
محمد نوید رضا
ریسرچ اسکالر: جواہر لال نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی
دکنی مثنویوں میں قرآن و احادیث کی تلمیحات
سیرتِ رسولِ عربی ﷺ پر نثری اور شعری عقیدت کے نذرانے پیش کرنے کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔ یہ حقیقت قرآن مجید کی اس آیت سے بھی واضح ہے جس میں فرمایا گیا: وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ترجمہ : اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں نعتیہ شاعری اور سیرت نگاری میں نئے پہلو اجاگر ہوتے رہے ہیں، اور شعرا و ادبا اپنے اپنے انداز میں آپ کی مدح سرائی کو اپنا نصب العین بناتے رہے ہیں۔اس مضمون میں میری کوشش یہ رہی ہے کہ قدیم دکنی مثنویوں میں جو نعتیہ اشعار موجود ہیں اور جن میں قرآن و حدیث کے مضامین باندھے گئے ہیں، انہیں تحقیقی انداز میں پیش کیا جائے تاکہ اصل ماخذ کی روشنی میں ان کی صداقت واضح ہو سکے۔ حالانکہ عربی و فارسی شاعری میں بھی اردو سے قبل ان نعتیہ موضوعات کو باندھا گیا ہے ،لیکن میں نےاس مضمون میں صرف آٹھ (۸) دکنی مثنویوں کے ہی کچھ اشعار منتخب کئے ہیں البتہ بیشتر مقامات پر مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا احمد رضا بریلوی کےایک دو اشعار بھی نقل کر دئے ہیں ۔میں نے اس مضمون میں کل نو موضوعات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے، جن میں سب سے پہلا موضوع حضور اکرم ﷺ کا سید المرسلین ہونا ہے۔
(1)سید المرسلین
حضور نبی کریم ﷺ کو سید المرسلین کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ آپ تمام رسولوں کے سردار ہیں ،تمام انبیا کے سربراہ ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ باقی انبیا آپ کے غلام یا آپ کے مملوک ہیں، بلکہ اس کا مفہوم افضلیت، قیادت اور سیادت ہے۔اس حوالے سے قرآن مجید کی آیت کریمہ : تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ؎۱ ہمارے پیش نظر ہے۔ترجمہ: یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا۔
اس آیت کی روشنی میں مفسرین کرام نے وضاحت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیا و رسل کو ان کے اپنے اپنے مقام پر فضیلت عطا فرمائی ، کہ اصل نبوت میں ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں البتہ ان کے مراتب جدا گانہ ہیں ، خصائص و کمالات میں فرق ہے کہ بعض بعض سے اعلٰی ہیں اور حضور اکرم ﷺ کو سب سے اعلیٰ مقام عطا فرمایا گیا۔ چنانچہ و رفع بعضھم درجات کی تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ ﴿ورَفَعَ بَعْضهمْ﴾ أيْ مُحَمَّدا ﷺ ﴿دَرَجات﴾ عَلى غَيْره بِعُمُومِ الدَّعْوَة وخَتْم النُّبُوَّة بہ وتَفْضِيل أُمَّته عَلى سائِر الأُمَم والمُعْجِزات المُتَكاثِرَة والخَصائِص العَدِيدَة۔؎۲
ترجمہ : اور بعض کو ان میں سے بلند درجات عطا فرمائے (یعنی محمد ﷺ کو بہ نسبت انبیائے سابقین کے مثلاً عموم دعوت،ختم نبوت، دوسری امتوں پر امت محمدیہ کو فائق ہونا، کثیر معجزات اور خصائص عدیدہ کے ذریعے)
وہ خصائص و کمالات کیا ہیں جن کی بنیاد پر حضور ﷺ کو بقیہ انبیا پر فضیلت دی گئی ؟یہ خود حضور ﷺ کی زبان اقدس سے ملاحظہ فرمائیں مسلم شریف کی حدیث ہے آپ ﷺ نے فرمایاعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ۔؎۳
مجھے چھ وجوہ سے انبیائے کرام پر فضیلت دی گئی ہے ۔(1)مجھے جامع کلمات عطاکیے گئے ہیں ۔ (2)رعب سے میری مددکی گئی ہے۔ (3)میرے لیے غنیمتوں کوحلال کر دیا گیا ہے۔ (4)تمام روئے زمین کومیرے لیے طہارت اورنمازکی جگہ بنادیاگیاہے۔(5)مجھے تمام مخلوق کی طرف (نبی بنا کر) بھیجاگیاہے۔ (6)اورمجھ پرنبیوں (کے سلسلے) کوختم کیاگیاہے۔
اس کے علاوہ مسلم کی ایک اور حدیث ہے یہ بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ؎۴
ترجمہ : میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا ، پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی ، سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول ہو گی ۔اس حدیث کی شرح میں امام نووی فرماتے ہیں وهذا الحديث دليل لتفضيله صلى الله عليه وسلم على الخلق كلهم ؛ لأن مذهب أهل السنة أن الآدميين أفضل من الملائكة ، وهو صلى الله عليه وسلم أفضل الآدميين وغيرهم۔؎۵
ترجمہ: یہ حدیث آپ ﷺ کے افضل الخلائق ہونے پر دلیل ہے کہ اہلسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ آدمی ملائکہ سے افضل ہے اور آپ ﷺ تمام بنی نوع آدم اور دیگر مخلوقات سے افضل ہیں۔
میں اس مقام پر بخاری شریف کی وہ حدیث بھی نقل کرنا چاہتا ہوں جو بظاہر اس حدیث کے متضاد نظر آتی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللہ؎۶ انبیا میں ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔” اس حدیث کے بارے میں امام نووی فرماتے ہیں: وأما الحديث الآخر : ” لا تفضلوا بين الأنبياء ” فجوابه من خمسة أوجه :
أحدها : أنه صلى الله عليه وسلم قاله قبل أن يعلم أنه سيد ولد آدم ، فلما علم أخبر بهوالثاني : قاله أدبا وتواضعا والثالث : أن النهي إنما هو عن تفضيل يؤدي إلى تنقيص المفضول والرابع : إنما نهى عن تفضيل يؤدي إلى الخصومة والفتنة ، كما هو المشهور في سبب الحديث والخامس : أن النهي مختص بالتفضيل في نفس النبوة ، فلا تفاضل فيها ، وإنما التفاضل بالخصائص وفضائل أخرى ، ولا بد من اعتقاد التفضيل ، فقد قال الله تعالى: ’’تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض‘‘۷؎
جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے کہ : “انبیاء کے درمیان فضیلت مت دو” تو اس کا جواب پانچ طریقوں سے دیا جا سکتا ہے۔(1)یہ حدیث اس وقت فرمائی گئی جب نبی کریم ﷺ کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ بنی آدم کے سردار ہیں، پھر جب انہیں علم ہوا تو انہوں نے اس کا اعلان فرمایا۔(2)یہ جملہ آپ ﷺ نے ادب اور تواضع کے طور پر فرمایا۔(3) اس ممانعت کا مقصد ایسا تفضیل دینا ہے جو کسی نبی کی تنقیص (کمی) کا سبب بنے۔(4)یہ ممانعت اس تفضیل سے متعلق ہے جو جھگڑے اور فتنہ کا باعث بنے، جیسا کہ حدیث کے پسِ منظر میں مشہور ہے۔(5)یہ ممانعت صرف نبوت کے دائرے میں ہے، کیونکہ نبوت کے درجے میں کوئی تفاضل (برتری) نہیں، بلکہ فضیلت دیگر مخصوص کمالات اور خصوصیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور تفضیل کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “یہ رسول وہ ہیں جنہیں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی” (البقرہ: 253)۔
رسول اکرم ﷺ کی شانِ اقدس اور آپ کی برتری ایک مسلمہ حقیقت ہے، جس کا بیان قرآن، حدیث اور اسلامی ادب میں جابجا ملتا ہے۔ دکنی نعتیہ شاعری میں بھی قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں حضور ﷺ کی افضلیت کو بیان کیا گیا ہے، اور شعرا نے اپنے تخیل اور عقیدت کے ساتھ ان مضامین کو خوبصورت پیرائے میں پیش کیا ہے۔اشعار ملاحظہ فرمائیں:
محمد بڑا راوت جگ تھا کہ شجرا چرن رائے جگ مگ تھا (نظامی: کدم راؤ پدم راؤ)۸؎
نبیاں کا ہے وہ سرور دھوں جگ آکھیں اس مہتر
جیتے نبی وے مرسل سب میں اکلا تجہ فضل
جس کوں دیتا شب معراج سرور عالم کا سرتاج (جانم: ارشاد نامہ)۹؎
خدا کے نبیاں کا سو سلطان توں دیو نہار ساریاں کوں امیاں توں (غواصی: سیف الملوک و بدیع الجمال)۱۰؎
او ہی سرور عالم و شہریار قناعت کیا جن اپر عین بار (غواصی :مینا ست ونتی)۱۱؎
کہارہ کے واں پیک پیغمراں انگے جاتوں اے سرور سروراں (صنعتی :قصہ بے نظیر)۱۲؎
محمد پیشوا ہے سرداراں کا آہے سرخیل سب پیغمبراں کا (نشاطی :پھول بن)۱۳؎
رہے نامور سید المرسلیں کہ آخر وہ ہے شافع المذنبیں (نصرتی :گلشن عشق)۱۴؎
تو فخر کون و مکاں زبدۂ زمین و زماں امیرِ لشکرِ پیغمبراں شہِ ابرار
دیا ہے حق نے تجھے سب سے مرتبہ عالی کیا ہے سارے بڑے چھوٹوں کا تجھے سردار
پہونچ سکا تیرے رتبے تلک نہ کوئی نبی ہوئے ہیں معجزے والے بھی اس جگہ ناچار (قاسم نانوتوی :قصائد بہاریہ)۱۵؎
خَلق سے اولیا، اولیا سے رُسُل اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ
ملکِ کونین میں انبیا تاجْدار تاجداروں کا آقا ہمارا نبی ﷺ ( احمد رضا بریلوی :حدائق بخشش )۱۶؎
(2) نور محمدی اور وجہ تخلیق کائنات
نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس عالمِ بشریت اور عالمِ نورانیت کا حسین امتزاج ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نورِ محمدی ﷺ کو تخلیق فرمایا تو نہ وقت کی کوئی حد تھی، نہ کائنات کا وجود، اور نہ ہی “کن فیکون” کا ظہور ہوا تھا۔اس کو اس طرح سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ حسن و جمال کا پیکر تھا، مگر دیکھنے والا کوئی نہ تھا۔ تب اللہ نے چاہا کہ کوئی اس کے حسن و جمال کو پہچانے، اس کی حمد و ثناء کرے اور اس کی معرفت حاصل کرے، چنانچہ سب سے پہلے نورِ محمدی ﷺ کو تخلیق فرمایا۔جیسا کہ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں حدیث قدسی نقل کی کہ اللہ تعالی نے فرمایا ’’کنت کنزاً مخفیاً فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق‘‘۱۷؎ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں، پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔
اس حقیقت کی وضاحت نبی کریم ﷺ کی ایک اور حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے استفسار پر کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے کیا تخلیق فرمایا ؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ يا جابر: إن الله تعالى خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقدرة حيث شاء الله تعالى۱۸؎
اے جابر !اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا، پھر وہ نور مشیت ایزدی کے مطابق جہاں چاہتا سیر کرتا رہا۔
جب اللہ پاک نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو آپ نےعرش پر نورِ محمدی ﷺملاحظہ فرما کر بارگاہِ خداوندی میں عرض کی : اے میرے رب! یہ نور کیسا ہے؟ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا : هٰذَا نُوْرُ نَبِىِّ مِّنْ ذُرِّيَّتِكَ اِسْمُهٗ فىِ السَّمَاءِ اَحْمَدُ وَفِى الْاَرْضِ مُحَمَّدٌ لَوْلَاهُ مَا خَلَقْتُكَ وَلَا خَلَقْتُ سَمَاءً وَلَااَرْضًا۱۹؎یعنی یہ آپ کی اولاد میں سے ایک نبی کا نور ہے جن کا آسمان (کے فرشتوں) میں (مشہور نام) احمدجبکہ زمین (والوں) میں (مشہور نام) محمد ہے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو میں نہ آپ کو پیدا کرتا اور نہ ہی آسمان و زمین کو بناتا۔ بہت سے علما نے ایک اور حدیث قدسی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الأفْلَاکَ محبوب! اگر آپ کو پیدا نہ کرتا تو کائنات ہست و بود کو بھی وجود میں نہ لاتا‘‘کو نقل کیا ہے۔
ہر چند کہ بعض محدثین نے حدیث ’’لولاک لما خلقت الأفلاک‘‘ کو ان الفاظ سے موضوع لکھا ہے لیکن مضمون حدیث کو صحیح اور ثابت مانا ہے،چنانچہ ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’لولاک لما خلقت الأفلاک قال الصغاني: انہ موضوع، کذا في الخلاصة، لکن معناہ صحیح ‘‘۲۰؎
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی : يَا عِيْسٰى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَاْمُرْ مَنْ اَدْرَكَهٗ مِنْ اُمَّتِكَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِهٖ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَاخَلَقْتُ آدَمَ وَلَوْ لَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ ۲۱؎اےعیسیٰ! محمدِ عربیﷺ پر ایمان لاؤ اور اپنی اُمت میں سے ان کا زمانہ پانے والوں کو بھی ان پر ایمان لانے کا حکم دو۔ اگر محمدِ مصطفےٰ ﷺنہ ہوتے تو میں نہ آدم کو پیدا کرتا اور نہ ہی جنّت و دوزخ بناتا۔
