You are currently viewing زبان اور بولی

زبان اور بولی

ڈاکٹر شیویہ ترپاٹھی

ایسوسی ایٹ پروفیسر،شعبہء اردو

بریلی کالج، بریلی

زبان اور بولی

         زبان اور بولی دو ایسی اصطلاحیں ہیں جن کا آپس میں رشتہ بہت سیدھا بھی ہے اور بہت پیچیدہ بھی۔سیدھا ان معنوں میں کہ بولیاں یعنی بولی جانے والی زبان اورزبان یعنی کہ لکھنے پڑھنے کی بولی۔ پیچیدہ ایسے کہ زبان اور بولی کی حقیقت اتنی یک رخی اورسپاٹ نہیں ہے جتنی ظاہری طور پر نظر آتی ہے۔ اس میں سماجی، سیاسی، نسلی،ثقافتی اور اقتصادی ارتقاء کی بے شمار تہیں پنہاں ہیں۔ زبان اور بولی کا رشتہ کسی معنی میں تقدم و تاخیر، ادنیٰ و اعلیٰ پر مبنی نہیں ہے۔ زبان اور بولی کے کیا معنی ہیں ؟ان دونوں اصطلاحوںمیں کیا مماثلت یا فرق ہے؟کیا یہ دونوں اصطلاحیں علم ا لسان کی رو سے ایک دوسرے کے مترادف ہیں یا یہ لسانی عمل کی دو مختلف شاخوں کے لیے مستعمل ہیں؟کس کا وجود پہلے ہوا اور کس کا بعد میں؟یہ مسائل بقول پروفیسر احتشام حسین’’ ان موضوعات میں سے ہے جن کے عام قاعدے مکرر کرنا ناممکن ہے۔‘‘(ص۱۱۳،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ) پھر بھی ان سوالوں کے جواب ماہرین نے مختلف زاویوں سے دینے کی کوشش کی ہے۔اس مقالے میں ثقیل و پیچیدہ اصطلاحات سے دامن بچاتے ہوئے اسی الجھے ہوئے رشتے کی گتھیاں سلجھانے  کی کوشش کی گئی ہے۔

         زبان اپنے بنیادی معنی میں قوت گویائی یانطق کو کہتے ہیں۔ ان ابتدائی معنوں میں زبان

 اور بولی میںکوئی فرق نہیں ہے۔انسان کواظہار کے لیے جب وسائل کی ضرورت ہوئی تو دیگر ذرائع کے ساتھ ساتھ زبان بھی وجود میں آئی۔اپنے وسیع ترین معنوں میںزبان صوتی علامتوں (الفاظ) اور غیر صوتی علامتوں (اشارے،جسمانی حرکات) کے ذریعہ جذبات و خیالات کا اظہار ہے۔مگر جب علم لسان کی رو سے زبان پر غور کیا جاتا ہے تو غیر صوتی اجزاء اس سے خارج ہو جاتے ہیںاور زبان صرف مجموعہ اصوات ہو جاتی ہے۔ زبان کی بنیاد الفاظ ہیں اور الفاظ کی بنیاد آواز ۔صوتی علامتوں میں بھی صرف وہی لسانیات کے میدانِ عمل میں داخل ہیں جو دہن اور اس کے مختلف اعضا حلق ،تالو،دانت ،ہونٹ اورزبان سے ا دا ہوتی ہیں۔ دیگر آوازیں اس سے خارج ہوتی ہیں۔مزید یہ کہ دہن سے ادا ہونے والی بھی صرف وہی آوازیں زبان کا حصہ ہوتی ہیں جو اضطراری کیفیت کے سبب نہیں نکلتیں بلکہ اختیاری اور بالقصد ہوتی ہیں ۔اب ذرا غور کیجیے کہ ان جملوں میں اگر زبان کے بجائے بولی کا لفظ لکھ دیا جائے تو بھی بات میں اتنی ہی صداقت رہے گی یعنی یہ تمام باتیں بولی کے تعلق سے بھی واجب ہیں۔زبان اور بولی کے تعلق پربحث کا آغاز کرنے سے قبل ان دونوں اصطلاحوں پر فرداً فرداً روشنی ڈالنا مناسب ہوگا۔

          ماہرین لسانیات کے مطابق زبان کی چند بنیادی تعریفیں مندرجہ ذیل ہیں:

بقول ڈاکٹر محی الدین قادری زور:

’’زبان خیالات کا ذریعہ ٔ اظہارہے۔اس کا کام یہ ہے کہ لفظوں اور فقروں کے توسط سے انسانوں کے ذہنی مفہوم و دلائل اور ان کے عام خیالات کی ترجمانی کرے۔‘‘ (ص۲۵،ہندوستانی لسانیات)

پروفیسر گیان چند جین کے الفاظ میں:

’’زبان بالقصد،من مانی،قابلِ تجزیہ،صوتی علامات کا وہ نظام ہے جس کے ذریعے ایک انسانی گروہ

کے افراداپنے خیالات وجزبات کی ترسیلِ باہمی کرتے ہیں۔‘‘(ص ۴۶، عام لسانیات)

بقول پروفیسر احتشام حسین:

’’زبان آوازوں کے ایک ایسے مجموعے کا نام ہے جسے انسان اپناخیال دوسروں پر ظاہر کرنے کے لیے ارادتاً نکالتا ہے اور ان آوازوں کے معنی معین کر لیے گئے ہیںتاکہ کہنے اور سننے والے کے یہاں ایک لفظ سے تقریباً ایک ہی جذبہ پیدا ہو۔الفاظ ان ذہنی تصویروں کی ملفوظی علامتیں ہیںجنھیں ہم دوسروں کے ذہن تک پہنچانا چاہتے ہیں۔‘‘(ص۲۰،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ)

بقول پروفیسر نصیر احمد خان  :

زبان بنیادی طور پر انسان کے علامتی عمل کی ایک انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے۔ زبان کی علامتیں آوازوں سے عبارت ہیں،جو ہمارے اعضائے صوت کے مختلف انداز میں عمل پیرا ہونے سے تلفظ ہوتی ہیں۔جب یہ آوازیں مختلف کلاسوں اور سلسلوں میں ترتیب پاتی ہیں تو ایک پیچیدہ اور منظم ساخت وجود میں آتی ہے۔زبان کی حقیقت یا اس کا وجودان علامتوں پر منحصر ہوتا ہے جو بامعنی ہوتی ہیں۔علامت اور جس چیز کے لیے وہ مخصوص ہے اس کے درمیان تعلق محض اختیاری ہوتا ہے یعنی سماج کے ذریعہ یہ تعلق قائم ہوتا ہے۔زبان کی ساخت اور حقیقت میں بلا کا تنوع ہوتا ہے جس کی مدد سے ہم اپنے کسی بھی خیال،تجربے، احساس یا فکر کو با آسانی پیش کر سکتے ہیں۔ (ص۱۲،۱۳،اردو کی بولیاں اور کرخنداری)

ان تعریفوں پر غور کریں اور ماہرین نے زبان کی جو خصوصیات بتائی ہیں ان پر نگاہ ڈالیں تومندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

         زبان وسیلۂ ترسیل ہے۔ انسان اپنے مافی الضمیرکی دوسروں پر وضاحت کرنے کے لیے

 اس کا استعمال کرتا ہے۔ زبان خیال کے ساتھ ساتھ جذبات کی بھی ترسیل کرتی ہے۔ یہاں تک کہ سوچنا بھی بغیر زبان کے محال ہے حالانکہ سوچتے وقت اصوات ِزبان کی ادائیگی دہن سے نہیں ہوتی۔یعنی سوچنا خیالات کے صوتی اظہار سے پہلے کی منزل ہے۔بقول پروفیسرمحی الدین قادری زور’’سوچنا دراصل اپنے ذہن میں گفتگو کرنا ہے۔‘‘ (ص۲۹، ہندوستانی لسانیات)زبان کے ذریعہ ان اشیاء ، لوگوں یا واقعات کے بارے میں بھی بات کی جا سکتی ہے جو غیر حاضر یا دورہوں۔زبان میں اتنی تخلیقیت یا اُپج ہوتی ہے کہ استعمال کرنے والا اس زبان کی اکائیوں کی گوناگوںترتیب سے طرح طرح کے مفاہیم تخلیق کر سکتا ہے، یعنی زبان کے امکانات لامحدود ہیں۔

