You are currently viewing دیمک زدہ مکان(افسانچہ)

دیمک زدہ مکان(افسانچہ)

 

 

حمنہ رشید

ایم فل سکالر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ، پاکستان

 

دیمک زدہ مکان(افسانچہ)

 

خستہ ہلکے بھورے رنگ کا دروازا جب بہت زور لگانے سے اندر کی جانب کھلا تو آنے والی آواز گویا  دیمک کے سبب دروازے کی خستہ حالی کی نہیں بلکہ ماضی کے قصے کہانیاں معلوم ہوتی تھیں ۔ ایسے قصے جس میں عشق کے موضوعات فنا ہوئے ۔ ایسی کہانیاں جہاں بہت سے کردار خاک کر دیئے گئے ۔ ایسی یادیں جو یاد آنے پر محض گمان معلوم ہوں۔

یہاں میرا موضوع “دیمک” اس دیمک کی نشاندہی نہیں کرتا جو محض دیوار کو چاٹ کر اپنے اندر لپیٹ لیتی ہے بلکہ ، یہ وہ دیمک ہے جس کا علاج ممکن نہیں ۔ جو اپنے مقصد کی سعی کرتے ہوئے کسی دوسری چیز کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتی۔

دیمک سے مراد وہ معاشرہ وہ کردار ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اس قدر حاوی ہیں کے اپنے زاتی وجود کی نفی انکو زحمت نہیں دیتی۔ اور اس کے پس پردہ کیفیت، احساس، جزبات وہ مکان ہیں جو دیمک لگنے سے بوصیدہ ہو جاتے ہیں ۔

یہ وہ دیمک ہے جو ہماری تاریخ ،ہمارے معیار ، اور اب آہستہ آہستہ وجود کو کھا رہی ہے ۔ میں نے اپنے اب تک کے ادبی مطالعہ میں انسانی وجود اور اس کے کردار کے پیچھے چھپی حقیقت کو دھندلا پایا ہے ۔ اور سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا یہ وہ کردار اور معاشرہ ہے جو منٹو کے یہاں ملتا ہے ؟ جس میں معاشرے کی فحاشی اور برائی کو عیاں کیا گیا اور کہیں کہیں اچھائ کی جھلک دکھائی گئی ۔ان کےکردار جس میں سوگندھی، سلطانہ، رادھا بائ ، سعیدہ ، اصغری ، شانتی، محمود اسی معاشرے کو ظاہر کرتے ہیں جن کا دائرہ عورت اور اس کے وجود کے ارد گرد گھومتا ہے یا شاید منٹو کی نظر نے محض صنف نازک کے واقعات کو زیادہ قید کیا۔ یا پھر وہ معاشرہ جو غلام عباس جیسے تخلیق نگار منفرد کردار پیش کرکے اپنی تحریروں میں کہہ گئے ؟ ایسے کردار جو آنتون چیخوف اپنے افسانوں میں ظاہر کرگئے یا پھر وہ معاشرہ جو بانو قدسیہ صاحبہ اور اشفاق احمد کے ناولوں کا حصہ بنے ؟ یہ کردار ، یہ معاشرہ خد سے تخلیق کیا گیا یا پھر ہر گزرتے وقت کے ساتھ تخلیق ہوتا گیا ؟ اور اس میں شامل ہونے والی تبدیلیاں حقیقی معنی رکھتی ہیں ؟ یا محض اس کی سمت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ؟ شاید  فرائیڈ کے                                                                                                              Oedipus complex ( جس میں لڑکی اپنے والد اور لڑکا اپنی ماں کی طرف زیادہ مائل ہو تے ہیں) کا تعارف ان سب خیالات پر اول درجے کی حیثیت لے گیا ؟

اس سب کو دیکھا جائے  کئ سوالات نفسیات کے چکر میں گھومتے ہیں کہ  دیمک زدہ معاشرہ یا کردار نہیں! بلکہ ، نفسیاتی اور داخلی الجھن ہے ۔ جہاں لفظوں کی حیر پھیر کردار اور واقعات کو بدل دیتی ہے یس شاید تخیلاتی سطح پر پہنچا دی جاتی ہے اور اسے ممکنہ دور کے معاشرے سے جور دیا گیا ؟ بالفرض ، اگر یہ حقیقت ہے تو دیمک خود دیوار پر حاوی نہیں ہوتی بلکہ ہم خود اسے  ہر ممکن وجہ دیتے ہیں ، شاید وہ اندھیرا ، نمی ، تنہائی (جس سے دیمک کا آغاز ہوتا ہے) ہماری پیدا کردہ ہے ؟

Leave a Reply