
فریدہ انجم
پٹنہ سٹی
ساون
برسے بادل کی ایسی رے بوچھار
جیسے ساون دکھائے اپنی بہار
اموہ کی ڈالی پر بولےکوئلیا
جھولا جھولیں کہ گائیں سب ملہار
تازہ تازہ ہوا کا ہے جھونکا
لے اڑی ہے چنریا جوں اس پار
مجھ کو کھینچے کشش جو ساون کی
کرتی جاؤں گی میں تو سولہ سنگھار
بیٹھی بیٹھی روؤں میں اگنواں میں
ہے ہمیں تو ترا ہی بس انتظار
کیسی باتیں کریں مری سکھیاں
آئے چل ہٹ سجن مرے اس بار
دل کی کھڑکی کھلی کھلی جائے
دل کو انجم ملے نہ اب تو قرار
***