         زبان صوتی علامت ہے اور یہ علامتیں بامعنی ہوتی ہیں۔زبان آوازوں کا بے ترتیب اوربے ربط سلسلہ نہیں ہوتی۔ اس کی صوتی اکائیوں میں طرح طرح کی ترتیب سے الفاظ بنتے ہیں اور الفاظ کی ترتیب سے جملے۔یعنی چند آوازوں ؍حروف سے ہزاروں الفاظ بنائے جا سکتے ہیں اور بے شمار معنی ادا کیے جا سکتے ہیں۔لسانی علامتیں ابتداًصوتی تھیں اور بعد میں ان کی تحریری شکلیں وجود میں آئی ہیں۔

         زبان بالقصد ہوتی ہے یعنی سوچ سمجھ کر کسی وجہ سے، کسی معنی ومنشاکے تحت، ارادتاً استعمال کی جاتی ہے۔ اس لیے قہقہہ اور گریہ جیسی آوازیں زبان کا حصہ نہیں ہوتیںہیں۔کیا ہم کبھی بولتے یا سنتے ہیں کہ فلاں زبان میں ایسے ہنسا یا رویا جاتا ہے ؟نہیں ۔کیوں کہ یہ رونے اور ہنسنے کی آوازیں بے اختیار ہوتی ہیں۔

         الفاظ کی صوتی وصوری شکل اور ان کے معنی میں کوئی فلسفیانہ اور تعلق نہیں ہوتا۔انسانی زبان میںاکائیاں اور ان کی ترتیب معنی و مفہوم کا عکس نما پیکر نہیں ہوتیں۔مثلاً لفظ پھول نہ اپنی آواز ،نہ صورت و تحریر میںاصل پھول کی خوبصورتی، لطافت و نازکی رکھتا ہے۔یعنی زبان اور اس کے معنی کا رشتہ arbitrary یااختیاری ہوتا ہے۔ جہاں کہیں زبان میں صوت نما الفاظ آتے

بھی ہیںتو وہ بھی اس زبان کے فونیمی نظام کے مطابق ہوتے ہیں۔

         زبان کسی نہ کسی لسانی گروہ سے متعلق ہوتی ہے اور اس گروہ میں اس زبان کی علامات کے مفہوم کے متعلق ایک ذہنی معاہدہ ہوتاہے یعنی ’’اس کے استعمال کرنے والوں میںایک بڑی حد تک عام اور ضروری معاملات کے بارے میںگفتگوں یا تحریر کرتے وقت ایک سمجھوتا ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ آپس میں ایک دو سرے کا مطلب سمجھ سکیں‘‘۔کسی بھی لسانی گروہ کے مختلف افراد جو ایک ہی زبان بولتے ہیں،ان کی زبان میں بھی فرق ہوتا ہے۔یہی معاہدہ یاسمجھوتا ہے جو افراد ،گروہوں اور علاقوںکی زبان میں فرق کے باوجود ایک تفہیمی وحدت پیدا کرتا ہے۔

         زبان موروثی نہیں ہوتی،یہ ماحول کی دین ہے ۔یہ سماجی شے ہے اور سماج میں ہی بنتی بگڑتی ہے۔بقول پروفیسر احتشام حسین:’’انسان ہر وقت اظہار خیال یا ابلاغ  کے لیے زبان کا استعمال نہیں کرتا بلکہ کبھی کبھی صرف معاشرتی اور سماجی زندگی سے وابستگی ظاہر کرنے کے لیے بھی کچھ کہتا ہے۔۔۔گو زبان کا بڑا حصہ فطری نشو نما کا حامل ہوتا ہے لیکن انسان کی سماجی ضرورتیں اس کی تشکیل کرتی ہیںاور بالارادہ اس میں تغیرات بھی پیدا کرسکتی ہیں۔‘‘ (ص۲۰،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ)

بقول ڈاکٹر محی الدین قادری زور’’زبانیں آج اتنی مختلف نہ ہوتیں اگر بولنے والے اپنی جدا جدا ضرورتوں اور اہلیتوں کے مطابق خود ان میں ترقی اور تغیر وتبدل نہ کرتے۔‘‘(ص۲۸،ہندوستانی لسانیات)

         زبان اکتسابی ہوتی ہے یعنی اسے سیکھا جا سکتا ہے۔کسی ایک زبان کا جاننے والاشخص مختلف تحریری یا بول چال کی زبانوں کو سمجھ اور سیکھ سکتا ہے۔ زبان کیوں کہ سماجی شے ہے تو اس کا استعمال سماج میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے کسی ایک سماج کی زبان دوسرے سماج میں اس حد تک کارآمد ثابت نہیں ہوتی۔ زبان تہذیب و ثقافت کا حصہ ہوتی ہے اور یہ تہذیب و ثقافت اس زبان میں اس طرح سرائت کر جاتی ہے کہ وہ زبان اپنی تہذیب کا آئینہ بن جاتی ہے۔

         زبانوںکی تخلیق نہیں کی جاتی ۔ یہ خود رو ہوتی ہیں۔بقول پروفیسر احتشام حسین:زبان بنی بنائی شکل میں انسان کو نہیں ملی بلکہ اس کی حیثیت ایک مسلسل عمل کی تھی۔(ص۱۸،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ)  ہر زبان کسی نہ کسی قدیم زبان کی ارتقائی شکل ہوتی ہے۔زبان تغیر پذیر ہوتی ہیں اور ان تغیرات کی رفتار غیر محسوس حد تک سست ہوتی ہے۔سیکڑوں ہزاروں سال میں زبان کی شکل اتنی بدل جاتی ہے کہ وہ نئی زبان معلوم ہونے لگتی ہے۔زبان کبھی مکمل نہیں ہوتی کیوں کہ وہ بنتی بگڑتی رہتی ہے۔ اس کی تکمیل کا مطلب ہے اس کا خاتمہ۔

         زبانوں کے درمیان قطعی حد فاصل نہیں قائم کی جا سکتی۔ہر زبان اپنے گرد و نواح کی دوسری زبانوں سے متاثر ہوتی ہے اور بدلے میں ان زبانوں کو متاثر کرتی ہے۔ جس جگہ دو زبانیں ملتی ہیں اس مقام کی زبان پران دونوں زبانوں کی خصوصیات کا اثر پڑتا ہے اور وہاں کے باشندے دونوں متصل زبانوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ دو یا دو سے زیادہ علاقائی، طبقاتی یا پیشہ ورانہ لسانی جما عتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ ذولسانی لوگ مخاطب کے مطابق ایک یا دوسرے طریقے سے گفتگوکرتے ہیں۔

         زبان ایک ایسا نظام ہے جس میںصوتی،صرفی، نحوی، معنوی اور اسلوبی ذیلی نظاموں کا ایک منظم سلسلہ ہوتا ہے۔یعنی زبان نظاموں کا ایک نظام ہے اور اس کے تمام ذیلی نظام ایک ساتھ مل کر ترسیل کا فرض ادا کرتے ہیں۔زبان میں ترتیب کی دو سطحیں ہوتی ہیں:پہلی سطح چند اکائیاں جو کہ حروف اور ان سے بننے والے الفاظ ہوتے ہیں اور دوسری سطح ان اکائیوں کی گوناگوں ترتیب جن سے جملے اور مزید مراحل طے ہوتے ہیں۔نئے الفاظ اورمعنی کی تخلیق پرانے صوتی،صرفی ،نحوی اور معنوی ذخیرے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

