You are currently viewing محمد علیم اسماعیل کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ

محمد علیم اسماعیل کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ

محمد ہلال عالم

شعبہ اُردو، گورنمنٹ رضا پی۔جی کالج رامپور، اتر پردیش

(روہیل کھنڈ یونی ورسٹی ، بریلی ، اتر پردیش)

محمد علیم اسماعیل کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ

         محمد علیم اسماعیل کا شمارجدید افسانہ نگاروںاور افسانچہ نگاروں  میں ہوتا ہے۔ اپنے افسانچوں کے ذریعے عوام کی طرز ِحیات کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔انداز بیان اور حقیقت پسندی کی جھلک ان کے افسانوں میں واضح طور پر نمایاں ہے۔ ان کے افسانوں کا اسلوب قاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔وہ اپنے افسانوں میں سلیس اور سادہ الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں  جس سے ان کے افسانوں کوپڑھنے میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔

         محمد علیم اسماعیل کی ولادت 22 جون 1982 کو ناندور ضلع بلدانہ مہاراشٹر میں ہوئی۔ والد کا نام محمد اسماعیل اور والدہ کا نام محمود ہ بی تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ محمد علیم اسماعیل افسانہ نگار کی حیثیت سے اردو ادب میں شہرت رکھتے ہیں۔ ادبی زندگی کا اغاز 2013 میں ہوا۔ ان کی پہلی ادبی کاوش مضمون ”علامہ اقبال کی باتیں” تھا۔اور پہلا افسانہ ”خیالی دنیا” ممبئی اردو نیوز میں چھپا تھا۔ان کا پہلا افسانچہ’’ شرمندگی‘‘ تھا۔ علیم اسماعیل کے افسانوی مجموعے الجھن، رنجش وغیرہ قابل توجہ ہیں۔ سنہ 2015 میں علیم اسماعیل کو آئی ۔سی۔ ایم گریٹ سکسیس ایوارڈ ملا۔ 2018 میں طالب ادب ایوارڈ، 2019 میں تنویر ادب ایوارڈ اور 2019 میں ہی سفیر تعلیم ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ علیم اسماعیل شعبہ تعلیم ضلع پریشد بلدانہ مہاراشٹر میں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ موصوف فکشن ایسوسی ایشن ناندور کے صدر بھی ہیں۔

         علیم اسماعیل نے اپنے افسانوں اور افسانچوں کے ذریعے ادب میں اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ راقم الحروف اس مضمون میںان کے چند افسانوں اور افسانچوں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کرے گا۔افسانہ’’ چھٹی‘‘ ان کا مقبول و مشہور افسانہ ہے۔ اس افسانے کا ابتدائی منظر بڑا دلدوزہے۔ چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی کو ہسپتال سے چھٹی مل جانے پر لینے جاتا ہے لیکن بھائی کی لاش گھر لاتا ہے۔ بڑے بھائی سے ایک بات کرتے ہوئے چھوٹا بھائی کہتا ہے کہ تم کہتے تھے کہ : ”دعا کرو میں اچھا ہو جاؤں نہیں تو میرے بچے تنہا رہ جائیں گے” بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی سے جو دل خراش جملہ کہا تھا۔ اور آج وہ حقیقت بن گیا۔یہ افسانہ جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے ویسے ہی قاری کی دلچسپی اس میں بڑھتی جاتی ہے کہ آخر کیا وجہ رہی ہو گی جو وکیل صاحب زندگی کی جنگ ہار گئے۔ افسانہ نگار نے ابتدائی جملوں سے ہی ایسا سحر باندھا کہ جب تک افسانہ مکمل نہ کر لیا جائے قاری کوسکون نہیں ملتا۔اس افسانے کی کہانی موصوف کی اپنی ذاتی زندگی کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کی حقیقی ا وردرد بھری کہانی بیان کر رہے ہیں۔ ایک ایسی حقیقت جس کو افسانے کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ مختصر سی کہانی ایک مکمل حقیقت بیان کرتی نظر آتی ہے۔ بڑا بھائی جو کہ وکیل تھا جس نے عوام کی بھلائی کے لیے کام کیے۔ غریبوں کے مقدمے بغیر فیس کے لڑے اور ان کو انصاف دلایا۔ اپنے گھر کا بھی بخوبی ذمہ داری سے کام کیا۔ اس کو بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں بھرتی ہونا پڑا اور زندگی بھر کا سرمایہ تھا وہ علاج میں خرچ ہو گیا۔ بڑے بھائی کو ہسپتال سے گھر جانے کی جلدی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مرنا ہی ہے تو گھر جا کر مریں۔ ہسپتال سے چھٹی بھی مل گئی اور وہ خوش کہ اب اسپتال سے گھر جائیں گے۔ بس گھر نکلنے ہی والے تھے کہ ان کو ہارٹ اٹیک آیا اور وہ ہمیشہ کے لیے اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ افسانہ نگار نے بڑی درد مندی کے ساتھ اس افسانے کو لکھا ہے۔ افسانے میں جگہ جگہ موقع و محل کی مناسبت سے ہندی الفاظ کا استعمال موصوف نے خوب صورت پیرایے میں کیا ہے۔ افسانے کی زبان سلیس اور سادہ ہے۔  اس کہانی کو پڑھتے وقت قاری کی آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔

          کہانی ”یہ ماجرہ کیا ہے” دور حاضر کی سماج پر کرارہ طماچہ ہے۔ ایک ایسا سماج جو اب کسی کی مدد کرنے کے بجائے موبائل نکال کر ویڈیوز بنانے لگتا ہے۔ کہیں آگ لگ جائے کہیں کوئی حادثہ پیش آ جائے کہیں جھگڑا ہو یا کچھ اور۔ ہماری نئی نسل ریلز بنانے میںمصروف ہو جاتی ہے۔ اگر وہ ویڈیوز بنانے کے بجائے مصیبت زدہ لوگوںکی مدد کرے تو لوگوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو اپنے جال میں اس قدر جکڑ لیا ہے کہ اس کی چکا چوندھ میں ان کی انسانیت دم توڑ رہی ہے۔ جس نوجوان کے ہاتھ میں کتابیں ہونا چاہیے تھیںاب وہ موبائل ہاتھ میں لے کر ویڈیوز اور ریلز بنانے میں مصروف ہے۔ اگر کہیں کوئی حادثہ ہو جائے تو یہ سب چاہتے ہیں کہ اس کی خبر سب سے پہلے ہم ہی دیں۔برتری کی عادت بڑی خطرناک ہے۔ یہ افسانہ ان ہی ویڈیوز بنانے والوں پر کرارہ طنز ہے۔ جو بچے آگ سے بچنے کے لیے بلڈنگ سے کودے تھے اگر ان کو ویڈیوز بنانے والے بچانے کی کوشش کرتے اور کوئی بڑا سا کپڑا پھیلاتے تو بچے زمین پر گرنے کے بجائے اس کپڑے پر گرتے تو ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

         محمد علیم اسماعیل کا افسانہ’’ جنون ‘‘فیس بک پر ہونے والی محبت کی داستان بیان کرتا ہے۔ اس کا کردار متین جو فیس بک کے ذریعے گلنار نام کی ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ لیکن اچانک سے گلنار اس کے میسج کے جواب دینا بند کر دیتی ہے۔ وہ لگاتار اس کو میسج کرتا رہتا ہے کہ تم اب مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی ہو۔ پہلے تو رات بھر باتیں کیا کرتی تھی۔ تم نے ملنے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن اب تم کو کیا ہو گیا ہے۔ متین اُداس رہنے لگا تھا۔ وہ اپنے دوستوں سے بھی نہیں ملتا تھا۔ اس کے گھر والے اس کی حالت دیکھ کر بولتے تھے کہ بیٹا متین اتنا گم سم کیوں رہتا ہے نہ ٹھیک سے کھاتا ہے پہلے جیسا ہنستا ہے۔ لیکن متین کو تو صرف گلنار سے بات کرنے کا جنون تھا۔ اس سے شادی بھی کرنا چاہتا تھا۔ پھر ایک دن گلنار نے اس کے میسج کا جواب دیا:

’’معاف کرنا بھائی، میں بھی ایک لڑکا ہی ہوں۔ ‘‘(محمد علیم اسماعیل ، رنجش ، ایجوکیشن پبلشنگ ہائوس ، نئی دہلی، ص 111)

         یہ افسانہ دور حاضر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر فرضی نام سے بنائی گئی آئی ڈی کی حقیقت بیان کرتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سوشل سائٹ پر دور دراز بیٹھے ہوئے لوگوں کے متعلق ہم کو یہ بات معلوم نہیں ہوتی ہے کہ سامنے والا کس طرح کا انسان ہے۔ وہ لڑکا ہے یا لڑکی یہ پتا نہیں لگ پاتا ہے۔ جس طرح کی پروفائل بنی ہوتی ہے اسی طرح ہمیں نظر آتی ہے۔ یوزر آئی ڈی اور پاسورڈ کے ذریعے اپنا اکاؤنٹ بنایا جانا اور اس میں نام لڑکی کا رکھ لینا یا دیگر نام رکھ لینا یہ عام بات ہے۔ کچھ لوگ پہچان چھپانے کے لیے ہی اس طرح کا کام کرتے ہیں اور فیس بک پر اس کی بھرمار ہے۔لڑکیوں کے فوٹو لگا کر اور لڑکی کے نام سے آئی ڈی بناتے ہیں اور متین کی طرح بھولے بھالے نوجوان اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ ہے فیس بک کی ایک کھوکلی دنیا جولوگوں کا چین و سکون چھین رہی ہے۔غرض کہ یہ افسانہ انہی سوشل سائٹ کی پول کھولتا نظر آتا ہے اور ہمیں یہ درس بھی دیتا ہے کہ اس پر احتیاط کے ساتھ اس کا استعمال کریں اور انجان لوگوں سے بچے رہیں تاکہ آپ کا سکون سلامت رہے اور آپ خوشحال رہیں۔ زیادہ استعمال بھی نہ کریں ہاں ضرورت کے لیے کچھ وقت تک استعمال کر سکتے ہیں۔

          افسانہ’’ مردہ پرستی ‘‘میں  فنکاروں کی قدر و قیمت کا عمدہ بیانیہ ہے۔ اس افسانے کا کردار عارف اپنا تحقیقی و تنقیدی مضمون کسی رسالے میں شائع کرانا چاہتا ہے۔ لیکن وہ ایک ایسے فنکار پر مضمون لکھ کر بھیجتا ہے جو ابھی حیات ہیں۔ رسالے کا جواب آتا ہے کہ ہم زندہ شخص پر مضامین شائع نہیں کرتے۔ سماج میں کسی بھی انسان کی قدر اس کے مرنے کے بعد کی جاتی ہے زندہ رہتے ہوئے یہ دنیا خوب ستاتی ہے۔ لیکن جیسے ہی انسان مر جاتا ہے تو اس کی تعریف کی جائے گی اور ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ رسالوں میں ان پر نمبر نکالے جاتے ہیں۔ ایک سچے فنکار کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں ہی ہونا چاہیے نہ کہ ان کے مرنے کے بعد۔ افسانہ نگار نے ایسے لوگوں پر بہترین طنز کیا ہے جو زندہ شخص پر مضامین شائع نہیں کرتے یا زندہ شخص کی قدر نہیں کرتے اور مرنے کے بعد ان پر مضامین شائع کرنے نمبر نکالتے ہیں ۔افسانے کے ذریعے علیم اسماعیل نے اس دنیا کو مردہ پرست بتانے کی کوشش کی ہے اور آج یہ حقیقت بھی ہے۔ دور حاضر میں انسان کی قدر مرنے کے بعد ہی کی جاتی ہے۔

