You are currently viewing ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کا نوتاریخی تناظر

’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کا نوتاریخی تناظر

 ڈاکٹر شہباز حسین

’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کا نوتاریخی تناظر

 

ABSTRACT:

This essay explores Saadat Hasan Manto’s short story Toba Tek Singh through the theoretical lens of New Historicism, highlighting the dynamic relationship between literature, history, and power. New Historicism challenges the notion of history as an objective and fixed truth, arguing instead that history is constructed through political, cultural, and ideological discourses. Within this framework, Urdu fiction, particularly Manto’s narrative – emerges as a counter-historical discourse that foregrounds marginalized voices and suppressed experiences.

The essay argues that Toba Tek Singh transcends its status as a literary representation of the Partition of India and functions as an alternative historical text that interrogates state narratives, identity politics, and ideological divisions. Manto presents Partition not as a triumphant political event but as a human tragedy manifested in psychological trauma, dislocation, and existential confusion. Through the symbolic setting of the asylum and the character of Bishan Singh, Manto exposes the absurdity of imposed identities, the violence of state power, and the fragmentation of language, memory, and selfhood.

By employing satire, fragmented language, and marginal characters, Manto destabilizes dominant historical discourses and reveals the ethical failure of nationalist narratives that neglect individual suffering. The story thus exemplifies New Historicism’s assertion that literary texts participate in the production of historical meaning rather than merely reflecting historical events. Ultimately, Toba Tek Singh serves as a powerful counter-history that re-centers human experience, memory, and moral inquiry, demonstrating literature’s capacity to challenge hegemonic histories and reconstruct historical consciousness.

 

KEYWORDS:
New Historicism; Saadat Hasan Manto; Toba Tek Singh; Partition of India; Urdu fiction; counter-history; power and discourse; identity and memory; marginalized voices; historical consciousness.

 

 

ادب محض  ایک تخلیقی اظہاریہ ہی نہیں،  بلکہ اپنے عہد کے فکری، سماجی اور تاریخی شعور کا آئینہ  بھی ہوتا ہے۔ خصوصاً افسانہ، جو زندگی کے فوری اور گہرے تجربات کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاریخ سے گہرا رشتہ قائم کرتا ہے۔ اسی تناظر میں نوتاریخیت ایک ایسا تنقیدی نظریہ ہے جو ادب اور تاریخ کے باہمی تعلق کو نئے زاویے سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ نوتاریخیت کے مطابق تاریخ کوئی جامد، معروضی اور حتمی سچ نہیں،  بلکہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو طاقت، سیاست، ثقافت اور سماجی رویّوں کے زیرِ اثر تشکیل پاتا ہے۔ یوں ادب نہ صرف تاریخ سے اثر قبول کرتا ہے بلکہ خود بھی تاریخی شعور کی تشکیل میں ایک  فعال کردار ادا کرتا ہے۔

نوتاریخیت کا ایک اہم تصور یہ ہے کہ ہر متن اپنے عہد کے طاقت کے نظام سے جڑا ہوتا ہے۔اردو افسانہ ابتدا ہی سے اپنے عہد کی سماجی اور تاریخی تبدیلیوں سے جڑا رہا ہے۔ معاصر اردو افسانے میں بھی نوتاریخی شعور نمایاں طور پر موجود ہے۔ جدید افسانہ نگار ریاستی جبر، شناخت کے بحران، صنفی سیاست اور معاشی ناہمواری جیسے موضوعات کو محض سماجی مسائل کے طور پر نہیں بلکہ تاریخی عمل کے نتائج کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یوں افسانہ تاریخ کا متبادل بیانیہ بن کر سامنے آتا ہے، جو خاموش، دبے ہوئے اور نظرانداز کیے گئے تجربات کو زبان عطا کرتا ہے۔الغرض، نوتاریخیت اردو افسانے کو محض ادبی متن کے بجائے ایک ثقافتی اور تاریخی دستاویز کے طور پر پڑھنے کا شعور فراہم کرتی ہے۔ یہ نظریہ ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ افسانہ نہ صرف تاریخ سے جنم لیتا ہے بلکہ تاریخ کے معنی بھی ازسرِنو مرتب کرتا ہے۔ اردو افسانہ، اپنی گہرائی، وسعت اور انسانی وابستگی کے باعث، نوتاریخی مطالعے کے لیے ایک زرخیز اور بامعنی میدان فراہم کرتا ہے، جہاں ادب اور تاریخ ایک دوسرے کے ساتھ مکالمے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو اردو افسانے کے وہ نمائندہ تخلیق کار ہیں جن کے ہاں تاریخ کسی سرکاری یا فاتحانہ بیانیے کی صورت میں نہیں ، بلکہ عام انسان کے ٹوٹے ہوئے تجربے، ذہنی کرب اور سماجی انتشار کے روپ میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ نوتاریخیت کے تناظر میں منٹو کے افسانے اس لیے اہمیت رکھتے ہیں کہ وہ بڑے تاریخی واقعات، خصوصاً تقسیمِ ہند، کو اقتدار، ریاست اور نظریے کی سطح پر نہیں بلکہ فرد کی نفسیات، اخلاقی شکست و ریخت اور حاشیے پر دھکیل دیے گئے کرداروں کی زندگی کے حوالے سے پیش کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے ڈاکٹر ہمایوں اشرف لکھتے ہیں:

’’انسانی زندگی اس عظیم فنکار کو موضوع تھا۔ منٹوؔ نے اپنے معاشرے میں سانس لینے والے ہر طبقے اور ہر طرح  کے انسانوں  کی رنگا رنگ زندگیوں کو، ان کی نفسیاتی  اور جذباتی تہہ داریوں  سمیت اپنے  افسانوں  کے کینوس  پر  منتقل کیا ہے۔ اپنے اردگرد  کے انسان اور  ماحول کو اس نے بہت باریکی سے دیکھا تھا، ان کی خوشیوں، غموں اور مسئلوں کو محسوس کیا تھا۔ مزدور، طوائف، کلرک، رند خرابات اور  زاہد پاکباز ،  سب کی الجھنیں، مسائل اور ان کا  روحانی کرب، مشاہدوں  اور تجربوں کے حقیقت پسندانہ  اظہار میں اسے یدطولیٰ حاصل ہے‘‘۔  (۱)

منٹو کے ہاں تاریخ کوئی جامد پس منظر نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک عمل ہے جو متن کے اندر طاقت کے نظام، سماجی جبر اور انسانی ردِعمل کی صورت میں مسلسل تشکیل پاتا رہتا ہے۔ اس طرح منٹو کا افسانہ نوتاریخیت کے اس تصور کی عملی مثال بن جاتا ہے کہ ادب نہ صرف تاریخ سے متاثر ہوتا ہے بلکہ تاریخ کے معنی اور رخ کو بھی ازسرِنو متعین کرتا ہے۔منٹو کے افسانے،  خصوصاً تقسیمِ ہند کے پس منظر میں نوتاریخی مطالعے کی بہترین مثال ہیں۔ یہ افسانے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تاریخی واقعات کا اصل اثر سرکاری بیانیوں کی بجائے انسانی نفسیات اور سماجی رویّوں میں تلاش کیا جانا چاہیے۔

نوتاریخی حوالے سے سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘  بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ افسانہ محض تقسیمِ ہند کے المیے کا  ایک ادبی اظہار نہیں ، بلکہ  درحقیقت تاریخ، ریاستی بیانیے  اور فرد کی شناخت کے  باہمی  تصادم کا ایک گہرا استعارہ ہے۔  یہ افسانہ رسمی تاریخ کے مقابل ایک متبادل  انسانی تاریخ پیش کرتا ہے ، جو حاشیے پر موجود کرداروں کی  زبان سے تشکیل پاتی ہے۔ نوتاریخی تنقید کے تناظر میں   دیکھا جائے تو یہ افسانہ  متن اور عہد کے  باہمی تعلق اور طاقت کے ڈھانچوں  کو آشکار کرتا ہے۔ یوں یہ افسانہ ادب اور  تاریخ کے مابین  قائم سرحدوں کو  منہدم کر دیتا ہے۔  نوتاریخیت  کے مطابق  ادب کو تاریخ سے الگ کر کے نہیں پڑھا جا سکتا،  بلکہ ادبی متن خود تاریخ کا ایک حصہ ہوتا ہے اور تاریخ متن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ نوتاریخیت کے مطابق  متن اور تاریخ   ایک دوسرے کو تشکیل کرتے ہیں اور یہ افسانہ اسی باہمی رشتے کو آشکار کرتے ہوئے فرد، ریاست اور   طاقت کے تعلقات  پر  ایک گہرا سوال قائم کرتا ہے۔ اس حوالے سے یہ افسانہ  تاریخ کے خاموش المیوں  کا ایک  مؤثر ادبی وسیلہ بن جاتا ہے۔ یوں ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کو  نوتاریخی تناظر میں پڑھا جائے تو  واضح ہوتا ہے کہ  یہ متن  اپنے عہد کے  سیاسی، سماجی  اور نظریاتی خطابات کا ایک فعال  حصہ ہے۔ منٹو اس افسانے میں  تقسیمِ ہند کے  سرکاری اور  ریاستی بیانیے  کو پاگل  خانے  کے حاشیائی  کرداروں کے ذریعے  چیلنج کرتے ہیں، یوں تاریخ کی ایک وہ صورت  سامنے آتی ہے  جو  قاری کو عام  دستاویزات میں  نظر نہیں آتی۔

           یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ  اردو  تحقیق و تنقید کے میدان  میں  ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ پر ہونے والا بیشتر کام   افسانے کے علامتی، انسان دوست  اور نفسیاتی پہلوؤں تک  محدود رہا ہے ، جب کہ اس کے تاریخی سیاق پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔   نوتاریخیت  اس متن کو   اس عہد کے سیاسی فیصلوں، ریاستی اداروں  اور طاقت  کے سسٹم سے جوڑ کر پڑھنے کی اجازت دیتی ہے۔ جس سے یہ افسانہ تقسیمِ ہند کے  ایک متبادل  تاریخی متن کی  صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پاگل خانے کی فضا، کرداروں کی  بے ربط گفتگو ، نیز بشن سنگھ کی معلق شناخت،   دراصل اس عہد کی  نظریاتی بے سمتی  اور ریاستی تشدد  کی علامتیں ہیں  جو سرکاری تاریخ میں جگہ نہیں  پا سکیں۔بظاہر   ۱۹۴۷ کی تقسیم سیاسی سطح پر ایک ’’سیاسی فیصلہ‘‘ تھا ، مگر درحقیقت  انسانی سطح پر ایک ناقابلَ فہم سانحہ تھا۔

            نوتاریخی مطالعہ اس بات پر  بھی  زور دیتا ہے کہ  ہم سرکاری تاریخ کی بجائے،   انسانی تجربے کی تاریخ کو  متن میں تلاش کریں۔  ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں بے شمار نوتاریخی شواہد موجود ہیں۔   افسانے میں پاگل خانہ  ایک علامتی ہندوستان بن جاتا ہے، جہاں  مسلمان، ہندو اور سکھ پاگل ایک  ساتھ اکٹھے رہتے ہیں۔ نوتاریخی زاویے سے  یہ پاگل خانہ ایک طاقت ور علامت ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں  سب پاگل قید ہیں۔  سب  پر ریاستی اختیار نافذ ہے، مگر سب سے زیادہ  سچ یہیں بولا جاتا ہے۔   مثلاً یہ جملہ :

’’ پاگل خانے میں بعض ایسے بھی تھے  جو یہ جانتے تھے کہ پاکستان کیا ہے  ، مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں ہے‘‘۔  (۲)

 نوتاریخی حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل  ہے۔  یہاں منٹو سرکاری تاریخ کے اس دعوے کو  رد کرتے ہیں کہ  تقسیم ایک واضح اور  سمجھ میں آنے والا عمل تھا۔  ریاست نے نیا ملک تو بنا دیا، مگر اس کی  اصل معنویت  سے عام انسان محروم رہا۔  اس جملے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ  تاریخ طاقت کے مراکز میں تو بہت واضح تھی  ، مگر عوام کے لیے ایک معمہ بن گئی۔  اس پاگل خانے کا ایک نوتاریخی پہلو یہ بھی ہے کہ  اس میں موجود  سب پاگل اس الجھن میں ہیں کہ  ہندوستان کہاں ہے اور پاکستان کہاں ہے اور وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ:

 ’’کیا پاکستان ہندوستان میں ہے یا ہندوستان پاکستان میں؟‘‘ (۳)

جواباً کوئی بھی  نہیں بولتا، تو یہ  لمحہ اس تاریخی سچ کو ظاہر کرتا ہے  کہ  انسان کی شناخت  نقشے سے بڑی ہوتی ہے۔   علاوہ ازیں!   یہ سوال  نہ صرف خود  تاریخ کی غیر معقولیت کو  بے نقاب کرتا ہے،    بلکہ یہ جملہ  تاریخ کے اس  سرکاری بیانیے پر بھی طنز  بن جاتا ہے   جو تقسیم کو ایک  ’’منظم عمل‘‘  کے طور پر پیش کرتا ہے۔ نوتاریخی تنقید یہاں یہ بتاتی ہے کہ  ریاستی طاقت نے زمین کو بانٹا  مگر یادداشت، وابستگی  اور وجود کو  نہیں بانٹ سکی۔ نوتاریخیت کے مطابق  اصل تاریخی سچ  اکثر حاشیے کے کرداروں کے پاس ہوتا ہے ۔ منٹو کا یہ جملہ :

’’بشن سنگھ کو صرف  ایک فکر تھی  کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے‘‘  (۴)