         مندرجہ بالا خصوصیات پر غور کریں تو یہ واضح ہے کہ سوائے زبان کا ایک منظم نظام ہونے کے دیگر خصوصیات کم وبیش بولی کا بھی احاطہ کرتی ہیں۔ یعنی بولی وسیلۂ ترسیل ہے،بولی صوتی علامت ہے اور یہ علامتیں بامعنی ہوتی ہیں،بولی بالقصد ہوتی ہے،بولی کسی نہ کسی لسانی گروہ سے متعلق ہوتی ہے،بولی موروثی نہیں ہوتی،یہ ماحول کی دین ہے،بولیوںکی تخلیق نہیں کی جاتی اوربولیوں کے درمیان قطعی حد فاصل نہیں قائم کی جا سکتی۔ان اوصاف کی حد تک اعضائے صوت کی مدد سے تلفظ ہونے والے اظہار خیال کے ذریعہ کو ہم بولی یا زبان کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔کمال احمد صدیقی کے الفاظ میں’’لسانیات میں بولی جانے والی زبان ہی زبان ہے۔‘‘یعنی لسانیات کے اعتبار سے زبان اور بولی میںکوئی فرق نہیںہے۔ زبان اگر صوتی علامت ہے توتکلمی زبان اس کی ابتدائی شکل ہوئی اور تحریر اس کا ثانوی اظہار۔ تحریری زبان بول چال کی زبان کی نمائندہ ہے۔بچہ بولنا پہلے سیکھتا ہے اور لکھنا پڑھنا بعد میں۔ یہی سبب ہے کہ ہم زبان کے متعلق پیش کردہ  ماہرین لسانیات کی ان تعریفوں کا اطلاق بولی پر بھی کر پارہے ہیں۔

         لیکن عملی طور پر ہمیں زبان اور بولی میں واضح فرق معلوم ہوتا ہے۔ ہم اپنی بول چال میں زبان اور بولی کی اصطلاحوں کا استعمال عموماً مترادفات کے طور پر نہیں کرتے۔ ایسا کیوں ؟  یہ سمجھنے کے لیے  ماہرین نے  بولی کی جو تعریف پیش کی ہیں ان پر بھی غور کرتے چلیں :

’’زبان کی ابتدائی سطح بولی کہلاتی ہے،جو روزمرہ کے معاملات،کاروباری لین دین،اور سماجی روابط کو بحال اور متحرک رکھنے میں ممد ومعاون ہوتی ہے۔ عوام کی اکثریت زبان کی اسی صورت ،پرت یا سطح سے کام چلا لیتی ہے۔‘‘(lafzuna.com)

 encyclopedia britannica کے مطابق:

’’ کسی ملک،ضلع،برادری،سماجی گروہ،پیشہ ور لوگوں یا شخص کے زبان بولنے کا ایک مخصوص طریقہ بولی کہلاتا ہے۔‘‘

(ص۱۶،اردو کی بولیاں اور کرخنداری از نصیر احمد خان)

 بقول پروفیسر نصیر احمد خان:

’’بولی زبان کی ایک ایسی فطری شکل ہے جو علاقائی، لسانی،سماجی، شخصی اور پیشہ ورانہ اثرات کا نتیجہ ہوتی ہے۔جو تبدیلیاں اس میں پائی جاتی ہیں،ان کے سلسلوں کو ساخت کی مختلف سطحوں پر نہ صرف محسوس کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کا تجزیہ بھی ممکن ہوتا ہے۔‘‘(ص۱۸، اردو کی بولیاں اورکرخنداری)

ان تعریفوں میں بولی کے تعلق سے جو خصوصیات ابھرتی ہیں وہ ہیں: ابتدائی صورت تکلم ،مخصوص طریقہ اظہار، روزمرہ کے معاملات کے لیے اس کا استعمال ، فطری پن اور قابل شناخت خصوصیات۔

         مندرجہ بالا تعریفوں کے بعد بولی کے جو چند خصائص واضح ہوئے ہیں ،ان کی بنا پر اب ہم زبان اور بولی میں فرق پر غور کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات جو اپنی عام فہم کے مطابق ہم سب جانتے ہیں کہ بولی مطلب بول چال کی زبا ن اور زبان مطلب تحریری زبان۔ بولی ہماری زبانی روایت کی طرف اشارہ کرتی ہے اورزبان تحریری روایت کی طرف۔دوسری بات یہ کہ بولی لفظ کا استعمال ہم اس جگہ کرتے ہیں جہاں ہم اس کا تعلق کسی خاص فرد، طبقے،گروہ،جماعت یا علاقے کی زبان کے طور پر کرتے ہیںمثلاً فلاں کی بولی، عورتوں کی بولی، پس ماندہ طبقے کی بولی،کسی خاص مقام کی بولی وغیرہ۔یعنی اس میں ایک قسم کی انفرادیت (خواہ وہ شخصی ہو یا اجتماعی)،کچھ خصائص (خواہ وہ ذاتی ہوں یا مقامی) اورایک قابل شناخت لب و لہجہ پایا جاتاہے۔ جبکہ زبان لفظ کا استعمال ان جگہوں پر آتا ہے جہاں ایک قسم کے تسلیم شدہ، شعوری، اصولی ، رسمی اور معیاری زبان کا ذکر ہوتا ہے مثلاً سرکاری زبان،دفتری زبان، قومی زبان،شاعری کی زبان، ادب کی زبان وغیرہ۔ بولی اور زبان کے مشترکہ اوصا ف سے قطع نظرزبان کے لیے لازمی ہے اصولی نظام، قواعد، تسلیم شدہ معیار اور رسم الخط۔اور بولی کے لوازم میں شامل ہیں انفرادی طرز،مقامی خصوصیات،خالص فطری پن، خلقیت، اصلیت اور دیسی پن۔مادری زبان، کا معاملہ الگ ہے۔اسے ہم زبان کہتے تو ہیں مگر جڑائو بولی والا محسوس کرتے ہیں۔غور طلب ہے کہ اردو اور ہندی میں تو ہم مادری زبان یا ماتر بھاشا کہتے ہیں لیکن انگریزی میں َمدَر ٹَنگ کا لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے مَدَر لینگویج کم ہی لکھا جاتاہے۔

         زبان کی سب سے پہلی شرط ہے اس کے واضح اصول و ضوابط، اور یہ اصول پورے لسانی سماج کے تسلیم شدہ ہوں ۔یعنی اس زبان کو برتنے والے تمام لوگ ان سے متفق ہوں۔جبکہ بولی میں اصول و ضابطوں سے قدرے آزادی ہو تی ہے۔کیوں کہ ان میں انفرادی اْپج زیادہ ہوتی ہے۔حالانکہ ایسا نہیں کہ کسی زبان کے لسانی سماج کے ایک چھور سے دوسرے چھور تک ایک سے قواعد برتے جاتے ہیں۔ ان میں بھی سماجی،جغرافیائی،تاریخی اعتبار سے فر ق ہوسکتا ہے۔لیکن پھر بھی ان اصولوں کی بنیادی نوعیت ایک سی ہوتی ہے اور اختلافات سطحی ہوتے ہیں۔جبکہ بولی کی انفرادیت اس کے اصولوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کی مقامی لب و لہجے اور دیسی ذخیرہ الفاظ سے قائم ہوتی ہے۔عام طور پر زبان کے قاعدوں کے مقابلے بولی کے قاعدے بہت لچیلے ہوتے ہیں ۔بولی کے قاعدے بھی شعوری طور پر ترتیب دیے ہوئے نہیںہوتے، بلکہ بولی کی طرح ہی خودروہوتے ہیں۔فصاحت،درستی یا صحت، زبان کے لیے ضروری خیال کی جاتی ہے،بولی کے لیے نہیں۔ قواعد کی پابندی نہ ہونے سے بولی میں آزادی زیادہ ہے۔ اس میں فصاحت اور قواعدی درستی

