
سید باقر مہدی
اسسٹینٹ پروفیسر،بابا برؤاداس پی جی کالج، پرویا آشرم، امبیڈکرنگر
اردو داستانوں میں لکھنوی تہذیب کی عکاسی
انشاء اللہ خاں انشاء کی رانی کیکتی کی کہانی( کنور اودے بھان کی کہانی) اور سلک گہر محمد بخش مہجور کی گلشن نو بہار رجب علی بیگ سرور کی افسانہ عجاب میر تقی خیال کی کئی جلدوں پر مشتمل تنظیم فارسی داستان بوستان بخیال کے دہلوی اور لکھنوی تراجم جو بالترتیب خواجہ امان اللہ اور مرزا محمد عسکری عرف چھوٹے آغا نے کئے۔ محمد حسین جاہ کی داستان طلسم فصاحت اور طلسم ہوشر با وغیر ہ وہ معروف داستانیں ہیں جن کا تعلق لکھنو سے ہے۔ اپنے عہد کی عکاسی اور شاندار اسلوب ان داستانوں کی عمومی خوبیاں ہیں۔ جن کی وجہ سے طوالت کے باوجود قاری کی دلچسپی اول تا آخر قائم رہتی ہے۔ اودھ میں داستان نگاری ایک مستقل فن تھا اور داستان نگار اس کے ہر پہلو سے واقف تھے۔ واقعات کی ترتیب، لطافت زبان، عام فہم ہونا اور مجموعی اظہار سے ایسے اعتماد کے ساتھ کہ زمان و مکان کے عدم قید کے باوجود قاری کو تاریخ گذشتہ کے مطالعہ کا سالطف حاصل ہونے لگے۔ اردو داستانیں اگر چہ طلسمات، مافوق الفطرت عناصر، سحر کاری اور وارداتوں سے بھری پڑی ہیں لیکن بند اسلامی تہذیب کی سب سے بڑی امانت دار یہی صنف ادب ہے جو یکسر فراموش کر دی گئی ہے۔ حالانکہ انیسویں صدی میں بھی برصغیر کے لوگوں کی زندگی داستان کے قریب نظر آتی ہے۔ آج بھی ہم تائید نبی پر یقین رکھتے ہیں۔ خضر کے منتظر رہتے ہیں۔ کا ئنات کی قوتوں سے متعلق ہمارا تحیر موجود ہے۔ برصغیر کا کوئی ایسا گاؤں یا شہر موجود نہیں ہے جہاں کوئی روحانی مرکز نہ ہو۔ ہم خوابوں پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی تعبیریں پوچھتے پھرتے ہیں۔ جنگلوں اور ویرانوں کے متعلق ہمارے نظریات اور اوہام وہی ہیں جو ہمارے قدیم آباء واجداد کے تھے۔ دیو، چڑیل، ڈائن، پریاں، جنات، عفریت، بھوت ہمارے درمیان موجود ہیں۔ بلی راستہ کاٹ جائے تو لوگ واپس پلٹ آتے ہیں۔ آج بھی دائیں آنکھ بھڑ کنے تو بدشگون تصور کیا جاتا ہے۔ کو امنڈیر پر بیٹھ کر کائیں کائیں کرے تو مہمان کی آمد یقینی ہو جاتی ہے۔ تعویذ گنڈے، منتر، جھاڑ پھونک، قال اور استخاروں پر اب بھی لوگ یقین رکھتے ہیں۔ جو گی سنیاسی، بنجارے مجذوب بر صغیر کے کس گاؤں اور قصبے میں نہیں ملتے۔ ہمارے مجذوب بر صغیر کے کسی گاؤں اور قصبے میں نہیں ملتے ہمارے خوابوں میں آج بھی مرے ہوئے بزرگ کچھ طلب کرنے آجاتے ہیں۔ خوابوں میں بشارتیں ہوتی ہیں۔ جنات اور پریوں کے سائے سے ابھی تک لوگوں کی جان نہیں چھوٹی، قبرستان، خالی گھر، بدھی اور چپل کے درخت بھوتوں کی آماجگا ہیں ہیں۔ قبروں، سمادھیوں، مٹھ اور مقابر پر چراغ اب بھی جلائے جاتے ہیں۔ آج بھی جنات کی حاضری اب کے دعویدار موجود ہیں۔ مرنے کے بعد بھی رشتہ دار رزق میں شریک رہتے ہیں۔ خوش ذائقہ کھانوں پر فاتحہ دی جاتی ہے۔ ہر موسم کا پھل بھی اسی طریقے سے ان کو بھیجا جاتا ہے ہمزاد اور موکل کی معاونت اور مدد کا تصور آج بھی موجود ہے۔ تو ہمات کی وہ کون سی قسم ہے جو داستان نگاری کے دور میں موجود تھی اور اس جدید زمانے میں نہیں ہے۔
