
نگار فاطمہ
غزل
یہ تو ممکن ہی نہیں تجھ سے کنارہ کیا جاۓ
عشق ایسی شۓ نہیں جسکو دوبارہ کیا جائے
کہ تمام عمر ایک شخص کی تمنا میں گزاری
اب یہ واجب ہے کہ کفارہ کیا جاۓ
عجیب دھن موجود ہے میری سماعتوں میں
موسیقی بن جاؤں بس زرا اشارہ کیا جائے
میرے گزرے ہوۓ ایام سے روٹھ کر
تقدیر نئ ادا سے کہتی ہے خسارہ کیا جاۓ
کب تلک صداؤں کے سہارے رہا جائے
کس طرح بے وفا کے شہر میں گزارہ کیا جائے