You are currently viewing  خاکہ پروفیسر حبیب نثار

 خاکہ پروفیسر حبیب نثار

ڈاکٹر محمد ارشد کسانہ

(پونچھ جموں و کشمیر)

                                              خاکہ پروفیسر حبیب نثار

         اگست 2017 کی بات ہے۔ میں نے حیدرآباد یونیورسٹی میں ایم ۔فل ۔کے لیے داخلہ لیا اور اسی دن شام کو گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ارادہ تھا کہ کچھ دن گھر آرام کیا جائے۔ لیکن ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ حیدرآباد سے دوستوں کا بلاوا آگیا۔ وہاں کورس ورک کی کلاسیں شروع ہوچکی تھیں۔ لیکن ہم نے دوستوں کے بلاوے کو سرے سے خارج کردیا۔مزیدبیس دن گھر پر رہنے کا ارادہ کرلیا۔ لگ بھگ تین دن بعد معاملہ سنجیدہ ہو گیا۔ مجھے دوستوں نے بتایا کہ ہماری غیر حاضری پر صدر شعبہ پروفیسر حبیب نثار صاحب کافی غصے میں ہیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ جو دیر سے آرہے ہیں ان کی ٹھیک ٹھاک خاطر داری کر رہے ہیں۔ ہم نے ان کے بارے میں سنیئرز اسکالر سے پوچھ تاچھ کی اور معلوم ہوا کہ وہ ہرگز کسی کو بخشتے نہیں ہیں۔ لہذا ہم نے اپنی بیس دن کی مدت کو تین دن پر محدود کردیا۔

         تین دن بعد میں اور میرے دو ہم جماعت شیراز اور خالد سنیچر کی صبح کو گھر سے نکلے اور اتوار رات ہم حیدرآباد پہنچ گئے۔ پہنچتے ہی دوستوں نے صدر شعبہ کے رویے سے آگاہ کردیا۔ اور گواہ کے طور پر ان اسکالرز سے ملوایا جو دیر سے آکر کلاس میں بے عزت ہوچکے تھے۔ پھر رات بھر پروفیسر حبیب نثار ذہن میں گھومتے رہے۔ اس وقت تک میں شکلاً حبیب نثار صاحب کو پہچانتا نہ تھا۔ حالانکہ میرا انٹرویو انہیں کی سرپرستی میں ہوا تھا اور انھوں نے مجھے چند سوالات بھی پوچھے تھے لیکن اس کے باوجود میں نے ان کو جاننے کوشش نہیں کی۔ انٹرویو میں بیٹھے اساتذہ کی شکلیں تو میرے ذہن میں قید تھیں لیکن ان میں سے حبیب نثار کون ہیں یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔ میں صرف زاہد الحق صاحب اور محمد کاشف صاحب کو جان پایا تھا۔ کیونکہ وہ میرے سامنے بیٹھے تھے اور مجھ پر سوالوں کی توپ زاہد الحق صاحب نے ہی داغی تھی۔ کاشف صاحب نے میری سائنپسس کی غلطیاں نکالی تھیں۔ اس لیے ان کو جاننا میرے لیے لازمی بن گیا تھا۔

         خیر صبح ہم ڈیپارٹمنٹ گئے اور کلاس روم کے باہر کھڑے ہوکر اپنی غیر حاضری کے بہانے تلاش کرنے لگے۔ حبیب نثار صاحب کی طرف سے سوالات کیا پوچھے جائیں گے یہ ہمیں معلوم تھا مگر ان کے مناسب جوابات نہ مل رہے تھے۔ شیراز صاحب نے بیماری کا بہانہ پہلے ہی بنا لیا تھا، خالد صاحب نے کسی پرچے کا بہانہ ڈھونڈ لیا اور وہ دونوں اسی پر مطمئن ہوگئے۔ اب میرے ذہن میں کوئی مناسب بہانہ آ ہی نہ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد شیراز نے کہا کہ خالد کے ساتھ تم بھی پرچے کا بہانہ پیش کردینا۔ اور کہہ دینا کہ ہم دونوں کا ایک ساتھ پرچہ تھا۔ کچھ دیر بعد میں بھی اسی بہانے پر مطمئن ہوگیا۔پھر جاکر تھوڑا سکون حاصل ہوا۔