         موصوف کا افسانچہ’’ تعلیم ‘‘سیاست دانوں پر طنز ہے۔ منتر جی اپنی تقریر میں تعلیم کو گھر گھر تک پہنچانے کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تقریر کے بعد وہ بیت الخلاجاتے ہیں اور غصے میں واپس آتے ہیں کہ مرد اور عورت کے بیت الخلا پر فوٹو کیوں نہیں لگایا کہ یہ مرد ٹوائلٹ ہے اور یہ عورت کا ٹوائلٹ ہے۔ میں عورتوں کے ٹوائلٹ میں گھس گیا تھا۔ ملازم نے منتری جی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ سر، دیوار پر استری اور پرش لکھا ہوا ہے۔ منتری جی کو خود پڑھنا نہیں آتا اور وہ تقریریں کرتے ہیں تعلیم کو گھر گھر پہنچانے کی۔ آج کل کچھ لوگ ہوتے ہیں جو بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اپنی تقریروں میں بڑے بڑے منصوبے پیش کرتے ہیں اور خود ان کو کچھ نہیں آتا۔ دور حاضر میں سیاست دان بھی کچھ ایسے ہی نظر آتے ہیں۔ بولنے سے پہلے وہ بھی کچھ نہیں سوچتے کہ ہم کو یہ چیز آتی بھی ہے یا نہیں۔ بس ان کو بولنے سے مطلب ہوتا ہے اور ایسے ایسے عہدوں پر ہیں کہ ان کو اس کا علم بھی نہیں کہ وہ کس مقصد کے لیے منتری بنائے گئے ہیں۔

         محمد علیم اسماعیل کا افسانچہ’’ پردہ ‘‘پردے کے تعلق سے بہترین طنزیہ افسانچہ ہے۔ اس میں ایک خاتون کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اسکول کے باہر کھڑی تھی کہ ان کی جان پہچان کا کوئی انسان نظر آتا ہے اور وہ اپنے چہرے پر نقاب لگا لیتی ہیں۔ اس کے بعد کا منظر افسانہ نگار کی زبانی سنئے:

’’کیا برقہ پوش عورتیں صرف جان پہچان والے مردوں سے ہی پردہ کرتی ہیں۔‘‘ (محمد علیم اسماعیل ، رنجش ص 118)

         آج کل یہی ہو رہا ہے ۔بازاروں، میلوں ،بسوں ،ٹرینوں ،مالز وغیرہ میں برقہ پوش عورتیں نقاب کھول کر گھومتی نظر آئیں گی۔ لیکن جیسے ہی کسی جان پہچان والے کو دیکھتی ہیں تو نقاب لگا لیتی ہیں۔

         افسانچہ ’’چور‘‘ اس معاشرے کی حقیقت بیان کرتا ہے۔ جو معاشرہ کسی چور کو تو پچاس روپے چوری کرنے پر مار مار کر ادھ مراکر دیتا ہے۔ اور جو لیڈر 50 لاکھ کا غبن کیے ہوئے ہیں اس کو الیکشن میں پھر سے جتا دیتا ہے۔ یہاں پر پچاس روپے چوری ہوئے اور لیڈر نے 50 لاکھ روپے غبن کیے۔لفظ غبن کہہ کر لیڈر کو چور نہیں سمجھا گیا لیکن حقیقت میں وہ سب سے بڑا ڈاکو ہے جس نے عوام کا پیسہ غبن کیا ۔ اس افسانے میں لوگوں کی آنکھوں پر پٹی بندھے ہونے کی طرف اشارہ ہے کیا گیا ہے۔ جن کو چور سے نفرت ہے اور جو اس کا مستقبل چوری کر رہا ہے اسے اس سے محبت ہے۔

         افسانچہ’’ ذمہ داری‘‘ میں بہترین کہانی بیان کی گئی ہے۔ باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیٹی زبیدہ گھر کی ذمہ داری سنبھالتی ہے اور جس دن اس کی ماں کی دوا ختم ہوئی اس کے پاس بالکل پیسے نہیں تھے۔ وہ گھبرا رہی تھی تو اس کے 10 سالہ بھائی نے اپنی بہن کی پریشانی دیکھی نہ گئی اور اس نے اپنے بستے سے 35 روپے نکال کر دیے۔ اسی لمحہ اس کی بہن نے زوردار طما چہ مارا کے تو نے چوری کی۔ کہاں سے لایا یہ روپے۔ اس معصوم بچے کا جواب افسانہ نگار کی زبانی سنیں:-

’’نہیں باجی۔۔ میں نے چوری نہیں کی۔ اسکول جاتے وقت اپ جو مجھے روزانہ ایک روپیہ ناشتے کے لیے دیتی تھی نا، بس اسی میں سے 50 پیسے بچا لیا کرتا تھا۔ ‘‘(محمد علیم اسماعیل ، الجھن ،نورانی پریس، مالیگاؤں، ص 42)

         یہ افسانچہ بتاتا ہے کہ جب گھر میں مفلسی کا عالم ہو تو چھوٹے چھوٹے بچے بھی ذمہ دار ہو جاتے ہیں اور گھر کو چلانے کے لیے اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کی قربانی دے دیتے ہیں۔ خود بھوکے پیاسے رہ لیں گے لیکن گھر کے لیے پیسوں کا انتظام کریں گے۔

         افسانہ’’ تاک جھانک ‘‘ایک غریب بچے کی کہانی ہے۔ جس کے پاس پھٹا ہوا بستہ ہے اور وہ نیا بستہ لینا چاہتا ہے۔ اس کے والد کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ اسے نیا بستہ دلاسکے۔ بچے کے ماموں اس کو جوتے، ڈریس اور نیا بستہ دلانے کا وعدہ کر لیتے ہیں لیکن ممانی درمیان میں ا ٓجاتی ہیں اور بچہ ایک مرتبہ پھر سے نئے بستے سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر اس بچے کے اسکول میں ایک دن چیئرمین آتے ہیں جو سب کو نیا بستہ دینے کا بول دیتے ہیں۔ بچہ بہت خوش ہو جاتا ہے۔ اگلے دن اس کو نیا بستہ مل جاتا ہے اور وہ اپنی کتابیں اس میں رکھ لیتا ہے۔ لیکن یہاں بھی اس کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ اسکول کی چھٹی کے وقت سب بچوں سے نئے بستے واپس لے لیے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ بستے کرائے پر منگوائے گئے تھے۔ بچہ اداس ہو جاتا ہے اور وہ گم سم اپنے خیالات میں سڑک کو پارکر رہا ہوتا ہے تبھی اس کا ایکسی ڈنٹ ہو جاتا ہے۔ اور اس بچے کی موت ہو جاتی ہے۔ اس کی کتابیں سڑک پر بکھری پڑی ہیں اور کچھ کتابیں پرانے بستے میں سے تانگ جھانک کر رہی ہوتی ہیں۔اس افسانے میں مفلسی اور اس سے بچوں پر پڑنے والے اثرات کو دکھایا گیا ہے۔ کوئی بھی چیز ملنے کی امید پر ہی بچے خوش ہو جاتے ہیں اور امید ٹوٹ جانے پر وہ خود ٹوٹ جاتے ہیں۔ مفلس لوگوں کے پاس اپنی ضروریات کا بھی سامان میسر نہیں ہوتا ہے ان کو کام بھی نہیں ملتا ہے۔ جس سے وہ اپنا گزارا کر سکیں۔اس افسانے کا اختتام اگر وہیں ہوتا جہاں پر مدرس بولتے ہیں کہ یہ بستے کرائے پر لائے گئے تھے تب بھی یہ افسانہ بہترین لگتا۔ لیکن افسانہ نگاہ نے یہاں بھی اختتام بچے کی موت پر کیا ہے۔ اس افسانے کے کردار کو زندہ ہی رہنے دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔

         الغرض! محمد علیم اسماعیل کے افسانچے دور حاضر کی سماجی زندگی کے آئینہ دار ہیں۔ یہ افسانچے اس دور کو بیاں کرتے ہیں جس میں رفتہ رفتہ اخلاقیات دم توڑ رہی ہے۔ جھوٹی شان و شوکت کی طرف لوگوں کا ہجوم امڈ رہا ہے ایسے حالات میں سماج کو بیدار کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی تہذیب و تمدن کو برقرار رکھیں۔ جوقوم تہذیب و تمدن سے کنارہ کشی کر لیتی وہ جلد از جلد شرمسار ہو جاتی ہے۔ اس کا سماج میں کوئی وقار قائم نہیں رہتا۔

         محمد علیم اسماعیل کے افسانچے قاری کو غور و فکر کرنے پر مجبور کر تے ہیں کہ واقعی دور حاضر کا سماج اس طرح نظر آ رہا ہے۔ ان کے افسانچوں کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ موصوف افسانچے کی صنف پر کھرے اترتے ہیں۔ علیم اسماعیل کے افسانوں میں وحدت تاثر کا عنصر اپنے منفرد انداز میں نظر آیا ہے اور یہی افسانہ کی خصوصیت ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار، منظر کشی، گفتگو بڑے دلچسپ پیرائے میں بیان کی گئی ہے۔ اگر قاری ایک مرتبہ افسانہ پڑھنا شروع کرتا ہے تو اس کا اختتام کیے بغیر اس کو سکون نہیں ملتا ہے۔

         محمد علیم اسماعیل نے افسانوں کے اجزائے ترکیبی کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔ ان کے افسانوں کے کردار حقیقی دنیا کے کردار نظر آتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی کہانی حقیقت سے قریب تر نظر آتی ہے۔ علیم اسماعیل کے افسانوں میں جذبات نگاری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے افسانے اور افسانچے سماجی مسائل کے عکاس ہیں اور ساتھ ہی  دنیا کو اخلاقی پیغام بھی دیتے ہیں۔ محمد علیم اسماعیل کے ہر افسانے میں کوئی نہ کوئی مقصد پوشیدہ ہوتا ہے جس سے قاری یقینا غور و فکر کے سمندر میں غوطے لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ محمد علیم اسماعیل کے افسانچے انداز بیان کے اعتبار سے منفرد ہیں کم لفظوں میں بڑی بات کہہ دینا علیم اسماعیل کو خوب آتا ہے۔

         بہر کیف! محمد علیم اسماعیل کے افسانو ںمیں نفسیات پر بھی گفتگو کی گئی ہے ۔ راقم الحروف نے ان کے چند افسانوں کا مطالعہ کیا اور چیدہ چیدہ افسانچوں کا بھی مطالعہ کیا ہے۔محمد علیم اسماعیل کی زیادہ تر کہانیوں کا اختتام المیہ ہے۔ افسانہ کسی نہ کسی کی موت سے شروع ہوتا ہے یا ختم ہوتا ہے۔ علیم اسماعیل کو اس طرح افسانوں کا اختتام کرنا زیادہ پسند ہے۔ ان کے افسانوں میں یا تو مرکزی کردار کی موت پر کہانی ختم ہوتی ہے یا کسی ضمنی کردار کی موت پر۔ افسانوں کا اختتام فلمی ہے۔راقم کو یہ بات عجیب لگی کہ اتنا اچھا افسانہ اور اس کی کہانی بھی بہترین اور اس کا اختتام الم ناک۔ میری ناقص رائے کے مطابق اس اختتام کو کسی کی موت پر ختم نہ کر کے کسی اورانداز پر ختم کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ موصوف اس جانب اپنی توجہ مبذول کراپنے افسانوں اور افسانچوں کو مزید بہتر بنانے کی سعی کریں گے۔

Leave a Reply