You are currently viewing لفظوں کے زیتون زار میں: کلیاتِ افضال فردوس کا تخلیقی سفر

لفظوں کے زیتون زار میں: کلیاتِ افضال فردوس کا تخلیقی سفر

 

 

کومل شہزادی

لفظوں کے زیتون زار میں: کلیاتِ افضال فردوس کا تخلیقی سفر

 

شاعری محض لفظوں کا گلدستہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور فکری زخم کا مرہم ہے۔ ہر عہد کی اپنی آوازیں ہوتی ہیں، اپنے دکھ، اپنے خواب، اور اپنے سوال۔ ڈاکٹر افضال فردوس کا کلیات ایک ایسا آئینہ ہے جو محض شاعر کی ذات کو نہیں، بلکہ پورے زمانے کے جذباتی، فکری اور روحانی پیچ و خم کو منعکس کرتی ہے۔

مجھے ہمیشہ یقین رہا ہے کہ شاعری وہی  جو دل سے نکلے اور دلوں میں اتر جائے۔ ڈاکٹر افضال فردوس کی شاعری میں مجھے اپنے دور کے دکھ، اپنی نسل کی امیدیں، اور انسانیت کے زخموں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔میں نے جب ان کا مجموعہ “زیتون کے ہاتھوں میں” پڑھا، تو یوں لگا جیسے فلسطین کی خاک میں دفن بچے میرے خواب میں آ کر میرے آنکھوں سے باتیں کرنے لگے ہوں۔

“افضال فردوس نے ‘دکھ’ کو صرف نوحہ نہیں بنایا، بلکہ وہ دکھ کو ایک فکری اور تہذیبی احتجاج میں ڈھال دیتے ہیں۔ وہ میر اور فیض کی روایت سے جڑے ہیں، لیکن ان کے لفظوں میں ایک ایسا ذاتی رنگ بھی ہے جو انہیں ۔منفرد بناتا ہے۔

“ان کی غزلوں میں نہ روایتی محبوب کی جفائیں ہیں، نہ فقط عاشق کی آہیں — بلکہ ایک انسانی وجود کا ٹوٹتا ہوا خواب ہے، جو ہرشعر میں چھپ کر قاری سے سوال کرتا ہے۔؟

کچھ اشعار پڑھنے کے بعد دل کہتا ہے کہ خاموش ہو جاؤں، اور صرف محسوس کروں۔ افضال فردوس کی شاعری بھی یہی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ وہ لفظوں کے جسم میں یاد کی خوشبو، لمحے کی نمی، اور وقت کی دھڑکن رکھتے ہیں۔

میں نے جب ان کے کلیات کے مختلف مجموعے دیکھے — ‘لوبان’، ‘مرگِ نینی’، ‘ستارے میرے ہاتھوں میں’ — تو لگا جیسے یہ صرف کتب نہیں بلکہ شاعرانہ حِسّ کی رقص گاہیں ہیں۔ ان کا ہر شعر ایک در کھولتا ہے، جو قاری کو اس کی اپنی تنہائی سے آشنا کرتا ہے۔ان کی شاعری میں ایک ایسی معصومیت ہے جو صرف وہی شاعر پیدا کر سکتا ہے جو خود اندر سے زخمی ہو، لیکن زخم کو زباں نہیں بناتا، بلکہ زخم کو جمال میں بدل دیتا ہے۔

وہ نہ صرف دورِ جدید کے المیوں کو لفظوں میں ڈھالتے ہیں، بلکہ انہیں روحانی اور فکری جہات عطا کرتے ہیں۔ یہ شاعری نہ صرف پڑھنے کے لیے ہے بلکہ محسوس اور سوچنے کے لیے بھی۔کلیاتِ افضال فردوس دراصل ایک ادبی تجربہ ہے، ایک ایسا تخلیقی مکالمہ جو شاعری کو محض جمالیات سے آگے لے جا کر انسان کے اندر جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔

ادب کی دنیا میں ہر دور میں ایسے شعرا ابھرتے رہے ہیں جنہوں نے روایت کے ساتھ جدت کو، اور جذبے کے ساتھ فکر کو ہم آہنگ کر کے اردو شاعری کو نئی جہات عطا کیں۔ ڈاکٹر افضال فردوس ان ہی شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے لفظ کو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور فکری تجربہ بنا دیا۔ ان کی کلیات، جس میں ان کے چھ شعری مجموعے شامل ہیں — ستارے میرے ہاتھوں میں، لوبان، گھر یاد آیا، شالوم، زیتون کے ہاتھوں میں اور مرگِ نَینی — ایک ایسا تخلیقی سفر پیش کرتی ہے جو قاری کو وجدانی سطح پر جھنجھوڑتا بھی ہے اور تھپتھپاتا بھی ہے۔

ڈاکٹر افضال فردوس کی زبان نہایت نفیس، نرم اور تہذیبی شعور سے لبریز ہے۔ ان کا اسلوب روایت سے جڑا ہوا ضرور ہے مگر اس میں جدید حسیت کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ علامتوں، استعاروں اور تشبیہوں کے ذریعے ایسی کیفیات کو گرفت میں لاتے ہیں جو عموماً لفظ کی گرفت سے باہر رہتی ہیں۔ستارے میرے ہاتھوں میں جیسے عنوان سے ہی یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاعر کائناتی عناصر کو بھی انسانی تجربے کے قالب میں ڈھالنے پر قادر ہے۔

ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، روحانیت، تہذیبی زوال، تصوف، فلسطین جیسے عالمی مسائل، اور شناخت کا بحران جیسے گہرے موضوعات کا بیان ملتا ہے۔ “شالوم” اور “زیتون کے ہاتھوں میں” جیسی کتابوں میں مشرقِ وسطیٰ کے المیوں پر شعری اظہار، اردو شاعری میں ایک نادر اور منفرد اضافہ ہے۔

 ان کا درد صرف ذاتی یا قومی نہیں بلکہ انسانی المیے کا شعور ان کے اشعار میں جھلکتا ہے۔

افضال فردوس کی شاعری میں علامتی طرز اظہار غالب ہے۔ “لوبان” (خوشبو دینے والی دھونی) ایک ایسی علامت ہے جو شاعر کے تخلیقی وجدان، پاکیزگی، اور ماورائی تجربات کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ “گھر” کو صرف ایک مادی وجود نہیں بلکہ وجود کی مرکزیت کے طور پر دیکھتے ہیں

کلیات میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں ان کی دسترس کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ ان کے ہاں بحور کا تنوع، ردیف و قافیہ میں جدت، اور خیال کی روانی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ غزل میں روایتی عشق کو بھی وہ ایک فکری سطح پر لے آتے ہیں۔

افضال فردوس محض جذباتی شاعر نہیں، بلکہ ان کی شاعری ایک فکری متانت اور جمالیاتی سنجیدگی رکھتی ہے۔ وہ قاری کو متحرک کرتے ہیں کہ وہ خود سے سوال کرے، اپنی ذات، اپنے وطن، اور دنیا کی صورتِ حال پر غور کرے۔

کلیاتِ افضال فردوس اردو شاعری کے سفر میں ایک نہایت اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کلیات صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ شاعر کی تخلیقی ریاضت، فکری عمق، اور جمالیاتی شعور کا مظہر ہے۔ اس کلیات کے ذریعے افضال فردوس نے اردو شاعری کو ایک نئی فکری سمت دی ہے، جو محبت، ہجرت، المیے، روحانیت اور تہذیبی ندامت جیسے موضوعات کو نہایت حسین انداز میں پیش کرتی ہے۔افضال فردوس کا یہ کلیات اردو ادب کے سنجیدہ قارئین اور محققین کے لیے مطالعے، تجزیے اور تدریس کے اعتبار سے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔

Leave a Reply