         ساڑھے گیارہ بجے اچانک کسی نے کہا ‘سر آرہے ہیں’۔ یہ سن کر سارے اسکالز کلاس روم میں دبک گئے۔ اسی دوران میرے ذہن میں آیا کہ مجھے پروفیسر نثار صاحب سے باہر ہی ملنا چاہیے۔ کیونکہ میں پہلے ہی دن پوری جماعت کے درمیان ڈانٹ نہیں کھانا چاہتا تھا۔ میرا ارادہ پختہ ہوگیا۔ اب میں پروفیسر صاحب کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن یہ انتظار ڈر سے خالی نہ تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے ٹھک ٹھک کی آوازیں آنے لگیں۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا کوئی مسلسل ڈنڈا فرش پر مار رہا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ آوازیں قریب تر ہو رہی تھیں۔ جب آوازیں کافی نزدیک محسوس ہوئیں تو میں پیچھے پلٹا۔ ایک درمیانی قد اور بھاری بھرکم جسم والا شخص دیوار کے پچھے سے سوٹھی ٹیکتا ہوا نمودار ہوا۔ میں نے غور کیا۔ وہ شخص ایک ٹانگ سے معذور تھا۔ ان کے ایک کاندھے پر کالا بیگ لٹک رہا تھا جسے وہ ایک ہاتھ سے بار بار سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پھر میں نے ان کے چہرے کا جائزہ لیا۔ گول سا چہرہ، اس کے اوپر چھوٹی سی سفید داڑھی۔ سر کے اگلے حصے سے آدھے بال جھڑ چکے تھے۔ مگر چہرے پر کسی قسم کی کوئی حرکت نہ تھی۔ میں نے چاہا کہ ان کا بیگ اٹھا کر ان کی منزل تک پہنچاوں پھر مجھے یاد آیا کہ ابھی پروفیسر حبیب نثار پیچھے ہیں۔ میں نے پہلو بدلا اور چار قدم آگے بڑھ گیا۔ لیکن توجہ اسی شخص کی طرف رہی۔ میں نے پھر پلٹ کر دیکھا۔ وہ ہمارے کلاس روم میں داخل ہو گئے۔ میں نے یہ سوچ کر معاملا در گزر کردیا کہ وہ کسی اسکالر کے والد محترم ہوں گے۔ اور پھر اپنی توجہ ہٹالی۔ پانچ منٹ اور گزرے مگر حبیب نثار صاحب نہ آئے۔ میں نے ہمت کی اور سر کے آنے کا سارا راستہ دیکھ لیا لیکن کہیں کوئی نظر نہ آیا۔ گھڑی دیکھی کلاس ختم ہونے کا وقت قریب تھا۔ اس کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ آج کلاس نہیں ہوگی۔ دل میں پھر سکون نے ڈیرہ ڈالا۔ شیراز اور خالد کو یہ خوش خبری سنانے کے لیے میں کلاس روم کی طرف چل پڑا۔میں دروازے سے جیسے ہی اندر داخل ہوا میری نظریں اسٹیج پر بیٹھے اسی معذور شخص پر پڑیں جو مجھے پہلے ہی گھور رہے تھے۔ سارے اسکالرز خاموش تھے اور مجھے کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا۔

         ‘‘ہاں بابا! کون ہو جی ’’

اس شخص نے مجھے گھورتے ہوئے پوچھا۔ میں نے جلدی سے شیراز کو پوچھا ‘ یہ کون ہے؟’۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا ‘‘پروفیسر حبیب نثار’’ بس یہ جملہ سنتے ہی میرے حواس اڑ گئے۔

         ‘‘بابا کون ہو جی ’’انھوں نے اپنا سوال پھر سے دوہرایا۔ لیکن اس بار آواز میں تیکھا پن تھا۔ اس لیے میں نے جلدی سے اپنا پورا نام بتایا۔

         ‘‘یہ کیا جی! میں کیا بول رہا ہوں اور تم کیا بتا رہے ہو’’وہ غصے میں آگئے۔ اتنے میں کسی نے کہا کہ یہ بھی اسکالر ہیں۔ بس پھر ان کے جذبات کے دونوں کنارے ٹوٹ گئے۔اورمجھ پر برس پڑے۔

         ‘‘کہاں تھے اتنے دونوں سے؟ ’’

