
سلیم سرور
لندن کی تین راتیں
ہواؤں میں کچھ بدلے ہوئے ذرے تھے — شاید ان کے رنگ میں مغربی نمی گھل چکی تھی۔مدیحہ جب ۲۰۱۶ء میں جہلم کے اس چھوٹے سے آبائی گھر میں داخل ہوئی تو صحن میں لگےنیم کے درخت نے جیسے اُس کی آمد پر مسکرا کر پرانی شاخیں جھکائیں۔ دادا نے اسے لپٹا کر چوما، اور دادی نے ماتھے پر تیل لگا کر دعائیں دی تھیں۔وہ تب صرف ایک زائرہ تھی، مگر اس کی مسکراہٹ میں وطن کا سا سکون تھا۔کزن سلمان، جو باپ کی کھیتی باڑی میں معاونت کے ساتھ ساتھ بی ایس انگریزی کے تیسرے سال میں تھا ، پہلی بار اس کے سامنے کھڑا ہوا تو شرم اور اپنائیت کی ایک لہر راستہ بناکرحائل ہوگئی ۔دادا اوردادی کولگا کہ شاید دونوں بھائیوں کے درمیان فاصلاتی دیوار گرتی جارہی ہے۔مگر یہ دیواریں بنانا بہت آسان ہے ان کا خود گرنا یا ان کوگرانا اتنا آسان نہیں،جتنا دیکھنے کو لگتا ہے اورسوچنے والا دل سوچتا ہے۔سلمان کے دادا دادی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ سوال جواب کیے مگر دادی کی جانب سے مایوس کن جواب کے بعد دادا بولے’’کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟‘‘
’’بڈھے تو بہت سادہ ہے،جس لڑکی کے سر کا دوپٹہ ایک بار اترجائے پھر اس کوحیا کی پڑیا میں لپیٹنا ایسا ہی ہے جیسےصحرا میں گری ہوئی چینی کودوبارہ قابل ِ استعمال بنانا مشکل ہے‘‘۔
’’تم ساری زندگی اپنے فلسفے ہی چلانا! بیٹھی بیٹھی صحرا میں جاپہنچی‘‘۔ مجھ جیسا گنوار ستر سالہ پرانے بزرگوں کی یہ کہاوتی گفتگو سے کیا نتیجہ نکال سکتا تھا تاہم اتنا ضرور ہوا کہ میں سمجھ گیا کہ سلمان اورمدیحہ کی جوڑی بنانے کا سوچ رہے ہیں۔میں نے تو سن رکھا تھا کہ مشرق میں جوڑیاں آسمانوں پر بنتی ہیں اورمغرب میں کالجوں،یونیورسٹیوں ،پارکوں اورکام کاج کی جگہوں پر مگر یہاں پر مکمل طور پر ادھر لکیر پڑی اوراُدھر قسمت کا حال بتادیا والی کیفیت ہے۔مدیحہ کی آنکھوں میں وہ شرارتی بھی نہ تھی بچپن میں ایک ساتھ مٹی کے برتنوں سے کھیلتے ہوئےجداہوئے تھے۔وہ پرفیکٹ انگریزی لڑکی اورفصلوں اورجانوروں میں دلچسپی کے لیے وقتی سلمان کی محتاج بنی تھی۔اس قربت کو سلمان کے دل میں کون سا مقام ملا تھااور آنکھوں میں تکریم کی کون سی چمک تھی اسے لفظوں میں بیان کرنا دشوار ہے۔میں اگر اس پنچایت کاثالثی ہوتا توبغیر مقدمہ سنے سلمان کو مدیحہ کا وارث قراردیتا،ہائے بدنصیبی ! سلمان فلکیات کا علم نہیں جانتا تھا۔اگر وہ فلکیات کاعلم جانتا ہوتا تو ثقافتی افتراق کوحال کی عینک سےدیکھتا اورمستقبل کافریم تیارکرتا۔ اورافسوس کہ میں شاید وقتی یامصالحتی گونگا تھا۔