یہ کا ئنات اتنی پر اسرار ہے اور نا قابل فہم ہے کہ اپنی تمام تر ترقیوں کے باوجود ہمیشہ تو ہمات کا شکار انسان رہے گا۔ انسان ہر عہد میں کا ئنات کی نئی نئی تعبیریں پیش کرتا رہا ہے اور آئندہ زمانوں میں خود اس کی تردید بھی کرتا رہا ہے۔ مذہبی عہد میں کائنات کا مفہوم کچھ اور تھا اور سائنس کے انکشافات کچھ اور ہیں کچھ بعید نہیں کہ مستقبل کے انسان آج کی سائنس کی مضحکہ خیزیوں پر ہنسا کریں گے۔ مستقبل کے انسان کی سوچ کیا ہوگی جو بھی ہو گی ایک بات ملے ہے کہ اس میں تو ہمات ضرور شامل ہوں گے۔ اردو داستان کا کینوس تخیلاتی سہی لیکن ناول اور جدید افسانے سے کہیں زیادہ وسیع تھا اس وسیع کینوس کے سبب ہند اسلامی تہذیب کے تمام نقوش، عقائد اور رجحانات تک اردو داستان میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ داستان اپنے موضوع اور اسلوب کی بنیاد پر طبقہ خاص کے لیے تھی۔ داستان کا موضوع امراء، نوابین اور بادشاہوں کی مہمات معاشقوں، آزمائشوں، عیش و عشرت اور جادو وعظمت ہے۔ اردو زبان کی طرح ہند اسلامی تہذیب بھی پہلے در بار اور حرم شاہی میں پروان چڑھی۔ ہندوستان میں تو پہلے ہی سے بادشاہ تقدس مآب تھا اور مسلمانوں میں بھی موروثی بادشاہت کی مطلق العنانی نے بادشاہ کو نقل الہی کا درجہ دے رکھا تھا۔ چنانچہ ہندوستان میں ہندو اور مسلم دونوں بادشاہ کی عظمت تسلیم کرتے تھے۔ بادشاہ کی ذات ملک وقوم کے تحفظ، خوشحالی اور ہر طبقے کے اطمینان و آسودگی کی ضمانت تھی۔ ملک میں اعلیٰ طبقے کی پرداخت و بقادر بار سے وابستگی کی بناء پر تھی۔ علماء فصحاء، فنکاروں، ادیبوں، شاعروں، کاریگروں اور صناعوں کی کفالت بھی دربار سے ہوتی تھی۔ بنابر ایں داستان نگاروں نے اس اعلیٰ طبقے کی زندگی کو موضوع بنایا جس کے وہ خوشہ چین تھے۔ ڈاکٹر سہیل بخاری کے بقول:
’’ان داستانوں میں تین قسم کی فضا پائی جاتی ہے اول عرب ایرانی، دوسری ہندوانہ اور تیسری بہت زیادہ چھائی ہوئی ہے۔‘‘
(اردو داستان، سہیل بخاری، ص ۱۶۲ مقتدرہ قومی زبان، ۱۹۸۷ء)
اردو داستانوں کا بیشتر سرمایہ عربی، فارسی اور بھاشا سے تراجم کی صورت میں ماخوذ ہے۔ اس لیے کچھ داستانوں میں کہیں کہیں خالص عرب و فارسی کے تہذیبی عناصر بھی ملتے ہیں۔ الف لیلی جو کہ پہلے فارسی میں ہزار داستان کے نام سے لکھی گئی۔ بعد میں اس کا ترجمہ عربی میں ہوا اور آخر میں اردو میں منتقل ہوئی اس میں بغداد اور قاہرہ دونوں مقامات کی معاشرت نظر آتی ہے لیکن ہند اسلامی تہذیبی عناصر کی کمی یہاں بھی نہیں ہے۔ اس طرح ہندی تہذیب بھی معدودے چند داستانوں میں ملتی ہے جن میں رانی کھیکی کی کہانی، بے تال پچھیں اور سنگھاسن بتیسی وغیرہ قسم کی داستانیں قابل ذکر ہیں۔ ان داستانوں میں ویدک عہد اور کالی داس کے ہندوستان کی معاشرت کی عکاسی کی گئی ہے۔ اردو داستان جس عہد میں لکھی جارہی تھی یہ خالص انگریزی عمل داری کا زمانہ تھا لیکن اس کے باوجود مغربی تہذیب کا کوئی عکس داستان میں کہیں نظر نہیں آتا حتی کہ فورت ولیم کالج کی زیر نگرانی لکھی جانے والی داستانوں میں بھی جن کے تراجم میں میر امن اور حیدری جیسے داستان نگاروں نے اپنی مرضی سے اضافے کیے مغربی تہذیب کے آثار کہیں نہیں ملتے۔
ہندوستان کی تاریخ میں اسطور، مذہب اور فلسفہ ایک عظیم تخیل ہے۔ یہاں دیوتاؤں کی بیویاں ہیں، سادھو اور پجاری مجرد ہیں۔ یہاں ہر چیز تصور و تخیل کی زد میں ہے۔ یہاں خود اذیتی اور انسا ساتھ ساتھ چلتے ہیں یہ دیوتاؤں کی سرزمین ہے جہاں سب کچھ ممکن ہے۔ جہاں رسم کی ادائیگی عمل سے زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ ایک ہندو کے نزدیک دیوتا پوجا سے زیادہ پوجاو پرستش کے قرینے سے خوش ہوتے ہیں ہندوستان کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں کوئی عمل ایسا نہیں تھا جو قرینہ رسم سے مبرا ہو۔ یہاں کے رسم پسندانہ مزاج نے مسلم سلاطین اور امراء کی شاہانہ زندگی کے طمطراق کو بھی غیر معمولی بنادیا تھا۔ قصر سلطان سے لے کر امراء کی حویلیوں تک میں نہ جانے صبح سے شام تک کتنی بے شمار رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ ہند اسلامی تہذیب کی سب سے پہلی شناخت یہی رسومات کی فراوانی ہے۔ خوشی نمی، شادی بیاہ، حضر، سفر، مذہبی و سماجی تہوار، کھانا پینا سونا جاگنا، نیا کام شروع کرنا، نیا مکان بنانا۔ نئے مکان میں منتقل ہونا، صدقہ وخیرات کے موقعوں پر اور در بار شاہی میں روزانہ بے شمار رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ ہر اعلی دادنی موقع پر رسومات کی ادائیگی اس عہد کی پر تکلف زندگی کا خاصہ تھا۔دولت و اختیار اور مقام و مرتبے کی نمود و نمائش ہمیشہ رسوم ورواج کی رہین منت رہی ہے۔
اردو داستان کے تخیل میں اس عہد کا پورا ہندوستان سانس لے رہا ہے۔ قصے اجنبی ملکوں سے اٹھائے گئے ہیں۔ لیکن سارے منظر سرزمین ہند کے ہیں۔ ماجرے ترکستان، عرب و ایران کے بادشاہوں کے ہیں لیکن مستند داستان پر شاہان دہلی اور نوا چین اور پر جلوہ افروز ہیں۔ باغ و بہار، مذہب عشق اور سروش سخن میں ہند اسلامی تہذیب رچی بسی ہوئی ہے۔ باغ و بہار کے تمام معاشرتی تکلفات وہی ہیں جو مسلم بادشاہوں کے زمانے میں تھے شاہی دستر خوان کھانوں کی اقسام، کھانوں کے آداب، مکانات کی آرائش و زیبائش مشاغل، پیشے، سواریاں وہی ہیں جو کہ اس عہد میں ملتی تھیں۔ داستانوں میں پھل پھول، میوے، مصالحے، کپڑے، کھانے، جواہرات، زیورات، ہتھیار، ساز، سواریاں سب کچھ وہی ہے جو کسی زمانے میں لال قلعے اور نوابین اودھ کے محلات میں موجود ہوتا تھا۔ فسانہ عجائب، داستان امیر حمزہ اور گلشن نو بہار لکھنو کی توالی زندگی کے بہترین مرقع پیش کرتے ہیں۔ داستانوں کے صفحات میں اس تہذیب کا کوئی ایسا پہلو ہیں جو موضوع مطالعہ نہ رہ سکا ہو یا شامل نہ کیا گیا ہو۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر سہیل بخاری لکھتے ہیں:
’’ولادت، شادی اور موت کی رسمیں، شاہی سواری، جلسے منتیں، مرادیں، شگون، نو سکے، عقائد، میلے، بازار، مشاغل، مکانوں کی آرائش، جسمانی زیبائش، لباس، طور طریقے، بول چال، نشست و برخاست، اکل و شرب علوم و فنون غرض لکھنو (ہند) کی کون سی چیز ہے جوان داستانوں میں نہیں ہے۔ داستان امیر حمزہ میں کرداروں کے نام تو ایران وعرب کے ہیں لیکن ان کی زندگی بالکل لکھنوی زندگی ہے۔‘‘
سرور کی فسانہ عجائب اور علی اصغرا کبر آبادی کی گلشن جاں فزا یہ دو ایسی داستانیں ہیں جن میں بالترتیب لکھنو اور آگرہ کی ہند اسلامی معاشرت پوری کی پوری سامنے آجاتی ہے۔ سرور نے فسانہ عجائب کے تمہیدی حصہ میں جس زور تخیل، شعریت اور ادبی لطافت سے لکھنو کی تعریف کی ہے۔ لکھنوی تہذیب و معاشرت واقعا اس کے شایان شان تھی۔ فسانہ عجائب کی پر تکلف زبان کے بہترین نمونے بھی اسی حصہ میں نظر آتے ہیں۔ جب کہ وقار عظیم نے لکھا ہے:
’’اس کے علاوہ بعض چیزیں اور بھی ہیں جو پڑھنے والے کو خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اور یہ ساری چیزیں لکھنو کی خاص زندگی اور اس کی مخصوص معاشرتی ماحول کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ تمہیدی حصہ میں لکھنو کی زندگی کے متعدد پہلوؤں کا ذکر سرور نے محض اشاروں اشاروں میں کیا ہے۔ ان میں زندگی کا گہزار چاہو رنگ موجود ہے کہ میر حسن کی مثنوی میں بھی نہیں۔‘‘
(ہماری داستانیں، وقار عظیم ص ۳۹۰، اردو مرکز لاہور، ۱۹۶۴ء)
فسانہ عجائب سرور کی لکھنؤ سے والہانہ محبت کا پر تکلف اظہار ہے وہ لکھنو جہاں مسلم حکمرانوں نے اپنی رواداری، وسیع المشربی،برداشت اور وسعت نظر سے ہندو اور مسلمان کو مذہبی امتیازات کے باوجود ایک خوشحال معاشرے میں یکجا کر دیا تھا۔ جہاں ہندو اور مسلمان ایک جیسا لباس پہنتے تھے۔ ایک دوسرے کے تہوار اور خوشی نفی میں شریک رہتے تھے۔
لکھنو کی تہذیب میں جنس کوئی قابل نفرت جذ بہ نہیں تھا۔ جینس اور جنسی مظاہر میں آداب و شائستگی نے اسے ایک قابل احترام حیاتیاتی عمل بنا دیا تھا۔ یادر ہے کہ ہندومت میں جنس اپنے ضابطوں اور حدود میں معیوب نہیں ہے بلکہ مٹھ کی صورت میں وہ مذہب کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہندومت میں جنس اپنے لوازمات کی تفصیل و آداب کے ساتھ ایک مکمل علم ہے جسے دیگر مذہبی اور سماجی علوم کے برابر مقام حاصل ہے۔ لکھنو میں جنس مذہب کا حصہ تو نہ بن سکی لیکن اہل لکھنو میں طویل ترین ہندو مسلم باہمی اختلاط نے یہ حوصلہ پیدا کر دیا کہ جنس اور طوائف کی شمانشتگی و آداب، لطافتیں اور نظامتیں اس تہذیب کے مستقل عناصر بن گئے۔ لکھنوی تہذیب کے اس پہلو کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر تقیسم کا شمیری لکھتے ہیں:
’’ارباب نشاط کے ایسے ایسے گروہ پیدا کیے جنہوں نے فنون جنسیات کو زندگی کے بنیادی مظاہر میں شامل کر دیا۔ فن کے ساتھ حسن و شباب اور کشش کے لیے بے شمار لوازمات کو تخلیق کیا گیا۔ مثلا ملبوسات، سنگھار اور جو مشہد بات سے روپ رنگ کونکھارا گیا اور مالش گاہوں کے اندرونی ماحول کو جنسی محرکات کے لیے پر کشش بنایا گیا۔ اس پوری کاروائی کے طور پر مجموعی حیثیت سے لکھنو کی فضا بے حد جنس انگیز ہوگئی تھی۔‘‘
(تاریخ ادب اردو، ڈاکٹر تبسم کاشمیری ص ۳۹۰، سنگ میل لاہور، ۲۰۰۳ء)
اگر تہذیب کے اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو لکھنو میں لکھی جانے والی داستانوں کا اندرونی ماحول بھی جذ بہ جنس انگریزی میں کم معادن نہیں ہے۔ لکھنو کی ڈیرہ وار طوائفوں کی خوش اطواری اور ان کے گھروں کی اندرونی آرائش و زیبائش کے تمام سامان جھاڑ، فانوس، قمقمے جمع دان، تصاویر منگل دان، فرشی نشستیں ان پر بھی اصلی چاندنیاں، گاؤ یکیے، ریشمی اور اونی قالین اور پھر ملاقاتوں میں گرم جوشی ہے جیسے مناظر یہاں کی داستانوں میں موجود ہیں۔ ہند کی جنسی اسطور اور مسلم آداب و معاشرت میں دبے ہوئے جنسی جذ ہے اور جنس گریزی نے مل کر طوائف کے کو ٹھے کو تہذیب کا مرکز بنا دیا۔
واجد علی شاہ کا پری خانہ جو بذاتہ ایک داستانی حیثیت کا حامل تھا اس عہد کی حسین ترین عورتوں کی میش گاہ تھا۔ اس پری خانہ میں سلطان پری، ماورخ پری، یاسمین پری، عزت پری اور دل ربا پری، داستانوں کے نسوانی کرداروں ماورخ (قصہ سرور افزا) انجمن آرا (فسانہ عجائب) حسن بانو پری (قصہ بہرام گور) آرام جاں (گلشن جاں فزا) شہزادی بدر منیر (سحر البیان) سے کم افسانوی حسینا میں نہیں ہیں۔ جس طرحداستانیں پری سراپا حسینوں کے ذکر سے بھری پڑی ہیں اسی طرح لکھنو کے نوابوں کے محل اور امراء کی حویلیاں اس عہد کی حسین ترین نازنینوں سے حسن کدہ بنی ہوئی تھیں۔ ہندوستانی سنگھار اور زیورات کی تمام مروج قسموں سے داستان نگار واقف تھے اور عورتوں کی تصاویر میں رنگ بھرنے میں ماہر تھے۔ داستانوں میں زیورات کا ذکر جابجا ملتا ہے۔ ہندوستان میں استعمال ہونے والا کوئی زیور ایسا نہیں ہے جس کا ذکر داستانوں میں نہ ہو۔ ہر داستان سے زیورات کی لمبی فہرست مرتب کی جا سکتی ہے۔ مثلاً:
’’جب وہ ہمارے یہاں سے سدھاری تو میں نہائی دھوئی ایک بھاری جوڑا پھر کتا کالا، عطر ملا، زیور بیش بہا پیتا، گلے میں جگتی چمپا کلی، موتیوں کا مالا، وفقد سنگی، کانوں میں پتے بالیاں، ہاتھوں میں حسین بند، الماس کے کڑے، پاؤس میں سونے کے چھڑے، انگلیوں میںجواہرات کی انمول انگوٹھیاں، سر پر چھہ کا، اس زیور سے جو بن کی آگ بھڑک اٹھی اور آئینہ دیکھا تو اپنے آپ کو بھی اچھی معلوم ہونے لگی۔‘‘
(الف لیلی، رتن ناتھ سرشار ص ۱۲۸، مطبع نولکشور لکھنؤ ۱۹۰۱ء)
اودھ کی داستانوں کا یہ زرق برق بھر کیلا ماحول اس تہذیب کا حقیقی ماحول ہے جہاں عورت کے سراپے میں زندگی کے تمام رنگ و آہنگ یکجا ہو گئے تھے۔ جہاں مرد بھی بھر کیلئے اور پھول دار لباس پہننا شایان شان تصور کرتے تھے۔ یہ ایک ایسی تہذیب تھی جس کی آرائش و زیبائش رقص و موسیقی جیسے عناصر سے ہوئی تھی۔ جہاں مسلمانوں کے آسمانی تخلیل اور ہند کے ارضی تصور نے ہند اسلامی تہذیب کی عورت کو نئے مرے سے تخلیق کیا۔ یہ عورت دنیا کی تمام تہذیبوں کی عورتوں سے مختلف ہے۔ تہذیب و شائستگی، لطافت، نفاست حسن وزیبائی آرائش جمال نغمہ و رقص، وضع داری مجلسی زندگی، آداب محفل اور طرز نظم کے تمام معیارات ہند اسلامی تہذیب کی اس عورت پر ختم ہو جاتے ہیں۔ جو دار ہائی میں یکتا اور تمام رشتوں میں باکمال ہے۔ اگر اس عورت کے تمام روپ بیک وقت اور با تمام و کمال دیکھتے ہیں تو اس سلسلے میں داستان سے بہتر مطالعہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
داستانوں میں اودھ کی تہذیب و معاشرت جو محفوظ ہے اگر ان داستانوں میں اس تہذیب کی عکاسی نہ ہوتی تو آج اس تہذیب سے واقفیت بھی مشکل تھی۔ داستانوں میں اس تہذیب کی عکاسی کس انداز میں کی گئی ہے اس کا انداز و لگانے کے لیے کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔ فسانہ عجائب میں جادو گرنی کے جادو سے جب جان عالم اور اس کا شکر آدھا پتھر کا بن گیا تو عور تیں اس مصیبت سے نکلنے کے لیے منتیں مانتی ہیں:
’’کوئی کہتی تھی کہ ہمارا لشکر اس بلا سے نکلے گا تو مشکل کشا کا کھتر ادو نا دوں گی کوئی بولی سہ ماہی کے روزے رکھوں گی، کونڈے بھروں کی صحنک کھلاؤں گی، دودھ کے کوڑے بچوں کو پلاؤں گی کسی نے کہا جیتی چھٹی تو جناب عباس کی درگاہ جاؤں گی سقائے سکینہ کا علم چڑھاؤں گی، چہل منیری کر کے نذر حسین کی سبیل پلاؤں گی۔”
(فسانہ عجائب، رجب علی بیگ سرور ص ۷۰، نیشنل پریس الٰہ آباد، ۱۹۲۸ء)
اس عہد کے بدشگون دیکھیے جنہیں عورتیں آج بھی مانتی ہیں۔ جب جان عالم بندر بن گیا اور وزیر زادہ جان عالم کے قالب میں آکر ملکہ سے کہنے لگا کہ وزیر زادے کو شیر کھا گیا ہے۔ اس موقع پر ملکہ کچھ شگون بیان کرتی ہے:
’’خدا خیر کرے ا آج بہت لنگون بد ہوئے تھے صبح سے وہنی آنکھ پھڑکتی تھی، راہ میں ہرنی اکیلی راستہ کاٹ کر میرا منہ تکتی تھی، اپنے سائے سے بھڑکتی تھی، جیسے میں اترتے وقت کسی نے چھینکا تھا، خواب موحش نماز کے وقت دیکھا تھا۔‘‘
رخصت کے رسومات میں باغ و بہار کے پہلے درویش کے بازو پر اس کی بہن کا امام ضامن باندھنے کا واقعہ تو بہت مشہور ہو گیا۔ اب ذرا دیکھیے فسانہ دلفریب میں خورشید جیس کی ماں شہزادہ فریدون شوکت کو کیسے رخصت کر رہی ہے:
’’ملکہ کی ماں نے اشرفیاں امام ضامن کی بازو پر باندھ کر گلے لگا یا سر سے پاؤں تک بلائیں لے کر یہ کلمہ سنایا، امام ضامن کی ضامنی دی مچھلی اللہ کہان، سدھار و منہ پھیر کر گھر کو دیکھ لولیکن اپنے وابستہ دامن دولت کا خیال رکھنا فراموش نہ کرنا ورنہ تمہاری یاد میں گھٹ گھٹ کر مر جائے گی۔ پھر ہمارے ہاتھ نہ آئے گی۔ لو میں نے تم کو امام ضامن کی ضامنی میں دیا کہہ دو قبول کیا۔‘‘
(فسانئہ دل فریب فدا علی عیش،ص ۱۱۰، نولکشور پریس لکھنو)
جادو ہندوستان میں مذہب کا حصہ ہے اور ایک پور اوید اس سے متعلق ہے۔ مسلمانوں میں بھی جادو اور اس کے اثرات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ داستانوں میں جادو کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں تقریباً ہر داستان میں کوئی نہ کوئی جادو گر اپنے طلسم کے ساتھ موجود ہے۔ فسانہ عجائب میں جب انجمن آراء جادوگر کی قید میں چلی جاتی ہے۔ جان عالم اس کی رہائی کے لیے جاتا ہے اور خود اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتا ہے:
’’بنگلے سر سے نکال تھوڑے ماش اس بدمعاش نے اور کالا دانا نکالا۔ اس وقت چرخ چکر میں آیا اور زمین تھرائی جب سرسوں میں بولے اور روئی ملائی اور پھر تیا جیتا اور لونا چماری کو پکارا۔ ان دانوں کو اس احمق نے آسمان کی طرف پھینک مارا، دفعتا شہزادے پر پتھر اور آگ کا مینہ برسایا۔‘‘
(فسانہ عجائب، رجب علی بیگ سرور، ص ۴۳)
اودھ کے حکمرانوں اور رئیسوں کے دستر خوانوں پر پیش کیے جانے والے قسم قسم کے کھانے اودھ کے تہذیب کی سلیقہ شعاری اور فن طباقی میں مہارت اور اعلی ذوقی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ کھانے ان طریقوں اور کھانے کی بے شمار اقسام کو تاریخ سے زیادہ داستانوں نے محفوظ رکھا ہے اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ معلومات بھی داستانوں ہی سے فراہم ہوتی ہیں۔
نوابین اودھ کے باورچی خانوں میں لا تعداد پر تکلف کھانے پکتے تھے جن کی تفصیل اب صرف داستانوں کے دستر خوانوں میں ملتی ہے۔ خوف طوالت سے صرف پلاؤ کی قسمیں ملاحظہ کیجیے:
’’پلاؤ بیگھی پلاؤلا پود، پلاؤ کوکو، پلاؤ موتی، پلاؤ زعفران، پلا ؤ متنجن، پلاؤشولا، پلاؤ بیری، پلاؤ گیلی، پلاؤ کاشا کی، یخنی پلاؤ، قورمہ پلاؤ، مرغ پلاؤ، انناس پلاؤ، نور محلی پلاؤ وغیرہ۔‘‘
پلاؤ کی یہ قسمیں داستان امیر حمزہ، باغ و بہار اور فسانہ عجائب سے لی گئی ہیں۔ اگر اودھ کی ساری داستانوں سے کھانوں کی فہرست مرتب کی جائے تو نہ جانے یہ قسمیں اور یہ تعداد کہاں تک پہنچے گی۔
اب ذرا دو پہر سہ پہر اور رات کو کھائے جانے والے کھانے دیکھیے یہ اس عہد کے لکھنوی امراء کے کھانے کا قاعدہ ہے:
’’ٹھیک صبح کو چھ بجے چائے اور شکر اور دودھ اور بالائی اور شیر و بادام اس قدر حاضر رہے کہ کم از کم پچیس آدمی نوش جاں کریں اور ڈیڑھ پیروں چڑھے شیر ماں، پراٹھے، مرغ کا قورمہ نرگسی کباب، مرغ پلاؤ اور ترکاریاں، اچار، چینی مربے اور ہر دن رہے شربت کئی قسم کے اور کچھ گردو نان اور فواکہ اور ڈیڑھ پہر رات گئے کئی قسم کے کباب اور باقر خوانی اور ہوائی روٹی اور کئی قسم کی مچھلی اور محلی پلاؤ اور متنجن ہو۔‘‘
(الف لیلہ رتن ناتھ سرشار، ص ۱۰۵، نولکشور پریس لکھنو، ۱۹۰۱ء)
اودھ کی داستانیں اودھ کی تہذیب کا سب سے بڑا ماخذ ہیں اس لیے کہ اس عہد کے تمام مروجہ علوم وفنون، معاشرتی آداب اور طبقہ عالیہ کی مجلسی زندگی کے بہترین نقوش ان داستانوں میں پائے جاتے ہیں۔
جدید افسانوی ادب کے مقابلے میں داستان کا تانابانا، کردار اور ماحول غیر حقیقی اور مافوق الفطری سہی لیکن داستان انسانی زندگی سے انتقالا تعلق بھی نہیں تھی جتنا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ انسانی معاشرہ خود داستانوی زندگی سے آگے نکل آیا ہے اس لیے ہمیں داستان میں ماسوائے خرافات اور کچھ نظر نہیں آتا۔ آج ہم ان طور طریقوں پر یقین نہیں رکھتے جو بھی معاشرے میں ایمان دعقائد کی طرح رائج تھے اور اس عہد کے بے فکروں کی فکر کا محور جن، پری ساحر، ولی اور کامیابی و کامرانی کی شرط تائید نیبی اور مقدر تھا۔ آج کا تعلیم یافتہ طبقہ اگر ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے یہاں ان تو ہمات کے متبادل سائنس، ٹیکنالوجی اور خود انحصاری کی صورت میں موجود ہیں اور مذہب تو اب بھی ہماری زندگی میں اتنی شدت سے داخل ہے جتنی شدت سے داستان کے کرداروں میں شامل تھا۔ عشق مہم جوئی، درویشی، تفر مندی اور ترک واحتشام جیسے جذبے آج بھی ہمارے ذہن کے نہاں خانوں کے متمنی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وسائل حیات جب قلیل تھے تو انسان کے گھر و نظر کی ضعیفی نمایاں تھی۔ اور اب کثرت وسائل سے یہ ضعف مستور ہو گیا ہے۔ جب تک موت اور تقدیر کے عقدے حل نہیں ہو جاتے انسان کا ضعف باطن قائم رہے گا۔
اردو میں داستان نگاری کو زوال آجانے کے بعد بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ داستان نے اردو نثر کی فرومالینگی کو کم کر کے اسے اس قابل بنایا کہ اس میں ہر قسم کے موضوعات کے اظہار کی قدرت پیدا ہوگئی۔ داستان ہمارے قدیم تمدن کی وارث ہے۔ ہمارے بزرگوں کا تہذیبی سرمایہ داستان کے وسیلے سے ہم تک پہنچا ہے۔ ان کے فکر و خیال، رسوم و رواج، طور طریقے، بود و باش، معمولات و مشاغل، رجحانات و میلانات عقائد، انفرادی و اجتماعی قواعد و آداب کے مکمل خانے داستان میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ قدیم تمدنی انقلابات و تغیرات اور ترقی و تبدیلیوں سے آگہی بھی داستان کی مرہون منت ہے۔ داستان نگاری کے سلسلے میں اودھ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ داستان نگاری کا بطور ایک صنف مستقل آغاز تحسین کی نوطرز مرصع کے ذریعہ لکھنو میں ہوا اور اردو کی اہم اور نمایاں داستانیں اودھ میں ہی وجود میں آئیں۔ اس لیے داستان نگاری کے فروغ پر کوئی بھی بحث اور ھر کی داستان نگاری پر بحث کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