
ابوالبرکات شاذ قاسمی
تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن جگیراہاں بتیا
غزل
کبھی کھل کے کچھ بھی کہا نہیں کبھی دوست بن گئے ملا نہیں
مرے دل میں اس کا مقام ہے اسے آج تک یہ پتا نہیں
اسے چومتا ہوں نظر سے میں کہ یہ میرا طرزِ لحاظ ہے
کوئی حسن لاکھ قریب ہو کبھی میں نے اس کو چُھوا نہیں
تجھے دیکھنا تجھے چاہناترے گیسووں کو سنوارنا
مرے پیار کا یہ سلوک ہے مرے پیار میں ہے خطا نہی
اگر اسی کا نام نصیب ہے تو نصیب کیسا عجیب ہے
جسے اس نے چاہا وہ مل گیا جسے میں نے چاہا ملا نہی
وہ نظر ملی تو کچھ اس طرح کہ سما گئی دل و جان میں
وہ کوئی طلسم کہ خواب تھا مری روح کو بھی پتہ نہی
تو شریف ،نیک نہاد ہے تجھے دل جلوں سے غرض بھی کیا
تری شاعری وہ صدا ہے شاذ کہ ایسی کوئی صدا نہیں
***