
یاور حبیب ڈار
غزل
منزلیں پانے کی ضد نہ کریں تو کیا کریں ہم
خار ہی خار تھے راہ میں کوئی گلاب نہ تھا
اور یہ سوچ کے کود پڑے آتَشِ عشق میں جو
سر پہ کبود حصار کا پائے تـُراب نہ تھا
آتشِ عشق بھلا تھی،یہ سہو خطا بھی ہوئی
بزم نیازمیں مجھ سا تو خانہ خراب نہ تھا
گلشَنِ قدس پے باغ و بہار ہے جلوہ فگن
رونَقِ بزم حیات میں جوش شباب نہ تھا
آس تھی ایک صدا کی اگرچہ وہ آئی نہ تھی
پر نوائے سروش خموش وغیاب نہ تھا
داوَرِ حشر میں اپنے قصور کا کیا دوں حساب
بارِ ثبوت میں کوئی بھی کارِ ثواب نہ تھا
اب تو اٹھو، سنو ہو گیا کفرخموش مزاج
کھیل فریبِ وجود و عدم اے جناب نہ تھا