی کا عالم نہیں ہے لیکن اس زمانے میں جب میں نے اسے پہلے پہل دیکھا تھا اس مقبرے کی کیفیت واقعی یہی تھی کہ۔

چوپائے جو گھبراتے ہیں گرمی سے تو اکثر     آرام لیا کرتے ہیں اس روضے میں آ کر

اور شام کو بالائی سیہ خانوں میں شپر       اُڑ اُڑ کے لگاتے ہیں در و بام پہ چکر

معمور ہے یوں گور ِغریبانہ کسی کی

آباد  رہے محفل ِجانا  نہ کسی کی

میرے والد۔ جگن ناتھ آزاد  (مضمون )

کتاب۔تلوک چند محروم۔مرتب جگن ناتھ آزاد  ص ۲۳۹( ادارہ فروغ اردو لکھنو) اشاعت۱۹۵۹

تلوک چند محروم مسلمانوں کے ساتھ عرصہ دراز تک  رہے۔ انھیں بعض تعصب پسند مسلمانوں کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن ان تعصبات اور پریشانیوں سے نکالنے والے بھی مسلمان ہی تھے، اسی لیے محروم صاحب کبھی بھی مسلمانوں سے بیزار اور نہ ہی بدظن ہوئے، بلکہ اسلامی عقیدت اور احترام ان کی نظموں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تلوک محروم ہندو مذہب کے ماننے والے تھے،  ان کی نظموں میں ہندو دیو مالا اور اساطیر کی مثالیں جابجاں موجود ہیں۔ “راماین کے سین “کے حوالے سے ان کی پانچ نظمیں ہیں۔”عزم صحرا” ” ویران کٹیا” ” سیتا جی کی      فریاد”  “اعجاز عصمت ” “راون کا ماتم”جو اہمیت کی حامل ہیں۔ اور راماین کہانی کی جیتی جاگتی تصویر سامنے لا دیتی ہے۔ ان کی نظموں میں بالخصوص منظر نگاری ،انسانی احساسات و جذبات، مذہبی تاریخ کے سین بہترین انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

تلوک چند محروم کی نظم ”عزم صحرا” جو دیو مالا سے تعلق رکھنے والی ایک بہترین نظم ہے۔ نظم کی ابتدا میں منظر نگاری کا اعلی نمونہ پیش کیا گیا ہے پہلا بند ملاحظہ ہو:

رخصت ہوا اجودھیا سے وہ جانے جہاں ہوا           یا اتفاق تفرقہ جسم و جاں ہوا

پہلو سے دل گیا، کہ چلا رام شہر سے       بھاگے نکل کے راحت و آرام شہرسے

گویا بہار چھوڑ کے صحن چمن چلی          پروہ بھی اس طرح نہ کبھی دفعتہ چلی

آنکھوں سے چہرہ رام کا جب دور ہو گیا        بلدہ تمام دیدہ بے نور ہو گیا

غم کا غبار لے کے جو آہ رسا گئی

کالی گھٹا سی چرخ پہ گھنگور چھا گئی

             اس نظم میں سری رام چندر جی کے اجودھیا چھوڑتے وقت کی بے قراری کے عالم کی منظر کشی بہاریہ انداز میںپیش کی گئی ہے آگے کیے بند پر بھی غور کریں۔

آہوں میں جو شرار دلوں سے نکل گئے      وہ اسماں پہ برق بنے اور مچل گئے

عالم وہ بجلیوں پہ غضب اضطراب کا    اس پر وہ جوش گریہ پیہم سحاب کا

انسان تو خیر صدمہ غم سے نڈھال تھے    وحش و طیور تک بھی اسیر ملال تھے

بیگانہ طرز رقص سے باغوں میں مور تھے    غم سے پروں میں گردنیں ڈالے چکور تھے

رگبھر چلے کی شہر خموشاں اودھ ہوا

آباد دشت ہو گیا ویراں اودھ ہوا

            تلوک چند محروم نے فطرت کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے غم و الم کی داستان کو فطرت کی ہی زبان سے ادا کروایا ہے ، کہ کس طرح رام جی کے گھر کو چھوڑ جانے سے آسمان و بادل مضطرب ہیں،وحش وطیور ا سیر ملال ہے ا ور پورا شہر شہر ِخاموش بن گیا ہے،وہیں دشت یعنی جنگل آباد ہو گئے ہیں۔ انسان کی بے قراری کا عالم یہ ہے کہ غم میں پروں کے اندرچکور کا گردنیں ڈالنا علامت غم کا اظہار و افسوس ہے ۔ محروم صاحب نے کس خوبصورتی سے اس فقرے کو اپنی نظم میں استعمال کیا ہے۔