بظاہر نہایت سادہ اور مختصر ہے، مگر معنوی سطح پر یہ پورے افسانے ہی نہیں بلکہ برصغیر کی تقسیم کی الم ناک تاریخ کا گہرا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ فکر دراصل ایک فرد کی ذہنی الجھن نہیں، بلکہ اس انسان کا کرب ہے جو اچانک کھینچی گئی سرحدوں کے باعث اپنی شناخت، اپنی زمین اور اپنے ماضی سے جدا کر دیا گیا ہے۔ بشن سنگھ کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ محض ایک قصبے کا نام نہیں، بلکہ اس کی پوری ذات، اس کی یادیں، اس کی پہچان اور اس کا وجود ہے۔یہ سوال کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے، درحقیقت اس بے رحم سیاسی فیصلے پر ایک گہرا طنز ہے جس نے انسانوں کو پاگل خانوں، مہاجر کیمپوں اور اجنبی ملکوں میں بانٹ دیا، مگر ان کے دل و دماغ کی سرحدیں متعین نہ کر سکا۔ منٹو اس ایک جملے کے ذریعے یہ بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر زمین کے ٹکڑے بدل جائیں تو کیا انسان کی شناخت بھی بدل جاتی ہے؟ یوں یہ جملہ افسانے کا سب سے طاقت ور فکری نکتہ بن کر قاری کو تقسیم کے انسانی المیے پر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

ریاست باشندوں سے پوچھتی ہے ، تم مسلمان ہو یا سکھ، جب کہ بشن سنگھ پوچھتا ہے:

 ’’میری زمین کہاں ہے‘‘۔ (۵)

نوتاریخی تناظر میں بشن سنگھ کا یہ سوال ریاستی بیانیے کے مقابل ایک طاقت ور انسانی بیانیہ بن کر سامنے آتا ہے، جو بڑے تاریخی دعووں کی بجائے ایک فرد کی ٹوٹی ہوئی زندگی اور بکھری ہوئی یادوں کو مرکزِ توجہ بناتا ہے۔ یوں تاریخ محض سرکاری دستاویزات اور سیاسی فیصلوں کی کہانی نہیں رہتی، بلکہ ایک ذاتی اور داخلی تجربے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح نوتاریخیت دونوں ملکوں کے درمیان قائم کی گئی سرحدوں  کو  بھی محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں سمجھتی، بلکہ اسے طاقت، اقتدار اور جبر کی علامت قرار دیتی ہے۔ ایک ایسی لکیر جو زمین کو تو تقسیم کر دیتی ہے، مگر انسان کی شناخت، یادداشت اور وابستگی کو تقسیم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

نوتاریخیت کے مطابق  طاقت ہمیشہ  ’’عقل‘‘ کی  تعریف خود طے کرتی ہے۔ افسانے میں ’’عاقل‘‘ سیاست دان ہیں  اور ’’پاگل‘‘  وہ لوگ  جو سوال کرتے ہیں۔ مگر منٹو اس تقسیم کو الٹ دیتے ہیں۔  بشن سنگھ بظاہر پاگل ہے  مگر وہی واحد کردار ہے  جو اپنی زمین،  اپنی شناخت  اور اپنے وجود کے سوال  پر ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ بشن سنگھ کا بار بار یہ کہنا کہ:

 ’’ اوپر دی گڑ گڑدی اینکس  دی بے دھیانا  دی  مونگ دی دال آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان‘‘ ۔ (۶)

محض ایک ہذیانی کلام نہیں، بلکہ   طاقت کے مسلط کردہ سیاسی  بیانیے کے لسانی انہدام  اور  تاریخی شعور کی شکستہ زبان ہے۔ زبان  میں لرزش یا لڑکھڑاہٹ آتی ہے تو  تاریخ کا جھوٹ بھی عیاں ہوتا ہے اور حقائق سامنے آتے ہیں۔    یہ جملہ دراصل منٹو کے ہاں تاریخ، سیاست اور طاقت کے جبر کے خلاف ایک گہرا لسانی احتجاج ہے۔ یہ کلام محض ذہنی اختلال کی علامت نہیں بلکہ اس تاریخی عمل کا نتیجہ ہے جس میں فرد کو اس کی زمین، شناخت اور معنیاتی نظام سے زبردستی کاٹ دیا جاتا ہے۔ نوتاریخیت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ جملہ اس لمحے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں طاقت کے مسلط کردہ سیاسی بیانیے اپنی گرفت کھو دیتے ہیں اور زبان، جو تاریخ کی اولین ترجمان ہوتی ہے، خود شکستہ ہو جاتی ہے۔مزید برآں!  اس جملے میں انگریزی، اردو اور پنجابی کا مشترکہ استعمال  کوئی اتفاقی امر نہیں۔ انگریزی زبان نوآبادیاتی اقتدار اور سامراجی نظم و ضبط کی علامت ہے، اردو اور پنجابی مقامی ثقافتی شناخت اور روزمرہ زندگی کی زبانیں ہیں، جب کہ پاکستان اور ہندوستان جیسے سیاسی نام مذہبی اور قومی تقسیم کے مصنوعی تصورات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بشن سنگھ کی زبان ان تمام سطحوں کو ایک ہی سانس میں سمیٹ کر اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ تاریخ جب انسانی تجربے سے کٹ کر محض طاقت کا آلہ بن جائے تو وہ زبان کی وحدت بھی برقرار نہیں رکھ سکتی۔ نتیجتاً زبان لڑکھڑاتی ہے اور جملے اپنی منطقی  اور معنوی ساخت کھو دیتے ہیں ۔