کی پابندی لازمی نہیں کیوں کہ بولی کا زور ترسیل پر ہوتا ہے ،قاعدے پر نہیں۔

         بولی میں ایک قسم کی rawnessیا کچاپن ہوتا ہے۔ وہ ضابطوں میں بندھی نہیں ہوتی۔بولیاںنفاست سے عاری ہوتی ہیں۔ان پر صیقل کی پرت نہیں چڑھی ہوتی، نہ ان کے نوک پلک سنوارے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور جب یہ سب خصوصیات ان میں پیدا کی جاتی ہیں تو وہ زبان کا روپ لے لیتی ہیں اور نفیس، مہذب،خوش اسلوب،سلیقہ مند، معیاری اور دقیق ہو جاتی ہیں۔بولی کے لیے native ہونا ضروری ہے یعنی اس میں مٹّی کی خوشبو شامل ہوتی ہے۔ مثلاً انگریزی ہم ہندوستانیوں کی زبان ہو سکتی ہے بولی نہیں۔ بولی سے ایک قسم کا تعلقِ خاطر ہوتا ہے جبکہ زبان سے شائستہ متانت کارشتہ۔زبان کا ایک خاص نظام ہوتا ہے۔ اس کی صوتی، صرفی، نحوی،لفظی، معنوی اور اسلوبی قواعدہوتی ہے۔ان قواعد کی بنا پر زبان کا معیاری ، معیار سے ہٹی ہوئی اورپست معیاری ہونا طے ہوتا ہے۔زبان اپنے اصول و قواعد کے دائرے میں تشکیل پائے ہوئے؍ تعین کردہ لسانی مزاج کے مطابق دیگر بولیوں اور زبانوں سے اخذ و استفادہ کرتی ہے۔ نئے الفاظ کا اختراع بھی زبان کے مزاج و رواج کے مطابق ہوتا ہے۔زبان میں آزادی محدود ہو جاتی ہے کیوں کہ وہاں طے شدہ نظام ہوتا ہے۔زبان کے لیے معیار بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ترسیل، جبکہ بولی کا واحد مقصد ترسیل ہے۔

          زبان کے لیے لازم ہوتا ہے رسم الخط یعنی طریقہ تحریر۔ کبھی کبھی کسی زبان کو ایک سے زیادہ رسم الخط میں بھی لکھا جا سکتا ہے ،یا مختلف ادوار میں اس کے لیے مختلف رسم الخط رائج ہوتے ہیں۔آجکل سوشل میڈیا کے توسط سے تمام ہندوستانی زبانوں کو رومن رسم الخط میں لکھنے کا چلن بڑھ رہا ہے۔رسم الخط ہونے کے سبب ہی زبان کو بولی پر فوقیت حاصل ہو گئی ۔ تحریری زبان پڑھے لکھے، مہذب اور شائستہ طبقے کا ذریعۂ اظہار ہونے کے سبببولی کے مقابلہ میںاعلیٰ سمجھی گئی اور بولی ادنیٰ۔کسی ایک زبان کے بھیتر بھی تحریری وادبی زبان معیاری سمجھی جاتی ہے اور بول چال کی اس سے کمتر یاثانوی حیثیت کی۔

         تحریری ہونے کے سبب ایک طرف زبان کے روئیداد اور اس کے دستاویز محفوظ رہتے ہیں تو دوسری طرف اس کے الفاظ کا ذخیرہ بھی روز افزوں رہتا ہے۔زبان تحریر ی ہونے کے سبب اپنے لغت اور اصطلاحات میں اصافے بھی کرتی ہے۔ زبان کے پاس ہر شے ،فکر ، خیال، عمل،تصور اور احساس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا جامع ہوتا ہے یا اس میں یہ قوت ہوتی ہے کہ وہ ان کے لیے الفاظ اختراع کر لیتی ہے۔ بولی اس معاملے میں کمزور پڑ جاتی ہے۔ نئے نئے علوم وفنون سے متعلق اصطلاحوں کا زبانیں اخذ یا اختراع کرتی رہتی ہیں۔علوم و فنون کے لیے زبان وبیان کی جو وسعت درکار ہوتی ہے وہ بولی کے پاس نہیں ہوتی،اس لیے اس کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں اور علوم و فنون کا احاطہ بولی میں کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بولی کے پاس رسم الخط،قواعد اورلغت نہ ہونے کے سبب دقیق، علمی،فنی اورفلسفیانہ مسائل کے اظہار سے وہ قاصر رہتی ہے۔بولیوں میں اگر ایک معصوم بچے کی تتلاہٹ اور مٹھاس ہوتی ہے تو زبان میں کسی تعلیم یافتہ شخص کی سنجیدگی اور شائستگی۔بولی نقش نہیں ہے،محفوظ نہیں ہے تو اس کی بقا قدرے مشکل میں پڑ جاتی ہے۔

         زبان کی نشرو اشاعت اور ترویج وترقی میں بھی رسم الخط مدد کرتا ہے۔زبان تحریری ہوتی ہے ،اس کے پاس رسم الخط ہوتا ہے تو اس میں تغیر و تبدل پر بھی کافی حد تک قابو رکھا جا سکتا ہے۔بقول پروفیسراحتشام حسین ’’جن قوموں کے پاس رسم الخط تھے اور ان کی زبانیں لکھی گئی ہیں انھوں نے لسانی اتحاد نسبتاً زیادہ برقرار رکھا ہے۔‘‘ (ص۱۱۵،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ)  رفتہ رفتہ اس زبان کی قواعد اور لغت بھی وجود میں آئے گی اور اس سے نسل در نسل زبان کو آ گے بڑھانے میںسہولیت ہوگی۔ ساتھ ہی اس سے زبان کا ذخیرہ الفاظ بھی محفوظ رہتا ہے۔بولی کا ذخیرہ الفاظ محفوظ نہیں رہ پائے گا جبکہ زبان کے دستاویزباقی رہیں گے۔ زبان تحریری ہونے کے سبب ادب ،صحافت،حکومتی ،عدالتی اور دیگر دفتری کاموں میںاستعمال ہوتی ہے اور بولی روز مرہ کی گفتگو میں۔ایسا بھی نہیں کو بولیاں لکھی نہیں جاتیں،لیکن تحریر کے لیے وہ اپنی قریب ترین زبان کا رسم الخط اپناتی ہیں اور اس زبان کا ایک اسلوب محض بن کر رہ جاتی ہیں۔

         قواعد اور رسم الخط سے مزین زبان ہی معیاری زبان سمجھی جاتی ہے۔ یہ بھی عام خیال ہے کہ معیاری زبان میںہی اعلیٰ وسنجیدہ ادب تشکیل پاتا ہے۔ شاعر وادیب کے لیے اس معیاری زبان سے واقفیت کے بنا چارہ نہیں۔لیکن ایسا سوچتے وفت ہم یا تو لوک ادب ؍عوامی ادب کو نطر انداز کر دیتے ہیں یا اسے سنجیدہ ادب نہیں خیال کرتے۔

