’’خاکہ مستی‘‘ میں سماجی رویوں کی عکاسی
عامر بشیر، ایم فل اردو، پاکستان
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کے خاکوں پر مشتمل کتاب بعنوان ’’خاکہ مستی‘‘ پہلی بار ۲۰۰۹ء میں منظرِ عام پر آئی۔ اس کے بعد اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔ انھوں نے ’’خاکہ مستی‘‘ کا انتساب ’’ان خوش فہم چلے جانے والوں کے نام کیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ چلے جانے سے آدمی چلا جاتاہے‘‘۔ مذکورہ کتاب میں اشفاق احمد ورک نے خاکوں کو مختلف عنوانات اور اقسام کے تحت بانٹا ہے۔ اس تناظر میں شخصی خاکے اور کرداری خاکے شامل ہیں ۔ خاکوں کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی مزاح نگاری کے عمدہ نمونے پیش کیے گئے ہیں ۔ ان میں کہانیاں ، خطوط، افسانے، اقوال زریں اور مضامین شامل ہیں جن میں مصنف نے مزاح کا تڑکا لگایا ہے۔ کتاب کے آغاز میں تیمور حسن تیمور اور اختر رضا سلیمی کے اشعار بھی شامل ہیں ۔
اکیسویں صدی میں شائع ہونے والی ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کے خاکوں پرمشتمل دوسری تخلیقی کتاب جو کہ کل ۲۱۶ صفحات پر مشتمل ہے، کے آغاز میں شخصی خاکے شامل کیے گئے ہیں جن کی تعداد بارہ ہے۔ اس حوالے سے پہلا شخصی خاکہ ’’ایک ہے بادشاہ‘‘ کے عنوان سے معروف افسانہ نویس اور ترقی پسند ادیب احمد ندیم قاسمی کا ہے۔ دلچسپ اور عالمانہ تمہید کے بعد اشفاق احمد ورک نے احمد ندیم قاسمی کی اردو ادب کے لیے خدمات اور قربانیوں کو نہ صرف اجاگر کیا ہے بلکہ انھیں خراجِ تحسین بھی پیش کیا ہے۔ انھوں نے احمد ندیم قاسمی کو اردو ادب کا بادشاہ قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں یہ ادب میں برگد کے ایسے درخت کے مانند ہیں جس کے نیچے پرورش پانے والے پودے بھی تناور درخت بن چکے ہیں ۔انھوں نے اس شخصی خاکے میں احمد ندیم قاسمی کے حاسدین اور ناقدین پر طنز کی بوچھاڑ کردی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کے ادبی قد کاٹھ اور شخصی خوبیوں کو ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’سچ بات یہ ہے کہ اُردو ادب میں احمد ندیم قاسمی کا کردار اس پارس کا سا ہے، جس سے جو بھی مَس ہوا، سونا ہوگیا۔ یہ الگ بات کہ بعض سنار صفت ادیب / شاعر محض سونا ہونے کے شوق میں ان کی ہم رکابی کا دم بھرنے لگے۔ ان کے حوصلے، مروت اور قوتِ برداشت کی داد دینا پڑتی ہے کہ ہر آنے والے کو تمام عیوب و محاسن سمیت اپنے دامن میں پناہ دی۔‘‘ (۱)
اس کتاب کا دوسرا شخصی خاکہ’’الھڑ بلھڑ باوے دا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ خاکہ ان کی کتاب ’’خاکہ نگری‘‘ میں بھی شامل ہے جس کا ذکر تحقیقی انداز میں گزشتہ صفحات میں کیا جاچکاہے۔تیسرا شخصی خاکہ’’ نوری اور ناری‘‘کے عنوان سے خاکہ نویس نے اردو ادب کے نامور محقق، نقاد اور استاد ڈاکٹر فخرالحق نوری کی شخصیت پر تخلیق کیا ہے۔ مذکورہ خاکے میں ورک صاحب نے ڈاکٹر فخرالحق نوری کی پر اعتماد شخصیت، دل کش شکل و صورت، جواں عمری اورخوش مزاجی کے ساتھ ساتھ ان کی علمی وادبی قابلیت کو بھی سراہا ہے۔ انھوں نے اورنٹیل کالج کے دیگر اساتذہ کرام کی عادات واطوار کو بھی دلچسپ انداز میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ انھوں نے راشد شناسی میں ڈاکٹر فخر الحق نوری کی خدمات اور کاوشوں کا ذکر بھی اسی خاکے میں کیا ہے۔
اس خاکے میں انھوں نے مختلف واقعات اور کلاس میں پڑھانے کے انداز سے ان کی شخصیت کی گوناگوں خوبیوں کو ہمارے سامنے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ تیکھے جملوں اور شگفتہ واقعات کی مدد سے ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اپنے متحرک استاد ڈاکٹر فخرالحق نوری کا خاکہ مکمل کیا ہے۔ ان کا جسم خاکی اوراسم نوری ہے۔ وہ اورنٹیل کالج کے سب سے کم عمر استاد تھے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اپنے زمانہ طالب علمی کے دلچسپ واقعات بھی اس خاکے میں قلمبند کیے ہیں اور ڈاکٹر عبیداللہ، سجاد باقر رضوی، زاہد منیر عامر، محمد کامران اور مرغوب حسین طاہر کیساتھ فخرالحق نوری صاحب کے تعلقات پر بھی بحث کی گئی ہے۔