نوتاریخیت کے مطابق تاریخ کوئی ہموار  اور ایک  معروضی سلسلہ نہیں،  بلکہ متضاد بیانیوں، طاقت کے مفادات اور دبے ہوئے سچ کا مجموعہ ہے۔ بشن سنگھ کی یہ شکستہ زبان اسی دبے ہوئے سچ کی ایک  علامت ہے، جو واضح اور باقاعدہ جملوں میں ڈھلنے سے انکار کر دیتی ہے۔ یہاں زبان کی بے ترتیبی دراصل تاریخ کے جھوٹے تسلسل کو توڑنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ جیسے ہی زبان اپنی مرکزیت کھوتی ہے، ویسے ہی وہ سرکاری تاریخ کے دعوے کو بھی غیر مستحکم کر دیتی ہے۔یوں بشن سنگھ کا یہ جملہ تاریخ کے سامنے ایک سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔جو  یہ بتاتا ہے کہ تقسیم جیسے سانحات کو صاف، مربوط اور منطقی زبان میں بیان کرنا خود ایک فریب اور جھوٹ  ہے۔ منٹو اس کردار کے ذریعے یہ واضح کرتے ہیں کہ جب تاریخ انسان کو پاگل قرار دے کر حاشیے پر دھکیل دیتی ہے تو دراصل تاریخ خود اپنے عقلی اور اخلاقی جواز سے محروم ہو چکی ہوتی ہے۔ اس طرح بشن سنگھ  کے یہ جملے  منٹو کے  نوتاریخی شعور کے عکاس بن جاتے ہیں۔ ایسے جملے یا ایسی زبان جو ہذیان کے پردے میں طاقت کے پورے بیانیے کو منہدم کر دیتی ہے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ برِصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے عمل میں مذہب کو علیحدگی، قومیت اور شناخت کی ایک بنیادی اور فیصلہ کن علامت بنا کر پیش کیا گیا، مگر سعادت حسن منٹو  اس افسانے میں  ، اس بظاہر ’’سادہ‘‘  اور منطقی تقسیم کو کرداروں کے وجودی المیے کے ذریعے مکمل طور پر رد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ منٹو کے ہاں مذہب محض شناخت کا سوال نہیں رہتا،  بلکہ وہ یہ دکھاتے ہیں کہ انسان کی وابستگی زمین، یادداشت، زبان اور تجربے سے ہوتی ہے، نہ کہ محض مذہبی لیبل سے۔ افسانے کے کردار،  بالخصوص بشن سنگھ، اس امر کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ جب تاریخ انسان پر مذہب، قوم اور سرحد کی صورت میں ایک تیار شدہ شناخت مسلط کرتی ہے تو فرد اس کو قبول کرنے کی بجائے مزید انتشار، بے معنویت اور ذہنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یوں منٹو مذہب کی بنیاد پر کی گئی اس تقسیم کو ایک انسانی، نفسیاتی اور تاریخی سطح پر چیلنج کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ یہ تقسیم انسان کے باطنی اور تہذیبی رشتوں کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے۔ان تمام پہلوؤں کی عکاسی وہ اپنے کرداروں کے ذریعے بخوبی کرتے ہیں۔ایسی ہی منظر کشی کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ایک مسلمان پاگل چلایا:

  ’’پاکستان زندہ باد‘‘ (۷)

جواب میں  ایک سکھ پاگل نے نعرہ لگایا:

’’ ہندوستان زندہ باد!  اور ایک ہندو پاگل ہنسنے لگا‘‘ ۔  (۸)

