
ڈاکٹر گ
لزار احمد وانی
طلاق
صبح ہلکی ہلکی بوندوں کی بوچھار ہو رہی تھی۔ کچھ دھند چھائی ہوئی تھی اور اس نورانی صبح کا منظر ہی کچھ ایسا تھا جو دید کے لائق تھا۔ اچانک کالے بادل کا ایک جھنڈ سارے آسمان کی نورانیت کو اپنے آغوش میں لے کر مزید سرمگی میں اضافہ کرتا گیا اور اسی اثنا میں باہر سڑک پر عجیب سی چیخ و پکار ہو رہی تھی ٬ کچھ آہیں اور کچھ سسکیاں۔۔۔
بڑی بزرگ خواتین لمبے ڈھیل ڈول والے پوشاک زیب کی ہوئیں الگ الگ ٹولیوں میں رہ کر آپسی گپ شپ میں مشغول تھیں۔ اتنے میں ایک گاڑی آئی اور اس میں سے چند افراد چہرہ لٹکائے ہوئے اتر آئے۔ ان افراد میں ایک خاتون بھی تھی جو اپنی گردن خم کئے آہستہ آہستہ بوجھل قدموں سے چل رہی تھیں اور معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ وہی سلیمہ ہے جس کی شادی بڑے دھوم دھام سے ہوئی تھی ۔ اس کے ہاتھ میں کپڑوں کا ایک گھٹا تھا اور خود ایک میلا کچیلا پھیرن پہنے ہوئے اور پیروں میں ایک پتلی سی چپل جو پہن پہن کر گھسی ہوئی لگ رہی تھی۔
اتنے میں اس لڑکی سے گھر کا منا کہنے لگا کہ خالہ آپ نے یہ میلے کپڑے کیوں پہن لئے ہیں آج؟
یہ سن کر سلیمہ نے اپنے ہونٹوں کو ذرا بھی جنبش نہ دی ٬ وہ اپنی ہی جلی ہوئی کائنات میں اندر ہی اندر پر جل کر بھسم ہو چکی تھی ۔ اس کی آنکھیں اشکبار تھیں ٬ قدم لڑکھڑا رہے تھے اور ایک سفید داڑھی والا آدمی اسے سہارا دے کر آہستہ آہستہ اپنے گھر کی اور لے جا رہا تھا ۔دل برداشتہ ہو کر ٬ مگر کوئی ایسی جرات ہی نہ کرتا تھا کہ جو ان سے معلوم کرلیتا کہ آخر اس سب کے پیچھے کیا ماجرا ہے؟
یہ وہی سلیمہ ہے جو کبھی اس سے قبل اپنے میکے آیا کرتی تھی تو اپنے ہاتھ کے تھیلے میں سے بسکٹ کے چند ڈبے نکال کر ان بچوں میں تقسیم کرتی تھی جو اسے دیکھ کر دوڑ کر آتے تھے اور گلے مل جاتے تھے۔
مگر آج وہ بچے بھی اس کی بے وقت آمد پر انگشت بہ دنداں تھے ٬ کیونکہ ان کی خالہ آج میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے ٬ آج اس کو اپنے سسرال والوں نے بھگا دیا ہے۔ آج سلیمہ کے ہونٹوں پر بکھری ہوئی مسکراہٹ غائب تھی٬ کوئی تھیلہ ہاتھ میں نہ تھا نہ کوئی بسکٹ کا ڈبہ اور نہ ہی کچھ کیلے وغیرہ۔
منظر کچھ عجیب ہی تھا ٬ ہر طرف آنکھیں ششدر ہو چکی تھیں٬ لوگ محو حیرت تھے۔ کوئی کسی سے کچھ بھی نہ کہتا تھا٬ بس دیکھتے تھے سلیمہ کی اور ٬ ۔۔۔۔۔۔