         ‘‘سر میرا پیپر تھا’’ میں نے جواب دیا۔

         ‘‘تمہارے دوست لوگ یہ بہانہ پیش کر چکے اور ناکام بھی ہوچکے ہیں۔ ’’میں نے خالد کی طرف دیکھا وہ سر جھکا ئے ہنس رہا تھا۔

         ‘‘ادھر کیوں آئے تم۔ ’’

         ‘‘ایم۔ فل کرنے’’ میں نے کہا۔

         ‘‘کیا جی ایم۔ فل سے کیا ہوتا؟’’

         ‘‘سر میرا شوق تھا’’

         ‘‘کیسا شوق جی؟’’

معاملہ سنجیدہ ہوتا جا رہا تھا اور ہر جگہ میں ہی پھنستا جا رہا تھا۔ پھر میں نے سر جھکا کر مکمل خاموشی اختیار کرلی اور سر دس منٹ تک مجھ پر برستے رہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے انھوں نے وہ چیز دیکھ لی ہے جو کبھی دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ یہ ان کے ساتھ میری پہلی ملاقات تھی۔ اور پھر تین چار مہینے لگاتار میں ان کی کلاس میں حاضر رہا۔

         حبیب نثار صاحب سخت مزاج کے تھے۔ ان کو میں نے نہ کبھی ہنستے ہوئے دیکھا اور نہ ہی مسکراتے ہوئے۔ ان کے چہرے پر ہر وقت غصہ چھایا رہتا تھا۔ کلاس میں موضوع سے ہٹ کر فالتو بات کرنے کے ہرگز عادی نہ تھے۔ لیکن ان کے پڑھانے کا انداز بڑا کمال کا تھا۔ وہ مختلف دلائل اور مثالوں کے ذریعے اپنی بات کو پیش کیا کرتے تھے۔ موضوع کے تمام پہلوؤں پر مدلل بحث کرتے تھے جس سے مشکل موضوع بھی پانی پانی ہوجاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی کلاس میں کبھی بوریت محسوس نہ ہوتی تھی۔ ورنہ جیسا مزاج وہ رکھتے تھے ایسے لوگوں کے پاس دو منٹ بھی آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ وہ ہر دن نیا موضوع، نئی مثالیں اور نئے واقعات سناتے تھے۔ خاص طور پر تحقیق و تدوین کی تاریخ، اصول، مسائل اور ان سے جڑے ہر طرح کے واقعات جڑ سے نکال لاتے تھے۔ ان کے لکچرز سن کر ہمارے اندر بھی مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ ہم اکثر ان کی بتائی ہوئی کتابیں لائبریری سے نکال کر رات بھر پڑھتے۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا۔ لیکن زیادہ توجہ اور دلچسپی دکنیات سے تھی۔ ان کے پاس اردو ادب کے متعلق کئی ایسے پہلوؤں تھے جن پر کام ہونا باقی تھا۔ انھوں نے بڑی دفعہ کلاس میں ایسے موضوعات کا ذکر کیا۔ کئی دفعہ ہمیں کہتے تھے کہ اگر آپ میں سے کوئی اسکالر فلاں موضوع پر مقالہ لکھنا چاہتا ہے تو اس کو سارا مواد اور پوری نگرانی میں کروں گا۔ ان موضوعات پر کام کرنا بڑا دلچسپ تھا لیکن ان کے مزاج کے آگے ہماری ہمت ماند پڑجاتی۔ان کی سخت مزاجی کا عالم یہ تھا کہ جب تک وہ کلاس میں رہتے تب تک کوئی اسکالرز ہلنے کی غلطی نہ کرتا تھا۔ایک دن سر رجسٹر دیکھ رہے تھے اور میں نے موقع پاکر خالد سے سرگوشی کی۔لیکن فوراً میں پکڑا گیا اور سب سے آگے بیٹھنے کا حکم ہوا۔ میں نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ یہ زندگی میں پہلا موقع تھا جب میں کلاس کے اول ڈسک پر بیٹھا۔لیکن یہ پہلا تجربہ بڑا بے کار ثابت ہوا کیونکہ پورے چلیس منٹ کے لکچر میں کوئی ایک بات بھی مجھے سمجھ نہیں آئی۔لیکن میں بدستور جناب کے چہرے پر دیکھتا رہا اور بیچ بیچ میں بنا سمجھے اپنا سر بھی ہلاتا رہا ،تاکہ ان کو لگے کہ مجھے سمجھ آرہی ہے۔ ایک دن انھوں نے ہم سے شکایت کی کہ آپ تمام اسکالرز بالکل الگ ہیں۔کیوں الگ ہیں اس پر کسی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ پھر خود ہی سبب بتایا کہ آپ لوگ شرارت نہیں کرتے۔کلاس میں تھوڑی بہت شرارت کرنی چاہیے۔یہ بات سن کر میں من ہی من سوچ رہا تھا کہ انھیں شکار نہیں مل رہا ہے اس لیے اکسا رہے ہیں۔لیکن کسی بھی اسکالرز نے ان کی شکایت پر توجہ نہیں دی۔ ان کی باتوں سے محسوس ہوتا تھا کہ موجودہ دکنی اردو دنیا سے شمالی اردو دنیا کا رویہ ان کو پسند نہ تھا۔ حیدرآباد میں جہاں جہاں کوئی ادبی پروگرام ہوتا تھا وہ خود بھی شریک ہوتے اور ہمیں بھی ساتھ لے جاتے ۔ وہ وقتاً فوقتاً شعبے میں سمینارز اور گیسٹ لکچرر کا اہتمام بھی کیا کرتے تھے۔ شعبے کے صدر کی حیثیت سے ان کا کردار فعال تھا۔