            محروم صاحب ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں مسلمان سماج میں رہنے کے باوجود انہوں نے ہندو دیومالا کو اچھی طرح سمجھا ہے اور اس سے استفادہ کیا ہے۔ راماین کے المیہ مناظر کا جو نقشہ انہوں نے کھینچا ہے یہ انہیں کی قبضہ قدرت ہے۔ محروم صاحب کی طبیعت کا رجحان اسی طرف مائل تھا۔ بیوی اور بیٹی کے انتقال کے بعد ان کا دل ہمیشہ غم میں ڈوبا رہا، اور ذہن ہمیشہ مغموم رہا ، اس لیے جب وہ رام چندر جی اورمہارانی سیتا جی کی داستان کو بیان کرتے ہیں تو انسان کے دل کو درد و غم سے بھر دیتے ہیں۔ نظم کے چند بند پر غور کریں۔

صحرا کو رام اور لچھمن و سیتا جو چل پڑے     بیتاب ہو کے لوگ گھروں سے نکل پڑے

زار و قطار روتے ہوئے بیقرار سب     تھے پیچھے پیچھے رام کے باحالِ زار سب

ہر اہلِ شہر خستہ و زار و  نژند تھا        ہر گھر سے شورِ نالہ و شیون بلند تھا

تھا ارد گرد رتھ کے وہ خلقت کا اژدہام    گھوڑوں کو گام گام پہ لیتے تھے تھام تھام

کہتے تھے مر ہی جائیں گے اے پران ناتھ ہم

ہم کو نہ چھوڑ جائیے، جائیں گے ساتھ ہم

یہ حال دیکھ کر وہ عزیز دلِ انا م     یوں ہو گیا عوام ِاجودھیا سے ہم کلام

جاتا ہوں بن کو میں یہ فرماں ہے باپ کا     آئے ہیں آپ چھوڑنے، احساں ہے آپ کا

بہلاؤ جا کے دل شہ ِپیرانہ سال کا     کم تاکہ اُن کے دل پہ ہو صدمہ ملال کا

تشویش کیا تمہیں کی بھرت تاجدار ہے     عالِم ہے، رحم دل ہے، صداقت شعار ہے

ہے تم پہ فرض اس کی اطاعت بجان و دل

کرتا ہے جب وہ تم سے محبت بجان دل

           راماین کے سین کے حوالے سے تلوک چند محروم نے اس وقت کے واقعات پیش کیے ہیں جب راون مہارانی سیتا جی کو ان کی کٹیا سے اٹھا لے گیا تھا اور رام چندر جی کے دل پر کیا گزر رہی تھی۔ کس طرح ایک شوہر بیوی کی جدائی میں غمگین ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو انہوں نے اپنی ایک نظم میں بیان کیا ہے نظم کا نام ہے ’’ویران کٹیا‘‘ ملاحظہ ہو۔

مایا کا ہرن مار کے جب رام ادھر آیا     کٹیا میں نہ سیتا کا نشاں تک نظر آیا

باہر بہ دل خوں شدہ و چشم تر آیا       ہر اشک لیے حالت دل کی خبر آیا

نظروں سے وہ خورشید سا چہرہ جو نہاں تھا

آنکھیں جدھر اٹھیں، شب تیرہ کا سماں تھا

جی تھام کے باہر در و دیوار کے ڈھونڈا       اور دونوں طرف پہلوئے کہسار کے ڈھونڈا

اس گل کو ہر ایک برگ میں گلزار کے ڈھونڈا      ہر ڈال میں، ہر پات میں اشجار کے ڈھونڈا