سلمان مولیاں،گاجریں،گڑ،گنے کا رس،مالٹے ،ساگ کی گندلیں ،شلجم اورگدھا گاڑی کی سواری سمیت لفظوں تک میں احترام پرو کرمدیحہ کی خدمت کر رہا تھا۔کون جانے!اس میں رشتوں کا تقدس تھا یا من کی طلب،دماغ کافیصلہ تھا یا آنکھوں کی مجبوری؟صحیح جواب توسلمان ہی بتاسکتا تھا کیونکہ مدیحہ ان سوالوں سے لاتعلق تھی۔
مدیحہ کے جانے سے پہلے وہ دونوں پچھلی شام صحن میں بیٹھے تھے، جہاں ٹوکے کے شور میں صرف دو جملے دبے دبے کہے گئے:
’’تم آؤ گی نا؟‘‘
’’ہاں، جلدی۔ بس پڑھائی ختم ہو جائے‘‘
’’لیکن مغرب کی فضا میں وقت کا حساب بدل جاتا ہے‘‘۔
لندن کے بادل، شہر کی دوڑ، یونیورسٹی کی محفلیں — مدیحہ واپس لندن پہنچتے ہی سب بھول گئی کہ کس دیوانے کے ساتھ اس نے کیا وعدہ کیا ہے اورکس کو کتنا پاگل بنایا ہے ،سب حساب کتاب بن یاد کیے ہی بھول گئی۔سلمان نے تین دن انتظار کرنے کے بعد وٹس ایپ میسجز اورکالز کیں مگر خلاف توقع کسی قسم کا کوئی جواب نہیں آیا۔آگ کے اتنے بڑے بھانبڑ کو قابو میں رکھنا سلمان کے بس میں بھی نہیں تھا ۔سلمان نے ایک سمیسٹر گزارا روتے دھوتے،اوراگلے سمیٹر میں اباجی سے التجاکرکےایک ایکڑ زمین بیچ دی۔اور وہ بھی دیوانہ ہو کر انگلینڈ چلا گیاکہ شاید خواب کے آخری کنارے پر اُس کا نام اب بھی لکھا ہو۔اب اگلی کہانی سلمان کی زبانی سنیے:
مجھے پورا یقین تھا کہ جب چچا مدیحہ کو میری آمد کی خبر سنائیں گے تو وہ یقیناً ان کے ساتھ مجھے ائیر پورٹ پر لینے کے لیے آئے گی۔میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں ائیر پورٹ سے باہر نکلا تو میرے نام والا پوسٹ کارڈ ایک انڈین ٹیکسی ڈرائیور کے ہاتھ میں تھا۔اس نے مجھے بلاتے ہوئے کہا کہ’’صفدر صاحب مصروف تھے سو انہوں نے مجھے آپ کا نام اورکرایہ دےدیا تھا‘‘۔میرے قدم ہاتھی کے پاؤں سے بھی بھاری ہوچکے تھے جن کو اٹھانا کسی بھی نوجوان کی طاقت سے باہر تھا۔میں نے شیر کاسا حوصلہ کرتے ہوئے گاڑی میں سوار ہونے کافیصلہ کیا اورساتھ ہی دل کو تسلی دی کہ ممکن ہے وہ واقعی مصروف ہوں اور مدیحہ کسی مجبوری کی بناپر مجھے لینے نہ آسکی ہو۔باقی گھر پہنچتے ہی اس کے رپلائی نہ کرنے کا شکوہ کروں گا۔