خلاصہ کلام یہ کہ لفظاً یہ حدیث قدسی ثابت بھی نہ ہو تو معنیً بہر حال درست ہے جس کی تائید و تصدیق دیگر احادیث مبارکہ کر رہی ہیں۔ نورِ محمدی ﷺ کی حقیقت اورنبی اکرم ﷺ کی تخلیق اور ان کے نور کی حقیقت کو صدیوں سے شعرا نے اپنے نعتیہ اشعار میں بیان کیا ہے۔ لہذا آپ ﷺ کا وجہ تخلیقِ کائنات ہونا مسلمانوں کا ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی بنیاد قرآنی تفاسیر، احادیث اور اسلامی ادب میں موجود ہے۔ دکنی شاعری سمیت برصغیر کے کئی شعرا نے اس حقیقت کو اپنے نعتیہ اشعار میں سمویا ہے، جو رسول اکرم ﷺ کی عظمت اور تخلیقِ کائنات میں ان کی مرکزیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ چنانچہ دکنی شاعری میں بھی اس حوالے سے بے شمار اشعار موجود ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
پتھایا امولک رتن نور دھر کہ تے ویل بلگت کرن راج کر
محمد جرم آد بنیاد نور دوے جگّ سرّے دے پرساد نور
نہ اکا ّس دھرتی نہ دنبو نہ چند نہ بھریا کچھوّا دیتا نور سند (نظامی :کدم راؤ پدم راؤ)۲۲؎
سب تے اول تجہ آفرید جب تھا دیکھو وہ تجرید
جب نہ ہوتا یہ رسول ربیع کاہے آ ہے قول
نائیں کرتا آپ ظہور جے نا کرتا تیرا نور
تو یہ دوستی نور نبی یوں ہے ازلی قول ربی (جانم :ارشاد نامہ)۲۳؎
توں اول توں آخر تو ہی ہے امیر توں ظاہر توں باطن نبی بے نظیر (غواصی :سیف الملوک و بدیع الجمال)۲۴؎
منور کیا جگ کوں اس نور سوں دیا روشنی سب کوں اس سور سوں
دیا جس کوں تشریف لولاک کا ہوا جس تے مظہر یو افلاک کا (غواصی :مینا ست ونتی)۲۵؎
کہ جس سر پو لولاک کا تاج ہے سو اس کوں عرش آپی محتاج ہے (صنعتی :قصہ بے نظیر)۲۶؎
اگر ہوتا نہ تو آدم نہ ہوتا نہ آدم بلکہ یو عالم نہ ہوتا (ابن نشاطی :پھول بن)۲۷؎
عجب آفرینش کی دریا کا در کہ جس نور تے بحر ہستی ہے پر
اتھا تب تو موجود تمکین میں جب آدم اتھا ماء و الطین میں
تری شان سرتاج لولاک کا ترے بخت کوں تخت افلاک کا (نصرتی :گلشن عشق)۲۸؎
جب پڑا اوس نور کا روشن جھلک صورت ہستی لیا ملک و فلک
اصل موجودات اس کا نور ہے جس سے مخلوقات یہ معمور ہے
نور سوں اس کے ہیں یہ دونوں جہاں اک ذرہ ہے یہ جہاں اور وہ جہاں (وجدی:پنچھی باچھا)۲۹؎
جو تو اسے نہ بناتا تو سارے عالم کو نصیب ہوتی نہ دولت وجود کی زنہار
لگاتا ہاتھ نہ پتلے کو بو البشر کا خدا اگر ظہور نہ ہوتا تمہارا آخر کار (مولانا نانوتوی :قصائد بہاریہ)۳۰؎
ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منیٰ لولاک والے صاحبی سب تیرے گھر کی ہے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
(مولانا احمد رضا بریلوی :حدائق بخشش)۳۱؎
(3)شق قمر
انبیائے کرام علیہم السلام سے جو خوارقِ عادت (خلافِ عادت) امور ظاہر ہوتے ہیں، انہیں “معجزہ” کہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺکے متعدد معجزات کا ذکر قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں موجود ہے۔ ان میں سے ایک اہم معجزہ “شق قمر” (چاند کا دو ٹکڑے ہونا) بھی ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر کے آغاز میں اس واقعے کی طرف اجمالی طور پر اشارہ فرمایا ہے:اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ، وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ‘‘۳۲؎
ترجمہ: ” پاس آئی قیامت اور شق ہوگیا چاند۔اور اگر دیکھیں کوئی نشانی تو منہ پھیرتے اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے چلا آتا ۔
یہ معجزہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقانیت کی ایک روشن دلیل ہے، جسے اہلِ مکہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تا ہم ،ہٹ دھرم کفار نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے ،اسے جادو قرار دیا۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً , فَأَرَاهُمُ الْقَمَرَ شِقَّتَيْنِ حَتَّى رَأَوْا حِرَاءً بَيْنَهُمَا ۳۳؎
ترجمہ : کفار مکہ نے رسول کریم ﷺ سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو آنحضرت ﷺ نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دئیے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے حرا پہاڑ کو ان دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا ۔مسلم، ترمذی اور مسند احمد کی ایک روایت میں مَرَّتَيْنِ آیا ہے کہ فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ۳۴؎
یعنی آپ ﷺنے انھیں چاند کے دو ٹکڑے ہونا دو بار دکھایا ۔ شق القمر کا معجزہ نبی اکرم ﷺ کی سچائی اور عظمت کی ایک واضح دلیل ہے۔ دکنی شاعری میں بھی شعرا نے انتہائی خوبصورت انداز میں اس معجزے کو بیان کیا ہے، جو ایمان کی تازگی اور محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔اشعار ملاحظہ فرمائیں:
نبی بیرین دند کیتا بنار انگل ہت کر چند کیتا دو پھاڑ (نظامی :کدم راؤ پدم راؤ)۳۵؎
دست مبارک اپنا کھاڑ چاند دیکھایا کر دو پھاڑ
محمد توں نبی ہے آج بر حق کوں یک اشارات سیں کیا شق قمر (ابن نشاطی :پھول بن)۳۶؎
ترا معجزہ معجزیاں کے اپر کہ کیتا گگن پر توں شق القمر
تج انگلی کی نھوں کا لگیا سو خیال سپورن اجھوں لگ بی ہووے ہلال (نصرتی :گلشن عشق)۳۷؎
جن کی انگلی کے اشارے سوں چند ہو گیا دو پھانک نیلے چرخ پر (وجدی:پنچھی باچھا)۳۸؎
ہوا اشارے میں دو ٹکڑے جوں قمر کا جگر کوئی اشارہ ہمارے بھی دل کے ہو جا پار (مولانا نانوتوی :قصائد بہاریہ)۳۹؎
جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے نورِ وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی ﷺ