اس سرد رواں نے جو کہیں سر نہ نکالا

حسرت سے گڑا خاک میں بس ڈھونڈنے والا

امید کا اب دل کو سہارا نہیں باقی    اور سعی کا، تدبیر کا یارا نہیں باقی

دل بیٹھ گیا، کوئی ابھارا نہیں باقی      آنکھوں کے لیے ذوق نظارہ نہیں باقی

لچھمن سے کہا بھائی مصیبت یہ کڑی ہے

حیرت میں ہوں کیوں جان حزیں لب پہ اڑی ہے

               پوری نظم پڑھتے جائیں  تو آپ کو ایسا لگے گا کہ محروم صاحب اس وقت کی ایک کامیاب تصویر کشی کر رہے ہیں، کس طرح رام جی سیتا جی کے غائب ہونے پر بے قرار ہیں، کبھی لچھمن سے، کبھی جنگلوں سے،  تو کبھی چرند پرند سے سوال کر رہے ہیں کہ بتاؤ میری سیتا کہاں گئی۔

                 رام جی بھگوان وشنو کے اوتار ہیں، اور انسانی صورت میں زمین پر ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور سیتا ان کی رفیق حیات ہیں۔ انسانی جذبات اور محبت کے ایک عظیم نشانی کے طور پر بھی رام جی یاد کیئے جاتے ہیں ۔جس طرح ایک عام انسان اپنے محبوب سے دور ہونے پر جن حالات سے دوچار ہوتا ہے وہی حالات رام جی کے ساتھ بھی روا ہے۔  وہ ہر اس چیز سے جواب طلب کرتے ہیں جو ان کے سامنے ہوتی ہے اشعار پر غورکریں۔

اشجار مجھے اس کا پتہ کیوں نہیں دیتے      پتوں کی زبان ہے تو صدا کیوں نہیں دیتے

مرغان ہوا! تم ہی بتا کیوں نہیں دیتے      سیتا پہ جو گزری ہے سنا کیوں نہیں دیتے

بھرتا نہیں دم کوئی بھی فریاد رسی کا

سچ ہے کہ نہیں کوئی مصیبت میں کسی

                 راماین کی کہانی ہر خاص و عام مشہور و معروف ہے، اور ان کہانی میں رام جی کا بن واس یعنی گھر کو چھوڑ کر دشت میں زندگی بسر کرنا، راون سے جنگ پھر دیوالی اور بھی زیادہ مشہور و معروف ہے۔

                 سیتا جی غائب نہیں ہوئی اصل میں راون نام کا ایک شیطان جسے راکشس کہتے ہیں، ان کو اغوا کر لیتا ہے۔ اور سیتا جی پہلے ہی شوہر کے ساتھ جلا وطن ہونے سے پریشان تھی، اس پر یہ ظلم و پریشانی کا ایک اور پہاڑ ا آ کھڑا ہوا۔ اس پریشانی و تکلیف کو وہ یوں بیان کرتی ہیں۔

تیرے ترکش میں ابھی تک وہ کماندار قضا         تیر باقی تھا کوئی مجھ پہ چلانے کے لیے؟

کم تھی یہ وہ صحرا نوردی؟ کم تھے وہ راون کے جور     آہ یہ ایام بھی باقی تھے انے کے لیے

 اس نظم میں مہارانی سیتا ایک ساتھ دو نہیں بلکہ تین تین مصیبت و پریشانی میں مبتلا نظر آتی ہیں۔ پہلے تو صحرانوردی، دوسرا اغوا ہونا، تیسرا دل و جان کو سمجھانا کہ کہیں شوہر کی جدائی سے جان بحق نہ ہو جاؤں کیوں کہ وصال کی کوئی امید تک نظر نہیں آ رہی ہے۔ آگے وہ اپنی نادانی پر افسوس کرتی ہیں کہ کیوں میں راون کی کو  رشی یا سادھو  سنت سمجھ کر اس کے درشن کی شوقین ہوئی، کیوں میں نے ہوشیاری نہ برتی۔ آگے کے اشعار پر غور کریں۔

آرزو رشیوں کے درشن کی بھی تھی بے شک مجھے         پر نہ تھی تیار اس حالت میں انے کے لیے