گھر پہنچا تو چچی نے ایک اجنبی کی طرح ہاتھ ملایا اورمجھ سے کوئی بھی بات کیے بغیر ڈرائنگ روم سے نکل کراندر چلی گئی۔تھوڑی دیر میں مدیحہ گیراج میں گاڑی پارک کرکے گھر میں داخل ہوئی ۔میں کھڑکی کا پردہ ایک جانب کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا کہ وہ بہت بے قراری کے ساتھ مجھے تلاش کرے گی۔مگر میرے خیالات کا محل ریت کی دیواروں پرایستادہ تھا جوکسی جکھڑ کاسامنے کیسے کرتا ۔مدیحہ نے گھر میں داخل ہوتے ہی ہینڈ بیگ ایک ٹیبل پر دھرا اورکمرے میں داخل ہوتے ہوئے:
’’ موم !میں تبدیل کرکے آتی ہوں جلدی سے کھانا لگائیں بہت بھوک لگی ہے‘‘۔
’’تمہارا کزن صاحب بھی لندن کی دولت سمیٹنے آن پہنچا ہے،اس کا حال نہیں پوچھو گی؟‘‘
’’موم کون سا کزن؟‘‘
’’تمہارے چچا کا بیٹا،سلمان،جن کےپاس تم چھٹیاں گزار کر آئی ہو‘‘
’’اچھا اچھا،وہ ادھر ہی ہے کھانا کھا کر سلام کرتی ہوں‘‘
میں کھڑکی سے پیچھے ہٹ کر بیڈ پر دراز ہوگیا۔سلمان تم نے زمین بکوانے کافیصلہ بہت غلط کیا ہے ،یہاں خلوص ،پہچان،محبت اوروفا کچھ بھی نہیں۔تم ان کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچ رہے ہو،یہ تو مشینی دور کے کاغذ کے پھول ہیں جن سے خوشبو کی توقع رکھنا عبس ہے۔لیکن یہ سب قبل از وقت بھی تو ہوسکتا ہے ۔ ممکن ہے چچا رات کو آئیں تو گھر کاماحول بدل جائے اورحقیقت ان سب پر عیاں ہوجائے اورمدیحہ بھی دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے کے بعد مجھے ماضی قریب کے آئینے میں دیکھ کرپہچان لے۔دروازہ کھلتا ہے۔چچی چائے اورایک پلیٹ میں بسکٹ اوردو شامی کباب لاکر ٹیبل پرسجا دیتی ہیں۔’’مدیحہ کوکھانا دے رہی تھی اس لیے تھوڑی دیر لگی‘‘۔چچی کوئی بات نہیں،چائے کی ویسے بھی ضرورت نہیں تھی۔’’چائے پئیں تھوڑی دیر میں تمہارے چچا آجاتے ہیں ساتھ ہی کھانا دے دوں گی‘‘ چچی چائے چھوڑ کرواپس لوٹ گئیں۔میں نے اپنا بیگ اٹھایا،دیسی گھی کی بنی ہوئی پنجیری نکال کرچائے کے ساتھ پیٹ بھر کرکھائی اورسوگیا۔
رات ۹بجے کے قریب چچا نے کمرے میں آکر جگایا:’’سلمان! اٹھو‘‘۔،میں ہڑبڑا کر اٹھا اورچچا جان کے گلے لگ گیا۔چچا جان نے گلے لگتے ہی مجھے یوں پیچھے کیا جیسے میرے جسم سےدیہات کےگوبرکی بو آرہی ہو۔’’بیٹا یہ نیند اورسکون تو پاکستان ہی چھوڑ کرآنا چاہیے تھا‘‘
جی چچا جان سکون تو چھوڑ آیا ہوں باقی نیند بھی لگتا ہے جلد ہی جدا ہوجائے گی۔’’واہ باتیں کرنے لگے ہو،آؤ کھانا کھاتے ہیں‘‘۔ڈائننگ روم میں پہنچا تو چچی اورمدیحہ وہاں پر پہلے سے موجود تھیں۔مدیحہ نے مجھے دیکھ کر کرسی پر ذرا سی حرکت پیدا کرتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کرسلام کیا۔چچی میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے’’سلمان یہاں دیہات کی طرح پانی ٹھنڈا نہیں ہوتا سو تم نہا لیتے تو فریش ہوجاتے‘‘۔چچا’’کوئی بات نہیں بچہ گاؤں سے آیا ہے کچھ دنوں میں یہاں کی عادات کوسیکھ لے گا‘‘۔میں نے چاروناچار چند لقمے حلق سے اتارے ۔کھانا کھاتے ہی چچی اور مدیحہ اپنے اپنے روم میں چلی گئیں اورمیں ڈرائنگ روم کی طرف اٹھ آیا،چچا جان وہیں بیٹھے موبائل پر کچھ دیکھ رہے تھے۔