خاکہ بعنوان’’بزرگی بہ شکل است‘‘ میں مصنف نے سعود عثمانی صاحب کا خاکہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے اس خاکے میں سعود عثمانی کے ظاہری خدوخال کا نقشہ کمال مہارت سے کھینچا ہے۔ اس خاکے میں انھوں نے بنیاد پرست اور کٹھ ملاؤں کو شدید طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ ورک صاحب نے سعود عثمانی کے حلیے اور شاعری کو دیکھ کر انھیں بزرگ شاعر قرار دیا ہے۔مصنف نے اس خاکے میں سعود عثمانی کے مجموعہ کلام اور شاعری کوبے حد سراہا ہے اور انھیں عہدِ حاضر کا ایک قابل قدر شاعر قرار دیا ہے۔ اس خاکے میں بھی کئی نامور ادبی شخصیات کاذکر بار بار ملتا ہے۔ ان میں مشفق خواجہ، ڈاکٹر سید عبداللہ، ارشد نعیم وغیرہ شامل ہیں ۔ سعود عثمانی کے شعری مجموعے بعنوان ’’قوس‘‘ میں ان کے کلام سے متعلق ورک صاحب کی رائے ہے کہ یہ سو گرام کے کاغذ پر ہزار گرام کے وزن کی شاعری ہے۔
خاکہ ’’اصغر علی جناح‘‘ میں مصنف نے معروف افسانہ نویس اصغر علی جناح کی شخصیت اور عادات واطوار کا ماہرانہ انداز میں جائزہ لیا ہے۔ خاکے کا عنوان قائداعظم محمد علی جناح کے اہم میں تھوڑی بہت ترمیم کر کے اصغر علی جناح رکھا گیا ہے جو ان کی مزاحیہ طبیعت کا عکاس ہے۔ اصغر علی جاوید کا آبائی علاقہ شیخوپورہ ہے اور انھوں نے ایم اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد تجزیہ نگاری، کالم نویسی، سیرت نگاری، ٹریڈ یونین اور افسانہ نویسی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے مطابق اصغر علی جاوید قاعدے قانون کے پابند آدمی ہیں ۔ ان سے متعلق شگفتگی کا سہرا لے کر اشفاق احمد ورک یوں گویا ہوتے ہیں :
’’موصوف نے ادب، سیاست صحافت، ملازمت، قانون اور سکول کے علاوہ کئی سچ مچ کے روگ بھی پال رکھے ہیں ۔ اتنا تو یہ اپنے گھر والوں کا خیال نہیں رکھتے، جتنا اپنی بیماریوں کے صدقے واری جاتے ہیں ۔ رنگا رنگ دواؤں اور قسما قسم طبیبوں کے بارے میں جتنی معلومات ان کے پاس ہیں ، اتنی تو میڈیکل کی کسی لغت میں بھی نہیں ہوں گی۔‘‘ (۲)
انھوں نے اس خاکے میں اصغر علی جاوید کے افسانوں میں نسوانی کرداروں کی بھرمار پر بھی گہری چوٹ کی ہے۔ ان کے خیال میں یہ زنانہ کردارنہیں بلکہ افسانہ نویس کی آسودہ ونا آسودہ خواہشات ہیں جو الفاظ کا بدن اوڑھے ان کے افسانوں کی پگڈنڈی پر ننگے پاؤں چلتی چلی آئی ہیں ۔
خاکہ بعنوان ’’یحب الجمیل‘‘ میں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اپنے دیرینہ رفیق جمیل احمد عدیل کا خاکہ قاری کے روبرو پیش کیا ہے۔ یہ خاکہ بھی ان کی کتاب ’’خاکہ نگری‘‘ میں شامل ہے۔ جس کا تحقیقی جائزہ سابقہ حصے میں لیا جا چکا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اپنے خاکے ’’یارِ غور‘‘ میں اپنے دوست ناصر اقبال ملک کا خاکہ پیش کیا ہے۔ مصنف نے موصوف کی سیاہ رنگت کو اس خاکے میں خوب طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے موصوف کی آرام پسندی اور ذاتی پسند و نا پسند کو بھی شگفتہ انداز میں ہمارے سامنے پیش کیاہے۔ صنفِ نازک سے خصوصی لگاؤ اور عادات واطوار کو بھی طنزیہ اور کاٹ دار اسلوب میں اشفاق احمد ورک نے بیان کیا ہے:
’’آرام خور ایسا ہے کہ نیرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب روم جل رہا تھا وہ بانسری بجارہا تھا۔ لیکن یہ واقعہ اگر اس کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو یہ ساتھ بغلیں بھی بجاتا۔ اقبالؔ کے بے عمل مسلمان کی طرح ہروقت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہتا ہے۔ فرق صاحب اتنا ہوتا ہے کہ اس میں ایک ہاتھ اس کا ہوتا ہے اور دوسرا کسی اور کا۔ یہ الگ بات کہ یہاں نیچے والا ہاتھ، اوپر والے ہاتھ سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔‘‘ (۳)
یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کا پہلا خاکہ بھی ناصر اقبال ملک ہی کا لکھا تھا لیکن اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے چٹخارے دار اسلوب میں اس کودوبارہ اور نئے سرے سے قلمبند کیا اور ’’یارِ غور‘‘ کے عنوان سے مذکورہ کتاب میں شامل کیا۔