         زبان اور بولی کے تعلق پر غور کریںتو اس مقالے کی ابتدا میں پیش کی گئی تعریفوں سے زبان اور بولی کے کچھ مشترکہ اوصا ف سامنے آتے ہیں مثلاً زبان اور بولی دونوں وسیلہ اظہار ہیں یعنی زبان اور بولی دونوں کا بنیادی مقصد ترسیل ہے۔حالانکہ ان کے ذریعے ہونے والے اظہار کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ بولی خصوصاً تکلمی اظہار ہے اور زبان تقریری و تحریری۔حالانکہ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ نہ کوئی بولی تحریر سے عاری ہوتی ہے اور نہ کوئی زبان گفتگو سے پرے۔ بولی صرف گفتگو تک محدود نہیں ہوتی۔اس کے تحریری روپ نجی خطوط اور لوک ادب میں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح زبان صرف تحریر کا وسیلہ نہیں ہوتی بلکہ اشراف کی مہذب اور شائستہ گفتگو کا بھی ذریعہ ہوتی ہے۔جس مخصوص علاقے یا رقبے کی بولی زبان کا روپ لیتی ہے وہاں روزمرہ کی گفتگو اور تحریری زبان کے مابین فر ق بہت کم ہوتا ہے۔بقول کمال احمد صدیقی:’’ایک قاعدہ کلیہ ہے: اگر دو شخص گفتگو کریں،اور کسی ترجمان کے بغیر ایک دوسرے کی بات سمجھیںتو دونوں ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ایک زبان ایک سے زیادہ لپیوں(رسومِ خط) میں لکھے جانے کے باوجودایک ہی زبان رہتی ہے۔اردو ،پنجابی، کشمیری،اور (اب) سندھی، اپنی جگہ، اپنے رسوم ِ خط سے آزاد، اپنی شناخت رکھتی ہیں۔لسانیات میں بولی جانے والی زبان ہی زبان ہے‘‘۔(ص۵،ایک بھاشا:دو لکھاوٹ ،دو ادب)

         ان دونوں کے ذریعہ ترسیل کیے جانے والے موضوعات کی نوعیت اور ان کی سنجیدگی اور پیچیدگی کے مدارج میں بھی فرق ہوتا ہے۔ زبان کے ترسیلی فرائض بولی کے مقابلے زیادہ سنجیدہ اور ادبی ہوتے ہیںا ور ان کی تکمیل کے لیے وہ زیادہ فنی وصنعتی وسائل کا استعمال کر تی ہے۔زبان اور بولی دونوں کا تعلق انسان سے اوراس کے گروہ کی شناخت سے ہے۔بولی انفزادی شناخت کا مسلۂ ہے اور زبان اجتماعی شناخت کی نمائندہ ہوتی ہے۔کسی نہ کسی قسم کی روایت دونوں کے پیحھے کارفرما ہوتی ہے۔خواہ یہ روایت زبانی ہو یا تحریری۔یعنی بولی ہو یا زبان اچانک سے وجود میں نہیں آتی۔ان کی ابتدا کے پیچھے صدیوں کی تاریخ ہوتی ہے۔ ہر زبان ؍ بولی کی ابتدا ،ارتقا،عرصہ حیات اور خاتمہ بھی ہوتا ہے۔انھیں کا مطالعہ لسانیات کا مقصد ہے۔زبان اوربولی ،لسانی خاندانوں کے تحت زبانوں اور بولیوں کے درمیان ابھرتی اور مٹتی رہتی ہیں۔زبان اور بولی کی ابتداء و ارتقا ء ایک ناگزیر عمل ہے جو لازمانی اور لافانی ہوتا ہے۔

         بقول پروفیسر احتشام حسین:’’کوئی زبان بالکل ٹھیک ایک ہی شکل میں ایک پورے رقبے میں نہیں بولی جاتی۔یہ بات ایک حقیقت کے طور پر کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کی کوئی زبان چاہے وہ کتنے ہی مختصر علاقے میں کیوں نہ بولی جاتی ہو، بولیوں کے اختلاف سے خالی نہیں ہے۔‘‘ (ص۱۱۳، ہندوستانی لسانیات کا خاکہ) بولی کا تصور ہر زبان کے ساتھ ناگزیر طور سے منسلک ہے۔’’زبان تحریر میں آئی ہوئی معیاری بولی ہے اور بولی روزمرہ کی گفتگو میں برتی گئی زبان۔‘‘اپنے وسیع ترین معنوں میںبولی کسی خاص علاقے کی زبان، معیار سے ہٹی ہوئی زبان،زبان کی بدلی ہوئی شکل یا ایک ہی زبان کی مختلف شاخوں کو کہتے ہیں۔ ہر زبان کا ابتدائی روپ ایک بولی کا ہی تھا۔ بے شماربولیوں میں سے جس کسی بولی نے زبان کا درجہ پایا  اس کے ساتھ کچھ غیر لسانی اسباب منسلک تھے۔اس کی ذات سے جڑاکوئی سیاسی، سماجی ،تاریخی یا مذہبی برتری کا تصور ایسا تھا جس کے سبب اسے نسبتاً اعلیٰ ذریعہ افہام و تفہیم سمجھا گیا۔

         زبان اور بولی دونوں ہی شعوری طور پر تخلیق نہیں کی جا سکتی ہیں۔ انسان منصوبہ بندطریقے سے انھیںوجود میں نہیں لاسکتا۔ حالانکہ بو لیوں کو زبان کا درجہ دلانے کی منظم کوشش کر سکتا ہے اور کرتا رہا ہے۔ہندوستان کی مختلف علاقائی بولیوں کو زبان کا درجہ دلا کے آئین میں شامل کرانے کی مختلف تحریکات آزادی کے بعد سے ہندوستان میں چل رہی ہیں۔زبانیں خلاسے نہیں پیدا ہوتیں ۔ان کا منبع کوئی نہ کوئی بولی ہوتی ہے۔ نہ ہی کوئی بولی راتوں رات زبان کے مرتبے پہ فائز ہو سکتی ہے۔صدیوں تک ان میں تغیر وتبدل ہوتا ہے اور تب کوئی بولی اپنی اہمیت منوا کر زبان کا مرتبہ حاصل کرتی ہے۔جب بولی ترقی کر کے زبان بن جاتی ہے تو اپنا قدیم روپ کھو بیٹھتی ہے ۔ ان معنوں میں بولی کے ارتقا کی منزل ہوئی زبان۔ دوسری طرف یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی زبان معیار سے ہٹتے،شکل بدلتے اور مسخ ہوتے ہوتے بولی کاروپ لے لے یا کئی بولیوں میں تقسیم ہو جائے ۔مثلاً سنسکرت سے پراکرتوں کا بننا ، اور پراکرتوں کا زبان کی صورت اختیار کرلینے کے بعدان سے اپ بھرنش بولیوں کا  پھوٹنا۔ پروفیسر احتشام حسین نے اپ بھرنشوں کو دورتغیر کی بگڑی ہوئی عوامی بولیاں کہا ہے۔(ص۳۷،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ)

زبان اور بولی ،مختلف قسم کی بولیوں اور ایک ہی بولی کے تحت فرد بولیوں کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر گیان چند جین لکھتے ہیں:

ایک گٹھے ہوئے compactعلاقے کی تمام فرد بولیوں میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے۔اگر فرد بولیوں میں یہ قدر مشترک سمجھنے اور بولنے دونوں کی حد تک سو فی صدی ہو تو یہ فرد بولیاں ایک بولی کے تحت آتی ہیں۔اگر ایک بڑے علاقے کی تمام فرد بولیوں میں یہ قدر مشترک کسی قدر کم ہو مثلاً۶۰یا ۷۰ فی صدی تو یہ ایک زبان کی کئی بولیوںکو پیش کرتی ہے۔اگر یہ قدر مشترک بہت ہی کم ہے مثلاً دس بیس یا تیس فی صدی تو ظاہر ہے کہ ان  بولیوں میں ایک سے زیادو زبانیں دخل پا گئی ہیں۔(ص۵۲ عام لسانیات)

آسان زبان میں کہیں تو ایک علاقے کے تمام لوگوں کی بولیوں میں کئی ملتے جلتے عناصر ہوتے ہیں۔ ا گر یہ یکسانیت بہت زیادہ ہے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ سب ایک ہی بولی بول رہے ہیں۔ اگر یہ اشتراک تھوڑا کم ہے تو وہ سب ایک زبان سے متعلق مختلف بولیاں بولنے والے ہیں اور اگر افراد کی بولی میںیکسانیت کافی کم ہے تو وہ مختلف زبانیں بول رہے ہیں۔ مزید بر آں کہ اسی سلسلے کو اگر آگے بڑھائیں اور مختلف خاندان السنہ کی مختلف ربانوں پر غورکریں تو ان میں اشتراک برائے نام یا مفقود ہوگا۔