منٹو کا   پاگل خانے کا پیش کردہ یہ منظر  نوتاریخی اعتبار سے  سیاسی نعروں کی تمسخرانہ نقل ہے۔  منٹو دکھاتے ہیں کہ جو نعرے پاگل خانے سے باہر ایک نئی قوم، نئی شناخت اور ایک مقدس تاریخ تشکیل دینے کا دعویٰ کر رہے تھے، وہی نعرے اندر آ کر اپنی معنویت کھو  دیتے ہیں  اور محض ایک بے ربط شور میں بدل جاتے ہیں۔ اس داخلی فضا میں نعرہ نہ کسی مقصد کی تکمیل کرتا ہے اور نہ کسی اجتماعی شعور کو جنم دیتا ہے، بلکہ اپنی کھوکھلاہٹ  اور بوکھلاہٹ کو خود عیاں کر دیتا ہے۔ پاگل خانے میں ہنسنے والا ہندو پاگل ، دراصل کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری قومی سیاست کا استعارہ ہے۔ اس کی بے محل ہنسی ان نعروں پر طنز ہے جو جذبات کو بھڑکا کر تاریخ بنانے کا دعویٰ تو  خوب کرتے ہیں، مگر انسان کو اس تاریخ میں کہیں جگہ نہیں دیتے۔ نوتاریخی اعتبار سے یہ ہنسی طاقت کے اس سیاسی بیانیے کو الٹ دیتی ہے جو خود کو سنجیدہ، مقدس اور ناگزیر ثابت کرنا چاہتا ہے۔ یوں پاگل خانہ ایک متوازی تاریخی متن بن جاتا ہے، جہاں سرکاری تاریخ کے نعرے اپنی ہی نقالی میں بدل جاتے ہیں۔ یہاں عقل اور جنون کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں اور اصل جنون اس سیاست میں ظاہر ہوتا ہے  جو انسانوں کو نعروں میں تقسیم کر کے خود کو تاریخ سمجھنے لگتی ہے۔

نوتاریخیت کے مطابق تاریخ کوئی جامد، قطعی اور واحد سچ نہیں ہوتی، بلکہ یہ مختلف آوازوں، بیانیوں، افواہوں، قیاس آرائیوں اور جزوی معلومات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو طاقتور بیانیوں کے ذریعے ’’حتمی تاریخ‘‘ کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے۔  پاگل خانے میں ہندوستان اور پاکستان کے قیام کے حوالے سے جاری بحث و مباحثہ  دراصل اسی غیر یقینی تاریخی شعور کی علامت ہے ، جہاں مستقبل کی ایک بڑی سیاسی تبدیلی  لوگوں کے لیے  ایک افسانوی، مبہم اور  قابلِ بحث  واقعہ بن کر  سامنے آتی ہے۔  اس حوالے سے افسانے کی  یہ سطر بہت اہم ہے:

’’کئی برسوں سے  پاگل خانے میں  یہی بحث چل رہی تھی  کہ پاکستان کب بنے گا‘‘۔  (۹)

بظاہر یہ ایک سادہ اور معمولی جملہ محسوس ہوتا ہے، مگر نوتاریخی تناظر میں  اس کے اندر  معنی کی  ایک پوری کائنات پوشیدہ ہے۔ لفظ ’’بحث‘‘  یہاں محض مکالمے  یا گفتگو کے معنوں  میں نہیں آیا، بلکہ یہ تاریخ کے  غیر یقینی اور متنازع ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ منٹو پاگل خانے کے کرداروں کو  تاریخ کے مرکزی دھارے  سے باہر رکھ کر  یہ دکھاتا ہے کہ  ’’تاریخ‘‘  صرف ایوان اقتدار، سرکاری بیانات  اور سیاسی رہنماؤں  کی تقاریر میں نہیں بنتی ، بلکہ حاشیے پر موجود افراد، عام لوگ ، اور حتیٰ کہ  پاگل سمجھے جانے والے  انسان بھی  اپنے اپنے انداز میں  تاریخ کے بارے میں سوچتے، سوال اٹھاتے  اور بحث کرتے ہیں۔  یہاں پاگل خانے کی فضا  ایک ’’مائیکرو تاریخ‘‘ بن جاتی ہے، جو بڑے قومی بیانیے کو  طنزیہ طور پر چیلنج کرتی ہے۔ مزید برآں!  ’’کب بنے گا‘‘ کا سوال  خود تاریخ کی غیر واضح  اور غیر یقینی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔  یہ سوال اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ  سیاسی نعروں اور وعدوں کے باوجود  عام لوگوں کے لیے  تاریخ کا بہاؤ  واضح نہیں ہوتا۔ وہ اسے ٹکڑوں میں ، افواہوں اور سنی سنائی باتوں کے ذریعے سمجھتے ہیں۔  اس طرح یہ جملہ  قومی تاریخ کے رسمی  اور شاندار بیانیے  کے مقابل ایک متزلزل، متنازع  اور انسانی سطح پر  محسوس کی گئی تاریخ کو  سامنے لاتا ہے۔ جو نوتاریخی مطالعے کے لیے نہایت زرخیز متن فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح  منٹو کا یہ جملہ:

’’بشن سنگھ دن رات کھڑا رہتا تھا‘‘۔ (۱۰)

