ساجھی سنسکرتی کی زبان اردو

ڈاکٹرتوقیر عالم توقیرؔ

اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو

مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی، پٹنہ

ساجھی سنسکرتی کی زبان اردو

ساجھی سنسکرتی یا مشترکہ تہذیب اوراردو شیر وشکر کی طرح ہیں۔اردو کو مشترکہ تہذیب کہیں یامشترکہ تہذیب کو اردو بات ایک ہی ہے۔ اردو کاوجود بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کارشتہ مشترکہ تہذیب سے کتناگہرا ہے،کیوں کہ یہ زبان نہ عربی الاصل ہے ،نہ ہندی الاصل۔نہ فارسی اس کی مورث ہے ، نہ ترکی اس کی ماویٰ اور نہ ہی سنسکرت اس کی ملجا،بلکہ ان تمام زبانوںاورکئی ہندوستانی بولیوں کی چاشنی کسی ایک زبان میںدیکھنی ہو تواس کانام اردو ہے۔اوراس پریہ بات اضافہ ہے کہ سماج کے مختلف رنگ اورتہذیب کے مختلف روپ جو ہندوستان کی جان ہے، کو ایک کوزے میں سموکر ’جام جمشید‘ بنانے کا ہنر بھی اردو نے ہی سکھایاہے۔اسی لئےیہ گنگا جمنی تہذیب کی علامت ، ساجھی سنسکرتی کاسرمایہ ،رواداری کی پاسداراورمحبت کی علمبردار کے طور پرتسلیم کی جاتی ہے۔اردونےہمیشہ دو دلوں  کو جوڑاہےاورانسانیت کا درس دیاہے ۔ یہ رواداری کی انتہاتھی کہ غالب نے کہا  ؎

رواداری بشرط استواری ا صل ایماں ہے

مرے بت خانے میں توکعبہ میں گاڑوبرہمن کو

ساجھی سنسکرتی اوراردوکے حوالے سے کلام ایک جملے میں ختم کی جاسکتی ہے کہ اردو اور مشترکہ تہذیب لازم وملزوم ہیں۔ ایک دوسرے کےبغیران کاتصور ناممکن ساہے۔ اردوکے معروف ناقد اورادیب آل احمد سرور کے عہد میںجب مشترکہ تہذیب کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے اپنے مضمون کاآغاز ان لفظوں سے کیا کہ:

’’بظاہر اردو اور ہندوستانی تہذیب کے موضوع پر کہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے تھی کیوں کہ اردو ایک جدید ہندوستانی زبان ہے اورہماری مشترکہ تہذیب کی ایک شاندار مظہر۔‘‘

                                             (اردواورمشترکہ ہندوستانی تہذیب، ص۔۷۱)

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تقسیم ملک نے ہماری مشترکہ تہذیب اور اردوزبان کو بہت نقصان پہنچایا،جس کے سبب یہ کہنے کی ضرورت بھی پیش آئی ہے کہ اردو مشترکہ تہذیب کی زبان ہے۔ ورنہ اردو زبان کی تاریخ اور مشترکہ تہذیب کی روایت اس بات کی دلیل فراہم کرتی ہے کہ اردو کاتصور ساجھی سنسکرتی کے بغیر کیا ہی نہیں جاسکتا۔

اس بات سے کس کو انکار ہوسکتاہے کہ ہندوستان میں مختلف رنگ ونسل، تہذیب وتمدن، مذہب وملت اورملک کے مختلف علاقوں میںجداجدا بولیوںاور زبانوںکے باشندے آباد ہیں ۔اور مسلم حکمراں عربی اور فارسی زبانوں کے ساتھ جب اس ملک میں وارد ہوئے توباہمی میل جول اور ایک دوسرے کی ضرورتوں نے ایک ایسی زبان کی بنیاد رکھنی شروع کی جس میں عرب اور ایران سے آنے والی زبان کے ساتھ مقامی بولیوں کااشتراک تھا۔ اس رنگارنگی کے درمیان دیکھتے ہی دیکھتے اردوایک ایسی زبان بن کرنمودارہوئی جس میں کسی علاقے، کسی مذہب ،کسی تہذیب اورکسی نسل کی اجارہ داری اور برتری نہ تھی،لیکن اس کا سب سے تعلق رہااور سب اس سےمتعلق رہے۔جب دکن میں کئی زبانیں پھل پھول رہی تھیں تب اردوان کے درمیان مشترکہ زبان بن گئی۔ دہلی، پنجاب، اترپردیش، بہار اور بنگال ہر جگہ الگ الگ زبانیں بولنے والوںنے اردو کو اپنی زبان سمجھا اور اپنی مادری زبانوں کے درمیان اردو کو مشترکہ زبان کے طو رپر اپنایا ۔ اردو کے پرستاروں کی اسی بے لوث جذبے سے کی گئی آبیاری سے اردو مشترکہ زبان بنی جس کے بطن میں مشترکہ تہذیب پلتی اور بڑھتی رہی ہے۔اسی زبان نے کثرت میں وحدت کا پیغام سنایا اورگنگا جمنی تہذیب کوپروان چڑھایا۔