         بولی سے زبان اور زبان سے بولی کے بیچ تبدیلی کیوں اور کیسے ہوتی ہے، اس کے متعلق ماہرین کے د وبظاہر متضاد نظریے ملتے ہیں۔کچھ کے مطابق زبانوں کی ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم سے بولیاں بنیں اور کچھ کے مطابق بولیوں کی آمیزش سے زبانیں وجود میں آئیں۔ ریناں اور میکس مولر کے مطابق:

زبان کی ابتداء و نشو و نما کا عمل انتشار سے اتحاد کی جانب ہے۔ ابتداء میں انسانی بولیاں معتددٹکڑیوںمیں بٹی ہوئی تھیں۔میل جول کے ساتھ ان کے اختلافات کم ہوتے گئے اور وہ ایک زبان کی شکل میں گٹھ گئیں۔بالکل اسی طرح جیسے ابتداء میں خاندان ،گوتر ، ذات پات اور قبیلے تھے جو بعد میں قوم کی شکل میں منظم ہو گئے۔ (ص۶۹،عام لسانیات)

اس کے بر عکس ماہر لسانیات وہٹنے کے مطابق یہ ارتقائی عمل اتحاد سے انتشار کی طرف ہے۔وہ لکھتے ہیں:

زبان پہلے وجود میں آئی اور رفتہ رفتہ بولیوں میں تقسیم ہو گئی۔کچھ اور عرصے کے بعد یہ بولیاںخود زبان کا درجہ حاصل کرلیتی ہیںاور ان سے پھر بولیاں پیدا ہوتی ہیں۔(ص۶۹،عام لسانیات)

 دراصل یہ دونوں ہی نظریے ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیلی ہیں۔اگر ہم موجودہ دور کی ہندی زبان پر نگاہ ڈالیں جوکھڑی بولی پر مغربی ہندی کی دیگر بولیوں کے اثرات سے بنی ہے تو وہاں ریناں اور میکس مولر کا نظریہ کافی حد تک صحیح معلوم ہوتا ہے۔دوسری طر ف اگر سنسکرت سے پراکرت اور پراکرت سے اپ بھرنش کے رشتے پر نگاہ ڈالیں تو وہٹنے کا نظریہ کارفرما دکھائی دیتا ہے۔

         زبان یابولی پر اثر ڈالنے والے عناصر بے شمار ہیں۔جغرافیائی محلِ وقوع،ثقافت وطرز تمدن،آداب و عادات، مذہب، اکثریت اور اقلیت کے سماجی رشتے،نسلی اختلاط،سیاسی اور اقتصادی حالات، ہمسایہ ملکوں اور علاقوںسے تعلقات، قومیت کا احساس،اپنی قدیم تہذیب کو زندہ رکھنے کی خواہش، بین الاقوامی تصورات، تعلیم ، فن و ادب، سب ایک دوسرے سے باہم دست وگریباں ہو کر زبان اور بولیوں کو متاثر کرتے ہیں اور ان میں تبدیلی لانے کا سبب بنتے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ زبان کو اصولوں سے ہٹ کر استعمال کیا جائے تو بولیاں جنم لیتی ہیں۔ یہ غور طلب امر ہے کہ وہ کون سے ایسے دبائو ہیں جو زبان کو اس کے معیار سے ہٹنے کے لیے مجبورکرتے ہیں؟زبان اور بولی کے تعلق سے یہ بھی اہم مسئلہ ہے کہ زبان کے معیار و مرکزسے کتنا ہٹنے اور بولی سے کتنا آگے بڑھنے پر دونوں کی نوعیت بدلتی ہے؟

         زبان کا بولی اوربولی کا زبان میں بدلنے کا پہلا سبب یہ ہے کہ زبان ہمیشہ تغیر پزیر اور سیال رہتی ہے۔ ہر دور اور علاقے میںیہ قدرِ مخفی لسانی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور خود اس زبان کے بولنے والوں میں سے اکثر کو اس کا احساس نہیں ہوتا ۔زبان میںان تبدیلیوں کی نوعیت کبھی لفظی ہوتی ہے تو کبھی صوتی، کبھی یہ تبدیلیاں صرفی ونحوی ہوتی ہیں اور کبھی معنوی۔زبان میں حسب ضرورت نئے الفاظ کا اختراع،پرانے الفاظ کی تراش خراش مثلاًمفرد الفاظ سے مرکب الفاظ بنانا، بعض الفاظ میں صوتی تبدیلیاں،تلفظ کی دشواریوں کے سبب الفاظ کو گھس گھسا کر موافق بنا لینا چلتا رہتا ہے۔لسانی تغیرات کا تعلق الفاظ اور معنی دونوں سے ہے ۔ الفاظ میں تغیر اکثر ان کی صورت و صوت میں ترمیم وتخریب سے پیداہوتا ہے۔معنوی تبدیلیوں کے تحت لفظ کے معنی میں ترمیم یا اضافہ یا جُدا گانہ مفہوم پیدا کرنا بھی زبان کے سیال ہونے کی دلیل ہے۔

         زبانوںکے باہمی اثرات کی وجہ سے بھی لسانی تبدیلیاں ہوتی ہیںاور جوزبان زیادہ پر اثر و موقر ہوتی ہے اس کی امتیازی خصوصیات دیگر زبانوں اور بولیوں پر زیادہ حاوی ہوجاتی ہیں۔بڑی ز بانوں میں غلبہ حاصل کرنے کا رجحان ہوتا ہے۔وہ پھیلتی ہیں اور ارد گرد کی بولیوں کو معدوم کرنے لگتی ہیں۔ لوگ مختلف علاقوں میں کئی اغراض کی بناء پرآتے جاتے رہتے ہیں۔ اس آمد ورفت سے مختلف لسانی گروہوں کے افراد میںلسانی لین دین ہوتاہے ۔ پچھلے زمانوں میں یہ لین دین گرد و نواح کے علاقوں کی زبانوں تک محدود رہتا تھا ۔موجودہ وقت میں آمدورفت میں سہولت کے سبب یہ آواجاہی مزید بڑھ گئی ہے۔ اور ایک زبان کا دوسری زبان سے استفا دہ کرنے کی گنجائش و امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ بولیوں کی رنگا رنگی کے گھٹتے جانے کے جالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں کیوں کہ علٰیحدگی بولی کے وجود اور اس کی انفرادی شناخت کو بچائے رکھتی ہے ۔

         اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ زبانیںاپنے ارتقا کے سفر میں تحریری اور ادبی زبان بنتے بنتے عوام سے دور ہو جاتی ہیں۔وہ صرف مخصوص طبقے یا عالموں کی زبان بن کے رہ جاتی ہیںاور اپنے سماج سے ان کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ قوانین و قواعد کی گرفت میں الجھ کروہ عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو جاتی ہیں اورعوام اس زبان کی بنا پر اپنے لیے ایک کم نفیس لیکن سہل زبان تخلیق کرنے لگتے ہیں۔ یعنی پہلی زبان کی دوسری شکل ابھرنے لگتی ہے۔پہلی قدیم شکل کیوں کہ عوام کے لیے دشوار اور ناقابل فہم ہوتی جارہی تھی اس لیے دوسری شکل وجود میں آئی جو خام ہونے کے باوجود زیادہ فطری ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ یہ نئی شکل اس قابل ہو جاتی ہے کہ پہلی کی جگہ لے سکے۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ بولیاں زبان کی مسخ شدہ یا معیار سے ہٹی ہوئی شکلیں ہوں۔بقول پروفیسر احتشام حسین:

’’یہ خیال غلط ہے کہ بولیاں زبانوںکی زوال پذیر یا بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ان زبانوں میں جن سے ہم اچھی طرچ واقف ہیں،یہ بات عام طور سے دیکھی جاتی ہے کہ ان میں بالکل شروع سے کئی بولیاں پہلو بہ پہلو ملتی ہیںاتفاقِ وقت سے ان میں سے ایک لے لی جاتی ہے،اس کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جاتا ہے، اس میں ادب پیدا ہوتا ہے،دوسرے ذرائع سے اس کا دامن وسیع ہوتا ہے اور باقی بولیان اپنی ابتدائی گمنامی کی حالت میں پڑی رہ جاتی ہیں۔لیکن اس حالت میں خراب ہونے کے بجائے اکثر ان میںالفاظ کی اصل اور ابتدائی شکل باقی رہ جاتی ،حالانکہ ترقی یافتہ بولیوں کے وہ الفاظ غائب ہوجاتے ہیں۔‘‘(ص۱۲۲،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ)

         ان لسانی تغیرات کے سبب زبان میں تنوع پیدا ہوتاہے اور ایک ہی علاقہ کی زبان مختلف مقام، مختلف طبقات،مخنلف گروہوں اور مختلف پیشہ وروں کے یہاں الگ الگ صورت میں نظر آتی ہے۔کہیں یہ فرق لب و لہجہ کا ہوتا ہے، کہیں طرز تکلم کا،کہیںترتیب الفاظ کااور کہیں معنی کا۔کسی زبان کے بڑے علاقے یا لسانی گروہ  کے اندر اکثرمختلف مقامات پر یا ذیلی گروہ وں میں جب کچھ ایسی امتیازی خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں ،جو دوسروں میں نہیں پائی جاتیں،تو چند اختلافات نظر آنے لگتے ہیں۔جب یہ اختلافات بہت واضح ہو چکتے ہیں اور زبان کی یکسانیت پر اثر اندازہونے لگتے ہیں تو اس ایک زبان کے بولنے والے کئی بولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اگر ان بولیوں کے بولنے والوں کے درمیان آمد ورفت اور نقل و حرکت کم ہوتی ہے تو یہ بولیاں اپنی شناختintact رکھتی ہیں اور اگرلوگوں کوباہم میل جول کے زیادہ مواقعے ملتے ہیںتوبولیوں کے مابین اختلاف کم ہو نے لگتے ہیں۔

         لسانی تغیرات سے قطع نظر چند غیر لسانی وجوہات کی بنا پر بھی زبان اور بولیوں کا مرتبہ آپس میں بدلتا رہتا ہے۔بولی کے زبان بننے کا سفر دیکھیں توکبھی کوئی بولی اپنے بولنے والوں یا اپنے علاقے کی کسی قسم کی اہمیت یا برتری کے سبب اہم ہو کر زبان بن جاتی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ سیاسی اقتداروالے علاقوں کی بولی اہمیت پا کر زبان بنتی رہی ہیں۔مذہبی مقامات، تیرتھ و زیارت والے مقامات کی بولیاں بھی اکثر اپنی دینی برتر ی کے سبب زبان کا مرتبہ حاصل کرلیتی ہیں۔جن بولیوں میں ادب تخلیق ہوتا رہتاہے ان کی بھی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور وہ زبان کی ہمسر ہو جاتی ہیں۔ ترقی اور تعلیم بولی کی مقامی خصوصیات کو ختم کر معیاری بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔یعنی جس بولی میں صلاحیت ہوتی ہے وہ اپنا مرتبہ بڑھا کر زبان بن جاتی ہے لیکن اس عمل میں وہ اپنی ابتدائی شکل میں باقی نہیں رہتی۔طویل مدت میں بولیوں میں فرق بہت زیادہ ہو جاتے ہیں اور وہ الگ الگ زبان بن جاتی ہیں۔شاذ ایسا بھی ہوتا ہے کہ قواعدی جکڑبندیوں،سیاسی، سماجی یا کسی اور وجہ سے کسی زبان کا مرتبہ گھٹنے لگے تو وہ بولی بن کر رہ جاتی ہے اورکوئی دوسری بولی اس کی جگہ زبان کا درجہ لے لیتی ہے۔

          لسانیاتی نقطہ نظر سے زبان اور بولی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ زبان اور بولی کے تعین کا مسلۂ زیادہ تر غیرلسانی وجوہات (سماجی ،سیاسی اور تاریخی) پر مبنی ہوتا ہے۔بولی کی وہ قسم جسے سماج کاتعلیم یاقتہ، اعلیٰ طبقہ،اشراف اوررئیس لوگ ا پناتے ہیںوہ زبان کا مرتبہ حاصل کر لیتی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ اس کی لغت اور قواعد ترتیب پاتی ہے، یہ معیاری زبان بن کردفتروں اورتعلیمی زبان بن کر اسکولوں میں استعمال ہونے لگتی ہے ۔یہ اس علاقے کی ادبی زبان بھی بن جاتی ہے۔کچھ عرصے بعد اس زبان سے ملتی جلتی کم اہم زبانیںاس زبان کی بولی کی شناخت اختیار کر لیتی ہیں۔اسی وجہ سے کھڑی بولی کے ہندی کی شکل میں ارتقاء پانے کے بعد اودھی ، برج،قنوجی،بندیلی ،میتھیلی،بھو جپوری وغیرہ  ہندی کی بولیاں کہلاتی ہیں،جبکہ ان کا وجود موجودہ ہندی کے صورت اختیار کرنے سے پہلے سے ہے ۔ پروفیسر مولا بخش جشنِ ریختہ میں اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ’’ کوئی زبان کمتر نہیں ۔زبان نہ چھوٹی ہوتی ہے نہ بڑی،زبانیں صرف مختلف ہوتی ہیں۔ایک زبان دوسری زبان کی مدد کرتی ہے۔۔۔بولی کو زبان کی ذیلی شاخ کہنے والے ڈریں اس دن سے

 جب کسی بولی کے بولنے والے سیاسی مرتبہ حاصل کر لیں گے۔‘‘

         زبان بہ معنی وسیلۂ اظہار اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خودانسان۔ بقول پروفیسر احتشام حسین: ’’تمدن اور خیال کے پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ زبان بھی نئی وسعتیں حاصل کرتی ہے۔‘‘جیسے جیسے دنیا میں افراد بڑھتے اور پھیلتے گئے، الگ الگ جگہوں پر بستے گئے ،مقامی خصوصیات اس اولین زبان میں داخل ہونے لگیں۔انسانی ارتقا کی راہ پر نئے نئے گروہ،طبقات اور سماج بنتے گئے اور زبان ان کے ساتھ بدلتی رہی۔ دنیا کی مختلف زبانوںپر سرسری نگاہ  ڈالنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ان سب کا کوئی ایک ماخذو مرکز رہا ہوگا ۔حالانکہ’’ تاریخ کے کسی ایسے دور کا پتہ نہیں چلتا جب روئے زمیں کی تمام آبادی ایک ہی زبان بولتی رہی ہو۔‘‘(ص۱۸،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ)زبان کے آٹھ بنیادی خاندانوں کی زبانیں اگر ہمیں بہت الگ لگتی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت پہلے اس قدیم ترین اولین زبان کی تقسیم سے وجود میں آئی تھیں اور وقت کے ساتھ ان کے مابین فرق بڑھتا گیا۔ جب علم لسانیات کی ابتدا ہوئی تب تک یہ زبانیںاپنے ارتقا کے ہزاروں سال گذار کر اس شکل میں آ گئی تھیں کہ ان کی مماثلتیں غائب ہو چکی تھیں۔اور اسی لیے ماہرین کو انھیں آٹھ بڑے خاندانوں میں تقسیم کر کے سمجھنا پڑا۔بقول پروفیسر احتشام حسین:یہ بات بالکل یقینی ہے کہ تحریری زبان، بولی کی زبان کے بہت دنوں کے بعد وجود میں آئی اور تحریر کا علم انسانوں کو بہت بعد میں ہوا۔زمانہ ماقبل کی تاریخ کون بتا سکتا ہے؟تاریخِ تمدن ،ماضی میں جہاں رہنمائی کرتی ہے،اس میں مختلف قسم کے انسان کرۂ ارض کے مختلف خطوں پر چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کی زبانیں بھی ایک نہیں ہیں۔اس لیے شروع ہی سے ربانوں کومختلف خاندانوںمیں تقسیم کردیا گیا ہے۔(ص۲۴،ہندوستانی لسانیات کا خاکہ)