بظاہر  ایک پاگل کی جسمانی کیفیت  یا ایک روزمرہ عادت کا بیان نہیں، بلکہ ایک گہرے تاریخی،  سماجی اور  وجودی جمود کی  علامتی صورت ہے۔ نوتاریخیت کے مطابق  تاریخ کوئی غیر جانب دار ، سیدھی اور  مسلسل پیش رفت کا  عمل نہیں بلکہ  طاقت، اقتدار اور ریاستی بیانیوں کے زیرِ اثر  تشکیل پانے والا متن ہے۔ جس میں بہت سے انسانی تجربات حاشیے پر چلے جاتے ہیں یا مکمل طور پر حذف ہوجاتے ہیں۔  جب تاریخ کا غالب بیانیہ  فرد اور اس کے ذاتی تجربات کو  نظر انداز کر دیتا ہے  تو انسان تاریخ کے دھارے سے  باہر ہوجاتا ہے اور اس کے لیے وقت گویا منجمند ہوجاتا ہے۔ بشن سنگھ کا کھڑے رہنا اسی  منجمند  تاریخی لمحے کی تمثیل ہے۔  ریاستیں وجود میں آگئیں،  سرحدیں کھنچ  گئیں، نقشے تبدیل ہوگئےاور قومیت کے نئے بیانیے تشکیل پا گئے مگر بشن سنگھ اپنی جگہ پر جوں کا توں کھڑا ہے۔ وہ  پوری طرح نہ ہندوستان سے  وابستہ ہوسکا اور نہ پاکستان سے،  وہ سرحد کے  ایک علامتی خلا میں معلق ہے، جہاں ریاستی تاریخ بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ دوسرے تناظر میں دیکھیں تو   بشن سنگھ کا یوں لگاتار اور مسلسل کھڑے رہنا  اس امر کی بھی علامت ہے کہ  تقسیم نے انسان کو  اس کے ماضی کے تسلسل  اور  مستقبل کےامکانات، دونوں سے کاٹ دیا ۔ وہ ایک ایسے عبوری اور معطل  لمحے میں قید ہوگیا ہے  جہاں شناخت،  زمان و مکاں  اور تعلق، سب غیر یقینی ہو چکے ہیں۔ یوں بشن سنگھ کا  وجود سرکاری  اور غالب  تاریخی بیانیے  مقابل ایک  ذاتی حاشیائی اور مزاحم  انسانی تاریخ کی نمائندگی کرتا ہے۔  جو یہ سوال  اٹھاتا ہے کہ  تاریخ  کس کی لکھی جاتی ہے  اور کس کو  اس سے  خارج  کر دیا جاتا ہے۔

افسانے کا آخری منظر  نوتاریخی مطالعے کی کلید ہے ۔ بشن سنگھ کا  سرحد کے بیچ کھڑے ہو کر گر جانا، نہ پاکستان میں اور نہ ہندوستان میں،  تاریخ کے دونوں قومی  بیانیوں کی ناکامی کا اعلان ہے۔ یہ منظر ثابت کرتا ہے کہ  تاریخ صرف فائلوں اور معاہدوں میں نہیں بلکہ  انسانی ذہنوں میں لکھی جاتی ہے:

’’وہ ایک جگہ کھڑا رہا۔۔۔پھر اچانک زمین پر گر پڑا۔ نہ ادھر نہ ادھر‘‘۔ (۱۱)

منٹو کا پیش کردہ یہ منظر محض  اس کے افسانے کے ایک کردار کی موت کا بیان نہیں،  بلکہ تقسیمِ ہند کی پوری تاریخ کا علامتی انجام ہے۔ بشن سنگھ کا سرحد کے عین درمیان گر پڑنا اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ سیاسی طور پر دو الگ ریاستیں تو وجود میں آ گئیں، مگر اس عمل میں انسان اپنی زمین، شناخت اور وطن سے محروم ہو گیا۔ ریاستی نقشے بدل گئے، قومی بیانیے تشکیل پا گئے، مگر فرد کی ذاتی تاریخ، اس کی وابستگی اور اس کا وجود ان بیانیوں کے درمیان معلق ہو کر رہ گیا۔ بشن سنگھ کا سرحد کے درمیان گر جانا ،  حاشیائی انسانی تاریخ کا استعارہ ہے، جو قومی تاریخوں کے سرکاری بیانیے میں جگہ نہیں پاتا۔ وہ نہ ہندوستانی تاریخ کا حصہ بن سکا، نہ پاکستانی تاریخ کا، بلکہ وہ اس سرحدی علاقے میں مر ا، جہاں دونوں ریاستیں اپنی اخلاقی ذمہ داری سے دست بردار ہو چکی تھیں۔یوں یہ منظر دونوں خطوں کی قومی تاریخوں کی اخلاقی شکست کی علامت بن جاتا ہے۔ کیونکہ ریاستیں اگرچہ اپنی سیاسی خودمختاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں، مگر انسان کو تحفظ، شناخت اور تعلق فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔ بشن سنگھ کی موت دراصل اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر قومیت کا تصور انسان کو بے گھر، بے شناخت اور بے وطن بنا دے تو ایسی تاریخ کس حد تک اخلاقی اور انسانی کہلا سکتی ہے۔ اس طرح منٹو کا یہ منظر سرکاری تاریخی بیانیے کے مقابل ایک انسانی اور اخلاقی کاؤنٹر-ہسٹری پیش کرتا ہے، جو تقسیم کے المیے کو محض سیاسی نہیں بلکہ انسانی اور اخلاقی سانحہ قرار دیتا ہے۔

اس افسانے میں منٹو  میں یہ بنیادی سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اصل میں پاگل کون ہے، لوگ ہیں یا یہ نظام ہے۔  ان کا یہ جملہ:

 ’’ کچھ پاگل ایسے بھی تھے  جو اپنے آپ کو  قائدِ اعظم یا  پنڈت نہرو سمجھتے تھے‘‘۔ (۱۲)

جب پاگل خود کو قائدِ اعظم یا نہرو سمجھتے ہیں  تو یہ اقتدار کی  نفسیات پر طنز ہے کہ طاقت کے بیانیے  کس طرح  انسانوں کے شعور پر  غالب آجاتے ہیں۔ منٹو کے نزدیک اصل پاگل پن ان قیدیوں میں نہیں بلکہ اس سیاسی و سماجی نظام میں ہے جو لوگوں کو مذہب اور قومیت کے نام پر تقسیم کر کے ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے اور خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے۔یہ جملہ درحقیقت طاقت اور تاریخ کے تعلق کو پوری طرح  بے نقاب کرتا ہے کیونکہ قائدین اور ریاستی بیانیے تاریخ کے ہیرو بن جاتے ہیں، جب کہ عام انسان ان فیصلوں کی قیمت ادا کرتا ہے۔ منٹو پاگل خانے کو معاشرے کی علامت بناتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ اصل  پاگل پن سرحدیں کھینچنے، انسانوں کو بانٹنے اور نفرت کو  پروان چڑھانے والے نظام میں ہے، نہ کہ ان افراد میں جو قید ہیں اور جنہیں پاگل کہا جاتا ہے۔ اس طرح منٹو عقل و جنون کی روایتی تقسیم کو الٹ کر قاری کو ریاستی عقل کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ   ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ نوتاریخی تناظر میں ایک ایسا متن ہے  جو  تقسیمِ ہند کی  سرکاری تاریخ کو رد کرتا ہے۔ حاشیے پر موجود  کرداروں کو مرکزی حیثیت دیتا ہے   اور یہ ثابت کرتا ہے کہ  اصل تاریخی شعور  اکثر ’’پاگل‘‘  کہلانے والوں کے پاس ہوتا ہے۔ منٹو کا کمال یہ ہے کہ  وہ ہمیں محض تاریخ نہیں سناتے  بلکہ تاریخ کو بےنقاب کرتے ہیں۔ نوتاریخی مطالعہ اس افسانے کو  محض ایک ادبی تخلیق نہیں  بلکہ ۱۹۴۷ کے  المیے  اور سانحے کی ایک متبادل  تاریخی دستاویز بنا دیتا ہے۔ پاگل خانے کو تاریخ کا اصل سٹیج بناتا ہے  اور یہ ثابت کرتا ہے کہ اصل سچ وہی ہے  طاقت کے اثر سے پاک ہو۔ منٹو تاریخ  کو لکھتے نہیں،  توڑتے ہیں  اور اسی شکست و ریخت میں انسان کی اصل آواز سنائی دیتی ہے۔

حوالہ جات

۱۔ ہمایوں اشرف، ڈاکٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ(کلیاتِ منٹو۔افسانے جلد ۴)، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، ۲۰۰۵، ص ۶

۲۔  ایضاً۔۔۔ص ۶۵

۳۔ ایضاً۔۔۔ص ۶۷

۴۔ ایضاً۔۔۔ص ۶۸

۵۔ ایضاً۔۔۔ص ۶۸

۶۔  ایضاً۔۔۔ص ۶۹

۷۔ ایضاً۔۔۔ص ۷۰

۸۔ ایضاً۔۔۔ص ۷۰

۹۔ ایضاً۔۔۔ص ۷۱

۱۰۔ ایضاً۔۔۔ص ۷۲

۱۱۔ ایضاً۔۔۔ص ۷۲

۱۲۔ ایضاً۔۔۔ص ۷۳

Leave a Reply