کیا کہوں گی، کیوں ہوئی آوارہ دشت بلا       ننگ ہوں اب آہ! ان کے آستانے کے لے

محروم صاحب کی شاعری کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ اپنے غم کو تمام دنیا کا غم بنا سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ دوسرے کے غم کو بھی اپنے غم کی طرح محسوس کرتے ہیں ۔ اور اسی مناسبت سے انہوں نے ایک نظم ”راون کا ماتم” کے عنوان سے لکھی جس میں انہوں نے شیطان اور برائی کا پیشوا راون کے مرنے پر بھی ماتم کیا ہے۔ راون جو ایک زمانے تک خدا کا مطیع،فرمابردار، عبادت گزار اور دیوتاؤں سے بھی افضل تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ذہانت کے گھمنڈ میں آکر ہر چیز پر فتح حاصل کر لی، اور برائی کا جیتا جاگتا نمونہ بن گیا۔ لیکن ایک عام انسان رام جی کے ہاتھوں اس بنا پر مارا جاتا ہے کہ وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ دیومالا میں راون بھی ایک اہم نام ہیں جو برائی پر اچھائی کی جیت کا مثالی نمونہ ہے۔ اسلامی اسطور  میں بھی ایک نام ہے جو راون کے کردار سے ملتا جلتا ہے، وہ ابلیس ہے  جو ایک زمانے میں وہ خدا کا سب سے بڑا عبادت گزار بندہ رہا ،اور آخر میں وہ تکبر و غرور میں آکر خدا کی نافرمانی کرتا ہے۔  بس دنیا کا سب سے ذلیل ترین بندہ بن جاتا ہے۔ خیر یہاں بتانا مقصود یہ ہے کہ محروم صاحب دشمن کے غم کو بھی اپنا غم بنا کر پیش کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ آپ ان کے اس نظم کو دیکھے۔

بیٹھا جگر میں رام کا تیر فنا پیام     راون کی ہست و بود کا قصہ ہوا تمام

افواج رام میں پڑی کوس ظفر پہ چوٹ    جس سے کی کھائی راکشسوں نے جگر پہ چوٹ

نصرت نے نزر رام کیا تاج افتخار     غلطاں سنجون و خاک تھا لنکا کا تاجدار

رنواس میں ٹھیس چشم برہ رانیاں تمام      ایک انتظار میں ہوئی آخر سحر سے شام

راون کے حشر کی جو حرم میں گئی        برچھی تھی اک کہ چاک کلیجوں کو کر گئی

ہاتھوں میں تھام کر جگر پاش پاش کو      سب دیکھنے نکل پڑے راون کی لاش کو

جمگھٹ وہ رانیوں کا جو ماتم کناں چلا      فریاد آہ نالہ کا اک کارواں چلا

وہ دل جلوں کے نالے وہ ماتم سہاگ کا      تھا سوز دل سے ہر نفس ایک شعلے اگ کا

کھل کھل کے آئے تابہ کمر موئے عنبرین       دھل دھل کے اشک سے ہوئے فق روئے آتشیں

جوش الم میں روتی ہوتیں پھوٹ پھوٹ کے      لاشے پہ آ کے گرنے لگے ٹوٹ ٹوٹ کے

یوں لاش پر  پہنچ کے ہر ایک سر کے بل گئی

گویا زمین پاؤں تلے سے نکل گئی

عطا اللہ کلیم نے اپنے ایک مضمون میں محروم صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں ”غم ناک مناظر کے بیان کرنے میں محروم کو خاص قدرت حاصل ہے ان کی طبیعت کا رجحان اسی طرف ہے۔ ان کا دل سوز غم سے آشنا ہے اسی لیے وہ کامیابی سے اوروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ راماین کے المیہ مناظر کا نقشہ جس خوبی سے انہوں نے کھینچا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ رام چندر جی اور مہارانی سیتا کی درد بھری داستان سن کر کون سا دل ہے جو بھر نہ آئے  لیکن محروم نے راون کی موت کا منظر بھی اس دلگداز پیرائے میں بیان کیا ہے جس کی ایک کامیاب مصور سے توقع ہو سکتی ہے۔  راون کی رانیاں اس کی لاش کو دیکھ کر سر پر خاک ڈالتی ہے اور نوحہ کرتی ہے۔