تیری مرضی پا گیا ، سورج پھرا الٹے قدم تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چرگیا (احمد رضا بریلوی :حدائق بخشش )۴۰؎
(4) واقعہ معراج
نبوت کے بارہویں سال سید المرسلین ﷺمعراج سے نوازے گئے ، البتہ مہینے کے تعین میں اختلاف ہے مگر زیادہ مشہور یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی۔مکہ مکرمہ سے حضور پُرنور ﷺ کا بیتُ المقدس تک رات کے چھوٹے سے حصہ میں تشریف لے جانا نص قرآنی سے ثابت ہے، اور آسمانوں کی سیر اور منازل قرب میں پہنچنا احادیث ِصحیحہ مُعتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حد تواتر کے قریب پہنچ گئی ہیں ۔چنانچہ اللہ ارشاد فرماتا ہے سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا ۴۱؎
ترجمہ: پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصا تک۔
ایک روایت کے مطابق اس رات آپ ﷺ حضرت ام ہانی کے گھر جلوہ فرما تھے (کما رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر) کہ حضرت جبریل علیہ السلام بارگاہِ رسالت ﷺمیں حاضر ہوئے ، آپ ﷺ کو معراج کی خوشخبری سنائی اورآپ ﷺکا مقدس سینہ کھول کر اسے آبِ زمزم سے دھویا، پھر اسے حکمت و ایمان سے بھر دیا۔ اس کے بعدتاجدارِ رسالت ﷺکی بارگاہ میں براق پیش کی اور انتہائی اِکرام اور احترام کے ساتھ اس پر سوار کرکے مسجد ِاقصیٰ کی طرف لے گئے۔ بیتُ المقدس میں سیّد المرسَلین ﷺ نے تمام انبیا و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کی امامت فرمائی ۔پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور انبیائے سابقین سے ملاقاتیں فرمائیں۔حتّٰی کہ نبی اکرم ﷺایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرماتے اور وہاں کے عجائبات دیکھتے ہوئے تمام مقربین کی آخری منزل سِدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جبریل امین نے عرض کی:
اگر یکسر موئے برتر پرم فروغ تجلے بسوزد پرم (شیخ سعدی)
پھر مقامِ قربِ خاص میں حضور ﷺنے ترقیاں فرمائیں اور اس قربِ اعلیٰ میں پہنچے ۔جیسا کہ سورہ نجم میں اس واقعہ بیان کیا گیا ہے اللہ فرماتا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ۴۲؎پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا ۔ اس حوالے سے کئی تفاسیر ہیں جن میں سے ایک حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے کہ ا س سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ۴۳؎ تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔ تفسیر قرطبی میں اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضرت جبریل اورتاجدارِ رسالت ﷺکے درمیان اتنا قرب ہوا کہ دو ہاتھ یا دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جلوے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺکے درمیان اتنی نزدیکی ہوئی کہ دو ہاتھ یا دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔۴۴؎
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى۴۵؎ دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔اس بارے میں بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا، بعض کا قول یہ ہے کہ سرورِ عالمﷺ نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا۔ یہ دیکھنا کیا سر کی آنکھوں سے تھا یا دل کی آنکھوں سے؟ اس بارے میں مفسرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں۔حضرت عائشہ تو مطلق دیکھنے سے ہی انکار فرماتی تھیں اور د لیل کے طور پر یہ آیت ’’لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ‘‘ تلاوت فرماتیں۔لیکن مفسرین کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺنےاللہ کو حقیقتًاچشمِ مبارک سے دیکھا ۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ، وَمُوسَى، فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ، وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ اللہ تعالیٰ نے اپنے دیدار و کلام کو محمد ﷺ اور حضرت موسی علیہ السلام کے دمیان تقسیم کر دیا ہے ،پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے دوبار کلام فرمایا اورآپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا۴۶ ؎
بہر کیف اصولی طور پر جب اثبات و نفی میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو مثبت ہی کو تقدم حاصل ہوتا ہے۔آگے اللہ فرماتا ہےوَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى۴۷؎ترجمہ: اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی کے پاس۔ عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى۴۸؎ اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى۴۹؎ جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی۔
بقیہ تفسیرات و تفصیلات کتب تفاسیر میں ملاحظہ فرمائیں ۔مختصر یہ کہ وہاں رسولِ اکرم ﷺپر خاص رحمت و کرم ہوا اور آپ ﷺ انعاماتِ الٰہیہ اور مخصوص نعمتوں سے سرفراز فرمائے گئے، اُمت کے لئے نمازیں فرض ہوئیں ، جنت و دوزخ کی سیر کی اور پھر دنیا میں اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے۔ دکنی شاعری میں بھی معراج کے واقعے کی عکاسی کی گئی ہے، جس میں نبی ﷺ کی شان اور مقام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ شاعری نہ صرف ادب کی دنیا میں ایک قیمتی سرمایہ ہے، بلکہ مسلمانوں کے ایمان کی تجدید کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔اشعار ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
جبریل آویں ہر ہر بار کیتے نبی کون اخبار
اس کوں سلام نت ہزار جبرئیل آویں باریں بار (جانم :ارشاد نامہ)۵۰؎
زمیں تھے عرش پر گئے شہ سوار کرے توں گزر پل میں کئی لا کبار (غواصی :سیف الملوک و بدیع الجمال)۵۱؎
