
ڈاکٹر محمدمحسن
کروڑی مل کالج ، دہلی یونیورسٹی ،دہلی
سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘: ایک جائزہ
سعادت حسن منٹو اردو فکشن کے ایک اہم ستون تسلیم کیے جاتے ہیں ۔وہ بیک وقت افسانہ نگار ، ناول نگار، ڈراما نگار ، خاکہ نگار ،مکتوب نگار، مضمون نویس اورفلمی کہانی کار بھی تھے ۔لیکن کہ ان کا اصل میدان افسانہ نگاری تھا۔ انھوں نے افسانے کو مختلف النوع موضوعات سے ہم آہنگ کیا۔جس وجہ سے اردو افسانوی ادب میں سعادت حسن منٹو ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے مختلف ادبیات وادیان کا بغور مطالعہ کیا ۔ بعدہٗ انھوں نے اردو افسانے کی دنیا میں ایسی رود جاری وساری کی ،جس سے ان کے ہم عصروں کے ساتھ ساتھ نئی نسلیں بھی اپنی تشنگی بجھاتے آرہے ہیں۔ منٹو اردو کے واحد ایسے افسانہ نگار ہیں جو فن وتکنیک کے اسراررموز سے بخوبی آشنا تھے ۔ ان کے تمام افسانے فن کی کسوٹی پر مکمل اترتے ہیں ۔سعادت حسن منٹو ترقی پسند افسانہ نگار تھے اسی وجہ سے ان کے افسانے، حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کی ترجمانی بڑے ہی فنکارانہ انداز میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اردو ادب کے بلند پایہ افسانہ نگار منٹو کا اصل نام سعادت حسن تھا۔ان کے والد کا نام مولوی خواجہ غلام حسن تھا،جو حکومتِ پنجاب میں بحیثیت جج ایک بڑے عہدے پر فائز تھے ۔ عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی ولادت ۱۱؍مئی ۱۹۱۲ءکوان کی دوسری بیگم سردار بیگم سے گاؤں سمبرالا،ضلع لدھیانہ (پنجاب) میں ہوئی ۔ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سےمنٹو کا داخلہ چوتھی کلاس میں سن ۱۹۲۱ء کو ایم۔اے ۔او میڈل اسکول امرتسرمیں ہوا ۔یہیں ان کی ابتدائی تعلیم ہوئی۔اسی زمانے میں انھوں نے اردو، فارسی ، عربی اور انگریزی زبان کی تعلیم میں مہارت حاصل کرلی ۔ منٹو کو ۱۹۳۱ء میں مسلم ہائی اسکول شریف پورہ ،امرتسر سے دسویں جماعت کے امتحان میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس سے پہلے وہ میٹرک کے امتحان میں تین بار فیل ہوچکے تھے ۔غور طلب ہے کہ سعادت حسن منٹو جیسے عظیم افسانہ نگار تینوں مرتبہ اردو کے پیپر میں ہی فیل ہوتے رہے ۔نیز وہ ایف۔اے کرنے کی غرض سے ۱۹۳۱ء میں ’’ہندوسبھا‘‘ کالج امرتسر (پنجاب)میں داخل ہوئے لیکن وہاں انھیں کامیابی نہ مل سکی ۔ اس کے بعد سعادت حسن منٹو نے پھر ۱۹۳۳ ءمیں اپنا نام ایم۔اے ۔او کالج امرتسر میں اندراج کروایا مگر قسمت دوسری بار بھی مہربان نہ ہوسکی ۔البتہ سعادت حسن منٹو اپنی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے برابر جدوجہد کرتے رہے ۔