’’مزیدامجد‘‘کے عنوان سے انھوں نے اپنے دوست ارشد نعیم کا خاکہ قلمبند کیا ہے۔ یہ خاکہ بھی تحریف نگاری کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے تشبیہات کی مدد سے بھی مزاح پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انھوں نے اپنے دوست ارشد نعیم کو مجید امجدسے تشبیہ دی ہے۔ ان کاخیال ہے کہ ارشد نعیم ان کے ایسے دوست ہیں جن کی جسامت، مالی واقتصادی حالت، شاعری اور ملازمت مجید امجد پر گئی ہے۔ ان کی صحت کا یہ عالم ہے کہ جس دن ہوا چل رہی ہو، وہ قدرت اللہ شہاب کی ضخیم آپ بیتی ’’شہاب نامہ‘‘ پکڑ کر دفتر میں آتے ہیں ۔ انھوں نے ارشد نعیم کو ان کی کمزور طبیعت اور دبلے پن کی وجہ سے قائداعظم محمد علی جناح، کنہیا لعل کپور، مجنوں گورکھ پوری، جعفر شیرازی، شوکی خاں ، اداکارہ دیدار اور افتخار ٹھاکر کا ہم قافیہ قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں ارشد نعیم کی شاعری کے علاوہ ان کی جیب، جسامت اور زندگی میں کہیں وزن نظر نہیں آتا۔
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اپنے تحریر کردہ خاکے بعنوان ’’الیکٹریکل پوئٹ‘‘ میں معروف شاعر شاہین عباس کی شخصیت کے چنداہم گوشوں کو ہمارے سامنے اجاگر کیا ہے۔ اس خاکے میں شاہین عباس کی پیشہ وارانہ زندگی اور گھریلو مصروفیات کو مختلف پہلوؤں کی مدد سے کامیابی سے اجاگر کیا گیا ہے۔ شاہین عباس کی شاعری کے فکری مباحث کو بھی مذکورہ خاکے میں اجاگر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں موصوف کی والدین سے عقیدت و احترام کے رشتے اور صنفِ نازک سے لاپرواہی اور عدم توجہی کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ وہ ان سے متعلق یوں گویا ہوتے ہیں :
’’شاہین عباس کی شکل منٹو اور ذہانت عصمت چغتائی سے مشابہ ہے، جسامت ایسی کہ ان کی عمر سولہ (۱۶) سے اکسٹھ (۶۱) کے درمیان کچھ بھی فرض کی جاسکتی ہے چہرے پہ اتنی معصومیت ہے کہ ایک زمانے تک گھر والے جب بھی ان کی شادی کا خیال دل میں لاتے، میلاد کروا کے چپکے ہو رہتے، جتنے بھی لڑکی والے انھیں دیکھنے آئے ’’بلو کا بستہ‘‘ اور ’’ثریا کی گڑیا‘‘ والی نظمیں سن کے چلتے بنے۔‘‘ (۴)
انھوں نے شاہین عباس سے متعلق قاری کو کئی اہم معلومات فراہم کی ہیں اور ان کی شخصیت اور زندگی کے مختلف گوشوں کو اس خاکے میں دلچسپ اندازمیں واکیا ہے۔
’’خالص ندیم‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے خاکے میں سب سے پہلے خاکہ نگاری کے میدان میں خاکہ نویس کو در پیش مسائل اور مشکلات کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کے خیال میں خاکہ نویسی کے فن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ شریف قسم کے دوست ہیں ۔ انھوں نے خاکہ نگاروں کی عادات و اطوار کو بھی بیان کیا ہے۔ جو خاکہ الیہان کا مزاج اور کردار دیکھ کر ان کا موازنہ کائنات کی دیگر اشیاسے کرنے لگتے ہیں ۔ اس خاکے میں انھوں نے اپنے دوست خالدندیم کی شخصیت کی عکاسی مہارت سے کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر خالد ندیم انسان کے بجائے کتاب ہوتے تو ’’پکی روٹی‘‘ یا ’’موت کا منظر‘‘ قسم کی چیز ہوتے۔ انھوں نے موصوف کی شاعری اور عادات کو یکجا کر کے سلیقے سے بیان کیا ہے۔ انھوں نے خالد ندیم کی کم گوئی کی عادت اور شرمیلے پن کو چٹخارے دار اسلوب میں بیان کیا ہے۔ ان کا آبائی شہرشیخوپورہ ہے۔ جہاں یہ نئے نکوربچوں اور نت نئے عزائم کے ساتھ رہائش پزیر ہیں ۔ انھوں نے وطنِ عزیز کی آبادی بڑھانے میں اپنا بھرپورکردار ادا کیا۔ اس خاکے میں مصنف نے مختلف مزاح نگاروں کے دلچسپ جملوں کی مددسے بھی خالد ندیم کی شخصیت پر طنز کیا ہے۔ اس خاکے کا آخری اقتباس کچھ یوں ہے:
’’سچ بات تو یہ ہے کہ ایک ایسے دور میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا جادو سر چڑھ کے بول رہا ہے اور اردگرد کی ہر چیزمشکوک اور ملاوٹ زدہ ہوچکی ہے۔ تصنع اور تنوع کی چکا چوند میں نقل اصل سے بہتر نظر آنے لگی ہے۔ ایسے میں اس طرح کے خالص آدمی کی موجودگی دیکھ کے جی چاہتا ہے کہ ان کا نام خالد ندیم سے تبدیل کر کے خالص ندیم رکھ دیا جائے۔‘‘ (۵)
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے عصرِ حاضر کے معروف شاعر اظہر عباس کا خاکہ’’شعر ہولڈر‘‘ کے عنوان سے اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ یہ خاکہ بھی ان کی کتاب ’’خاکہ نگری‘‘ میں شامل ہے جس پر محققانہ انداز سے گزشتہ اوراق میں بحث کی گئی ہے۔ شخصی خاکوں میں سب سے آخری خاکہ ’’یک نہ شددوشد‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس خاکے میں انھوں نے نوجوان مزاح نگار محمد اکرام سرا کی مزاح نگاری اور شخصیت کو موضوع بنایا ہے۔ محمد اکرام سرا درحقیقت ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کا خالہ زاد بھائی ہے۔ ایک ہی خاندان میں دو مزاح نگاروں کا پیدا ہونا فارسی کی اضطراب انگیز کہاوت ’’یک نہ شد دو شد‘‘ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انھوں نے محمد اکرم سرا کی مزاح نگاری پر مشتمل کتاب پر تبصرہ کیا ہے اور اپنے اندیشوں کو بھی بیان کیا ہے جس کے مطابق محمد اکرم سرا کی کتاب پر رائے زنی کرتے ہوئے وہ دو طرح کی مشکلات کا شکار ہیں ۔ اگر اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں تو اقربا پروری کے الزام سے دامن بچانا مشکل نظر آتا ہے۔ اگر تنقید و تنقیص کی پگڈنڈی پر چل نکلتے ہیں تو برادرِ یوسف کی ترکیب سامنے منہ کھولے دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس سے متعلق وہ لکھتے ہیں :
’’ہمیں محمد اکرم سرا کو دیکھ کے لگتا ہے کہ یہ بھی اسی پڑوسن جیسی وزڈم لے کے اس دنیا میں آیا ہے۔ آپ ذرا غور فرمایئے کہ ہم نے نہایت سوچ بچار کے بعد جس خاندان میں پیدا ہونے کا فیصلہ فرمایا یہ بلا سوچے سمجھے بلکہ دندناتا ہوا اسی خاندان میں آن وارد ہوا۔‘‘ (۶)
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اس کتاب میں جتنے بھی شخصی خاکے قلمبند کیے ہیں وہ انھوں نے مختلف تقاریب میں پڑھے بھی ہیں ۔ انھوں نے ان شخصی خاکوں میں مختلف کتب پر بھی بے لاگ اور کاٹ دار اسلوب میں تبصرے بھی کیے ہیں ۔ ان میں سے چند خاکے ان کی دیگر کتب میں بھی شامل ہیں اور انھوں نے دوبارہ اس کتاب میں بھی شامل کر دیے ہیں ۔
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی کتاب ’’خاکہ مستی‘‘ کا دوسرا حصہ ’’کرداری خاکے‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں کل گیارہ خاکے شامل ہیں ۔ اس حصے میں پہلا کرداری خاکہ ’’عام آدمی‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس کرداری خاکے میں اشفاق احمد ورک نے ایک عام آدمی کا کردار تخلیق کر کے اسے بطور علامت پیش کیا ہے۔ یہ کرداری خاکہ ایک عام آدمی کی آپ بیتی ہے۔ اس خاکے میں ایک عام آدمی کی نفسیات، باطنی جذبات و احساسات، روزمرہ زندگی میں درپیش چیلنجز اور مسائل، دم توڑتی مسرتوں اور کم عقلی کو بیان کیا گیا ہے۔ عام آدمی ہمارے سماج کے مظلوم، محنت کش اور پسے ہوئے طبقے کا نمائندہ ہے۔ مذکورہ خاکہ مقتدر طبقے اور امرا کی عیاشیوں اور بے حسی کو بھی ظاہرکرتا ہے۔ اس خاکے میں شگفتہ انداز میں عام اور خاص کے تفاوت کو ظاہر کیا گیا ہے:
’’میں سمجھتا ہوں مجھے نامراد، نا معقول، ناہنجار سب کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن ناکام اور نکما ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ میں ناکام نہیں بلکہ بڑے کام کی چیز ہوں ۔ اگر میرے فائدے دریافت کرنے ہیں تو کسی خاص آدمی سے پوچھ دیکھو۔میرا یہ فائدہ کیا کم ہے کہ میرے نہ ہونے سے عام اور خاص کی پہچان ختم ہوجائے گی۔‘‘ (۷)
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کا دوسرا خاکہ ’’لمبردار‘‘ دیہی زندگی کے اس غریب، لاچار، عاجز اور پسے ہوئے فرد کا نمایندہ ہے جسے عمومی طور پر دیہات کی مخصوص اصطلاح میں کمی کمین کہا جاتا ہے۔ مذکورہ شخص جسے ’’لمبردار‘‘ کا لقب بھی دیا گیا ہے، ساری زندگی دیہات کے نام نہاد زمینداروں ، وڈیروں اور چودھری حضرات کی خدمت میں گزاردیتا ہے مگر اسے تمام عمر اس کی محنت اور خدمات کا معقول معاوضہ نہیں ملتا۔ مذکورہ خاکے میں اشفاق احمد ورک نے اس کی ذہنی پس ماندگی، چھوٹی چھوٹی خواہشات اور غربت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ خاکہ ہر چھوٹے طبقے کے شخص کی عادات و اطوارکا نقشہ کھینچتا ہے۔ ایک زمیندار مصنف کی جانب سے جس طرح گاؤں کے کسی کمی کمین کی محنت اور خدمات کو اس خاکے میں اجاگر کیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اس خاکے میں انسانیت سے محبت کا جو درس شگفتہ پیرائے میں دیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے کرداری خاکے ’’گنہگار‘‘ میں آپ بیتی کے انداز میں دیہی کلچر کی تصویر کشی کی ہے۔ اس خاکے میں معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آنے والی نت نئے مواقع اور تبدیلیوں کو بھی سپردِ قلم کیا گیا ہے۔ مذکورہ خاکے میں ایک طرف نوجوان مولویوں پر طنز کیا گیا ہے جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ کر رقص وسرودکی محافل کا نظارہ کرتے ہیں اور ظاہری و باطنی تضادات کی عکاسی کرتے ہیں تو دوسری طرف ہمارے معاشرے کی دوغلی اور منافقانہ پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ اکثر افراد رقص و سرود کی محفلوں اور لذت و گناہ کے ہر موقع پر خود تو لطف اندوز ہوتے ہیں مگر مولویوں کے دیکھنے پر شدید اعتراض کرتے ہیں اور انھیں گنہگار کہہ کر پکارنے لگتے ہیں ۔