اردو کے مشترکہ مزاج کی بناپرہی اسے ہندوستانی بھی کہاگیا۔ مہاتماگاندھی اور پریم چند جیسی عظیم ہستیاں اسی ہندوستانی کورواج دینا چاہتی تھیں لیکن کہنے کی بات یہ ہے کہ نامساعد حالات میں اگرچہ اردو کوایک الگ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ،اس کے باوجود اردواپنی مشترکہ تہذیب کے ساتھ برقراررہی اورآج بھی برقرار ہے اوراکثریت اس ساجھی سنسکرتی کی نہ صرف قائل ہے بلکہ اسی شکل میں اسے پروان چڑھانابھی چاہتی ہے اور مستقبل میں اسی وراثت کے ساتھ اسے تابناک صورت میں دیکھنا بھی چاہتی ہے۔

اردوساجھی سنسکرتی یا مشترکہ تہذیب کی زبان اس لئے بھی ہے کہ اس کے افعال ومصادر، محاورے، الفاظ، اصطلاحات، سابقے ولاحقے اور حروف عربی وفارسی کے ساتھ ساتھ سنسکرت اورہندی کے بھی ہیں۔اسمااورصفات بھی الگ الگ زبانوں کے شامل ہیں۔ اعدادوشمار اردو اور ہندی دونوں کے ایک ہیں۔درحقیقت اس زبان میں اتنی لچک ہے کہ ہرزبان کے الفاظ کو بہ آسانی اپنے دامن میں سمیٹ لینے پرقادرہے۔ مشترکہ تہذیب کی زبان اردو اس لئے بھی ہے کہ الگ الگ مذاہب اور رنگ ونسل کے شعرا و ادبا نے اپنے اپنے خیالات وافکار سےاس کے سرمایے کو رنگا رنگ بنادیاہے۔زبان وبیان، فکر وفن ،لفظ ومعنی،ہیئت و اسلوب یعنی روح و جسم ہر سطح پر اردواپنے مشترکہ تہذیب یا ہندوستانیت کاعلمبردار ہونے کااعلان کرتی ہے۔خواجہ احمدفاروقی نے کس پتے کی بات کہی ہے:

’’اردو نے فارسی سے استفادہ کیاہے لیکن اس کی رگوںمیں ہندوستانی خون ہے۔ اس کاادب ہندوستانی تہذیب کی رنگارنگ فضا میں پروان چڑھاہے، اس کی بیانیہ نظمیں، اس کے بارہ ماسے، اس میں محبت کی لفظیات، بیان فراق یا برہ ورنن، اس کی بعض صوفی اصطلاحیں، بعض اورادو وظائف، ذوق وشوق کے کلمات، پیا اورساجن، رسم وراج، وضع قطع، لباس وآرائش، گھر کی فضا،غرض اس کی زمین، اس کا آسمان یکسر ہندی الاصل ہیں۔‘‘

                           (اردو ادب اور قومی یک جہتی، خواجہ احمدفاروقی، ’غالب نامہ‘ص،۴۷۔۴۸)

یہ اس لئے ممکن ہوا کہ ہندو اورمسلمان صدیوں تک اپنی اپنی ثقافت اورتمدن کے ساتھ ایک ساتھ دوستانہ ماحول میں رہتے ہوئے رسم وراہ بڑھاتے رہے، رواداری کوفروغ دیتے رہے، ایک دوسرے کے غم کو بانٹتے رہے اورایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے رہے۔ اسی کانام تو مشترکہ تہذیب ہے۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ کبیر، گرونانک،معین الدین چشیؒ اور دوسرے بہت سے صوفی ، سنت اور بزرگوںنے نہ صرف دو قوموں کوقریب کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اس تعلق سے پیداہونے والی تہذیب کاوارث بھی بنادیا۔ہم عبدالرحیم خان خاناں کو کیسے بھول سکتےہیں جس کا تعلق بھکتی تحریک سے رہا۔ جس نے کہا تھا:

رحیمن دھاگا پریم کا نا توڑو چٹکائے

ٹوٹے سے پھر ناملئے،ملئے گانٹھ پڑی جائے

ہم سید ابراہیم رسخان کوکیسے فراموش کرسکتےہیں جس کی بھکتی کرشن جی سے تھی۔

اور محسن کاکوروی جوایک بڑے نعت گو شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں، انہوں نےاپنے ایک نعتیہ قصیدے کاآغاز جس انداز سے کیا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ ذرا قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:

سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل

برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل

گھر میں اشنان کریں سرو قدانِ گوکل

جاکے جمنا پہ نہانا بھی ہے اک طول امل

خبراڑتی ہوئی آئی ہے مہابن سے ابھی

کہ چلے آتے ہیں تیرتھ کو ہوا پر بادل

دیکھئے ہوگا سری کرشن کا کیوں کر درشن

سینۂ تنگ میں دل گوپیوں کا ہے بیکل

اور یہ اشعار کس کے ہیںـ؟

بلوائیں مجھے شاد جو سلطانِ مدینہ

جاتے ہی میں ہوں جاؤں گا قربانِ مدینہ

وہ گھر ہے خدا کا تو یہ محبوبِ خدا ہیں

کعبے سے بھی اعلیٰ نہ ہو کیوں شانِ مدینہ

مومن جو نہیں ہوں تو میں کافر بھی نہیں شاد

اس رمز سے آگاہ ہیں سلطانِ مدینہﷺ

یہ مہاراجہ سرکشن پرشادشادکے اشعار ہیں جن سے اسی مشترکہ زبان اور مشترکہ تہذیب کی خوشبوپھوٹ رہی ہےجو کشور ہند کی شناخت رہی ہے۔کشن پرشادانتہائی سیکولر مزاج انسان تھے۔انہوں نے ہندو اور مسلم عورتوں سے شادیاں کیں اوران کی پرورش ان کی مائوں کے مذہب پرکی۔ ایک مورخ کے مطابق جب وہ ہندو بیوی کے پاس جاتے تھے تو شاکاہاری بن جاتے تھے اور مسلم بیوی کے پاس جاتے تھے تو مانساہاری۔

یہ مثالیں یہیں پر ختم نہیںہوجاتیںبلکہ ان کے لئے ایک دفتر چاہئے۔البتہ کچھ ناموروں کے حوالے سے اس بات کوسمجھا جاسکتاہے کہ اردو کی مشترکہ تہذیب کتنی گہرائی اورگیرائی رکھتی ہے۔ہری چند اختر کہتے ہیں:

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کے نام پر

اﷲ اﷲ موت کو کس نے مسیحا کر دیا

کہہ دیا لا تقنطوا اخترؔ کسی نے کان میں

اور دل کو سر بسر محوِ تمنا کر دیا

اورسرورؔ کہتے ہیں:

حسرت  کش  تکلم  ہے  تیرا  اک  زمانہ               ہے شیخ و برہمن کے لب پر ترا ترانہ

وحدت کاتیرے یارب میں بھی سنوں فسانہ     با  سوز  عاشقانہ  با  سوز  مطربانہ

                                    پردے میں بانسری کے مجھ کوصدا سنادے

                                    بنسی بجانے والے وحدت کا گیت گادے

ان حوالوںسے اردو ادب کی تاریخ بھری پڑی ہے اورخوش آئند بات یہ ہے کہ اس کاسلسلہ عہد رواں تک دراز ہے  اور اس قبیل سے تعلق رکھنے والے شعراوادبااپنے خون جگر سے اس روایت کوبچانے اورفروغ دینے میں مصروف عمل ہیں۔ اردو کے غیر مسلم شعرا عید پرنظمیں ، قصیدے اور حمد ونعت لکھتے ہیں تو مسلم شعرا ہولی اوردیوالی پرنظموں کے ساتھ کرشن جی سے اپنی عقیدت کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ اوریہ سب کچھ ایک ہی حوالے سے ممکن ہوپایا ہے اوروہ ہے اردوزبان!