شفیع او حشر سات کے وقت کا او سلطان معراج کے تخت کا (غواصی :مینا ست ونتی)۵۲؎
سزاوار توں جلوۂ ذات کوں شرف تجہ تے معراج کی رات کوں
ہوا جب توں اس رات براق سوار سرافیل تھا خاص او غاشہ دار
دیا جب یوں ویسے ترنگ کو صفا زمیں تے چڑیا پل میں ہفت آسماں
گئے ام ہانی کے گھر تے نکل ٹک ایک سیر دیکھیاں توں قدرت اللہ
گگن کیاں سڑیاں سات نو چھور کب گیا سدرۃ المنتہی پاس جب
جو یو قرب بخشش ہے حق نے تجے انگے یک قدم کی نہ طاقت مجے
اگر یک سر موے انگے آوں گا تو نور جلالت تے جل جانوں گا
گئے واں تے جب خاص پردے طرف ل ئے قاب قوسین کاتب شرف
سو دیدار اپنا دیکھایا تجے عجب ذوق لذت چکایا تجے
سواد ذوق کہنے میں آوے کہاں او لذت بیاں میں سماوے کہاں
و ما زاغ کا کحل انکھیاں میں کر نہ واں زاغ دیکھیا نہ واں باغ بر
کئے تھے جو موسی نے ارنی سوال نہ دیکھئے دیکھایا تجے ذو الجلال
انو کو دیا لن ترانی جواب آپس شوق سوں تج دکھایا شتاب
دیا جب یو تشریف رب العباد کیا آخر امت کوں بھی اس میں یاد
فاوحی الی عبدہ کا شرف بزاں حق تے نازل ہوا تج طرف (صنعتی :قصہ بے نظیر)۵۳؎
تہیں حق سوں نت ہم زباں ہم کلام تجے قاب قوسین ادنی مقام
تہیں لا مکاں کے دھنی کا انیس توں بےمثل و بے شبہ کا ہم جلیس
او طالب کوں تھا لن ترانی جواب تجے تو اپی ہو ملن کا خطاب (نصرتی:گلشن عشق)۵۴؎
خدا کے طالبِ دیدار حضرتِ موسیٰ تمہارا لیجے خدا آپ طالبِ دیدار ( مولانانانوتوی:قصائد بہاریہ)۵۵؎
یہی سماں تھا کہ پیک رحمت خبر یہ لایا کہ چلئے حضرت تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے
تبارک الله شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی کہیں تو وہ جوش لن ترانی کہیں تقاضے وصال کے تھے
اٹھے جو قصر دنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے وہاں تو جاہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ ہی نہ تھے ارے تھے
قصرِ دنیٰ کے راز میں عقلیں تو گم ہیں جیسی ہیں روحِ قدس سے پوچھئے تم نے بھی کچھ سنا کہ یوں (مولانا احمد رضا بریلوی :حدائق بخشش )۵۶؎
(5) خاتم النبیین
اللہ رب العزت نے سلسلہ نبوت کا آغاز سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمایا اور اس کا اختتام محمد عربیﷺ کی ذات اقدس پر فرمایا ، آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی، آپﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ ﷺکے بعد کسی اور کو نبی نہیں بنایا جائے گا ، ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے بنیادی اصول اور ضروریات دین میں شمار کیے گئے ہیں۔قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ۵۷؎ترجمہ: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔مسلم میں حدیث شریف ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ترجمہ: ضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’میری مثال اورمجھ سے پہلے انبیائے علیہم الصلوۃ والسلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین وجمیل ایک گھربنایا،مگراس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ،لوگ اس کے گردگھومنے لگے اورتعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی ؟پھرآپ ﷺنے ارشاد فرمایا قصر نبوت کی وہ اینٹ میں ہی ہوں اورمیں خاتم النبیین ہوں۔۵۸؎مسلم کی ایک اور حدیث ہے کہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۵۹؎سعید بن مسیب نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔مسلم کی ایک اور حدیث حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّون مجھ پرنبیوں کے سلسلے کوختم کیاگیاہے۔۶۰؎
ترمذی میں ہے کہ وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہو گا۔۶۱؎
ترمذی شریف میں ایک اور حدیث حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى يَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالاں کہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔۶۲؎
خاتم النبیین ﷺ کا عقیدہ اسلام کا ایک بنیادی اور اجماعی عقیدہ ہے، جسے تمام مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کی رسالت نے نبوت کا سلسلہ مکمل کیا اور آپ ﷺ کے بعد کسی اور نبی کا آنا ممکن نہیں۔ دکنی شاعری میں بھی آپ ﷺ کی اس عظمت اور ختم نبوت کے عقیدے کو نہایت عقیدت سے بیان کیا گیا ہے، جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔اشعار ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
محمد نبی خاتم الانبیاء شرف جس نے حق جگ ہمنا دیا (غواصی :مینا ست ونتی)۶۳؎
یوں آیا توں ہوے پھر سارے مرسل کہ پھول آگے پیچھے آتے آہے پھل (ابن نشاطی :پھول بن)۶۴؎
ترا خاتم اے خاتم الانبیا رسالت کے فرماں پہ سکہ کیا (نصرتی :گلشن عشق)۶۵؎
تو نبوت ختم حق ان پر کیا کئی ہزاراں معجزے ان کو دیا (وجدی:پنچھی باچھا)۶۶؎
فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
نہ رکھی گل کے جوشِ حسن نے گلشن میں جا باقی چٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا (مولانا احمد رضا بریلوی :حدائق بخشش )۶۷؎
(6)شفاعت محمدی
شفاعتِ محمدی ﷺ کا عقیدہ مسلمانوں کے ایمان کا ایک لازمی جزو ہے، جو ہمیں قیامت کے روز نبی کریم ﷺ کی رحمت کی امید دلاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں واضح طور پر ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو مقام محمود عطا فرمایا ہے، جہاں آپ ﷺ اپنی امت کے گناہ گاروں کی شفاعت فرمائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہےعَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۶۸؎ قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا المقام المحمود: مقام الشفاعةاکثر مفسرین کے نزدیک مقام محمود سے مراد شفاعت کبریٰ ہے جو روز قیامت آپ ﷺ کو عطا کی جائے گی۔ علامہ قرطبی کہتے ہیں اخْتُلِفَ فِي الْمَقَامِ الْمَحْمُودِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْوَالٍ: الْأَوَّلُ- وَهُوَ أَصَحُّهَا- الشَّفَاعَةُ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۶۹؎