خاکہ ’’کشمیرن‘‘ میں انھوں نے ہماری مادیت پرستی کی عادت اور اس کے منفی اثرات کو علامتی پیرائے میں بیان کیا ہے۔ اس میں لالہ جی کا کردار تراشا گیا ہے جس کی محبوبہ کی شادی اس وجہ سے کسی اور سے ہوجاتی ہے کیونکہ وہ دبئی پلٹ اور دنیاروں کا مالک ہے۔
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے ’’دہشت گرد‘‘ میں رحمت چوکیدار کا خاکہ پیش کیا ہے۔ رحمت چوکیدار ہمارے معاشرے کے غریب،پسے ہوئے، بے بس اور پس ماندہ طبقے کا نمایندہ ہے جس کو مہنگائی کے اس دور میں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس خاکے میں ہمارے مقتدر طبقے کی نفسیات، ظالمانہ پالیسیوں اور معاشرے کی بے حسی اور بے مروتی کو بھی تنقیدکا نشانہ بنایا گیا ہے:
’’صاحب جی! موت آپ لوگوں کے لیے خوفناک اور عجیب ضرورہوتی ہوگی، ہماری تو اس سے قلمی دوستی ہے۔ ہم لوگ تو اس دنیا میں آتے ہی زندگی کی قسطیں ادا کرنے کے لیے ہیں ، جب وہ قسطیں پوری ہوجاتی ہیں ، موت اپنا دروازہ کھول دیتی ہے۔‘‘ (۸)
خاکہ ’’مورخ اورمورکھ‘‘ میں خاکہ نویس نے مورخین، محققین اور ناقدین کی سوچ اور ذہنی پس ماندگی پر طنز کے نشتر چلائے ہیں ۔ انھوں نے ان کی عجیب و غریب حرکات وسکنات اور ناہمواری کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ڈاکٹرن۔ ایچ کا کردار مذکورہ بالا اشخاص کا نمایندہ کردار ہے۔ اس خاکے میں عصرِ حاضر میں اردو ادب میں کی جانے والی عجیب و غریب تحقیقات اور جامعات میں مضحکہ خیز سندی مقالات پر بھی کامیاب چوٹ کی ہے۔ ’’ننھے فرشتے‘‘ میں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے بچوں کے معصومانہ سوالات اور ان کی طفلانہ شرارتوں کو زیر قلم لانے کی کوشش کی ہے اور انھیں ننھے اور معصوم فرشتے قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک اس خاکے کے ذریعے ہمارے سماجی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے اس خاکے آغاز میں پروین شاکر کا بچوں سے متعلق مشہور شعر بھی کوٹ کیا ہے۔ اس کے آخر میں انھوں نے ان بچوں کی نفسیات اور ظالمانہ نظام کا پول یوں کھولا ہے:
’’ہمارا پسندیدہ ترین مشغلہ انھی ننھے فرشتوں کی معصوم شرارتوں اور شریر ذہانتوں سے لطف اُٹھانا ہے۔ میں جیسے جیسے ان فرشتوں کے قریب ہوتاہوں میرے اندر یہ احساس گھمبیر اور گہرا ہوتا چلا جاتا ہے کہ ہمارا بے ڈھنگا نصاب اور ظالمانہ و جاہلانہ سیاسی و سماجی نظام ان معصوم فرشتوں کی معصومیت چھین کر انھیں مجرم، دہشت گرد، ون وہیلر، رشوت خور اور ذہنی مریض بنانے پر پوری ڈھٹائی سے گامزن ہے جب کہ ہمارے پاس اس کی روک تھام اور سدّ باب کے لیے زبانی بیانات اور ڈنگ ٹپاؤ، گھسی پٹی پالیسیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔‘‘ (۹)
اس خاکے میں مزاح پیدا کرنے کے لیے مصنف نے مختلف لطائف اور چٹکلوں سے کام لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مختلف پہیلیوں کو بھی اس خاکے میں پیش کیا ہے۔ مکالمہ نویسی اور انگریزی الفاظ میں ترامیم کر کے بھی مصنف نے قاری کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ بچوں کی نفسیات اور رجحانات کے تناظر میں یہ کردار قابلِ تحسین ہے۔
ڈاکٹراشفاق احمد ورک کا کرداری خاکہ بعنوان ’’بچہ جمہوریت‘‘ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس خاکے میں انھوں نے سیاسی شخصیات کے بچوں کے کردار کا خاکہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے بچہ جمہوریت کے نام سے اس کردار اور اس کی پیدائش اور دیگر حالات وواقعات کو مزاحیہ انداز میں پیش کرتے ہوئے ملکی صورت حال اور نام نہاد جمہوریت کی عکاسی جس شگفتہ انداز میں کی گئی ہے اس کا کوئی جواب نہیں کیا ہے۔ انھوں نے ثقافتِ یورپ میں پروان چڑھے ہمارے سیاستدانوں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ سیاسی خاکہ ہے۔ اس خاکے میں سیاسی مسائل اور حالات کو دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک علامتی خاکہ ہے جس میں سیاست کو دلچسپ انداز میں موضوع بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل اقتباس قابلِ مطالعہ ہے:
’’اس بچے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے نین نقش عین مین اسلامی خلافت سے ملتے جلتے ہیں ، اسے جو لباس پہنایا گیا ہے وہ مغربی جمہوریت کی اُترن ہے، اسے رہنے کے لیے جو صحبت میسر ہے، اس پہ دُور دُور تک آمریت کا گھنا اور گھناؤنا سایہ ہے۔ اسی متضاد اور ناموافق صورتِ حال کی وجہ سے بعض بدخواہ اسے نطفۂ نا تحقیق کہہ کر بھی پکارتے ہیں ۔‘‘ (۱۰)
خاکہ نویس خاکہ الہیہ کو میرٹ کے اعتبار سے بھی طنز کا نشانہ بناتے ہیں ۔ اسی طرح خاکہ ’’جنوری‘‘ میں مختلف مہینوں اور اس کے اثرات پر طنزیہ جملے کسے ہیں ۔ انھوں نے جنوری کے مہینے کو ایک خوبصورت خاتون سے تشبیہ دی ہے۔ جنوری کے لباس اورشوخی کو بھی ازراہِ تفنن بیان کیا گیا ہے۔ ’’مس فروری‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے خاکے میں مصنف نے فروری کے مہینے کے اثرات اور لوگوں کے رویوں میں آنے والے بدلاؤ کو بیان کیا ہے۔ اسی طرح اس حصے کا آخری خاکہ ’’دو صدیوں کا مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس خاکے میں انھوں نے بیسویں صدی اور اکیسویں صدی کو دو کرداروں کی مدد سے پیش کیا ہے۔ انھوں نے ان کے ذریعے ہمارے رویوں اور دنیا میں آنے والے انقلابات کا ذکر بھی رنگین اسلوب میں کیا ہے۔ یہ خاکہ مغربی تہذیب اور اکیسویں صدی کا ہماری معاشرتی و ثقافتی اقدار پر اثرات کا بہترین نمونہ ہے۔
اس کتاب کا تیسرا حصہ ’’ایک دفعہ کا ذکر ہے‘‘کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے مختلف مزاحیہ خاکے کہانی نما انداز میں لکھے ہیں ۔ خاکہ بعنوان ’’بوڑھا اور درخت‘‘ میں ایک سیاست دان کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں ان سیاست دانوں کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے جو ساری عمر لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی لوٹ کھسوٹ کرتے ہوئے خود معاشی طور پر مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ انھیں اخروی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ سیاست دانوں کی نفسیات، کردار اور سوچ کو ایک سیاست دان کی زبان سے تخلیق کار نے یوں آشکار کیا ہے:
’’یہ بات تم جیسے غریب لوگوں کو بتانے کی تو نہیں مگر میں پھر بھی بتائے دیتا ہوں کہ سیاست اورامارت کے یہ تناور درخت جن کے بُلّے میں نے لُوٹے ہیں ، میرے پُرکھوں نے لگائے تھے۔ اب جو درخت اور پودے میں لگارہا ہوں ، ان کا پھل میرے بچے اور پوتے کھائیں گے۔ تمھیں کوئی تکلیف؟‘‘ (۱۱)
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اپنے خاکے ’’پیاسا کوا‘‘ میں انسان کی عیاریوں اور چالاکیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اسے ایک کوے کے روپ میں پیش کیا ہے۔ اس میں بظاہر ایک پیاسے کوے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، لیکن بباطن مصنف نے معاشرے میں بدعنوان عناصر کا پردہ چاک کیا ہے جو بدعنوانی، رشوت، سفارش اور سماجی ناہمواری کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اسی طرح ’’بندر اور بلیاں ‘‘ کے عنوان سے تخلیق کردہ خاکے میں ہمارے معاشرے کے صاحبِ اقتدار، افسروں اور حکومتی عہدیداروں کو بلیوں اور بندروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ انھوں نے ان کی لوٹ کھسوٹ اور دغا بازی پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔ ان بلیوں کی خوراک اقتدار کی ملائی، شہرت کا پنیر اور اختیارات کی چپڑی روٹیاں ہیں ۔ اس میں انھوں نے ملا نصیرالدین کا کردار بھی تراشا ہے اور ان کے مزاحیہ واقعات کو بھی کوٹ کیا ہے۔
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے ’’کچھوے اور خرگوش کی نئی دوڑ‘‘ میں کچھوے اور خرگوش کے ساتھ ساتھ گدھے کے دلچسپ مکالمے سے مزاح پیدا کیا ہے۔ اس جدید زمانے کی دوڑ میں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے خرگوش کوفاتح قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی ناہمواریوں اور سیاسی بے ڈھنگے پن پر طنزیہ جملے کسے ہیں ۔ انھوں نے اپنے خاکے ’’ایک تھا بھیڑ یا عرف نائن الیون‘‘ میں امریکی نفسیات اور اس ملک کے مقتدر طبقے کی توسیع پسندانہ سوچ پر طنز کیا ہے۔ اس تناظر میں انھوں نے بھیڑیا کا کردار تراشا ہے۔ انھوں نے اس خاکے میں امریکہ اور اس کے حواریوں کو انسانوں کے اس جنگل کا بھیڑیا قرار دیا ہے۔ جنہوں نے نہتے اور معصوم افغان شہریوں پر جھوٹے الزامات لگا کر ان پر ہلہ بول دیا۔ مذکورہ کہانی نماخاکے میں انھوں نے ایک طرف امریکہ اور اس کے حواریوں کے نا پاک عزائم کا پردہ چاک کیا ہے اور اسے تمسخر کا نشانہ بنایا ہے تو دوسری طرف ان افغانیوں کی جرأت اور بہادری کوخراجِ تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے ایمان کی قوت سے اپنے سے ہزار گنا زیادہ طاقتور دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس تناظر میں مذکورہ کہانی خاکے سے اقتباس ملاحظہ کریں:
’’جنگل کے بھیدی بتاتے ہیں کہ آج کل جنگل کے چاروں جانب رہنے والے میمنوں کے سروں پر سینگوں کی فصل اگنی شروع ہوچکی ہے۔ اس بہنے والے خون نے تو گویا اس فصل کے لیے کھاد کا کام کیا ہے۔ سنا ہے اس عمل سے بھیڑیا اور اس کے حمایتی جانور بے خوابی، بدہضمی اور بے سکونی کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔ چھپے ہوئے بارہ سنگھوں کا خوف اس سب پہ مستزاد ہے، جس سے انھیں ’’میمنا ٹائٹس‘‘ ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ (۱۲)
اس کہانی نما خاکے سے معلوم ہوتا ہے کہ اشفاق احمد ورک نہ صرف ملکی سیاسی عوامل بلکہ بین الاقوامی سیاسی حالات سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔ انھیں سرد جنگ، امریکہ کی افغانیوں کے ذریعے سوویت یونین کے انہدام اور نائن الیون سے متعلقتمام طرح کیآگاہی ہے۔ وہ امریکی عزائم اور مغربی مقاصدسے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کی توسیع پسندانہ سوچ سے واقف ہیں ۔ ڈاکٹر محمد اسلم امریکی عزائم سے متعلق لکھتے ہیں :
’’امریکہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان، خلیج فارس، مشرقِ وسطیٰ، روس اور چین پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ چین اور اس کے اتحادیوں کوکسی صورت عالمی طاقت نہیں بننے دینا چاہتا اور اس نے اسی مقصد کے لیے افغان جنگ کا انتخاب کیا۔‘‘(۱۳)
’’بھیڑیا اور میمنا‘‘ میں انھوں نے ملکی سیاسی صورت حال اور انتخابی دنگل پر علامتی انداز میں چوٹ کی ہے۔ انھوں نے ننانوے میں جنرل پرویز مشرف کا نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے اور بعد ازاں میثاقِ جمہوریت کے بعد جمہوری عمل کے دوبارہ آغاز سے متعلق اپنی رائے پیش کی ہے۔ ’’اتفاق میں برکت‘‘ میں اشفاق احمد ورک نے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے والے عناصر کی نشاندہی کی ہے۔ انھوں نے اس کہانی نما خاکے میں تمام عالمِ اسلام اور مسلم حکمرانوں کو اتحاد کا مشورہ دیا ہے۔ اس خاکے میں مسلمان حکمرانوں کو طاقت ور بیلوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ، اسرائیل اور اس کے حواریوں کی دوغلی پالیسی کا پردہ بھی چاک کیا گیا ہے:
’’دوسری طرف جابر سلطان اور اس کے حواریوں کے کانوں میں بھی اس ملی بھگت کی بھنک پڑ گئی اور ان کو اپنے سروں پر خطرے کی گھنٹی منڈلاتی نظر آنے لگی۔ انھوں نے اس اتحاد کو ناکام بنانے کے لیے کئی طرح کے منصوبے سوچنے شروع کر دیے۔ انھیں جدا رکھنے کے لیے اندر کھاتے ڈھیروں پالیسیاں مرتب کی گئیں ۔‘‘ (۱۴)
’’موبائل کبوتر‘‘ میں انھوں نے دور جدید میں نت نئی سامنے آنے والی ایجادات اور انسانی جذبات پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ موبائل کی ایجا کے بعد آنے والی تبدیلیاں اس کہانی نما خاکے کا موضوع ہیں ۔
’’خاکہ مستی‘‘ کا چوتھا حصہ ’’آؤ بچو کہانی سنو‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں کل اکیس چھوٹی چھوٹی کہانیاں قلمبند کی گئی ہیں ۔ اس حصے کی پہلی کہانی ’’خطرناک‘‘ کے عنوان سے ہے۔ جس میں شگفتہ انداز میں ہمارے معاشرے کے صاحبِ ثروت لوگوں پر طنز کیا گیا ہے جو خود تو اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں مگر اپنے غریب ملازمین کی ضروریات اور صحت کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ ’’سرکاری بوسہ‘‘ میں ہمارے حکمرانوں کی منافقانہ پالیسیوں اور بے حسی سے پردہ چاک کیا گیا ہے۔ ’’پولیس کا ہے فرض‘‘ میں پولیس انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے کہ وہ قاتلوں ، مجرموں اور ڈاکوؤں کو پکڑنے کے بجائے شرفا اور غریبوں کو تنگ کرنے میں مصروفِ عمل ہیں ۔ ’’خواہش‘‘ میں ایک مزدور کی خواہش اور ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کو بیان کیا گیا ہے:
’’ایک مزدور نے فوٹواترواتے ہوئے فوٹو گرافر کو بہت تاکید کی کہ یہ تصویر بہت اچھی ہونی چاہیے۔ ملک میں آئے دن ہونے والے بم دھماکوں اور دہشت گردی کی نت نئی وارداتوں میں ہوسکتا ہے میں کسی بھی لمحے لقمۂ اجل بن جاؤں اور یہی تصویر کسی اچھے سے اخبار کے فرنٹ پیج پہ چھپنے کے لیے چلی جائے۔‘‘ (۱۵)
ڈاکٹراشفاق احمد ورک کی کتاب بعنوان ’’خاکہ مستی‘‘ کا پانچواں حصہ ’’غالب شریر خامہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں مرزا غالب کے فرضی مکاتیب کو جو انھوں نے عہدِ حاضرکے نامور ادبا کو بھیجے، کو ورک صاحب نے کمال مہارت سے رقم کیا ہے۔ ایک طرح سے یہ خطوط خطوطِ غالب کی تحریف ہیں ۔ ان مکاتیب میں پہلا اور دوسرا خط ڈاکٹر تحسین فراقی اور ڈاکٹر معین نظامی کے نام ہے اور تیسرا خط جمیل احمد عدیل کے نام ہے۔
کتاب کا چھٹا حصہ’’ علامتی افسانہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں دو علامتی اور مزاحیہ کہانیاں شامل کی گئی ہیں ۔ اس کتاب ساتواں اور آخری حصہ ’’بلیغیات‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس حصے میں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے مختلف اقوالِ زریں ، ضرب الامثال اور محاوروں کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے۔
’’خاکہ مستی‘‘ کا مجموعی طور سے تحقیقی جائزہ لیا جائے تو انھوں نے بیشتر خاکے اورنٹیل کالج، لاہور کے اساتذہ کرام اور طلبا کے تحریر کیے ہیں ۔ احترام اور محبت اپنی جگہ، مگر یہ رشتہ بھی ان کے قلم کی روانی اور شگفتگی کو روکنے سے قاصر رہا ہے۔ اورنٹیل کالج کا سحر ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی خاکہ نگاری سے بھی جھلکتا ہے۔ ان کا اندازِ بیان اتنا دل نشین اور اثر پذیر ہے کہ قاری بھی ان کے ساتھ ساتھ اس عظیم درس گاہ میں سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔ اورنٹیل کالج لاہور کا ماحول، وہاں کے معزز اساتذہ اور طلبا و طالبات کے رویوں ، سب کچھ اس مہارت سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری اس کالج میں پڑھنے اور پڑھانے والوں پر رشک کرنے لگتا ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کے خاکوں میں واقعات کا ذکر بہت کم آیا ہے مگر جہاں جہاں واقعات بیان ہوئے ہیں ، وہ مذکورہ شخصیت کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی کتاب ’’خاکہ مستی‘‘ اردو خاکہ نگاری میں ایک نمایاں اور سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والی تصنیف ہے جس میں موضوعاتی تنوع، فکری معیار اور اسلوبی تازگی بیک وقت جلوہ گر ہیں۔ اس مجموعے میں شامل زیادہ تر خاکے زندہ شخصیات پر مبنی ہیں، جہاں مصنف نے ان کی خوبیوں کو کھلے دل سے سراہا ہے اور کمزوریوں پر بھی نظر ڈالنے سے گریز نہیں کیا، یوں ایک حقیقت پسند اور متوازن تصویر سامنے آتی ہے جو ان کے غیر جانب دار مشاہدے کی دلیل ہے۔ ڈاکٹر ورک نے مزاح پیدا کرنے کے لیے موازنہ و تضاد کی فنی تکنیک کو نہایت مؤثر انداز میں برتا ہے، جب کہ محاورات اور اشعار کے برمحل استعمال نے ان کے خاکوں میں شگفتگی اور دلکشی کو دو چند کر دیا ہے۔ ان خاکوں میں دیہاتی کلچر کی جھلکیاں بھی نمایاں ہیں جو مصنف کی ثقافتی جڑوں سے وابستگی اور مشاہدے کی گہرائی کی علامت ہیں۔ کتاب محض خاکوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں علامتی افسانے، لطائف، شگفتہ خطوط اور مختصر کہانیاں بھی شامل ہیں جو اسے ایک متنوع اور ہمہ جہت ادبی تجربہ بناتے ہیں۔ ڈاکٹر ورک کے ہاں ظرافت اور شگفتگی ہمیشہ بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور وہ اسے کسی لمحے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’خاکہ مستی‘‘ میں شخصی، کرداری اور کہانی نما خاکوں کی ایسی رنگا رنگی اور تنوع موجود ہے جو قاری کو حیرت اور مسرت دونوں سے ہمکنار کرتی ہے اور یوں یہ کتاب اردو خاکہ نگاری کو ایک نئے زاویے اور تازہ اسلوب سے روشناس کراتی ہے۔
حوالہ جات
- ڈاکٹر اشفاق احمد ورک: ’’ خاکہ مستی‘‘ کتاب سرائے، لاہور، ۲۰۰۹ء،ص۱۳
- ایضاً،ص ۳۴
- ایضاً،ص ۴۴
- ایضاً،ص ۵۴
- ایضاً
- ایضاً،ص ۶۷
- ایضاً،ص ۷۲
- ایضاً،ص ۹۰۔ ۸۹
- ایضاً،ص ۱۰۰-۱۰۱
- ایضاً،ص ۱۰۴
- ایضاً،ص ۱۲۳
- ایضاً،ص ۱۳۸
- ڈاکٹر محمد اسلم: ’’نائن الیون اور امریکی عزائم‘‘ ورلڈ ویو پبلشرز، لاہور، اشاعت دوم، ۲۰۱۳ء، ص ۱۱۸-۱۱۹
- ڈاکٹر اشفاق احمد ورک: ’’خاکہ مستی‘‘ص ۱۴۵
- ایضاً،ص ۱۶۲