مزید یہ ہے کہ انھوں نے اپنی علمی تشنگی بجھانے کے لیے علم کے گہوارےعلی گڑھ کی سرزمین پر بھی اپنی موجودگی درج کروائی ۔ انھوں نے آگے کی تعلیم جاری رکھنے کی غرض سے ہندوستان کےمعروف ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔یہ 1935 کا زمانہ تھا۔لیکن یونیورسٹی کے حکام نے دِق کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث ان کا داخلہ منسوخ کردیا۔اس طرح سعادت حسن منٹو علی گڑھ سے ناامید ہوکر اپنے آبائی وطن امرتسر واپس لوٹ آئے۔
سعادت حسن منٹو کو اپنے طالب علمی کے زمانے سے ہی ادب سے گہرا لگاؤ ہوگیا تھا۔تدریس کے دوران ہی ایم۔ اے ۔اوکالج امرتسر کے ایک رسالہ ’’ہلال‘‘ کے ایڈیٹر کے عہدے پر فائزہوگئے تھے ۔ کالج میگزین میں سعادت حسن منٹو کی تحریریں اکثروبیشتر چھپتی رہتی تھیں۔اسی عہدمیں ہی وہ روسو ، مارکس ،لینن ، ٹراسکی،اسٹالین، گورکی اور وکٹرہیوگو جیسے متعدد روسی قلم کاروں کا مطالعہ کرچکے تھے ،جس کے باعث ان کی صلاحیت میں اعلیٰ درجے کا نکھارآیا ۔اسی زماے میں سعادت حسن منٹو کی ملاقات اخبار’’مساوات‘‘ (امرتسر) کے مدیر باری علیگ سے ہوئی تھی ۔باری علیگ ایک اعلیٰ پایہ کے باوقار اور باصلاحیت شخص تھے ۔ انہوں نے ہی سعادت حسن منٹو کو شعروادب کی دنیا کی طرف مائل کیا ۔ ادبی وتخلیقی راہ پر منٹو کو گامزن کرنے میں فلسفی باری علیگ کا اہم اور نمایا ں کردار رہا ہے ۔سعادت حسن منٹو نے اپنے اس مخلص دوست کے سلسلے سے جابجا یہ اقرار کیا ہے کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں یہ فلسفی باری علیگ کی ہی عنایت ہے ۔عالی مرتبت افسانہ نگار سعادت حسن منٹو اپنی ادبی وتخلیقی زندگی کی ابتدا اخبار’’مساوات‘‘ (امرتسر) میں فن کالم نگاری سے کیا تھا ۔علاوہ ازیں انھوں نے اپریل ۱۹۳۳ء کو اپنی پہلی تحریرتبصرہ اخبار ’’مساوات‘‘ (امرتسر) سے ہی شائع کیا تھا ۔ فلسفی باری علیگ نے پہلی ملاقات کے دوران ہی سعادت حسن منٹو کو مشورہ دیا کہ تیرتھ رام فیروز پوری کے ناول کی جگہ غیر ملکی ادیب آسکروائلڈ اور وکٹر ہیوگو کی تصانیف کا مطالعہ کریں۔ اس مفید آمیز رہنمائی کے باعث سعادت حسن منٹو پر یہ رنگ چڑھا کہ انھوں نے وکٹر ہیوگو کے ناول ’’لاسٹ دیز آف اے کنڈیمڈ‘‘ کو اردو زبان میں ’’اسیر کی سرگزشت ‘‘ کے نام سے ۱۹۳۳ءمیں منتقل کیا تھا۔ مزید یہ کہ اس کتاب کی اصلاح خود باری علیگ نے کیا ۔ اس کے علاوہ سعادت حسن منٹو نے ترجمے کی دنیا میں اپنا یہ فرض پیش کیا کہ اسی دور میں وہ آسکروائلڈ کا مشہور ومعروف ڈراما’’ویرا‘‘ کا بھی عمدہ ترجمہ پیش کیا ۔جس تصنیف کی اصلاح اردو شعروادب کے مشہور ومعروف شاعر اختر شیرانی نے فرمائی تھی ۔ اسی اثنا میں فلسفی باری علیگ صاحب نے اخبار ’’مساوات‘‘(امرتسر) کی ملازمت ترک کرکے ہفت روزہ اخبار’’خلق ‘‘ (امرتسر) میں بحیثیت مدیر شامل ہوگئےتھے۔ سعادت حسن منٹو کا اولین افسانہ’’ تماشا‘‘ اگست ۱۹۳۴ء کو خلق کے شمارہ اول میں ہی شائع ہوا تھا۔