یعنی صحیح ترین یہی ہے کہ اس سے مراد روز قیامت شفاعت ہےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺسے عرض کی گئی :مقامِ محمود کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا :وہ شفاعت ہے۔بخاری میں اس حوالے سے ایک طویل حدیث ہے کہ قیامت کے دن لوگ انبیائے کرام کے پاس جائیں گے لیکن سب جگہ سے یہی جواب ملے گا اذھبوا الی غیری آخر میں سب حضور کی بارگاہ میں جائیں گے آپ ﷺ سجدہ ریز ہو کر اللہ کی حمد ثنا بیان کریں گے اللہ فرمائے گا :
يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ يُسْمَعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَيَقُولُ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي ، لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ۷۰؎
اللہ فرمائے گا : اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ ، جو کہو گے سنا جائے گا ، جو مانگو گے دیا جائے گا ، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی ۔ میں کہوں گا : اے رب ! مجھے ان کے بارے میں بھی اجازت دیجیے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری عزت ، میرے جلال ، میری کبریائی ، میری بڑائی کی قسم ! اس میں سے انہیں بھی نکالوں گا جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کہا ہے ۔
دکنی نعتیہ شاعری میں بھی شفاعت کے موضوع کو محبت اور عقیدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور شعرا نے قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کے زیرِ سایہ ہونے کی تمنا کو خوبصورت الفاظ میں ڈھالا ہے۔اشعار ملاحظہ فرمائیں:
احمد محمد جس کا ناؤں روز قیامت اس کا چھاؤں (جانم :ارشاد نامہ)۷۱؎
الہی رکھیاں توں بندیاں کی شرم نبی کو دیا بھیج کتیاں کرم
منور کیا جس نے اسلام کوں شفاعت دیا خاص ہور عام کوں (غواصی :مینا ست ونتی)۷۲؎
نبی کریم شفیع امین رسول خدا رحمت للعالمین (صنعتی :قصہ بے نظیر)۷۳؎
چھوٹن ہار تیریچ تے جگ اچھے شفاعت تری انبیا لگ اچھے
زہے مامور سید المرسلیں کہ آخر وہ ہے شافع المذنبیں
قیامت کے طوفاں میں ہو جگ ادھار لجاوے توں امت کی کشتی کوں پار (نصرتی :گلشن عشق)۷۴؎
عجب نہیں تری خاطر سے تیری امت کے گناہ ہوویں قیامت کو طاعتوں میں شمار
گناہ کیا ہے اگر کچھ گنہ کئے میں نے تجھے شفیع کہے کون گر نہ ہوں بدکار
یہ سن کے آپ شفیع گناہ گاراں ہیں کئے ہیں میں نے اکھٹے گناہ کے انبار (مولانا نانوتوی :قصائد بہاریہ)۷۵؎
پیش حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
ایک میں کیا مِرے عصیاں کی حقیقت کتنی مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا
وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا ہے خلیل اللہ کو حاجت رسولُ اللہ کی (مولانا ا بریلوی :حدائق بخشش )۷۶؎
(7)اسمائے مصطفیٰ ﷺ
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بے شمار برکتوں اور فضیلتوں سے نوازا، جن میں آپ کے اسمائے گرامی بھی شامل ہیں۔ آپ ﷺ کے نام اور القابات صرف الفاظ نہیں بلکہ وہ عظمتیں اور صفات ہیں جو آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔یوں تو حضور ﷺ کا اسم گرامی’’ محمد ‘‘ کا قرآن مجید میں چار مقامات سورہ آل عمران آیت 144 سورہ احزاب آیت 40 سورہ محمد آیت 2 اور سورہ فتح آیت 29 پر ذکر ہے اور آپﷺ کے آسمانی نام ’’احمد‘‘ کا ایک جگہ سورہ الصف آیت 6 میں ذکر ہے۔لیکن آپ کے صفاتی اسمائے گرامی بھی قرآن میں مذکور ہیں مثلاً رسول ، نبی ،مزمل ، مدثر ،شاہد ،مبشر ،نذیر ،بشیر،طہ،یاسین،اور الامی وغیرھم خود حضور ﷺ نے فرمایا : إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ۔ میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں وہ ماحی ہوں جس کے ذریعہ اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں وہ حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہو گا۔۷۷؎
نبی کریم ﷺ کے اسمائے گرامی پر نعتیہ شاعری کی ایک عظیم روایت موجود ہے، جہاں شعرا نے محبت اور عقیدت کے ساتھ آپ ﷺ کے ناموں کو اپنی نظموں اور نعتوں میں سمویا ہے۔چناچہ دکنی شعرا نے بھی آپ کے اسمائے مبارک کو نظم کیا ملاحظہ فرمائیں:
اول احمد تھا اس ناموں آخر محمد کر دے تھانوں (جانم :ارشاد نامہ)۷۸؎
سچا توں محمد سچا مصطفیٰ سچا ہے توں احمد سچا مرتضیٰ
توں طہ توں یاسین تو البطحی توں امی توں مکی توں مرسل سہی (غواصی :سیف الملوک و بدیع الجمال)۷۹؎
ثنا جس کی بولیاں ہے سبحان نے سو طہ و یس قرآن نے
احد میں تجے نانوں احمد دیا بجز میم بھی فرق کچھ نیں کیا (صنعتی :قصہ بے نظیر)۸۰؎
احد ہور تج احمد میں جگ کوں عظیم معما ہوی گرچہ میانی کی میم
اسی میم تے پن معما شگاف دیکھے عین احد کوں تج احمد تے صاف (نصرتی :گلشن عشق)۸۱؎
(8)اطاعت رسول اطاعت خدا
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بارہا اپنے محبوب نبی ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور واضح فرمایا کہ جو رسولِ کریم ﷺ کی اطاعت کرتا ہے، درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی ہی اطاعت کرتا ہے۔چنانچہ باری تعالی ہے :
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-۸۲؎جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ ۸۳؎
اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ۔قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ۸۴؎
تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کاپھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر۔ اس طرح بہت سی آیات قرآنیہ میں اطاعت رسول ﷺ کا حکم دیا گیا ہے ۔بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَی اللهَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔۸۵؎ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔
بے شمار احادیث مبارکہ میں اطاعتِ رسول ﷺ کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے احکام کی پیروی کرنا ہی اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ہمارے شعرا نے بھی اطاعتِ رسول ﷺ کے مضمون کو انتہائی عقیدت اور محبت سے باندھا ہے، اور اسے اپنی شاعری کا جزو بنایا ہے ۔اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
جکئی رب کوں مانے نمانے رسول نہیں دوست حق کا نہ کس کن قبول (غواصی :مینا ست ونتی)۸۶؎
ترے تابعاں میں خدا کر قبول کہ بولیا خدا من یطیع الرسول (صنعتی :قصہ بے نظیر)۸۷؎
ثنا کر اس کی اگر حق سے کچھ لیا چاہے تو اس سے کہ اگر اللہ سے ہے کچھ درکار
خدا ترا، تو جہاں کا ہے واجب الطاعہ جہاں کو تجھ سے، تجھے اپنے حق سے ہے سروکار (مولانا نانوتوی :قصائد بہاریہ)۸۸؎
(9)امت محمدیہ
اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ ﷺ کو ایک عظیم اور منتخب امت بنایا، جس کی فضیلت قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے :
وكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا۸۹؎اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل۔كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ۹۰؎تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں۔مسند احمد کی حدیث ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے کچھ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ، ان میں سے ایک آپ ﷺ نے یہ چیز بیان فرمائی کہ وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے ۔۹۱؎جیسا کہ جلالین کے حوالے سے و رفع بعضھم درجات کی تفسیر میں یہ بات اوپر گزر چکی ہے کہ علامہ جلال الدین سیوطی نے وتَفْضِيل أُمَّته عَلى سائِر الأُمَم بھی فرمایا کہ ایک خصوصیت نبی کریم ﷺ کی یہ بھی ہے کہ دیگر امتوں پر آپ ﷺ کی امت کو فضیلت دی گئی ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں تفسیر طبری میں سورہ اعراف کی آیت نمبر 150 : ( وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِنْ بَعْدِي أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ )کی تفسیر کے ضمن میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے جب امت محمدیہ کے فضائل تورات میں دیکھے تو اللہ تعالی سے دعا کی کہ اللهم اجعلني من أمة محمدﷺ۹۲؎اے اللہ! مجھے امت محمدیہ میں سے بنادے۔ ہمارے شعرا نے بھی امتِ محمدیہ ﷺ کی فضیلت کو اپنی نعتیہ شاعری میں بیان کیا ہے اور اس پر فخر کا اظہار کیا ہے۔اشعار ملاحظہ فرمائیں:
امولک ملت سپس سنسار کر کرے کام نردھار کرتار کا (نظامی :کدم راؤ پدم راؤ)۹۳؎
یہ دو عالم تیرے کاج امت کیرا ہے سرتاج
ایسا جگ میں پیارا ہے امت جس کا سارا ہے (جانم :ارشاد نامہ)۹۴؎
پس ہوا واجب ہمیشہ حشر لگ امتی کہلاویں ان کے یہ دو جگ (وجدی:پنچھی باچھا)۹۵؎
جو انبیا ہیں وہ آگے تری نبوت کے کریں ہیں امتی ہونے کا یا نبی اقرار (مولانا نانوتوی :قصائد بہاریہ)۹۶؎
حواشی:
- سورۃ البقرۃ آیت ۲۵۳
- تفسیر جلالین صفحہ ۵۰ ناشر مکتبہ رحمانیہ
- صحیح مسلم : الرقم ۱۱۶۷
- صحیح مسلم: الرقم ۵۹۴۰، جامع الترمذی: الرقم ۳۶۱۵
- شرح مسلم للنووی جلد ۱۵ صفحہ ۳۷ ناشر المطبعۃ المصریۃ ۱۹۳۰
- صحیح البخاری : الرقم ۳۴۱۴
- شرح مسلم للنووی جلد ۱۵ صفحہ ۳۸ ناشر المطبعۃ المصریۃ ۱۹۳۰
- کدم راؤ پدم راؤ،فخر دین نظامی ۔مرتبہ جمیل جالبی صفحہ ۷۱ ناشر، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۱۹۷۹
- ارشاد نامہ، برہان الدین جانم۔مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۱۳۱-۱۳۲ ناشر عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد ۱۹۷۶
- سیف الملوک و بدیع الجمال، غواصی۔ مرتبہ میر سعادت علی صفحہ ۴ ناشر اردو آرٹس کالج، حیدرآباد ۱۹۳۸
- مینا ست ونتی، غواصی۔ مرتبہ غلام عمر خاں صفحہ ۱۰۵ ناشر الیاس ٹریڈرس، حیدرآباد ۱۹۸۱
- قصہ بے نظیر، صنعتی۔ مرتبہ عبد القادر سروری صفحہ ۱۰
- پھول بن ،ابن نشاطی۔ مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۸۲ ناشر ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی ۱۹۷۸
- گلشن عشق ، نصرتی۔ مرتبہ مولوی عبد الحق صفحہ۱۰ ناشر انجمن ترقی اردو ،کراچی ۱۹۵۲
- قصائد قاسمی، مولانا قاسم نانوتوی۔ مرتبہ ندیم احمد انصاری صفحہ ۳۶ -۴۲ناشر حجت الاسلام اکیڈمی،دیوبند ۲۰۲۱
- حدائق بخشش،مولانا احمد رضا بریلوی۔ صفحہ۳۹- ۱۳۸ ناشر مکتۃ المدینۃ،کراچی۲۰۱۲
- روح المعانی،علامہ آلوسی۔جلد ۱۷ صفحہ ۱۲۱ ناشر ادراہ طباعہ لمنیریہ
- المواھب اللدنیہ ،علامہ قسطلانی ۔جلد ۱ صفحہ ۷۱ ناشر المکتبۃ الاسلامی ۲۰۰۴
- المواھب اللدنیہ ،علامہ قسطلانی ۔جلد ۱ صفحہ ۷۰ ناشر المکتبۃ الاسلامی ۲۰۰۴
- الموضوعات الکبری، ملا علی قاری۔صفحہ ۲۸۸ ناشر المکتبۃ الاسلامی ۱۹۸۶
- المستدرک للحاکم جلد ۲ صفحہ ۷۲۲ ناشر دار الحرمین ۱۹۹۷
- کدم راؤ پدم راؤ،فخر دین نظامی ۔مرتبہ جمیل جالبی صفحہ ۶۹ناشر، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۱۹۷۹
- ارشاد نامہ، برہان الدین جانم۔مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۱۳۱-۱۳۲ ناشر عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد ۱۹۷۶
- سیف الملوک و بدیع الجمال، غواصی۔ مرتبہ میر سعادت علی صفحہ ۴ ناشر اردو آرٹس کالج، حیدرآباد ۱۹۳۸