کہتی تھی بازوؤں کو کوئی تھام تھام کے       ہم  نربلوں کا آہ سہارا یہی تو تھے

ان بازوں کی آہ! وہ حدت کدھر گئی       جن سے اٹھے پہاڑ کو طاقت کدھر گئی

کیوں گردن اجل میں حمائل ہوئے یہ ہاتھ      ہم سے نہ ذوق وصل کے سائل ہوئے ی ہاتھ

کہتی کوئی یہ شعبدے بھاتے نہیں ہمیں         لو  اٹھ کے بیٹھو موت کا آیا یقین ہمیں

طاقت سے اپنی زیر جو اندر کو کر چکا

وہ فانیوں کے تیر ہوائی سے مر چکا

محروم کی شاعر ی ۔  عطا اللہ کلیم  (مضمون )

کتاب تلوک چند محروم ۔  مرتب جگر ناتھ آزاد  صفحہ نمبر  ۶۷

 راماین میں ایک کردار مندودری کا ہے۔ حالانکہ اس کردار پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے، لیکن یہ ایک اہم شخصیت کی مالک تھیں۔ جو راون کے حکومت میں کئی اہم کارنامے انجام دیئے ہیں۔ مندودری راون کی بیوی تھی جو مذہب سے بے حد لگاؤ رکھتی تھیں، اور مذہب کے بارے میں انہیں اچھا خاصا علم تھیں۔ وہ ہر کام میں مذہب کو سامنے رکھ کر انجام دیتی تھیں۔ وہ راون کی مشیرخاص تھیں، سیاست کے تعلق سے وہ راون کو ہمیشہ اچھے مشورے سے نوازتی تھیں۔ مہارانی سیتا کے اغوا کرنے کے بعد مندودری نے ہی راون کو سیتا کو چھوڑنے اور امن قائم کرنے کے لیے مشورہ دیا تھا۔ لیکن راون نے مندودری کی بات کو ترک کر دیا تھا۔ حالاکہ  مندودری کو برے انجام کا اندازہ پہلے ہی  ہو چکا تھا۔ وہیں دوسری طرف راون کی ہمسفر ہونے کی وجہ سے راون کے قتل کے وقت وہ روتی ہیں اور ماضی کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔

کہتی تھی،  پران ناتھ! نہ کہتی تھی آپ سے     پاپی کی موت پاپ ہے، باز آو پاپ سے

تقدیر تھی جو دشمن جانی ہزار حیف     میری نہ ایک آپ نے مانی، ہزار حیف

وہ دن بھی تھے کہ آپ سے ڈرتے تھے دیوتا      دم آپ کے جلال کا بھرتے تھے دیوتا

سرتاج آپ تاجوران جہاں کے تھے      ہم پائے اوج رتبہ میں ہفت آسماں کے تھے

لرزے میں جس کے دم سے تھے افلا ک وا دریغ       بے حس پڑا ہے اب وہ سر خاب وا دریغ

لڑھکا ہوا کہیں تن بیجاں ہے سر کہیں      ترکش کہیں ہے، تیر و کماں منتشر کہیں

لنکا کے شور بیروں کا نام و نشاں مٹا       شاہی مٹی، غرور مٹا، خانداں مٹا

ہوتا ہے یوں ظہور خدا کے عتاب کا      چرچا رہے گا دہر میں اس انقلاب کا

تلوک چند محروم کی نظمیں خاص کر راماین کے سین کے حوالے سے دیو مالا کی جیتی جاگتی تصویر ہے، بظاہر محروم صاحب اپنی زندگی میں بہت مصروف رہے لیکن وہ مذہبی شخصیت کے مالک تھے۔ راماین کے سین کے نظموں کے ایک ایک عنوان خود گواہی دیتے ہیں کہ ہاں میں ہی وہ نظم ہوں جو مضمون حقیقی سے تعلق رکھتی ہوں، چاہے عزم صحرا ہو (یعنی شری رام جی کی بن کی تیاری اور اہل اجودھیا کی بے قراری) ہو، یا ویران کٹیا، ہو یا سیتا جی کی فریاد ہو، یا راون کا ماتم۔

 چکبست کی نظم ”راماین کا ایک سین” پڑھنے کے بعد اگر پوری راماین پڑھنی ہو تو آپ تلوک چند محروم کی راماین کے سین کی نظمیں پڑھیں ۔ تلوک چند محروم اردو کے مایہ ناز شاعر ہیں، اور دنیائے ادب میں وہ تعارف کے محتاج نہیں۔

Leave a Reply