ولایت کی مشینی ترقی کاستارا تو صدیوں سے بام ِ عروج پر ہے مگر انسانی رشتوں میں پیدا شدہ خلا زمین اورآسمان کے فاصلے کو بھی مات دے چکا ہے۔دادا اورابا کے پاس شاید چچا کے مقابلے کم پیسہ ہے مگر محبت اورخلوص کا ذخیرہ بہت وسیع ہے۔رشتوں کی پہچان ا یسی ہے کہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر بھی وہ پل پل ان سب کویاد کرتے ہیں اورخیریت کی ڈھیروں دعائیں جانبِ فلک روانہ کرتے ہیں۔یہاں تو پاس بیٹھ کر بھی ایسی بےرغبتی ہے کہ نہ یاد کرنے کی زحمت نہ بھولنے کا صدمہ۔شاید ان کا بھی قصور نہیں ہے کیونکہ برسوں اپنوں سے دور رہتے رہتے ربوٹ کی طرح جذبات سے عاری اورخلوص سےبےبہرہ ہوجاتے ہیں۔خلوص وہ پرندہ ہے جومحبت کادانہ چگ کر ،وفاکا پانی پی کر،پرواہ کے ڈربے میں بند رہتا ہے۔ڈربے کا دروازہ کھلنے کی دیر ہوتی ہے یہ پرندہ آزاد روی کی اُڑان بھرتا ہے حرص وہوا کے صحراؤں میں جاکرڈیرہ جمالیتا ہے۔کوئی ایک گھنٹے کے بعد چچا جان ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہیں’’سلمان آپ کے ابا سے میری بات ہوگئی ہے،you should go to sleep now‘‘۔چچا جان دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئے۔میں نے محسوس کیاکہ لفظوں میں ہی انگریزی نہیں اتری بلکہ رشتوں کے درمیان بھی کلاس کے تفرق کاسمندر حائل ہوچکا ہے۔وہ لمحہ کسی عدالت کا نہیں، مگر فیصلے کا تھا۔مگر اس بار پھر میرے دل نےایک سست قاضی کی طرح فیصلے میں تاخیر کرتے ہوئے اگلے وقت کے لیے ملتوی کردیا۔ نیند کاتعلق زندگی سے نہیں بلکہ موت سے ہے اس لیے یہ یہ رشتوں کی تشخیص اورجذبوں کی تفریق کیے بن ہی آجاتی ہے۔میں ہمیشہ بےفکری کی نیند سونے والا اپنوں کے گھر میں اجنبی بن کرسوگیا۔
صبح ہوئی ،سورج طلوع تو ہوچکا تھا مگر شعاؤں میں اتنی شدت نہیں تھی کہ وہ ٹھنڈ کی دیواروں کوچاک کرکے زمین کے سینے کو روشن کرسکتیں۔ونڈو سے باہر نظر پہنچی تو سڑک کے کناروں کو ہلکی برف سے ڈھکا ہوا پایا مگر گاڑیوں کی رفتار میں رات کے مقابلے میں قدرے تیزی تھی،گاڑیوں میں سفر کرنے والے تمام حضرات نے شاید بیرونی ٹھنڈ کی شدت کو مات دینے کے لیے ہیٹر آن اورشیشے سیل کر رکھے تھے۔ونڈو سے پیچھے ہٹتے ہوئے میں دوبارہ کمبل میں گھس گیا۔نیند ہی توہے جو ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھی میں پھر سے نیند کی وادی میں چلاگیا۔