         وہ ہمیشہ سادہ لباس میں رہتے۔ سوٹ جسے پروفیسر کی جماعت اپنی وردی سمجھتی ہے ، اس سوٹ میں حبیب نثار صاحب کو میں نے کبھی کسی تصویر میں بھی نہیں دیکھا۔ سادہ لباس کے علاوہ سہارے کے لیے ہاتھ میں ڈنڈا اور گلے میں ایک چشمہ لٹکتا رہتا تھا۔ ان کے چہرے اور لباس کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا گویا انھیں اب کسی بھی چیز کا کوئی شوق نہیں ہے اور دنیا سے شدید تنگ آچکے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غصہ اورچڑھ چڑھاہٹ ان کی فطرت کا حصہ بن چکے تھے۔

         کورس ورک مکمل ہوا اور گائیڈ کے انتخاب کا سلسلہ شروع ہوا۔میرے علاوہ لگ بھگ تمام اسکالرز پروفیسر حبیب نثار کی سر پرستی میں جانا چاہتے تھے۔ میں نے کورس ورک کے دوران ہی ڈاکٹر عرشیہ جبیں کا انتخاب کرلیا تھا اور میں اپنے فیصلے پر اٹل رہا۔ لیکن باقی پانچ چھ اسکالرز باری باری حبیب نثار صاحب کے پاس گئے اور انھوں نے ان سب کو منع کردیا۔ بعد میں معلوم ہوا وہ صرف ان اسکالرز کو اپنی نگرانی میں لیتے ہیں جو یا تو مقامی ہوں یا پھر وہیں سے ایم اے کیے ہوئے ہوں۔

         کورس ورک کے بعد ہی ہم صحیح طرح سے ان کے غصے اور چڑھ چڑھاہٹ سے واقف ہوئے۔ غصہ ہر وقت ان کی ناک پر رہتا تھا۔ راستے میں اچانک اگر ان پر نظر پڑتی تو ہم اپنا یا تو راستہ بدل لیتے یا پھر کہیں چھپ جاتے۔ لڑکے ڈر کے مارے ان کو سلام تک نہ کرتے۔ کیونکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کا غصہ پھوٹ پڑتا۔ شاگرد تو شاگرد وہ باقی اساتذہ سے بھی بھڑ جاتے۔