یہاںیہ بات بھی کہنے کی ضرورت ہے کہ اردو کومشترکہ تہذیب کی زبان بنانے میں بادشاہوں اورامرا نے بھی اہم کارنامے انجام دئے ہیں۔ چونکہ بادشاہ اورامرا ہندوستان پر حکومت کرنے کےلئے یہ ضروری خیال کرتے تھے کہ ہندو اور مسلمان کے درمیان میل جول اور بھائی چارہ قائم رہے۔ اس لئے وہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ رواداری برتتے تھے اور ان کےحقوق کا پورا پورا خیال رکھتے تھے۔ مغل شہنشاہ اکبر نے شاہ عباس صفوی کوایک خط میں لکھا تھا:

’’نوع انسانی کے مختلف فرقے، دولت خداداد اورودیعت الٰہی ہیں۔ ان کے ساتھ محبت کا سلوک لازم ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ رحمت خداوندی ہر مذہب کے شامل حال ہے۔ اور دل وجان سے کوشش کرنا چاہئے کہ صلح کے سدا بہار باغ کا لطف اٹھائیں۔ خدائے لایزال اپنی نعمتیں بلاتفریق سب انسانوں کو بخشتا ہے۔ بادشاہوں کوجوظل الٰہی ہیں یہ اصول ترک نہ کرنا چاہئے۔‘‘

                                    (بحوالہ اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب، ص،۳۵)

اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کہ ایک مختصر مقالے میں ایسے وسیع موضوع کااحاطہ کیا جاسکے گا لیکن جواشارے کیئے گئے ان سے یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ہماری مشترکہ تاریخ کتنی شاندار رہی ہے، ہماری تہذیب کیسی مالا مال رہی ہے، ہماری زبان اردو جو ہندوستان ہی کی پرورہ ہےکیسی ہر دل عزیز رہی ہے اور اس زبان کےوسیلے سے ہندواور مسلمان کے درمیان کیسی رواداری رہی ہے۔ اس کی مثالیں ڈھونڈنے سے شاید ہی ملیں۔ پروفیسر مسعود حسین خاں نےاردو کی اسی خوبصورتی اور اس کی لازوال روایتوں کو یاد کرتے ہوئے خوب کہاہے کہـ:

’’اردو زبان کی اس قومی اوربین قومی حیثیتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر اس کے قدیم وجدید ادب کاجائزہ لیا جائے تو اس پریہ الزام بے بنیاد ہوجاتاہے کہ یہ ہندوستان کی’سنسکرتی‘ سے تہی اور اس ملک کی بوباس سے عاری ہے۔ اردو بنیادی طو ر پر ہندوستانی تہذیب کے ازمنۂ وسطیٰ کی ترجمان ہے۔ حسن ومحبت کے جوانداز، گل وگلاب وبلبل کے جوچرچے، ہجر و وصال کے جو لطیفے، چاہ اور چائو کے جو لبھائو اس وقت عام تھے اردو ادب ان سب کا ترجمان رہاہے۔ہاں جولوگ ازمنۂ وسطیٰ کی ہندوستانی تہذیب کے منکر ہیں اور اس ملک کی تاریخ کوخانوں میں بانٹ کر دیکھنے کے عادی ہیں انہیں اردو ادب کے کرداروں میں بہت سے اجنبی چہرے، اس کے چمن میں بہت سےبدیسی پھول اور اس کے نگارخانے میں بہت سی نئی تصویریں نظر آئیںگی۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو تاریخ کے تسلسل پر نظررکھتے ہیں، مظاہر کی کثرت میں ہندوستانی روح  کی وحدت کی پرکھ جانتے ہیں انہیں سورنگوںمیں ایک ہی مضمون نظر آئے گا۔‘‘

                  (اردو اد ب میں قومی یک جہتی،مسعود حسین خاں، بحوالہ اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب، ص۔۱۱۴)

بہرکیف ہم یہ نہ سوچیں کہ اردو کسی ایک قوم کی زبان ہے یا اردو میں روزگارکے مواقع کم ہیں تو اسے پڑھنے کی ضرورت کیاہے؟ بلکہ یہ سوچیں کہ اردو ایک زبان نہیں ایک تہذیب کانام ہے۔ اردو زندہ رہے گی تو ایک تہذیب زندہ رہے گی۔ ایک ایسی تہذیب جو اس ملک کی مشترکہ تہذیب ہے۔

……………..

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *