
فرانسیسی زبان سے براہ راست ترجمہ (مصنفہ :سعدیہ افضل فروا، مترجم:ڈاکٹر محمد ریحان)
مبصر: ڈاکٹر زاہد ندیم احسن
دہلی یونیورسٹی
فلسفیانہ عرفان کا مترجم اندرون کا سفر
زندگی حیات و موت، کامیابی و ناکامی کے درمیان یا یوں کہیے کہ ان کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے اور انسان کی تمام جبلتیں انہیں کے ساتھ پروان چڑھتی ہیں۔ یوں تو جبلتیں فطرت کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہیں، مگر ان کا ظہور زندگی کے تجربوں سے گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ جبلتیں انسان کے نفسیاتی عناصر کا حصہ ہوتی ہیں اور انسان کے شریانوں میں روح کی طرح پیوست ہوتی ہیں۔ یہ جبلتیں سماجی اقدار، حیات و موت کے تمام موہوم فلسفے اور انسانی نفسیات سے ٹکرا کر آشکار ہوتی ہیں۔ یہ جبلتیں انسانی ذہن کو روح اور دل کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کرتی ہیں۔
دیکھا جائے تو دنیا کے تمام لوگوں کے پاس حسیت ہوتی ہے مگر جب کوئی تخلیقی ذہن اپنے احساس و وجدان میں حلول ہو کر اپنی روح کی آواز سنتا ہے تو ایک بہترین تخلیق اپنی تمام تر ضو فشانیوں کے ساتھ نمودار ہوتی ہے اور بیدار ذہن رکھنے والوں کے دل و دماغ پراثر انداز ہو کر آفاقیت کے درجات کو پہنچتی ہے۔
” اندرون کی آواز”سعدیہ افضل فروا کی فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تخلیقی و فلسفیانہ تحریر”Itinéraire de Vie Intérieure” کا اردو ترجمہ ہے۔ یہاں پر یہ وضاحت کرتا چلوں کہ میں نے سعدیہ افضل کی کتاب کو ناول، افسانہ یا شاعری کی کتاب کہنے کی بجائے ایک تخلیقی تحریر کہا ہے کیوں کہ اس کے انداز بیان سے مجھے یہ دقت پیش آئی کہ اسے میں افسانوی ادب یا شاعری کے کس زمرے میں رکھوں۔
مجھے یہ نہیں معلوم کہ فرانسیسی سے اردو میں براہِ راست ترجمہ کرتے ہوئے ایک مترجم کے لیے لسانی ساخت کا مسئلہ کس قدر دامن گیر ہوتا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ دونوں زبانوں کا ساختیاتی نظام کئی اعتبار سے بہت مختلف ہے۔ مجھے ترجمہ پڑھ کر بڑی خوش گوار حیرت ہوئی کہ اس میں کہیں پر ترسیل متاثر نہیں ہوئی ہے۔ اس ترجمے میں محمد ریحان نے فرانسیسی اور اردو زبانوں پر اپنی گرفت کا ثبوت دینے کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر بھی دکھائے ہیں۔ ترجمہ بہت سبک اور رواں ہے۔ ریحان اردو ادب کے ان اسکالروں میں ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو تراشا ہے۔ وہ ایک Self-Made محقق ہیں۔ انہوں نے اپنی محنت، مشقت اور لگن سے اپنے آپ کو بنایا اور سنوارا ہے۔ انہیں اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ دیگر کئی زبانوں پر دسترس حاصل ہے اور یہ دسترس کس حد تک ہے اس کا اندازہ اس کتاب کے مطالعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
اس کتاب کی بنیاد انسانی نفسیات اور فلسفے کا اپنے شعور اور لاشعور کی ہم آہنگی سے نکلنے والی آواز ہے جسے سعدیہ نے ایک تحریری پیکر عطا کر دیا ہے۔ اس کا تمام محور اور مرکز ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات اور ہر ایک فرد کی گزرتی ہوئی زندگی میں وقوع پزیر ہونے والے قصے اور اس سے اٹھنے والے اندرونی اور بیرونی سوالات ہیں جنہیں Soliloquy یا Monolouge کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ سعدیہ افضل چونکہ فلسفے کی طالبہ رہی ہیں اس لیے اس کتاب کا اساسی پہلو فلسفہ ہے۔
اگر غور کیا جائے تو زندگی ایک خواب و خیال کی صورت ہے اور اس خواب کی تعبیر دراصل لفظوں کے ذریعہ علامتی یا استعاراتی انداز میں بیان کیا گیا تجربہ ہے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ تخلیق کار جو کچھ کہنا چاہتا ہے وہ اس کا تخیل، اس کا خواب ہوتا ہے اور اپنے اسی خواب کی وضاحت کے لیے وہ الفاظ سے مدد لیتا ہے۔ لفظ کہیں کے ہوں اور کسی بھی زبان کے ہوں با معنی ، مستحکم اور ہر اعتبار سے آزاد ہوتے ہیں، وہ نہیں بدلتے۔ یہی معنی گویا زندگی کے موہومیت کو عیاں کرتے ہیں۔ زندگی کی اساس دو چیزوں پر ٹکی ہوئی ہے ایک مثبت اور دوسری منفی۔ زندگی ہی کیا دنیا کی تمام چیزیں انہی دو بنیادوں سے تعبیر کی جاتی ہیں اور ان کی پہچان کا دار و مدار بھی یہی ہیں۔ دنیا ایک طلسم ہے اور اس طلسم میں انسان رخش عمر پر سوار ہو کر خواہشات، رنج و الم اور مسرت و شادمانی سے گزرتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔ اس طلسماتی فضا میں گزرنے کے دوران جو حالات در پیش ہوتے ہیں اس تجربے کا بیان ہی ایک بہترین تخلیق کا اظہاریہ ہے۔ مذکورہ تخلیق بھی انہیں تجربات کا ایک خوبصورت بیانیہ ہے جس کی تخلیق کار سعدیہ افضل فروا اور مترجم محمد ریحان ہیں۔ میں محمد ریحان کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے ترجمے کے لیے ایک اچھی کتاب کا انتخاب کیا اور نہایت شستہ اردو میں ترجمہ پیش کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ شائع ہونے کے بعد اس ترجمے کو توقع سے زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