سعادت حسن منٹو نے ۱۹۳۶ء میں ذریعۂ معاش کی خاطر ایک ہفت روزہ اخبار ’’پارس‘‘(لاہور ) میں ایڈیٹر کی حیثیت سے نوکری قبول کرلی تھی ۔ ہر بشر کی طرح سعادت حسن منٹو بھی کچھ مہینے کے بعد بہتر روزگار کی تلاش میں لاہور سے ہجرت کرکے بمبئی چلے گئے ۔ دسمبر ۱۹۳۶ء میں وہ ہفت روزہ صحیفہ ’’ مصور ‘‘بمبئی میں اپنی ملازمت بحیثیت مدیر اخیتار کرلی اور ساتھ ہی ساتھ ایک محرر کی حیثیت سے ’’امپریل‘‘ فلم کمپنی (بمبئی) میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔ ان دونوں جگہوں سے منفصل ہونے کے بعد سعادت حسن منٹو مئی ۱۹۳۷ء کو ہفت روزہ’’سماج‘‘(بمبئی) سے بطور ایڈیٹر منسلک ہوگئے ۔ لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد وہ دوبارہ جولائی ۱۹۴۰ء کو ’’مصور‘‘ (بمبئی ) میں واپس آگئے۔بعدہٗ انھوں نے منظر ومکالمہ نگاری اور کہانی کار کی حیثیت سے ایک فلم کمپنی ’’سروج مودی ٹون‘‘ میں اگست ۱۹۳۸ء میں شریک ہوئے۔اس کے بعد منٹو نومبر ۱۹۳۸ء میں فلم کمپنی ’’ہندوستان سنے ٹون‘‘ کے لیے مکالمہ نگار کی حیثیت سے اپنے کارہائے نمایاں انجام دینے لگے ۔اس کے علاوہ انہوں نے ’’فیمس فکچرز لمٹیڈ‘‘ میں بھی سرگرداں رہے۔البتہ کچھ ہی دنوں بعد اس سے الگ ہوکر اگست ۱۹۴۰ء میں وہ بابو راؤ پٹیل کے ہفت روزہ ’’کارواں‘‘میں مدیر کے عہدے پر فائز ہوگئے ۔ اسی دوران سعادت حسن منٹو کی زندگی میں تبدیلی آئی اور وہ جنوری ۱۹۴۱ء میں’’آل انڈیا ریڈیو ‘‘ دہلی میں ڈرامہ نگارکی حیثیت سے نوکری قبول کر لی تھی ۔ اسی عہد میں سعادت حسن منٹو کی دوستی کرشن چندر، ن ۔ م راشد ،اوپندر ناتھ اشک ، عصمت چغتائی اور احمد ندیم قاسمی وغیرہ مشہور ومعروف ادباء سے ہوگئی تھی ۔ ریڈیو میں ملازمت کے دوران ہی سعادت حسن منٹو سیکڑوں مستند ادبی اور ریڈیائی ڈرامے لکھے۔
سعادت حسن منٹو ’’آل انڈیا ریڈیو‘‘ دہلی کی نوکری چھوڑ کر بمبئی واپس چلے گئے ۔ جہاں وہ اکتوبر ۱۹۴۲ء میں پھر سے صحیفہ ’’مصور‘‘ (بمبئی) میں مدیر اعلیٰ کے عہدے پر مقیم ہوگئے تھے ۔اس کے بعد ان کی ملاقات مشہور ومعروف فلم ’’خاندان‘‘ کے ڈائریکٹر شوکت رضوی سے ہوئی تھی ۔ان دنوں شوکت رضوی فلم’’نوکر‘‘ فلما رہے تھے ۔ جس کے مکالمے تحریر کرنے کی ذمہ داری انہوں نے سعادت حسن منٹو کے حوالے کی۔ مگر ان کو خبر موصول ہوئی کہ شوکت رضوی اس فلم کے مکالمے دیگر لوگوں سے بھی تحریر کروارہے ہیں ان کا یہ عمل سعادت حسن منٹو کو نہایت ہی ناگوار گزرا،اور اس کی پاداش میں انہوں نے شوکت رضوی کی فلم’’ نوکر‘‘ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ بہر حال ان کی ملاقات ’’فلمستان لمٹیڈ‘‘(۱۹۴۳)کے بانی سشادھرمکھرجی سے ہوئی۔ سعادت حسن منٹو اس کمپنی سے وابستہ ہوگئے ۔ اسی دوران اشوک کمار سے ان کا دوستانہ ویارانہ رشتہ قائم ہوگیا ۔ اشوک کمار ’’بمبئی ٹاکیز‘‘ کے مالک تھے اسی لیے سعادت حسن منٹو بھی فلم کمپنی ’’بمبئی ٹاکیز‘‘ سے منسلک ہوگئے اوراس کمپنی کے لیے وہ کہانیاں لکھنے لگے ۔ اسی عہد میں ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے کا معاملہ گرم تھا اور ملک میں ہر جگہ فرقہ وارانہ فسادات ہورہے تھے ۔ اسی اثنا میں اشوک کمار فلم’’محل‘‘ بنارہے تھے اور اس فلم میں سعادت حسن منٹو کی کہانی کو نظر انداز کرکے کمال امروہی کی کہانی کو ترجیح دی ۔جس کی بنا پر سعادت حسن منٹو کو بہت کوفت پہنچی ۔ بہر کیف سعادت حسن منٹو کی اہلیہ ہنگامے شروع ہونے سےقبل ہی اپنے رشتہ داروں سے ملنے لاہور (پاکستان) گئی ہوئی تھیں۔ ہندوپاک کی تقسیم کی وجہ سے ہر جگہ انتشار وبدامنی پھیلی ہوئی تھی ۔جس کے باعث ان کی بیگم ہندوستان واپس نہ لوٹ پائیں اور ادھر سعادت حسن منٹو بھی اپنے دوست اشوک کمار سے نالاں تو تھے ہی ۔بالآ خر وہ لاہور (پاکستان) ہمیشہ ہمیش کے لیے چلے گئے ۔
سعادت حسن منٹو کی شادی ان کی ماں کی خواہش کے مطابق ۲۶؍اپریل ۱۹۳۹ء کو بمبئی میں ایک معزز کشمیری خاندان کی لڑکی صفیہ سے عمل میں آئی ۔سعادت حسن منٹو کی زندگی آخری ایام میں شراب نوشی کی وجہ سے نہایت ہی تنگدستی اور مفلسی میں گزری اور مالی حالات بد سے بدتر ہوگئے تھے ۔ شراب نوشی کی وجہ سےسعادت حسن منٹو کی صحت دن بدن بگڑتی جارہی تھی۔ ایسی حالت میں بھی وہ مےنوشی سے باز نہیں آئے۔ بلکہ اس میں اضافہ ہوتا رہا ۔اسی عہد میں ایک شب ان کی طبیعت شدید بگڑ گئی ڈاکٹر وں نے تجویز پیش کی کہ فوراً انھیں ہسپتال لے جائیں لیکن سعادت حسن منٹو ہسپتال جانے کے لیے راضی نہ تھے ۔ کچھ ہی لمحے کے بعد انہوں نے اپنے بھانجے سے یہ کہا کہ میری جیب میں کچھ روپیے ہونگے اور باقی روپیے تم اپنی طرف سے شامل کر کے شراب کی بوتل لے آؤ۔ان کی یہ خواہش بھی پوری کی گئی۔ مگر کچھ بوندیں پیتے ہی بے ہوش ہوگئے ۔ ہسپتال کے لیے روانہ ہوئے لیکن سعادت حسن منٹو راستے میں ہی اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔اس طرح اردو کا یہ عظیم فنکار ۱۸؍جنوری ۱۹۵۵ء کو ہم سے جدا ہوگیا۔منٹو کے حوالے سے وارث علوی لکھتے ہیں:
’’رات کے پچھلے پہر شدید درد محسوس ہوا ۔پورا گھر جاگ اٹھا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ہسپتال پہنچا دیا جائے ۔ منٹو بول اٹھا۔’’اب بہت دیر ہوچکی ہے ۔مجھے ہسپتال نہ لے جاؤ اور یہیں سکون سے پڑا رہنے دو۔‘‘ کچھ دیر بعد اس کی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہوئی آہستہ سے کہا’’میرے کوٹ کی جیب میں ساڑھے تین روپیے پڑے ہیں ۔ ان میں کچھ اور پیسے ملاکر تھوڑی سی وہسکی منگادو‘‘اس کی تسلی کے لیے ایک پوّا منگایا گیا ۔ اس نے بوتل کو بڑی عجیب اور آسودہ نگاہ سے دیکھا اور کہا ’’میرے لیے دوپیک بنادو۔‘‘