         وہ اکثر دوسروں کو وقت کی پابندی کا احساس دلاتے رہتے تھے لیکن خود وقت کے بالکل پابند نہ تھے۔ وہ گھر سے ہمیشہ بارہ بجے شعبے میں آتے اور پانچ بجے واپس ہو جاتے۔ دو سے پہلے اور ٹھیک پانچ بجے کے بعد وہ کسی بھی اسکالر کا کام نہ کرتے تھے۔ چاہے کتنی بھی کوئی مجبوری کیوں نہ ہو وہ سنتے ہی نہ تھے۔ اس حوالے سے ایک واقع یاد آیا۔ میں نے پی ایچ۔ ڈی۔ کا اینٹرینس پاس کیا اور میرے لیے ایم۔ فل۔ سبمٹ کرنے کا کوئی ایک ہفتہ بچا۔ پانچ دن میں نے پروف ریڈنگ اور ساتھ ہی بائنڈنگ کروالی۔اپنی نگراں ڈاکٹر عرشیہ جبیں کے دستخط بھی لے لیے۔ اب صرف صدر شعبہ کے دستخط چاہئیں تھے جن کے لیے دو دن کافی تھے۔ انھیں دنوں شعبہ میں ایسوسیٹ پروفیسر کے انٹرویو بھی چل رہے تھے۔ چھٹے دن ہم صدر شعبہ کے انتظار میں صبح دس بجے ڈیپارٹمنٹ بیٹھے۔ بارہ بجے تک حبیب نثار صاحب کی آمد نہ ہوئی۔ ساڑھے بارہ بجے جب وہ آٹو سے اترے تو میں ان کو اپنے ساتھ لے کر دفتر تک پہنچا۔ وہاں پہنچ کر وہ اپنے ذاتی دفتر میں بیٹھ گئے اور میں صدر شعبہ کے دفتر کے آگے بیٹھا رہا۔ میں نے یوسف صاحب جو اس وقت شعبہ کے کلرک تھے، ان کو اپنی مجبوری بتائی۔ انھوں نے مجھے ذاتی دفتر میں جانے کا مشورہ دیا۔ میں ڈرتا ڈرتا دفتر میں پہنچا جہاں زاہد الحق بھی موجود تھے۔ حبیب نثار صاحب نے مجھے دیکھا اور غصے میں کہا۔‘‘ کیا ہے بابا۔ یہاں کیا کام جی؟’’ میں نے مقالے پر دستخط کی گذارش کی مگر وہ خاصے چڑھ گیے اور میں واپس شعبہ صدر کے دفتر کے آگے دوبارہ بیٹھ گیا۔ کوئی دو بجے وہ نکلے اور فوراً ایسوسیٹ پروفیسر کے انٹرویو میں چلے گئے۔ میں پھر بھی انتظار میں بیٹھا رہا۔ شام سات بجے ان کا انٹرویو ختم ہوا اور واپس شعبہ میں آئے۔لیکن وہ پھر اپنے ذاتی دفتر میں چلے گئے۔ ڈاکٹر عرشیہ میم اپنے دفتر میں موجود تھیں۔ انھوں نے مجھے وہیں جانے کو کہا۔ اور میں پھر چلا گیا۔ وہاں اس وقت بھی زاہد الحق موجود تھے۔ اس بار میں سیدھے اندر چلا گیا۔ ان کی جیسے ہی مجھ پر نظر پڑی وہ دونوں غصے سے چلانے لگ گئے۔ بس ایک ہی جملہ بار بار کہہ رہے تھے ‘‘پانچ بجے کے بعد کون سے دستخط ’’۔میں نے پھر سر جھکایا اور دفتر سے باہر نکل آیا۔ اس وقت میرے اندر غصے کا ایک انقلاب پیدا ہوا۔ میں خاموشی سے ہال میں پہنچا جہاں عرشیہ میم میرا انتظار کر رہی تھیں۔ انھوں نے کام کے بارے میں پوچھا اور میں نے بات ٹال دی۔ دوسرے دن بھی وہ بارہ بجے آئے اور میں پھر ان کو نیچے سے اوپر لے کر آیا۔ راستے میں میں نے ان سے بیگ مانگا لیکن انھوں نے چہرہ بنا کر ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچتے ہی وہ اپنے ذاتی دفتر میں چلے گئے اور میں پھر انتظار میں بیٹھ گیا۔ ساڑھے چار بجے تک میرا کام نہ ہوا۔ اس بیچ وہ دو دفعہ میرے پاس سے گزرے اور دونوں دفعہ میں ان کے احترام میں کھڑا ہوا۔ لیکن انھوں نے میری طرف کوئی توجہ نہ دی۔ ان دو دنوں کے رویے سے مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ مجھ سے کوئی بدلا لے رہیں۔ ساڑھے چار بجے میں آخری کوشش کے ارادے سے ان کے چیمبر میں پھر داخل ہوا۔ دروازے پر مجھے دیکھ کر فوراً اندر بلایا اور دستخط کردئیے۔ بالکل یہی سلوک انھوں نے میرے ہم جماعت دانش اثری کے ساتھ کیا لیکن وہ میری طرح صابر نہ تھے۔ انھوں نے اپنا مقالہ پھینک دیا اور ایم فل کا گلا گھونٹ دیا تھا۔

         غلطیاں نکالنا ان کی عادت تھی۔ حالانکہ یہ بری بات نہیں لیکن کبھی کبھی غیر مناسب غلطیاں بھی نکال دیتے تھے۔ ایم۔ فل اور پی ایچ۔ ڈی کے جتنے وایوے ہوئے میں سب میں حاضر رہا۔ پروفیسر حبیب نثار ہر وایوے میں اپنا جلوہ دکھایا کرتے تھے۔ عام طور پر تو وہ جائز غلطیوں کی طرف اسکالرز کو متوجہ کرتے تھے۔ لیکن ان کے سوال پوچھنے کا رویہ اسکالرز کو مناسب جواب دینے کی ہمت عطا نہیں کرتا تھا۔ لیکن کچھ ایسے خوش قسمت اسکالرز بھی رہے جن کا بیڑا ان کے سوالوں کے بغیر پار ہوجاتا تھا۔ یہ خوش قسمت اسکالرز ان کے قریبی ہوا کرتے تھے۔ باقی اساتذہ کے اسکالروں کے ساتھ ان کا سوتیلا سلوک رہتا تھا۔

          ایک بار ہمارا فیلوشپ کا معاملہ چل رہا تھا۔ ایک درخواست پر صدر شعبہ کے دستخط کی ضرورت آن پڑی۔ ہم چار لوگ تھے جن میں الیاس لداخی وہیں سے ایم۔ اے۔ کیے ہوئے تھے۔ اس حساب سے وہ ان کے قریبی تھے اور ہم سوتیلے۔ ہم چاروں میں سے الیاس صاحب کی انگریزی بہتر تھی اس لیے انھوں نے درخواست لکھی اور ہم سب نے وہ کاپی کرلی۔ اس کے بعد حبیب نثار صاحب کے پاس باری باری پہنچے۔ سب سے پہلے الیاس صاحب گیے وہ پہلے ہی مرحلے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد شیراز، پھر خالد اور پھر میں۔ لیکن ہم سے کوئی بھی کامیاب نہ ہو پایا۔ انھوں نے ہم تینوں کی الگ الگ غلطیاں نکالیں۔ میری گرامر کی غلطی تھی اور انھوں نے طریقہ بتا دیا تھا۔ اور دوبارہ لکھ کر لانے کو کہا۔ میں نے وہیں بیٹھ کر دوبارہ لکھا اور فوراً ان کی میز پر درخواست رکھی۔ انھوں نے پھر پوری درخواست پڑھی اور اس بار مزید غلطیاں نکالیں۔ اور پھر لکھ کر لانے کو کہا۔ میرے بعد خالد اور شیراز کی بھی مزید غلطیاں نکالی گئیں۔ میں نے اپنے ایک سنئیر اسکالر کو فون کرکے معاملہ سنایا۔ انھوں نے کہا آج دستخط نہیں ہوں گے۔ اب کل ہی کام ہوگا۔ ہم دوسرے دن دوبارہ آئے اور میں وہی پہلی درخواست لکھ کر لیا جس کو انھوں نے پہلی دفعہ رد کیا تھا۔ اس بار میری درخواست کو غور سے پڑھنے کے بعد فوراً دستخط کردئیے۔

         حبیب نثار صاحب کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ شاگردوں کی دعوت کھانے کے بالکل شوقین نہ تھے۔ خود تو وہ سارے شاگردوں کو چائے پلاتے، کبھی کبھار چلتی کلاس میں سارے بچوں کے لیے چائے منگوا لیتے تھے۔ لیکن اگر کوئی شاگرد انھیں دعوت کے لیے کہتے تو اس پر وہ فوراً انکار کردیتے۔ وہاں ڈیپارٹمنٹ میں ایک رواج عام تھا کہ جب بھی کسی اسکالر کی سب میشن ہوتی تو اسے تمام اساتذہ، ممتحن اور دوستوں کی دعوت کسی ہوٹل میں رکھنی ہوتی تھی۔ اس دعوت کو سبھی لوگ خوشی خوشی قبول کرلیا کرتے لیکن حبیب نثار فوراً غصے میں آکر دعوت کے لیے انکار کردیتے۔ اسے بری رسم سمجھ کر انھوں نے کئی دفعہ اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ہاں بنا چینی کے ایک کپ چائے ضرور پی لیتے۔ بنا چینی اس لیے کیوں کہ وہ شوگر کے مرض میں مبتلا تھے۔ وہ گھر کا کھانا ہی پسند کرتے تھے اور وہی ڈیپارٹمنٹ میں کھایا کرتے تھے۔

         قوالی اور موسیقی کو کافی پسند کرتے تھے۔ وہ اکثر اپنے ذاتی دفتر میں کلاسیکل قوالیاں لگا کر سنا کرتے اور اس دوران مطالعہ بھی جاری رہتا۔

         کتابیں ان کا جنون تھیں اور مطالعہ ان کا شوق۔ ان کا ذاتی دفتر کتابوں سے بھر پڑا تھا۔ ان کی کرسی اور ٹیبل کے چاروں طرف کتابوں اور رسالوں کا ڈھیر لگا رہتا۔ ان میں زیادہ تر پرانی کتابیں تھیں۔ لیکن باقی پروفیسروں کی طرح وہ کتابوں سے کمرے کو سجاتے نہ تھے بلکہ پڑھتے تھے۔ اس کی گواہی دفتر میں بے ترتیبی سے رکھی ہوئی کتابیں خود دیتی تھیں۔ جو کتابیں کہیں سے نہ ملتی وہ ان کے پاس سے مل جاتی۔ میرے کچھ دوست کتابوں کے لیے ان کے پاس گئے۔ انھوں نے باقاعدہ ان کا نام اور پوری تفصیل اپنے پاس درج کی پھر کتابیں دیں۔اور واپسی کی تاریخ کا اعلان بھی کرتے تھے۔لیکن وہ ہر کسی کو کتابیں نہ دیتے ۔

         حبیب نثار صاحب ایک اچھے استاد تھے لیکن ان کے اندر سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ وہ رحم اور ہمدردی کے جذبے سے بالکل خالی تھے۔ یہ جذبہ ان کے اندر شروع سے ہی نہ تھا یا پھر بعد میں مرجھا گیا، اس کا میرے پاس مستند جواب نہیں ہے۔ لیکن میں پورے ایک سال ان کے پاس رہا اور مجھے ان کی شخصیت میں اس جذبے کے ذرا بھی نقوش نہ ملے۔ وہ ہر معاملے میں خود کی حکومت قائم رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس لیے شاگردوں کی ان کے ساتھ کسی قسم کی امیدیں وابستہ نہ تھیں۔ میرا جب پی ایچ۔ ڈی۔ انٹرنس میں نام آیا اور میرے لیے جلد از جلد پری سب مشن کا وایوا دینا لازمی بن گیا تو میں درخواست لے کر ان کے پاس دستخط کے لیے گیا۔ انھوں نے درخواست پڑھنے کے بعد بڑی بے رخی سے واپس کردی اور ہفتہ بعد آنے کو کہا۔ میں نے اپنی مجبوری بتائی اور وہ چڑھ گئے۔ بچوں کی مجبوری پر چڑھنا ان کی عادت تھی۔ لیکن اس دن میں اپنی ضد پر قائم رہا۔ میں بڑی عاجزی سے ان کے ساتھ بحث کرتا رہا اور وہ غصے سے ‘‘نہ بابا’’ کا جملہ دوہراتے رہے۔ جب ان کو احساس ہوا کہ یہ جانے والا نہیں تو انھوں نے کہا درخواست میں مجبوری لکھو اور پھر نگراں سے دستخط لے کر آؤ ۔

         ان کے رویے سے مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میرا وہاں پی ایچ۔ ڈی میں داخلہ ہرگز نہیں ہوگا۔لیکن اس وقت میرا پیچھے ہٹنا مناسب نہیں تھا۔ کچھ دن بعد پی ایچ ۔ ڈی کے لیے وایوا کی تاریخ آئی اور میں نے سائنیپسس کے مطابق تیاری شروع کر دی۔میں حبیب نثار کے کافی انٹرویو دیکھ چکا تھا ، اور پھر جب یہ خیال آتا کہ میرا انٹرویو بھی وہی لیں گے تو میری جدو جہد دگنی ہوجاتی۔ حالاں کہ منتخب ہونے والے اسکالروں کے بارے میں سب کو پہلے ہی پتا چل چکا تھا لیکن اس کے باوجود میری محنت کا سلسلہ جاری رہا۔ انٹرویو والے دن بسملاﷲ مجھ سے ہوئی۔ کیوں کہ فہرست میں سب سے پہلا نام میرا تھا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو میری نظریں سب سے پہلے حبیب نثار پر گئیں۔ اس دن پہلی بار ان کے چہرے پر مجھے غصہ نہیں دکھا۔ میں بالکل ان کے سامنے بیٹھا۔ میرے اندر خوف بھر ا پڑا تھا۔ میں نے اپنا تعارف پیش کیا ۔ اتنے میں ایک شخص نے مجھے ٹوکا ۔ اس پر حبیب نثار جلدی سے بول پڑے ۔‘‘ یہ اپنا ہی بچہ ہے ’’ ۔ اس ایک جملے نے میرے مردہ حوصلے کو زندہ کردیا۔ انھوں نے سائنیپسس کے مطابق مجھ سے دو تین سوالات پوچھے جن کا میں نے آسانی سے جواب دیا۔لیکن یہ ماحول ڈاکٹر زاہد الحق کو پسند نہ آیا اور وہ طوفان کی مانند برس پڑے۔ انھوں نے نہ سائنیپسس دیکھی اور نہ میری سطح ، بس ٹوٹ پڑے۔ کافی دیر کے بعد جب پسینے نے میرے چہرے پر دستک د ی تو اس کے بعد مجھے الوداع کہہ دیا۔

         انٹرویو کے دوران حبیب نثار کا رویہ کافی متاثر کن تھا۔ پہلی بار میں نے ہمدردی کے ساتھ ان کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ کئی مقامی دوستوں سے ان کی فطرت کے پس منظر کو جاننے کی کوشش کی۔ اسی دوران ایک دوست نے فرمایا ۔ ‘‘ حبیب نثار صدا ایسے نہ تھے۔ کبھی سب سے زیادہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر ہی رہا کرتی تھی لیکن پھر وقت نے ان کی راہ میں کانٹے بچھا دیے۔ ایک تو اولاد نہ ہونے کا غم اور پھر معذوری کا دکھ۔ اور بھی نہ جانے کتنے دکھوں نے ان کا راستہ گھیر لیا جس کے اثرات ان کی فطرت پر پڑے اور ان کے چہرے کی مسکراہٹ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کہیں غائب ہوگئی۔ ’’ یہ سب سن کر حبیب نثار کے لیے میرے اندر شدیدہمدردی کا جذبہ پیدا ہوا پر اس کا اظہار کرنا میرے لیے ناممکن تھا۔ کیوں کہ میں حیدرآباد چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس حیدر آباد نے مجھے بہت کچھ سکھایا اور بہت کچھ دیا تھا۔ ابھی میری بہت ساری امیدیں حیدر آباد سے وابستہ تھیں لیکن حبیب نثار نے حیدر آباد سے میرا دانا پانی ختم کردیا۔ ان کے تئیں ہمدردی اپنی جگہ برقرار رہی لیکن اس وقت میرا دکھ ان سے بڑھ کر تھا۔

         حیدر آباد چھوڑنے سے ایک دن پہلے آخری بار اپنے اساتذہ سے ملنے میں ڈیپارٹمنٹ گیا۔سب سے ملنے کے بعد میں واپس ہونے والا تھا کہ مجھے حبیب نثار کے دفتر سے قوالیوں کی آواز آئی۔ میرے قدم رک گئے۔ کافی کشمکش کے بعد میں نے آخری ملاقات کو ترجیح دی اور آہستہ آہستہ ان کے دفتر کی اور چل پڑا۔ وہ اس وقت بھی کسی کتاب کو بڑی غور سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے دروازے سے سلام کیا جس کا ان پر کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ میں نے اندر داخل ہوکر پوچھا ‘‘ سرآپ ٹھیک ہیں !’’ انھوں نے جلدی سے سر اوپر اٹھایا اور چشمے کے اوپر سے گھورتے ہوئے جواب دیا ۔ ‘‘ نہ بابا میں ٹھیک نہیں ہوں ’’ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر بولے ۔‘‘ کیا بابا! تم کوئی ڈاکٹر ہو؟’’ اس کے بعد انھوں نے سر جھکا لیا اور میں دروازے باہر نکل آیا۔

***

Leave a Reply