         پروفیسر وہٹنی کے مطابق:’’بولی اور زبان میںایک خاص فرق کرنے یا ان کے معنی میں تعین پیدا کرنے کی کوشش فضول ہے۔اس لیے کہ یہ دونوں لفظ آپس میں تعلق رکھنے والی زبانوں یا زبان کی مختلف شکلوں کے محض باہمی اختلاف کے مدراج کو ظاہر کرتے ہیں۔اگر ہم بولی سے یہ مراد لیں کہ وہ ایک چھوٹی سی جماعت کا مخصوص طریقہ گفتگو ہے بمقابلہ ان جماعتوں کہ جن کا مخصوص طرز گفتگو اس سے کسی قدر مختلف ہے تو ہم نطق انسانی کے کسی بھی کسی شکل کو چاہے وہ موجو دہ زمانے میں رائج ہویا متروک یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بولی نہیں ہے یانہیں تھی۔ اور اگر ہم زبان کے یہ معنی لیتے ہیں کہ وہ نوع ِانسانی  کے ایک مخصوص و ممتاز گروہ کے تبا دلۂ خیال کا ایک ذریعہ ہے اور اس کی حالت اس گروہ کی قابلیت اوراستعداد کے مطابق ہوتی ہے تو کوئی ہیئت ایسی نہیں جس پر زبان کا اطلاق نہ ہو سکتا ہو‘‘۔

         چنانچہ ماہر ین لسا نیات اپنے لسانیاتی مبا حث میں بولی اور زبان کو ایک دو سرے کا مترا دف سمجھتے ہیںاور’’ اگرکسی ایک ہی بحث میںزبان اور بولی کی اصطلاحیں ساتھ ساتھ آئیں تو زبان زیادہ عام اوروسیع لفظ سمجھا جائے گا جس میں اس کی تمام اقسام شامل ہوں گی اور بولی اس زبان کی وہ شکل سمجھی جائے گی جوکسی جغرافیائی علاقے یا سماج کے کوئی خاص طبقے یا گروہ سے وا بسطہ ہو ‘‘۔اس طرح بولی اور زبان میں کوئی حقیقی فرق نہیں اور نہ بولی کا در جہ ادنیٰ ہے، نہ زبان کا ارفع و اعلیٰ۔

          حاصلِ بحث یہ کہبولی کو زبان کی ذیلی شاخ کہا جاتا ہے لیکن یہ شاخیں کسی طور زبان سے کمتر نہیں ہوتیں۔زبان اور بولی کا رشتہ پوری طرح سے نہ تو درخت اور اس کی شاخوں جیسا ہے اور نہ ہی ندیوں اور سمندر کاسا۔یعنی نہ تو ہمیشہ زبان سے بولیاں پھوٹتی ہیں اور نہ ہی بولیوں کا مجموعہ ہمیشہ زبان کہلاتا ہے۔ زبان اور بولیوں کے مابین رشتے کو اگر کسی تشبیہ سے سمجھا جا سکتا ہے تو وہ سڑکوں کے جال کی مانند ہے۔ کسی شہر کے نقشے میں سڑکوں کے جال کو دیکھیں تو کچھ شاہراہ نظر آئیں گی، کچھ پتلی سڑکیں اور کچھ گلی ،کوچے و کچے راستے۔یہ سب ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہوتے ہیں، کہ پتہ نہیں چلتا کہ شاہراہ سے سڑکیں نکل رہی ہیں یابہت سی سڑکوں کو جوڑنے کے لیے شاہراہ تعمیر کی گئی ہے۔مزید یہ کہ یہ شاہراہ، سڑکیں، گلیاں اور کچے راستے کہیں ایک دوسرے تک پہنچنے کا وسیلہ ہوتے ہیں،کبھی تراہوں چوراہوں پر ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں اور کبھی ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ مزید بر آں کہ ان راہوں پر ہونے والی آمد ورفت یک طرفہ نہیں دو طرفہ ہوتی ہے۔یہی حال زبان اوربولیوں کا ہے۔ ہندوستان کا نقشہ اٹھائیں اور پورے ملک سے قطع نظر صرف کسی ایک علاقے کی زبانوں اور ان سے متعلقہ بولیوں کا تصورکریں تو کچھ ایسا ہی جال نما نقشہ دستیاب ہوگا۔جہاں ایک بڑی زبان سے کئی بولیاں ، بولیوں سے ذیلی بولیاں اور ان سے بولیوں کی مزید اقسام نکلتی دکھیں گی۔ لیکن ان کی تاریخ پر غور کریں تو ہم حتمی طور پر نہیں کہ سکیں گے یہ تمام طرح کی بولیاں اس زبان سے نکلی ہیںیا اس کا پیش خیمہ رہی ہیں۔ان میں سے کجھ زبان کے ابھار سے پہلے ہی وجود میں رہی ہوں گی ، تو کچھ اس زبان کی شکل بگڑنے اور اس میں انتشار پیدا ہونے سے شکل پائی ہوئی ہوں گی۔ کچھ بولیاں ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے گزر رہی ہوں گی اور ان کے اس inter section سے کچھ علاقوں کی سرحدیں سی تعمیر ہو جاتی ہیں اور ان کا رقبہ صاف نظر آنے لگتا ہے۔ کچھ ایسے نقاط ہوں گے جہاں تین چار بولیاں ایک دوسرے سے مل رہی ہوں گی اور اس نقطے پر جو زبان یا بولی رائج ہوگی اس میں ان تمام کی آمیزش نظر آئے گی۔

امدادی کتب

۱۔عام لسانیات از گیان چند جین،قومی کونسل برائے فروغ  اردوزبان،دہلی، ۲۰۰۳؁ء

۲۔ہندوستانی لسانیات کا خاکہ از جان بیمز،ترجمہ مع حواشی و مقدمہ :سید احتشام حسین،اتر پردیش اردو اکادمی،لکھنؤ،۲۰۰۹؁ء

۳۔ہندوستانی لسانیات از محی الدین قادری زور،ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ ،۲۰۰۳؁ء

۴۔اردو کی لسانی تشکیل از خلیل احمد بیگ،ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ  ،۲۰۱۲؁ء

۵۔لسانیات کیا ہے ازڈیوڈ کرسٹل،قومی کونسل برائے فروغ  اردوزبان،دہلی، ۲۰۱۰؁ء

۶۔اردو کی بولیاں اور کرخنداری کا کا عمرانی لسانیاتی مطالعہ از نصیر احمد خان،۱۹۷۹؁ء،rekhta.org/ebooks/urdu

۷۔اردو زبان کی تاریخ از مرزا خلیل احمد بیگ،ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ ،۲۰۰۰؁ء

۸۔ہند آریائی اور ہندی از سنیتی کمار چٹرجی،ترجمہ عتیق احمد صدیقی،قومی کونسل برائے فروغ  اردوزبان،دہلی، ۲۰۰۱؁ء

۹۔ایک بھاشا:دو لکھاوٹ ،دو ادب از گیان چند جین،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،۲۰۰۵؁ء

۱۰۔زبان اور علم زبان ازعبدالقادر سروری،انجمن ترقی اردو، حیدرآباد،۱۹۵۶؁ء

۱۱۔لسانی مطالعے از گیان چند جین،ترقی اردو بورڈ،نئی دہلی،۱۹۷۹؁ء

۱۲۔مقدمہ تاریخ زبان اردو از مسعود حسین خان،ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ،۱۹۹۹؁ء

***

Leave a Reply