ٹک ٹک تک۔۔۔ٹک ٹک ٹک۔۔۔دوسری بار جب ٹیبل پر گلاس لگا تو میں جاگ گیا۔آنکھ کھلی تو سامنے چچی ایک ٹرے میں پراٹھا،انڈہ اورچائے لیے کھڑی تھی۔’’واہ جی واہ! گھر سے کمائی کرنے آئے ہو اورادھر آنکھ ہی نہیں کھل رہی‘‘۔چچی ایسی بات نہیں میں صبح جاگا تھا مگر کام نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ سوگیا۔’’تم اپنے چچا کی طرف دیکھو،وہ صبح سات بجے گھر سے نکل جاتے ہیں‘‘۔چچی گاؤں میں بھی سبھی صبح سویرے ہی اٹھ جاتے ہیں،سردی گرمی ،اندھیرے اجالے کی پرواہ کیے بغیر سبھی کام کرتے ہیں۔’’سلمان تم نے یہاں آنے کا بہت غلط فیصلہ کیا ہے،یہاں کی زندگی بہت مشکل ہے،اگر میں تمہارے چچا کوسپورٹ نہ کرتی تو وہ بھی یہاں کامیاب نہ ہوسکتے‘‘۔چچی کے فون کی گھنٹی بجی تو وہ بیڈ روم کی طرف بڑھ گئیں۔
دادی تو کہا کرتی ہیں کہ چچی بہت غریب گھر سے تعلق رکھتی تھی،ہم نے تو ان کے والد سے تعلق کودیکھ کراس کاہاتھ مانگ لیا،باقی رنگت کی تھوڑی گوری ہیں ،عقل اوراحترام سے بالکل عاری ہیں۔شروع کے دنوں میں ایک دن بھی کھانا بناکر نہیں کھلایا۔بقول دادی کےاس کی موجودگی میں دادی خود بناتی رہی ہیں۔دادا اوردادی سے ناراض ہوکر کچھ عرصہ میکے بھی رہیں مگر چچا اس کے ہاتھوں ایسا چابی والا کھلونا بنے کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی اورپاسپورٹ تیار کرواکرویزہ تک لگوادیا۔پھر دادی کو بتا کریہاں لےآئے۔مجھے لگتا ہے دادی نے جو بتایا ہے وہ بالکل سچ ہے۔
مدیحہ کب گھر سے باہر گئی اورکب واپس آئی مجھے خبر تک نہ ہوئی،رات کے کھانے پر جب سب اکٹھےہوئے تو چچا نے پوچھا’’بیٹا سلمان کو باہر لے گئی تھی؟‘‘،’’نو ڈیڈ،آج رابرٹ کی گاڑی نہیں تھی اس لیے مجھے اسے پک اینڈ ڈراپ دینا تھی سو وقت نہیں مل سکا‘‘۔چچی’’کوئی بات نہیں یہ تو ادھر ہی ہے اسے تم کسی روز گھمانے لےجانا وہ لڑکا بہت اچھا ہے،اس کا کلاس فیلو بھی ہے سو اسے سروسز دینا ضروری تھا‘‘۔چچا’’جی جی مجھے کوئی کام نہیں ہے بس مہمانوں کی سیروسیاحت کی ہی فکر ہے‘‘۔اوہو چچا آپ ویسے ہی پریشان ہورہے ہیں جب میرا یہاں دل لگ جائے گا اورمیں یہاں کےگلی کوچوں سے واقف ہوجاؤں گا تو سیروتفریح کا بھی کوئی اہتمام کرلیں گے۔
کھانے کے بعد میں ڈرائنگ روم میں لیٹا ہواتھا تو چچا آکر سامنے کرسی پر بیٹھ گئے۔’’سلمان میں نے ایک بندے کی ڈیوٹی لگائی ہے وہ کل ایک جگہ جاب کے لیے آپ کو ساتھ لےجائے گا اورامید ہے کام مل جائے گا‘‘۔چچا جس کام کا آپ کہہ رہے تھے وہ مل جاتا تو زیادہ بہتر نہیں ہے؟۔’’سلمان وہ صرف تمہارے اوراپنے ابا کو مطمئن کرنے کےلیے تھا ورنہ میرے آفس میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔وہ تو تنگ کر رہے تھے کہ سلمان کو ادھر بلاؤ اس لیے بلانا پڑا‘‘۔چچا اصل میں وہ میری ہی غلطی تھی ان کا اتنا زیادہ قصور نہیں۔چچا’’اچھا سلمان ان باتوں کو چھوڑوں جو ہوا سو ہوا، کام کی بات سنو!اس علاقے میں عام طور پر ساڑھے تین سو پاؤنڈ ایک بیڈ کے لیےکرایہ وصول کرتے ہیں اور آپ گھر کے فرد ہیں سو تین سو پاؤنڈدے دیا کرنا‘‘۔یہ بات سن کر جونہی میں نے ذرا سی خاموشی اختیار کی چچا اٹھ کراپنے روم میں چلے گئے۔
اگلی صبح میں نے جلدی اٹھ کر تیاری کی اورباہر دروازے کے پاس کھڑا ہوگیا،جونہی مدیحہ گاڑی لےکرجانے لگی تو میں نے اسے کہا کہ میں جان ویبر مارکیٹ جاناچاہتا ہوں،پلیز آپ مجھے ڈراپ کردیں،مدیحہ نے ہنسی خوشی مجھے ساتھ بٹھا لیا۔گاڑی میں دو فرد ہونے کےباوجود بھی گہری خاموشی تھی۔میں تو شاید تھوڑا شرمیلا تھا مگرمدیحہ مجھ سے بالکل بےربط اورناآشنا بن بیٹھی تھی۔گھر سے پانچ چھے کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچے توایک کیفے پر نظر پڑی تو میں نے ہمت دراز کرتے ہوئے مدیحہ سے کہا کہ میں یہاں چائے پینا چاہتا ہوں اور آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔مدیحہ نے اثبات میں سر ہلایا اوراگلے یو ٹرن سے گاڑی گھماتے ہوئے کیفے کے سامنے جاکر پارک کردی۔مدیحہ نے سکوت کو توڑتے ہوئے ’’پہلے باتیں کرنی ہیں یا چائے پینی ہے؟‘‘ میں نے کہا چائے پیتے ہیں ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوجائیں گی۔
مدیحہ نے ہلکا سا ہارن دیا تو کیفے سے وائٹ ڈریس پہنے ہوئے ویٹربرآمد ہوکر ڈرائیونگ سیٹ والے شیشے پر آن کھڑا ہوا۔تو مدیحہ نے اسے ایک کپ چائے اورایک کافی کا آرڈر دے دیا۔ اورمیری طرف رخِ زیبا کوموڑتے ہوئے’’جی جناب فرمائیے‘‘۔میں نے بغیر کسی لمبی چوڑی تمہید کے صاف صاف کہہ دیا کہ میں یہاں صرف اس لیے آیا کہ آپ نے گاؤں میں مجھے سے کچھ وعدے کیے تھے۔مدیحہ تو ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔مدیحہ نے میرے کندھےپر ہاتھ رکھتے ہوئے فلسفے کے پروفیسر کا ایک کوٹ سنایا۔
“Modernity demands reinvention — to survive, you must unlearn your roots.”
’’مجھے معلوم ہے،تمھیں اتنی انگریزی نہیں آتی ہوگی مگر سنو!زندگی بنیاد کی زمین کو چھوڑ کرہی جدت کی ہواؤں میں سفر کرتی ہے ۔میں نے اب کھلی فضا میں سانس لینا سیکھ لیا ہے،میں اب تمہاری طرح دادی کی دعاؤں اوردوسروں کے اشاروں پرچلنا پسند نہیں کرتی کیونکہ میرے ماں باپ نے مجھے جنم دے کر آزاد کردیا ہے۔ میں اب ایک مہذب ملک کی رکن ،خود مختار لڑکی اورپراعتماد فرد بن چکی ہوں ۔میں روشنی میں رہنا،تتلیوں سے کھیلنا اورپھولوں سے رس کشید کرنا چاہتی ہوں۔تم مشرقی لوگوں کے لیے بزرگوں کی دعائیں،گھر کی قید اوربڑوں کے فیصلے ہی سب کچھ ہوتے ہیں‘‘۔مدیحہ جو تم نے وہاں مجھ سے وعدے کیے تھے اورمحبت کی پینگیں چڑھائی تھیں وہ سب کیا تھا؟ سلمان !’’ تم مشرقی لوگوں کا یہی مسئلہ ہے کہ ہر وقتی بات کوحتمی اورعمر بھر کا فیصلہ سمجھ لیتے ہو حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی حقیقی دنیا میں نہیں ہوتا کیونکہ جب زندگی عارضی ہے تو عارضی زندگی کے چند لمحوں کے کیے فیصلے کیسے مستقل ہوسکتے ہیں‘‘۔مدیحہ تم بالکل سہی اورسچ کہہ رہی ہو،جب انسان اپنی روح کی زبان بھول جائے اوراسے یہ احساس بھی نہ ہوکہ وہ کیا بول رہا ہے تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اصل الفاظ کی بجائے صرف ترجمہ شدہ الفاظ ادا کر رہا ہے۔اس لیے مجھے اس ترجمہ شدہ عبارت سے اصل تخلیقی مضمون بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ میری لاکھ کوشش اورمحنت کے بعد بھی لوگ اسے کسی اورنام سے منسوب کریں گے۔’’جی سلمان بالکل ٹھیک سمجھے ہو تم،مجھے اب ترجمہ ہی سمجھو کیونکہ میری حقیقت اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں اوردوسری بات میں ان تمام حدود سے باہر نکل چکی ہوں جن حدود کو تم مشرقی زندگی موت کافیصلہ سمجھتے ہو‘‘۔ مطلب تم کسی کو پسند کرتی ہو؟ ’’جی میں رابرٹ کو پسند کرتی ہوں اورموم کو سب پتہ بھی ہے اورہم کئی بار آؤٹ سٹیشن راتیں گزار چکے ہیں‘‘ چلیں ٹھیک ہے خوش رہیں مگر آپ نے اچھا نہیں کیا ،میں نے ابا کی زمین کو اونے پونے داموں فروخت کیا اورماں کے آنسوؤں کا قرض مول لیا۔’’کوئی بات نہیں یہ سب زندگی کا حصہ ہے دو چاردن گھوموں پھرو اورپھر لوٹ جانا،زمین کو اتنی اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے باقی اُن کھیتوں میں انا ج اورگھاس کے علاوہ رکھا بھی کیا ہے‘‘۔زمین!’’جی زمین کچھ بھی نہیں‘‘۔
میں نے گاڑی سے نیچے اتر کاچائے کا بل ادا کیا،باہر سے ہی مدیحہ کو کہا ٹھیک ہے اب آپ یونیورسٹی جائیں،اس نے ہاتھ ہلاتے ہوئے شیشہ اوپر کیا اورگاڑی کو گھماکر دوسری سمت نکل گئی۔میں نے وہاں سے ٹیکسی لی اورہیتھرو ایئرپورٹ پہنچ گیا ۔تھوڑے تردد کے بعد کاؤنٹر تک رسائی ہوئی تو وہاں سے اگلی صبح کا پاکستان کے لیے ٹکٹ خرید لیا۔
شام پانچ بجے واپس چچا کے گھر پہنچا تو چچی نے گیٹ پر ہی آلیا ’’ آئے ہوئے دوسرا دن ہے اورآوارگی شروع بھی کردی،یہی حال بچپن میں تمہارے ابا کاتھا ورنہ وہ بھی کچھ پڑھ لکھ جاتا‘‘۔ہاہاہا چچی طویلے کی بلا بندر کے سر،ابا نے بہت کچھ کرلیا ہے،دادا ،دادی کی خدمت اورڈھیروں دعائیں سمیٹ لی ہیں۔’’جی جی دعائیں تو سمیٹیں گے ہی،دن رات ان کے پوتڑے جو دھوتے ہیں‘‘۔نہیں چچی ایسی بات بھی نہیں الحمدُللہ وہ دونوں ماشاءاللہ صحت مند ہیں اباامی کے برابر کام کرتے ہیں۔’’تمہارے چچا نے تمہیں پتہ نہیں کیا سوچ کر بلالیا،تم تو ٹپیکل مشرقی ہو‘‘۔چچی آپ بھی مشرقی ہی ہیں وہ الگ بات ہے خول مغرب کا چڑھا لیاہے۔’’بیٹا جی! یہ خول ہی کا کمال ہےورنہ تم تو راولپنڈی نہیں جاسکتے تھے اوراب لندن میں بیٹھے ہو‘‘۔چچی ،اس میں کوئی شک نہیں یہ سب آپ لوگوں کے طفیل ہی ہوا ہے۔
شام سات بجے کے قریب چچا جان گھر میں داخل ہوئے اورگاڑی پارک کرتے ہی’’سلمان تم انتہائی غیر ذمہ دار انسان ہو،تمہارے لیے وہ شخص یہاں آیا تھا اورتم باہر گھوم رہے تھے‘‘۔چچا جان،اصل میں باہر گھومنے پھرنے کا کوئی خاص ارادہ تو نہیں تھا مگر تھوڑی دیر ہوہی گئی۔’’یہی حرکتیں تمہارے ابا جان کی تھیں، ورنہ وہ بھی بھینسوں کا گوبر صاف کرنے کی بجائے آج کسی آٖفس میں ملازم ہوتا۔ اورپھر شادی بھی ایسی خاتون سے کی جس کو گھر والوں کی خدمت کے علاوہ کچھ آتا بھی نہیں۔وہ تمہارے ابا کواورتمہیں خاک سدھارتی‘‘۔اتنی دیر میں چچی نے آواز دی کہ کھانا لگ گیا ہے آجاؤ۔چچی ،چچا کودیکھ کرآجکل بھتیجے کی خدمت کے لیے تین دن سے قورمہ اوربریانی بازار سے لارہے ہیں ورنہ ہمیں تو مٹن کھلا کھلا بکریاں ہی بنادیا ہے۔چچا گویا ہوئے’’سلمان دیہاتیوں کی طرح پیٹ بھر کرکھاؤں اوردن دس بجے تک کھراٹے لینا۔مدیحہ نے ہمیں ڈائننگ ٹیبل پر جوائن نہیں کیا اورنہ کسی نے پوچھا۔
چچا جان! آپ نے بہت خدمت کی،اس کا بدلہ شاید میں نہ چکا سکوں۔یہ بھی زندگی کا ایک عجوبہ تھا جو مجھ جیسے نکمے بندے سے کسی کے طفیل سرہوا ،ورنہ میں توچچی کے بقول ہمسایہ شہر تک جانے کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتا تھا۔اس سفر سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا ہے وہ سب مستقبل کا زاد راہ ثابت ہوگا۔مٹی ،مٹی ہی ہوتی ہے چاہے وہ گیلی ہو یاسوکھی کیونکہ اس میں صورت تبدیل کرنے اورکسی دوسری چیز کے ساتھ جڑنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔پتھروں میں یہ وصف نہیں ہوتا تاہم جو لوگ انہیں گھڑتے ہیں وہ فنکار کہلاتے ہیں۔تین سو پاؤنڈ کے حساب سے تین راتوں کا کرایہ تیس پونڈ اس مراسلے سمیت ٹیبل پر چھوڑ کرجارہا ہوں۔اگر ممکن ہو تو ایک احسان کیجیے گا ابا جی کو میرے خلاف ورغلانے اوربھڑکانے کی ناکام کوشش مت کیجیے گا۔میری محبت پر آپ کی ریاکاری غالب نہیں آسکے گی تاہم حقیقت کھلنے پر آپ کا خول تار تار ضرور ہوجائے گا۔اللہ حافظ!