جو بوجھل قدموں سے آہستہ آہستہ نظریں جھکائے واپس میکے آ رہی تھی۔ وہ ہارے ہوئے دل کو لے کر آگے آگے نہ چاہتے ہوئے جا رہی تھی جہاں سے وہ ایک دن بینڈ باجے اور ونون یا پٹاخوں کی گونج سے وداع ہوئی تھی ٬ مگر ۔۔۔۔٬
آج اس سراسیمگی کے پر حول منظر میں آخر اس طرح کی کیونکر نوبت پیش آئی۔ اس خاموش اور سکوت بھرے منظر میں آخر کار اسی محلے کے ایک ہونہار ٬ نیک دل اور بے غم خوبصورت کپڑوں میں ملبوس عمران نے سلیمہ کی ماں سے بڑے جرات مندانہ طریقے سے پوچھنے کی ہمت کی۔۔۔۔ کہ آخر اس سب ماجرے کا سبب کیا ہے ٬ کیوں سلیمہ اشکبار ہے؟ ٬ کیوں اس کے کپڑے میلے کچیلے ہیں؟
اور کیونکر یہ آج نہ چاہتے ہوئے اپنے میکے کی طرف گامزن ہے۔ سلیمہ کی ماں آمنہ غم کے آغوش میں غوطے کھا رہی تھی اور وہ اندر ہی اندر ٹوٹ چکی تھی ٬ وہ کھڑا نہیں رہ پاتی تھیں اور آخر کار زارو قطار رونے کے بعد ہچکیاں بند کرنے پر ٬ آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے اس نے بتایا کہ سلیمہ کو اس کے خاوند نے طا۔۔۔طا۔۔۔ طلاق دے دیا۔
عمران نے پوچھا کہ آخر وجہ کیا تھی؟
بیٹے : وجہ کچھ بھی نہیں٬ بس یہ کہ میری بیٹی روایتوں کی پاسدار تھی٬ رشتوں کا پاس و لحاظ رکھتی تھی ٬ ناچ نہ جانتی تھی ٬ ہوٹلوں پر کھانا کھانا پسند نہ کرتی تھی ٬ بن سنور کر بازار نہ نکلتی تھی ۔ آمنہ نے اپنی خراش بھری آواز میں کہہ دیا۔ آمنہ نے روتے ہوئے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔۔۔
یہی اطوار دیکھ کر سلیمہ کے خاوند فیروز نے اسے طلاق دے دیا ہے اور بار بار اسے کہتا تھا کہ تو انپڑھ ہے تم تو میرے قابل ہی نہیں ہو ۔ شادی کے آٹھ سال بعد سلیمہ کے دو بچے ہوئے اور وہ ان آٹھ سالوں میں کبھی دل کھول کر سلیمہ کے ساتھ خندہ پیشانی سے بات نہ کرتا تھا ٬ ہر وقت اسے کوستا رہتا تھا اور آج اسے گھر سے نکال ہی دیا۔۔۔!!!
سلیمہ بوجھل قدموں سے نظریں نیچی کئے ہوئے برآمدے میں قدم رکھ رہی ہے جہاں سے وہ بڑے شوق سے کبھی وداع ہوئی تھیں۔ اور وہ لڑکی بھی کتنی بد نصیب ہے جس کی قبر اس کے میکے کی زمیں میں ہو ۔ اس جیسے ان گنت سوالات آس پڑوس کی عورتیں بھی کر رہی تھیں اور سلیمہ کی ماں سے اور اس کی دکھ بھری داستاں میں اضافہ کر رہی تھیں۔ یہ لڑکی وہی سلیمہ ہے جس کے لئے کتنے رشتے آئے تھے اور وہ تعلیم یافتہ بھی تھے۔۔۔۔۔
ایک کنواری لڑکی نے آمنہ سے کہا۔۔۔۔!!!!
کیوں خالہ ! اس وقت آپ نے ترجیح بزنس کو دی نہ کہ تعلیم کو۔۔۔۔ جب شریف اور با حیا لڑکا رشتہ لے کر آیا تھا مگر اس کے پرانے مکان نے آپ کی آنکھوں پر پٹی بندھا دی پر وہ تو تعلیم یافتہ تھا ۔
اسی لئے کہتے ہیں کہ علم نور ہے ۔ اس کی روشنی سے آنکھیں منور ہو جاتی ہیں۔ آپ نے پیسوں کی لالچ میں آ کر سلیمہ کا بیاہ کروایا٬ اور آج یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سلیمہ کے امید بھرے گلشن میں بہار ہی میں خزاں داخل ہوئی٬ اس کی امیدوں کے غنچے مر جھا گئے اور یہ ہوا اتنی زہریلی ہے کہ آس پاس کے ماحول پر بھی اس کے برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔
سلیمہ اپنے دامن میں اپنا بھاری سر رکھ کر غموں کے سمندر میں ڈوب چکی تھی ۔ اور زار و قطار رو رہی تھی۔
اس کی آنکھوں سے جوئے خوں جاری تھی اور یہ آنسو ٹپ ٹپ کر اس کے سارے وجود کو بگھو رہے تھے۔ شاید اسے بھی آج یہ احساس ہوا تھا اپنی غلطی پر ٬ وہ چاہ کر بھی کچھ کہہ نہ پاتی تھی ۔
افراد خانہ کچھ فیروز کو برا بھلا کہتے رہے اور کچھ اپنی ہی بیٹی کا قصور مانتے رہے۔ جس کی آڑ میں سلیمہ کا جینا دوبھر ہوا ہے۔
طلاق کے تین روز بعد سب ناشتہ کے بعد اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے اور مشغول و مصروف تھے٬
مگر٬ مگر ۔۔۔۔۔۔
آج سلیمہ کی غیر موجودگی سب کو کھلتی رہی تھی ٬ کیونکہ شادی سے پہلے وہ کچن سلیمہ کی صفائی سے آئینہ کے مانند دکھ رہا تھا ٬ بڑی رونق ہوا کرتی تھی ۔صاف صفائی اور ہر ایک چیز قرینے سے اپنی جگہ پہ مقیم تھی اور اس سے بڑھ کر اس کی مسکراہٹ اور اس کے گفتار سے وہاں پر جو رونق ہوا کرتی تھی اس زمانے اور اس زمانے میں زمین آسماں کا فرق نظر آرہی تھی۔
مگر آج جب چھوٹی منی سلیمہ کو جگانے کے لئے گئی تو۔کئی بار خالہ خالہ اٹھو کہہ کر وہاں سے وہ آواز صدا بہ صحراثابت ہوئی۔اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔
وہ دوڑ کر آئی اور کہنے لگی کہ خالہ آواز ہی نہیں دے رہی ہے اسے جگا دو میرے بال بھی سنوارنے ہیں مجھے اسکول جانا ہے ۔ جب اسے آمنہ آواز دینے لگی تو اس کے ہوش اڑ گئے اور وہ اس تنگ دنیا سے وداع ہو چکی تھی۔اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔
کیونکہ اپنے اور غیر سب اس کو کوستے رہے۔ جس کی آڑ میں سلیمہ سے رہا نہ گیا ٬ اور اس نے کوئی زہریلی شے کھا کر خود کو ہی ختم کر ڈالا ۔ سب لوگ آمنہ کے آنگن میں بہ چشم پر نم تھے ٬ دل شکستہ تھے اور پچھتا رہے تھے ٬ کہ اس بیٹی کا کیا قصور تھا !
شاید بیٹی کا اپنا گھر کوئی نہیں ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس کو پیدائش سے ہی ہر کوئی کوستا رہتا ہے ۔ اور یہ کہہ کر اسے بد دل کرتے ہیں کہ یہ پرائے گھر کی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔!!!!
***