- مینا ست ونتی، غواصی۔ مرتبہ غلام عمر خاں صفحہ ۱۰۵ ناشر الیاس ٹریڈرس، حیدرآباد ۱۹۸۱
- قصہ بے نظیر، صنعتی۔ مرتبہ عبد القادر سروری صفحہ ۷
- پھول بن ،ابن نشاطی۔ مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۸۲ ناشر ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی ۱۹۷۸
- گلشن عشق ، نصرتی۔ مرتبہ مولوی عبد الحق صفحہ۱۰-۱۱ ناشر انجمن ترقی اردو ،کراچی ۱۹۵۲
- پنچھی باچھا، وجدی۔ مرتبہ سید محمد صفحہ ۶ ناشر اعجاز پرننٹگ پریس۔ حیدرآباد ۱۹۵۹
- قصائد قاسمی، مولانا قاسم نانوتوی۔ مرتبہ ندیم احمد انصاری صفحہ ۳۵- ۳۷ناشر حجت الاسلام اکیڈمی،دیوبند ۲۰۲۱
- حدائق بخشش،مولانا احمد رضا بریلوی۔ صفحہ ۱۷۸ ناشر مکتۃ المدینۃ،کراچی۲۰۱۲
- سورہ القمر آیت ۱-۲
- صحیح البخاری : الرقم ۳۸۶۸
- صحیح مسلم : الرقم ۷۰۷۶، جامع الترمذی : الرقم ۳۲۸۶، مسند احمد: الرقم ۱۳۱۸۶
- کدم راؤ پدم راؤ،فخر دین نظامی ۔مرتبہ جمیل جالبی صفحہ ۷۱ناشر، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۱۹۷۹
- پھول بن ،ابن نشاطی۔ مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۸۲ ناشر ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی ۱۹۷۸
- گلشن عشق ، نصرتی۔ مرتبہ مولوی عبد الحق صفحہ ۱۲ ناشر انجمن ترقی اردو ،کراچی ۱۹۵۲
- پنچھی باچھا، وجدی۔ مرتبہ سید محمد صفحہ ۷ناشر اعجاز پرننٹگ پریس۔ حیدرآباد ۱۹۵۹
- قصائد قاسمی، مولانا قاسم نانوتوی۔ مرتبہ ندیم احمد انصاری صفحہ ۴۵ ناشر حجت الاسلام اکیڈمی،دیوبند ۲۰۲۱
- حدائق بخشش،مولانا احمد رضا بریلوی۔ صفحہ ۱۴۰-۵۲ ناشر مکتۃ المدینۃ،کراچی۲۰۱۲
- سورہ الاسراآیت ۱
- سورہ النجم آیت ۸
- سورہ النجم آیت ۹
- تفسیر قرطبی جلد ۱۷ صفحہ ۸۹-۹۰
- سورہ النجم آیت ۱۱
- جامع الترمذی: الرقم ۳۲۷۸
- سورہ النجم آیت ۱۳-۱۴
- سورہ النجم آیت ۱۵
- سورہ النجم آیت ۱۶-۱۷
- ارشاد نامہ، برہان الدین جانم۔مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۱۳۲ ناشر عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد ۱۹۷۶
- سیف الملوک و بدیع الجمال، غواصی۔ مرتبہ میر سعادت علی صفحہ ۵ناشر اردو آرٹس کالج، حیدرآباد ۱۹۳۸
- مینا ست ونتی، غواصی۔ مرتبہ غلام عمر خاں صفحہ ۱۰۵ ناشر الیاس ٹریڈرس، حیدرآباد ۱۹۸۱
- قصہ بے نظیر، صنعتی۔ مرتبہ عبد القادر سروری صفحہ ۹،۱۰،۱۱
- گلشن عشق ، نصرتی۔ مرتبہ مولوی عبد الحق صفحہ ۱۳ ناشر انجمن ترقی اردو ،کراچی ۱۹۵۲
- قصائد قاسمی، مولانا قاسم نانوتوی۔ مرتبہ ندیم احمد انصاری صفحہ ۳۷ناشر حجت الاسلام اکیڈمی،دیوبند ۲۰۲۱
- حدائق بخشش،مولانا احمد رضا بریلوی۔ صفحہ۹۳، ۲۳۴-۲۳۶ناشر مکتۃ المدینۃ،کراچی۲۰۱۲
- سورہ احزاب آیت ۴۰
- صحیح مسلم: الرقم ۵۹۶۱
- صحیح مسلم: الرقم ۶۲۱۷
- صحیح مسلم: الرقم ۱۱۶۷
- جامع الترمذی: الرقم ۲۸۴۰
- جامع الترمذی: الرقم ۲۲۱۹
- مینا ست ونتی، غواصی۔ مرتبہ غلام عمر خاں صفحہ ۱۰۵ ناشر الیاس ٹریڈرس، حیدرآباد ۱۹۸۱
- پھول بن ،ابن نشاطی۔ مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۸۲ ناشر ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی ۱۹۷۸
- گلشن عشق ، نصرتی۔ مرتبہ مولوی عبد الحق صفحہ ۱۲ناشر انجمن ترقی اردو ،کراچی ۱۹۵۲
- پنچھی باچھا، وجدی۔ مرتبہ سید محمد صفحہ ۷ناشر اعجاز پرننٹگ پریس۔ حیدرآباد ۱۹۵۹
- حدائق بخشش،مولانا احمد رضا بریلوی۔ صفحہ۲۹۶ -۳۷ناشر مکتۃ المدینۃ،کراچی۲۰۱۲
- سورہ الاسرا آیت ۷۹
- تفسیر قرطبی جلد ۱۰ صفحہ ۳۰۹
- صحیح البخاری : الرقم ۷۵۱۰، جامع الترمذی : الرقم ۳۱۴۸
- ارشاد نامہ، برہان الدین جانم۔مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۱۳۱ ناشر عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد ۱۹۷۶
- مینا ست ونتی، غواصی۔ مرتبہ غلام عمر خاں صفحہ ۱۰۴-۱۰۵ ناشر الیاس ٹریڈرس، حیدرآباد ۱۹۸۱
- قصہ بے نظیر، صنعتی۔ مرتبہ عبد القادر سروری صفحہ ۷
- گلشن عشق ، نصرتی۔ مرتبہ مولوی عبد الحق صفحہ ۱۰-۱۱ ناشر انجمن ترقی اردو ،کراچی ۱۹۵۲
- قصائد قاسمی، مولانا قاسم نانوتوی۔ مرتبہ ندیم احمد انصاری صفحہ ۴۰ ناشر حجت الاسلام اکیڈمی،دیوبند ۲۰۲۱
- حدائق بخشش،مولانا احمد رضا بریلوی۔ صفحہ۱۵۵ ،۱۷-۱۵۲ناشر مکتۃ المدینۃ،کراچی۲۰۱۲
- جامع الترمذی:الرقم۲۸۴۰
- ارشاد نامہ، برہان الدین جانم۔مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۱۳۱ ناشر عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد ۱۹۷۶
- سیف الملوک و بدیع الجمال، غواصی۔ مرتبہ میر سعادت علی صفحہ ۴ ناشر اردو آرٹس کالج، حیدرآباد ۱۹۳۸
- قصہ بے نظیر، صنعتی۔ مرتبہ عبد القادر سروری صفحہ ۷
- گلشن عشق ، نصرتی۔ مرتبہ مولوی عبد الحق صفحہ ۱۱ ناشر انجمن ترقی اردو ،کراچی ۱۹۵۲
- سورہ النسا آیت ۸۰
- سورہ آل عمران آیت ۱۳۲
- سورہ آل عمران آیت ۳۲
- صحیح البخار:الرقم ۷۱۳۷، صحیح مسلم : الرقم ۴۷۴۷
- مینا ست ونتی، غواصی۔ مرتبہ غلام عمر خاں صفحہ ۱۰۵ ناشر الیاس ٹریڈرس، حیدرآباد ۱۹۸۱
- قصہ بے نظیر، صنعتی۔ مرتبہ عبد القادر سروری صفحہ ۱۲
- قصائد قاسمی، مولانا قاسم نانوتوی۔ مرتبہ ندیم احمد انصاری صفحہ ۳۵-۴۱ ناشر حجت الاسلام اکیڈمی،دیوبند ۲۰۲۱
- سورہ البقرہ آیت ۱۴۳
- سورہ آل عمران آیت ۱۱۰
- مسند احمد : الرقم ۷۶۳
- تفسیر قرطبی سورہ اعراف آیت ۱۵۰
- کدم راؤ پدم راؤ،فخر دین نظامی ۔مرتبہ جمیل جالبی صفحہ ۶۹ناشر، ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۱۹۷۹
- ارشاد نامہ، برہان الدین جانم۔مرتبہ اکبر الدین صدیقی صفحہ ۱۳۱-۱۳۲ ناشر عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد ۱۹۷۶
- پنچھی باچھا، وجدی۔ مرتبہ سید محمد صفحہ ۶ ناشر اعجاز پرننٹگ پریس۔ حیدرآباد ۱۹۵۹
- قصائد قاسمی، مولانا قاسم نانوتوی۔ مرتبہ ندیم احمد انصاری صفحہ ۳۷ ناشر حجت الاسلام اکیڈمی،دیوبند ۲۰۲۱