(ہندوستانی ادب کے معمارسعادت حسن منٹو ۔وارث علوی ۔صفحہ ۲۴)
سعادت حسن منٹو پاکستان نہیں جاتے تو بہتر ہوتا ۔ وہاں ان کی زندگی بد سے بدتر ہوگئی تھی ۔ان کی زندگی کے آخری ایام بہت ہی کسم پرسی میں گزرے۔ قیام پاکستان کے بعد جو وہاں کی سات سالہ زندگی تھی اس میں کئی نمائندہ افسانے’ نیاقانون‘، ’کھول دو‘اور ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ وغیرہ لکھے ۔ اس عہد کے افسانے ان کے تمام افسانوں پر فوقیت رکھتے ہیں ۔ سعادت حسن منٹو کی وفات کے بعد ان کی نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں حکومت ِ پاکستان نے انھیں ملک کا سب سے اعلیٰ ترین اعزاز ’’نشانِ امتیاز‘‘ سے سرفراز کیا۔
سعادت حسن منٹو نے سکیڑوں ڈرامے تحریر کیے ۔ ان کے کل سات ڈراموں کے مجموعے منظر عام پر آئے ۔جن کے نام’’آؤ‘‘ ’’منٹو کے ڈرامے‘‘،’’جنازے‘‘،’’تین عورتیں‘‘، ’’افسانے اور ڈرامے‘‘ ،’’کروٹ‘‘ اور ’’شیطان‘‘ ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے ڈرامے کے ساتھ ساتھ خاکے بھی لکھے ہیں ۔ جو ’’ منٹو کے مضامین ‘‘ ،’’ تلخ،ترش اور شریں‘‘ اور ’’ اوپر نیچے اور درمیان‘‘ ہیں۔ اگر منٹو کی مکتوب نگاری پر بات کی جائے تو ان کے دو خطوط کے مجموعے’’خطوط منٹو‘‘ اور’’مکتوبات منٹو‘‘ شائع ہو چکے ہیں ۔ سعادت حسن منٹو بہ حیثیت ترجمہ نگار بھی معروف ہیں ۔انہوں نے کئی روسی افسانے ، ڈرامے اور نظموں کا ترجمہ نہایت ہی عمدہ طریقے سے کیا ہے۔ روسی ادب نمبر اور فرانسیسی ادب نمبر بھی مرتب کیے تھے جو جریدہ ’’عالمگیر‘‘(لاہور) اور ’’ہمایوں ‘‘(لاہور) میں سلسلہ وار شائع ہوا تھا ۔ سعادت حسن منٹو کی تخلیقی خدمات پر نظرڈالی جائے تو وہ اردو افسانہ کے ایک عظیم فن کار تھے ۔
سعادت حسن منٹو کی تخلیق کا اصل میدان افسانہ نگاری تھا ۔ ان کے زیادہ تر افسانوں کو جو شہر ت ومقبولیت حاصل ہوئی وہ شہرت ان کے ہم عصر افسانہ نگاروں کو میسر نہیں ہوئی۔ منٹو کے کل ’’۲۳‘‘ افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے ۔ اس طرح تقرباََ ۲۷۰ افسانے ملتے ہیں۔ان کے افسانوں میں’’جی آیا صاحب‘‘،’’نیا قانون‘‘،’’ٹیڑھی لکیر‘‘،’’کالی شلوار‘‘،’’دھواں‘‘،’’بو ‘‘ ،’’بابوگوپی ناتھ ‘‘،’’ہتک‘‘،’’ٹھنڈا گوشت‘‘،’’کھول دو ‘‘،’’موذیل‘‘،’’اوپر ،نیچے اور درمیان‘‘اور ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ وغیرہ کو شہرت حاصل ہے۔ وہ کارل مارکس ،لینن ،ٹرائسکی ،اسٹالن ،گورکی اور وکٹرہیوگو کے خیالات ونظریات اور ترقی پسند تحریک سے بھی مرعوب تھے ۔ البتہ مجموعی طور پر یہ کہنا درست ہوگا کہ انھوں نے اردو افسانہ نگاری کی دنیا میں اپنی ایک الگ راہ اختیار کی۔ اور اس راہ کی پیروی تا حیات کرتے رہے ہیں۔ منٹو کے زیادہ تر افسانے مثلاً’’نیا قانون‘‘،’’بابو گوپی ناتھ ‘‘ ،’’موذیل‘‘ اور ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ وغیرہ ان کے اصل میلانات اور رجحانات کی نمائندگی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو طوائف کی زندگی پر بھی کئی افسانے تحریر کیے۔جن میں ’’کالی شلوار‘‘،’’ہتک‘‘،’’دس روپیے‘‘،’’جانکی‘‘،’’برمی لڑکی‘‘،’’فوبھا بائی‘‘،’’شانتی ‘‘،’’شاردا‘‘،’’ممی‘‘،’’سراج ‘‘، ’’سوکینڈل پاور کا بلب‘‘اور ’’سرکنڈوں کے پیچھے‘‘ہیں۔
سعادت حسن منٹو کے افسانوں میں کردار نگاری کی بہترین مثال ملتی ہے ۔ وہ کردار نگاری کے مقابلے میں پلاٹ کو دوسرے مرحلے کی اشیاء گردانتے ہیں۔ سوگندھی،منگوکوچوان،بابو گوپی ناتھ،بشن سنگھ،سکینہ، سراج اور سلطانہ کے کردار اردو افسانوی دنیا کےلازوال کردار ہیں۔ بہر کیف سعادت حسن منٹو کے افسانوں کے مطالعے سے ایک اہم اور بنیادی عنصریہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد کے ایک عظیم جنسیات نگار تھے، اس میدان میں وہ اپنے ہم عصروں پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ان کے بیشتر افسانے اسی موضوع کے اردگرد طواف کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو معاشرے کی برائیوں پر پردہ ڈالنے کے حامل نظر نہیں آتے ۔ بلکہ اس کے برعکس وہ سماج کے غیر انسانی فعل کی حجاب کشی کرتے ہیں ۔سماج کی حقیقت پر اس طرح تصویر کشی کرنے کی وجہ سے ان پر انگشت نمائی بھی کی گئی ۔بہر حال وہ ایک افسانہ نگار سے زیادہ حقیقت نگار تھے ۔ بعدہٗ سعادت حسن منٹو کے کچھ افسانوں پر فحاشی کے الزام لگائے گئے اور مقدمے بھی عائد کیے گئے تھے۔ جن میں’’کالی شلوار‘‘،’’دھواں‘‘،’’بو‘‘،’’ٹھنڈا گوشت ‘‘ اور ’’کھول دو‘‘ ہیں۔ افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے فحش ہونے پر پاکستان میں مقدمہ چلا اور وہاں منٹو کو تین ماہ قید بامشقت کی سزا ملی ۔ جیل میں ہی ان کا دماغی توازن بگڑ گیا تھا۔جس کی وجہ سے ان کے احباب واقارب نے انھیں پاگل خانے کے حوالے کردیا تھا۔ اس کے بعد سعادت حسن منٹو نے اپنی بقیہ زندگی بے بسی اور ناامیدی میں گزاری۔
’ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘سعادت حسن منٹو کا ایک آفاقی شہرت یافتہ افسانہ ہے۔جو تقسیم ہند کے موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس افسانے میں تقسیم کے المیے کو ایک پاگل خانے کے پاگلوں کے پس پردہ پیش کیا گیا ہے۔ انہیں پاگلوں کے درمیان ایک پاگل سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والا بشن سنگھ اس افسانے کا مرکزی کردار ہے۔بشن سنگھ ہمیشہ یہی سوال کرتا رہتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟اسے نہ ہندوستان اور نہ ہی پاکستان سے دل چسپی تھی۔صرف اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی چاہت تھی۔
ہندو پاک کی تقسیم کے کچھ عرصے بعد دونوں ممالک کے سیاست دانوں نے یہ فیصلہ لیا کہ پاگلوں کا بھی بٹوارہ ہو نا چاہئے۔ ہندو اور سکھ پاگلوں کوجو پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انھیں ہندوستان اور جو مسلمان ہیں اور ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان بھیجا جائے۔اس فیصلے کی خبر جب لاہور کے پاگل خانے کے پاگلوں کو ہوئی تو پاگلوں میں بحث و تکرار ہونے لگی۔ایک پاگل نے ایک مسلمان پاگل سے استفسار کیا کہ مولوی صاحب یہ پاکستان کیا ہے؟ اس نے غور و فکر کرنے کے بعد یہ کہا کہ ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں ۔اسی طرح دریافت کا سلسلہ چلتا رہا کہ ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا جا رہا ہے۔ وہاں کی زبان ہمیں نہیں آتی۔
پاگل خانے میں کچھ ایسے بھی پاگل تھے جو قطعاََ پاگل نہیں تھے بلکہ یہ قاتل تھے۔ ان کے رشتے داروں نے انہیں پھانسی سے بچانے کی غرض سے افسروں کو رشوت دے کر پاگل خانے میں بھیج دیا تھا۔ یہ سارےپاگل ان تمام امور سے تھوڑے بہت آشنا تھےکہ یہ ہندو پاک کیا ہے۔ بہر کیف ایک پاگل ہندو پاک کی سیاست میں اس طرح مبتلا ہوا کہ مزید پاگل ہو گیا۔ایک روز کا واقعہ ہے کہ جھاڑولگاتے ہوئے ایک پاگل پیڑ پر چڑ ھ گیا۔اور نازک شاخ پر بیٹھ کر ہندوستان اور پاکستان کے باریک مسئلے پر مسلسل دو گھنٹے گفتگو کرتا رہا۔اور مزید یہ کہا کہ میں نہ ہندوستان اور نہ ہی پاکستان جاؤںگا بلکہ اسی درخت پر رہوں گا۔
انہیں پاگلوں کے درمیان ایک پاگل بشن سنگھ تھا ۔ تقریباََ پندرہ سال سے پاگل خانے میں قید تھا۔وہ نہ تورات اور نہ ہی دن میں سوتا تھا۔مسلسل کھڑے رہنے کی وجہ سے اس کے پاؤں بالکل سوج گئے تھے۔ وہ اس بات کا ہمیشہ اصرار کرتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ لیکن کسی نے تشفی بخش جواب نہیں دیا۔اس پاگل خانے میں کچھ ان کے آشنا بھی تھے۔جو مکمل طور پر واقف تھے کہ بشن سنگھ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک زمیندار ہے اور پاگل ہونے کے سبب ان کے خانوادے کے افراد اسے پاگل خانے چھوڑ آئے تھے۔مہینے میں اس کے رشتے دار ملنے ضرور آتے لیکن ہندوپاک کے بٹوارے کی وجہ سے ملاقات کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا۔اور اس سے اب ملنے کوئی نہیں آتا ۔
جب ہندوپاک کے مابین پاگلوں کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا۔ خبر پڑھ کر بشن سنگھ کا ایک مسلمان دوست اس سے ملاقات کرنے آیا۔ اور کہا کہ تمہارے رشتے دار صحیح و سلامت ہندوستان چلے گئے ۔جہاں تک ہو سکا میں نے بھی انہیں کافی مدد کی۔ مجھ کو اب خبر ملی کہ بشن سنگھ اب تم بھی ہندوستان جا رہے ہو۔اس لئے ملاقات کی غرض سے آ پہنچا ۔ وہاں بھائی بلویر سنگھ سے میرا سلام کہنا ۔ انہیں باتوں کے درمیان بشن سنگھ نے سوال کیا کہ بھائی یہ تو بتاؤ کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟فضل دین نے کہا کہ وہیں ہے جہاں تھا۔بہر کیف پاگلوں کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاگلوں کورات بھر سر حد پر لانے کا عمل جاری رہا۔ کیونکہ پاگلوں کا اس طرح سرحد تک لانا آسان معاملہ نہیں تھا۔ وہ ادھر ادھر بھاگ جاتے ۔ مزید یہ کہ ان میں کچھ تو بالکل ننگےتھے۔ کپڑے پہنائے جاتے لیکن وہ کپڑے پھاڑ کر بدن سے الگ کر دیتے ۔ کاغذی کاروائی مکمل ہو ئی۔ اسی درمیان بشن سنگھ نے ایک اہل کار سے استفسار کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ اہلکار نے مطمئن ہو کر کہا کہ پاکستان میں ہے ۔ یہ سن کر بشن سنگھ بہت تیز چل کر اپنے ساتھیوں کے پاس آگیا۔سپاہیوں نے بساط بھر کوشش کی لیکن بشن سنگھ جانے سے انکار کرتا رہا۔اس طرح سپاہیوں نے بھی مزید زور زبردستی نہیں کی۔ بشن سنگھ ہندوستان اور پاکستان کے سرحد پر رات بھر مسلسل کھڑا رہا ۔ سورج نکلنے سے کچھ لمحہ پہلے ایک زور دار چیخ کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ جسے سن کر سبھی لوگ اس جانب دوڑے چلے آتے ہیں۔یہ چیخ کی آواز بشن سنگھ کی تھی ۔بشن سنگھ تقریباََ پندرہ سال تک مسلسل کھڑا تھا لیکن آج وہ سرحد پر اوندھے منہ پڑا ہے۔
سعادت حسن منٹو نے افسانہ ٹونہ ٹیک سنگھ سے یہ پیغام دیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کا بٹوارہ انسانی زندگی کیلئے ناقابل قبول تھا۔جس کی زد میں آکر لاکھوں انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اور اتنے ہی لوگ فسادات میں قتل کر دیئے گئے ۔سیاستداں ملک کی تقسیم تو کر دیتے ہیں لیکن وہ انسان کی یادیں اور ان کے دلوں کو تقسیم نہیں کر سکتے ۔ سعادت حسن منٹو نے پاگل خانے کے ایک پاگل بشن سنگھ کو علامت بنا کر اپنے خیالات و نظریات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ سماج و معاشرےکو مذہب کی بنا پر تقسیم تو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کی تہذیب و تمدن ، محبت و انسیت اور یادیں اور تصورات نہیں بانٹے جاسکتے ہیں ۔ انہیں تمام کیفیات کو افسانہ نگار نے بڑے فنی کمالات کے ساتھ پیش کیا ہے۔