You are currently viewing دورجدید کی نئی آواز شاعردلشاد علی بیتابؔ

دورجدید کی نئی آواز شاعردلشاد علی بیتابؔ

 

 

ڈاکٹر ثریا بیگم محمود خان

دورجدید کی نئی آواز شاعردلشاد علی بیتابؔ

 

          ہر علاقے کا ادب اپنے ماحول کا عکاس ہوتا ہے۔ جیسے حالات ہوتے ہیں ویسا ہی ادب تخلیق کیا جاتا ہے۔کیونکہ لکھنؤ کا ماحول پر امن وپر سکون بھری زندگی والا ماحول ہے۔ یہاں کے لوگ عیش و عشرت اور رنگ رلیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ماحول میں اردو شاعری کو ترقی ملی جس کی وجہ سے لکھنؤکی پوری معاشرت کا اثر اردو شاعری پر ہوا۔ لکھنؤ کے عیش پرست ماحول نے اردو شاعری میں خارجیت کو جنم دیا۔ لکھنؤمیں شاعری کی ظاہری خوبصورتی پر زیادہ زور دیا گیا۔ یعنی لکھنؤ والوں نے اردو شاعری کو ظاہری طور پر خوبصورت بنایا۔ اردوشاعری میں جو جذبات ہوتے تھے اس پر ان کی کوئی توجہ نہ رہی۔ بلکہ سراپا نگاری اور معاملہ بندی سے اردوشاعری کو رنگین بنایا گیا۔

           سچ تو یہ ہے کہ اصلاح زبان کے عمل نے زبان کو فصیح بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن جب شعوری طور پر کسی بھی معاملے میں شدت اختیار کی جاتی ہے تونہ صرف فطری حسن متاثر ہو جاتا ہے بلکہ اثر آفرینی اور بے ساختگی بھی باقی نہیں رہتی۔ یہی معاملہ اصلاح زبان کی تحریک کے سلسلے میں بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ لکھنؤکے جن شعرا نے اس ضمن میں اعتدال و توازن سے کام لیا، ان کا کلام با معنی معیاری اور پُر تاثیر بن گیا ۔آج ہم ایک ایسے شاعر کا تذکرہ یہاں کر رہے ہیں جو نئے دور کی آواز ہے۔

          دلشاد علی کی پیدائش۱۷؍نومبر ۱۹۸۶ءاترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری کے ایک قصبہ سندرول میں ہوئی ۔ان کے والد مہدی حسن  اسکول میں ایک کلرک کے عہد پر فائز تھے۔لیکن کچھ مجبوریوں کی وجہ سے انھوں نے اس نوکری کو چھوڑ دیا اور کاشت کاری کرنے لگے ۔ان کی والدہ مومینہ بھی ایک گھریلو خاتون ہیں۔ یہ کل آٹھ بھائی بہنیں ہیں جن میں پانچ بہنیں اورتین بھائی ہیں بھائی بہنوں میں دلشاد علی گھر میں سب سے بڑے بیٹے ہیں۔

          عام طور پر آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز دینی ادب سے کیا۔اور عربی کی پڑھائی انھوں نے مولوی مبین کے پاس کی۔ شاعر دلشاد علی نے اپنی تعلیم کا آغاز ۱۹۹۲ء میں ایک اسکول پُرومدھمک ودھیالیہ سندرول سے کیا اور کے۔اے۔یو۔کے انٹر کالج سے دسویں کا امتحان ۲۰۰۳ءمیں مکمل کیا۔اور اسی کالج سے انٹر میڈیٹ بھی کامیاب کیا۔بی۔اے اور ایل ۔ایل۔ بی میں بھی اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔اور اسی درمیان میں انھیں نے شاعری کا شوق ہوا۔سب سے پہلے آپ نے نعت لکھی اور اس نعت کوآپ نے منظر سیتاپوری کو دکھائی۔

           اس کے ساتھ ہی دوستوں کے ساتھ شعر و شاعری کا بھی شوق ہوا اورہر شام دوستوں کے ساتھ کیسی نہ کیسی چوپال ، کہیں نہ کہیں چوراہے پر جمع ہوتے اور گھنٹوں تک شعر و شاعری کرتے رہتے ۔ ان کے ساتھی تجمل خان اور ریاض احمد کو بھی شعر و شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ دوستی گہری ہونے کی وجہ سے سب مل کر دوسرے شہر بھی مشاعرے سننے کے لیے جاتے رہتے اور ساتھ ہی ادب کے بڑے بڑے شعراسے بھی ملاقاتیں ہونے لگیں اور اس طرح ان کا شوق بڑھنے لگا۔ انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز ۲۰۰۰ءکے بعد سے کیا ۔اور اپنی پہلی غزل لکھی جو کچھ یوں ہے۔

دل کی دنیا تباہ مت کرنا

کچھ بھی ہو یہ گناہ مت کرنا

یہ زمانہ بہت ستمگر ہے

ظلم سہہ کر بھی آہ مت کرنا

جس سے ایمان میں کمی آئے

ایسی دولت کی چاہ مت کرنا

دل کا دامن بڑا مقدس ہے

صاف رکھنا سیاہ مت کرنا

          اسی دوران لکھیم پور کھیری میں۲۰۰۹ءمیں آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہوا ۔اس مشاعرے کی صدارت ڈاکٹر راحت اندوری نے کی تھی۔اور اس مشاعرے میں راحت اندوری کے ساتھ شامل شعراء میں انور جلالپوری، رفیق شادانی دہلوی وغیرہ تھے ۔ اور اس مشاعرے میں دلشاد علی شاعر کوموقعہ دیا گیا ۔تب آپ نے آل انڈیا مشاعرے میں یہ اشعار پڑھے جس کو سامعین نے بہت زیادہ پسند کیا وہ اشعار یہ ہے۔

تو بنا محبت کے زندگی نہیں گزار سکتا

بگڑ جائے تو مقدر نہیں سنوار سکتا

تو دنیا میں چاہے جتنا دولت مند ہو جائے

کبھی اپنی ماں کا قرض نہیں اتار سکتا

نہ مجھے خوشی عزیز ہے

نہ یہ زندگی عزیز ہے

خدا کے بعد بس مجھے

تیری دوستی عزیز ہے

          جو اس وقت کے سب سے زیادہ مشہور’’ ہندوستان ٹائم‘‘ میگزین میں شائع ہوئی۔

          ان کے شاعری کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ دہلی والوں کی طرح ’’ آہ‘‘ کی شاعری نہیں کرتے بلکہ وہ لکھنؤوالوں کی طرح ’’ واہ‘‘ کی شاعری کرتے ہیں۔ کیونکہ لکھنؤ کا ماحول خوشگوار،پر امن اور خوش حال ہے اس لیے ان کی شاعری میں واہ کی کیفیت نظر آتی ہے۔انھوں نے ہر موضوع پر شاعری کی ہے۔ان کا یہ شعر دیکھے جو۲۰۰۳ء لکھا گیا ہے جو کچھ اس طرح سے ہے۔

خدا نے اب تک ایک دنیا بنائی ہے

دنیا لگی ہے کئی خدا بنانے میں

          پھر انھیں منظرسیتاپوری کا ساتھ ملا جنہوں نے مجھے نعتیہ کلام پڑھنے کا مشورہ دیا تو میں نے پہلی نعت ان کے زیر نگرانی میں لکھی منظرسیتاپوری صاحب رشتے میں ان کے ماموں جان بھی ہے۔اور پاس ہی کے ضلع سیتاپور میں رہتے ہیں اور وہ اس طرح سے وہ ان کی شاعری کے استاد بنے۔ ان کی یہ نعت

اے باد صبا تو مجھے لے کے چل

چل مجھے لے کے چل نبی کی گلی

راس آتی نہیں اب مجھے زندگی

چین آتا نہیں اب مجھے کوئی پل

پھر سے بنجر زمین لہلہانے لگی

پھول کی ہر کلی مسکرانے لگی

جس جانب سے گزرے ہمارے نبی

اے باد صبا تو مجھے لے کے چل

چاند لگتا ہے میرے نبی کا قدم

پھولوں میں ہے نبی کے پسینے قدم

ان کے دم سے مہکتی ہے ہر ایک کلی

اے باد صبا تو مجھے لے کے چل

جب وہ آئے سبھی شادماں ہو گئے

ہر مسلمان پر مہرباں ہو گئی

ساری دنیا سنبھالے ہوئے ہیں نبی

اے باد صبا تو مجھے لے کے چل

جس نے کلمہ پڑھا وہ مسلماں ہوا

پھر رسول خدا کا کرشمہ ہوا

چین دل کو ملا اور آرام بھی

اے باد صبا تو مجھے لے کے چل

           اور پھر دلشاد علی بیتاب کو منظر سیتاپوری کے ساتھ میں کئی سارے پروگراموں میں شرکت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ یوپی کے ہر علاقہ میںان کے ساتھ پروگراموں میں شرکت کرنے کا موقع ملا جس میں کئی سارے انعاموں سے انھیں نوازا گیا۔ان کے ہم عصر شاعروں میں سلیم بستی سب سے عزیز ہے۔ سلیم بستی صاحب سے دلشاد علی بیتاب آج بھی رابطے میںہیں۔اور ساتھ ہی ان کی ملاقات ایک عظیم شاعر ڈاکٹر جگناتھ سے ہوئی۔جو پیلی بھیت کے رہنے والے ہیں۔ان کے ساتھ بھی انھوں نے پونہ،ناسک،اورنگ آباد،کانپور،پیلی بھیت وغیرہ الگ الگ جگہوں کے مشاعروں میں شرکت کی۔

          چائے پینے کا اتنا شوق ہے کہ نئی نئی جگہوں پر گھوم گھوم کے چائے پیتے۔ چائے  پینے کے شوق نے ان سے  200 کلومیٹر دور تک کا سفر طے کروایا۔ اور پھر چائے پر بھی کئی اشعار لکھے ہیں۔جو لوگوں میںبے حد مشہورو مقبول ہوئے۔ چائے پر ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

اس لیے بھی ہم شریفوں میں گنے نہیں جاتے

آپ کافی کے شوقین ہو ہم چائے کے عادی ہیں

ہم نہیں جانتے سکون کیا ہے آرام کیا ہے

ہم تو بس چائے پیتے ہیں اور مست رہتے ہیں

دوستی توڑ دیں گے ہم اگر تم نے

ہمارے ہاتھ سے چائے چھین لی تو

زندگی جب بھی مجھ سے پریشاں ہوتی ہے

میں جا کے کسی نکڑ پہ چائے پیتا ہوں

مجھے وہ شخص بہت عزیز ہے

جو محبت سے چائے پلاتا ہے

میری دوستی کی بس یہی نشانی ہے

چائے پیتے ہیں اور سب کو پلاتے ہیں

سچ بتانا جو تم نے مجھے پلائی

چائے ہے یہ آب حیات ہے بیتابؔ

دوستوں کے ساتھ گڑک کے پیتے ہیں

چائے تو بیتابؔ سوڑک کے پیتے ہیں

          جدید دور کے شاعر ہے ان کے کلام میں ایک انوکھا انداز بیان دیکھنے کو ملتا ہے۔دلشاد علی بیتاب نے زندگی کے ہر پہلو کو غزل میں پیش کیا ہے۔زندگی کی چھوٹی سی چھوٹی باتوں کو بھی وہ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے زندگی کے مسائل کو اپنی گہری سوچ کے ساتھ اپنی غزلوں میں پیش کیا۔یہی وجہ ہے کہ ہم انہیں جدید دور کا شاعر تسلیم کرتے ہیں۔ان کی غزلوں میں ہمیں زندگی کی گہرائی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ان کی ایک غزل یہاں قلمبند کئی گئی ہیں۔

لوگ دیکھ کر ہمیں حیران ہوگئے

کیا وجہ تھی کہ پریشان ہوگئے

جب سے اٹھایا ہے اسلام کا پرچم

تر و تازہ سبھی کے ایمان ہوگئے

کرتے پھرتے ہیں جو لوگ ظلم و ستم

کس منہ سے کہوں کہ وہ انسان ہوگئے

ہم نے سیکھ لیا ہے اب محنت کرنا

مشکلوں بھرے راستے میرے آسان ہوگئے

نہ تعلق تھا اس سے نہ کوئی رشتہ

پھر بھی اس کے مجھ پر احسان ہوگئے

قبر بھی انہی کی حفاظت کرتی ہے

جو محترم حافظ قرآن ہوگئے

کیسا آیا ہے یہ نام بدلنے کا چلن

ہم بیتابؔ تھے اور پھر دلشادؔ ہوگئے

          ان کے کلام میں ایک خاص قسم کا رنگ و طرز نظر آتا ہے۔ ان کے کلام میں پاکیزگی، خیالات کی پختگی اور اظہار بیان کی متانت دیکھنے کو ملتی ہے۔

زندگی درد بن گئی جن کی

وہ بہت خوش نصیب ہیں اس زمانے میں

تیری نظروں میں وہ پاگل ضرور ہے مگر

ایک بھی عیب نہیں ہے اس دیوانے میں

جو ہمیشہ نیکیوں پر چلتا رہا

کسی نے کسر نہ چھوڑی اس کو ستانے میں

جو شخص سے محبت میں چوٹ کھایا ہو

اسے آرام نہیں آتا دواخانے میں

خدا نے اب تک ایک دنیا بنائی ہے

دنیا لگی ہے کئی خدا بنانے میں

          یہی وہ تہذیبی عناصر ہیں جو لکھنوی معاشرت کا لازمی حصہ بھی ہیں اور مخصوص ماحول کا نتیجہ بھی۔ ان کی مثالیں کبھی لکھنوی فنکاروں کے یہاں اپنے طور پر نظر آتی ہیں۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر لکھنوی فنکار نے ان قدروں اور عناصر کو بقدر ظرف اپنے فن میں ڈھالا ہے۔ یہی عناصر لکھنوی شاعری کی جان ہیں اور انھیں سے اسے پہچانا بھی جاتا ہے۔ان کی یہ غزل دیکھئے جو ۲۰۲۳ ء میں ایک میگزین’’ترجیحات‘‘ اور ہفتہ واری ہندی اخبار میں شائع ہوئی۔جو آپ کی نظر ہے۔

دل دکھانے سے کوئی فائدہ ہے کیا؟

عشق والوں کا یہ فلسفہ ہے کیا؟

اتنی بھیٹر یہاں کیوں جمع ہے

ہوا یہاں پر کوئی حادثہ ہے کیا؟

ہم سے کیوں تم بے جھجھک نہیں ملتے

ہمارے درمیان کوئی فاصلہ ہے کیا؟

قبر میں دفن ہوئے اور جنت پہنچے

ادھر سے بھی کوئی راستہ ہے کیا؟

زندگی سے نفرت ہے تو محبت کیوں نہیں کرتے

اس بارے میں اتنا کوئی سوچتا ہے کیا؟

سر جھکاؤں اسے اور سجدے کروں

وہ اس دنیا کا نیا خدا ہے کیا؟

یہ مجھے راستے میں پڑا مل گیا ہے

یہ ٹوٹا ہوا دل آپ کا ہے کیا؟

یہاں تو موجود ہے ہر قسم کے ستارے

تمہارا گھر کوئی کہکشاں ہے کیا؟

نصیحت  خود  کو  کیوں   نہیں  کرتے   بیتاب ؔ

خود سے بہتر کوئی سوچتا ہے کیا؟

          انھیں اپنی غزلوں میں نہ صرف خوب داد حاصل ہوئی بلکہ دوسرے شعرا  نے بھی اس رنگ کو قبول کر کے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے ہر موضوع پر شاعری کی ہے۔یہ شعرایک ایسے موقع پر لکھا گیا ہے جب وہ اپنے عزیز کو سلام بھجتے ہیں لیکن ان کو ان کے سلام کا جواب نہیں ملتا  تب ان کے لبوں پر یہ الفاط ابھر کر آئے۔جو غور طلب ہے۔

اُجڑے گلشن میں گلاب تک نہیں آتے

میری محفل میں رُباب تک نہیں آتے

وہ اور ہیں جنکے سلام کی قدر ہے

میرے تو سلام کے جواب تک نہیں آتے

جب بھی آئے کسی کی یاد چائے پی لینا

جب ستائے کسی کی یاد چائے پی لینا

خوش ہو کہ محبت میں چائے پی لینا

جب تم ہونا اداس تو چائے پی لینا

          حال ہی میں لکھی گئی ان کی ایک غزل جو انھوں نے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال جاوید شیخ ابراہیم کو حکومت مہاراشٹر محکمہ اقلیتی ترقیات مہاراشٹراسٹیٹ ساہیتہ اکیڈمی ممبئی کی جانب سے ۷ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو مثالی ٹیچر کے اعزاز سے نوازا گیا ہے ۔اس موقع پر انھوں نے یہ غزل ان کی نظر کی۔

بچوں پہ کتنے مہربان ہے جاوید سر

شیواجی کالج کی شان ہے جاوید سر

طالب علم سوکھے درختوں کے لیے

سائیِ آسمان ہے جاوید سر

وہ صدی گزر گئی علامہ اقبال کی

اس صدی کے اقبال ہے جاوید سر

یہ تو ہمیشہ مسکراتے رہتے ہیں

تم کہتے ہو پریشان ہے جاوید سر

اب میں اس سے بڑھ کر کیا مثال دوں

شہر ہنگولی کی جان ہے جاوید سر

گزرے دور میں ولی آئے تو کیا بیتابؔ

اس دور کے بہترین انسان کے جاوید سر

          دلشاد علی بیتاب اردو ادب کے ایک ممتازشاعر ہیں اوروہ اپنے عہد کی ایک بے مثال آواز بھی ہے۔ان کی شاعری زیادہ تر سوشل میڈیا پر دکھائی دیتی ہے۔دلشاد علی مہدی کی شاعری کے مطابق یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ ایک خاموش مزاج اورسنجیدہ قسم کی شاعری کرتے ہیں۔اوراپنی شاعری میں جا بجا سماج میں ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ان کے شاعری کاسفر آنے والے دور میں کافی بلند و بالاہوگا۔

 

Leave a Reply