
غلام غوث
ریسرچ اسکالر،شعبۂ اردو،اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی، نئی دہلی
مشرف عالم ذوقی ؔ: ایک مطالعہ
اکیسویں صدی کے نمائندہ فکشن نگاروں میں مشرف عالم ذوقیؔ کا نام اہمیت کا حامل ہے ۔ان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ۔ فکشن کی دنیا میں ان کا مقام و مرتبہ بلند ہے۔معاصر فکشن میں انہوں نے ناقابل فراموش کارنامہ انجام دیا ہے ۔انہوں نے یہ مقام اپنی ادبی ریاضت سے حاصل کیا ہے ۔شاندار ناول اورجاندار افسانوں کے علاوہ انہوں نے ادب کی کئی اصناف پہ گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، جن کے باعث ادبی کائنات میں انہوں نے انفرادی شناخت حاصل کر لی ہے۔
ولادت:
مشرف عالم ذوقی ؔکی ولادت ۲۴؍ مارچ ۱۹۶۲ء میں ہوئی۔ وہ صوبہ بہار کے شہر’’آرا‘‘ میںایک علمی ،ادبی اور متمول خاندان میں پیدا ہوئے۔ شہر آرامیں ایک محلہ ’’ــمہادیوہ‘‘ ہے اور محلہ مہادیوہ میں ہی ان کی پیدائش ہوئی ۔
آراشہر بہار کا وہ شہر ہے جہاں کئی نامور ہستیوں نے جنم لیا ،ادبی دنیا میں اس کا قابل قدر شمار ہوتا ہے۔آرا شہر تاریخی شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔مذہبی ،سیاسی اور ادبی شخصیا ت سے یہ شہر کبھی خالی نہیں رہا ۔اس شہر میں سیکولر خیالات رکھنے والوںکی اکثریت ہے ۔ یہ شہرادیبوں اور شعرا کا مسکن رہا ہے ۔جنگ آزادی کے مجاہدین سے بھی اس شہر کو تعلق حاصل ہے ۔بابو کنور سنگھ نے ۱۸۵۷ء کی پہلی جنگ آزادی میں اسی سر زمین سے انگریزوں کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیاتھا ۔حکومت برطانیہ کے ظلم واستبداد سے وطن عزیز کوآزاد کرانے میں شہر آرا سے مجاہد آزادی بابو کنور سنگھ نے بیڑا اٹھا یاتھا ۔ آرا شہر سے ذوقی کو بے لوث محبت تھی اپنی کہانیوں میں انہوں نے اس شہر کو زندہ رکھا۔دلی جیسے شہر میں مقیم ہونے کے بعد بھی ذوقی اپنے شہر آراکو بھول نہیں پائے۔تحریر اور تقریر میں ہمیشہ اس کو اہمیت کے ساتھ یاد رکھا ۔شہر آرا ذوقی کی تحریر کا مرکز تھا۔زندگی کے سارے حوصلے اور ولوے ان کو اپنے اسی شہر سے دستیاب ہوتے تھے۔ شہر آرامیں ایک محلہ ــمہادیوہ ہے اور محلہ مہادیوہ میں ہی ذوقی کی پیدائش ہوئی ۔آراشہر کے بارے میں ذوقیؔ نے لکھا ہے کہ:
’’آرا…یہاں دودھ کی ندیا ںنہیں ہیں ۔پہاڑ نہیں،سمندر نہیں ۔مگر یہ میرا شہر ہے اور میرا شہر کسی جنت سے کم نہیں۔جنت ان معنوں میں کہ آج بھی یہاں سیکولر خیالات رکھنے والوں کی اکثریت ہے ۔آرہ اریاست بہار کا ایک بڑا شہر ہے ۔‘‘ 1
تعلیم وتربیت:
مشرف عالم ذوقیؔ کی ابتدائی تعلیم کاآغازان کے گھر سے ہوا ،قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد ان کا داخلہ ’شا ہ آباد اسکول ‘ میں کرایا گیا۔ اس شہر کا مشہورترین اسکول ’جین اسکول ‘تھا انہوںنے میٹرک اسی اسکول سے کیا ۔گریجویشن’مہاراجہ کالج ‘ آراسے۱۹۸۲ء میں کیا ،گریجویشن تک شہر آرامیں تعلیم مکمل کی اور ایم اے کی سند کے لیے مگدھ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ انہوں نے تاریخ(History)میں ایم اے کیا ۔
مشرف عالم ذوقی ؔکے گھر کو کوٹھی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ان کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی ،اس لیے انکے ذہن وفکر پہ گھر کا ادبی ماحول حاوی رہا اور انہوں نے گھر میں رکھی کتابوں سے دوستی کر لی ۔گھر کی فضا ادبی کائنات سے پُر تھی اس لیے یہ فضاان کے لیے مفید تر ثابت ہوئی ۔ گھر کے علمی اور ادبی ماحول سے ذوقیؔ مستفید ہوتے رہے ،ماں باپ کی حسین تربیت سے ان کی زندگی میں روز بروز نکھارہورہا تھا ۔گھر کی ادبی ،تہذیبی ،ثقافتی اورفکری بلندیوں کی دولت سے وہ سرفراز ہورہے تھے ۔داستان ،کہانیاں اور شاعری سننے کا خوبصورت ماحول ان کے گھر میں دستیاب تھا ۔جہاںادب کو سمجھنے کا موقع ان کو بچپن میں ہی ملنے لگا اورانہیں ادب سے عشق کرنے کی فضا شروع میں ہی میسر ہوگئی ۔ادب کی وادیوںمیں سیر کرنے کا سامان گھر میں ہی مہیا ہوگیا۔اردوادب کے علاوہ مغرب کے ادیبوں کے بارے میں انہوں نے اپنے گھر میں ہی معلومات حاصل کی مثلاً ملٹن،شیکسپیئر وغیرہ کے بارے میں اپنے ابا حضور سے بچپن میں ہی متعارف ہوگئے تھے ۔
مشرف عالم ذوقی ؔاپنے گھر کے ماحول کے بارے میں رقم طراز ہیں :
’’میرے گھر کا ماحول ادبی تھا ۔جہاں میں پیدا ہوا وہ گھر کوٹھی کہلاتا تھا ۔وہاں اکثرمشاعرے ہوا کرتے تھے ۔خاندان میں ایسے کئی لوگ تھے جو شاعری کرتے تھے۔میرے والد محترم مشکور عالم بصیری خود بھی ایک اچھے شاعر تھے ۔ابا جان کا مطالعہ بہت وسیع تھا قرآن شریف ہو ،حدیث ،گیتا ہو رامائن۔انگریزی ادب ہو یا سائنس کا مطالعہ ہو بچپن سے ہی ابا حضور ہم سب بھائی بہنوں کو لے کر بیٹھ جاتے اورادب کی گفتگو شروع ہو جاتی ۔ــ‘‘ 2
والد:
مشرف عالم ذوقیؔ کے والد کا نام مشکور عالم بصیری ہے ،بہت پڑھے لکھے انسان تھے اوردیگر علوم وفنون پہ بھی ان کی نظر تھی ۔ مطالعہ میں وسعت تھی،کتابیں پڑھنے کا نہ صرف شوق وذوق تھا بلکہ اپنے بچوں کو بھی پڑھنے لکھنے کی برابر تلقین کرتے اور ترغیب دیتے۔قرآن شریف اور حدیث کے علاوہ دیگر مذاہب کی کتابوں سے بھی واقفیت رکھتے تھے ۔ملازمت میں وہ ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کے منصب پر فائز تھے ،شاعری سے بلند شوق وذوق رکھتے تھے اور بصیرؔی تخلص کا استعمال کرتے تھے۔مشرف عالم ذوقیؔ اپنے والد کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے،ان کی ہدایات کو اپنی حیات میں ڈھالتے تھے ۔ذوقیؔ کا ماننا ہے کہ ان کی تعمیرو تشکیل میں والد کا بڑا اہم کردار ہے اور آج ادبی دنیا میں جو بلندی حاصل ہوئی ہے اس میں ان کے والد کی خاص تربیت کا دخل ہے ۔ایک جگہ لکھتے ہیں کہ :
’’آنکھیں کھولیں تو ابا حضور جناب مشکور عالم بصیری کی شفقتوں بھرا آسمان تھا اور اٹھتے بیٹھتے شیکسپیئر ،ملٹن،غالب واقبال کی صدائیں تھیں ۔‘‘ 3
اپنے والد سے انھوں بہت کچھ سیکھا اور اس کا زندگی بھر اعتراف بھی کیا ۔ذوقیؔ نے اپنے والد سے محبت ومودت کا بڑا حسین تصور دیا ہے۔جب بھی اپنے والد کا تذکرہ کرتے تو بڑے فخر کے ساتھ کرتے اوران کی شفقتوں کو یاد کرتے ۔جب ایک باپ بیٹے کی اچھی تربیت کرتا ہے تو یقینا ایسا فرزند دنیا میں اپنے باپ کا بھی نام روشن کرتا ہے اور خود بھی اس جہاں میں شہرت کی بلندی کو چھوتا ہے جیسا کہ مشرف عالم ذوقی ؔادبی دنیا کے مختلف گوشے میں ایک منفر مقام بنانے میں کامیاب ہوئے ۔ان میں کہانی اور ناول لکھنے کا فن ان کے باپ کی پاکیزہ تربیت کی مرہون منت ہے ۔مشکور عالم بصیریؔ نے ان کی اس طرح پرورش کی اور تعلیم وتربیت کاایسا نظم قائم کیا کہ ان کے بچے تعلیم یافتہ بنے اور ذوقی نے ایک الگ قسم کی شہرت حاصل کی ۔شام میں چھت پر بصیری صاحب اپنے سبھی بچوں کو قصے،کہانیاںاور داستان سنانے کے لیے محفل کا قیام کرتے اور اس کے لیے بہت عمدہ انتظام کیا جاتا۔ذوقی کا حسین انداز بیاں ملاحظہ ہو:
’’گرمیوں کے موسم میں چھت پر چارپائیاں بچھی ہوتی تھیں ۔آسمان پر تاروں کی بارات ۔۔۔۔۔ٹھنڈی ٹھنڈی بہتی ہوئی ہوا ۔ہم بھائی بہن چھت پر ابا کے آنے کا انتظار کرتے ۔ابا کے آتے ہی ہم انہیں گھیر کر بیٹھ جاتے ۔ابا پھر داستانوں کو لے کر بیٹھ جاتے ۔داستان امیر حمزہ ۔طلسم ہوش ربا ۔۔۔۔۔عمروعیار کی ٹوپی۔یہاں تک کہ سراج انور کے ناول بھی ابا سے ہی سننے کا موقع ملا ۔مطالعہ میں بعد میں کیا ۔ابا کے سنانے کا مخصوص اندازتھا۔وہ ڈرامائی انداز میں ان کہانیوں کو بیان کیا کرتے تھے ۔آج محفلوں میں کہانیاں سناتے ہوئے میں کسی حد تک اس انداز کو اپنانے کی کوشش کرتا ہوں ۔مگر وہ ہنر کہاں سے لاؤںجو ابا مرحوم کے پاس تھا۔ ‘‘ 4
مشرف عالم ذوقی ؔکی ادبی زندگی کا آغاز بڑی کم عمری سے ہی ہوگیا تھا ،چھٹے کلاس میں تھے کہ انہوں نے پہلی کہانی لکھی جس کاعنوان تھا ’’چور کیوں بنا ‘‘ اور یہ کہانی جامعہ سے شائع ہونے والی میگزین ’پیام تعلیم‘ میں شائع ہوئی۔
ذوقیؔ کی جب ۱۳؍سال کی عمر ہوئی تو ان کا پہلا افسانہ ’’رشتوں کی صلیب ‘‘کے نام سے ممبئی سے شائع ہونے والے رسالہ ’’کہکشاں‘‘ میں شائع ہوا اس طرح انہوںنے ادبی دنیا میں قد م رکھا۔لکھنے کا ذوق ان کے ذہن و فکر پہ ایسا غالب رہا کہ بچپن سے لے کر موت تک لکھتے رہے ۔بچپن میں کتابوں سے دوستی کی، کھیل کود سے اپنے کو جدا کیا ،کھیل میں بار بار ہارجاتے اور پھر انہوں نے قلم اور ادب کو ہاتھ لگایا، ادب سے انہیں بہت کچھ ملا ،ادب کی دنیا کو آباد کرنے کا جذبہ قابل رشک تھا ۔انہوں نے ادب سے وابستگی کے حوالے سے لکھا ہے کہ :
’’مجھے شکوہ نہیں کہ ادب نے مجھے کیا دیا ۔مجھے بہت کچھ دیا ہے ۔مجھے ایک حسین زندگی عطا کی ہے ۔اس زندگی کو میں اپنے طور پر سوچتاہوں ،محسوس کرتا ہوں اور اپنے سانچے میں اتارتا ہوں ۔‘‘ 5
قیام دہلی :
مشرف عالم ذوقیؔ ۱۹۸۵ء میں دہلی آگئے،نئے شہر میں ذوقی اجنبی پن کا احساس لیے پھر رہے تھے،در در کی ٹھوکریں،ذہنی و جسمانی الجھنیں ساتھ ساتھ تھیں ۔روزگار پانے کا خیال انہیں ہمہ وقت ستاتا تھا ۔ذریعہ معاش کے لیے کچھ کام تو ہونا ضروری ہے ۔اسی تگ ودو میں تھے کہ جلد ہی دور درشن میں انہیں جگہ مل گئی ۔اس طرح الیکٹرانک میڈیا کے دروازے ان کے لیے کھل گئے ۔دہلی چوںکہ بڑا شہر ہے اور یہاں کی ادبی ،سیاسی وسماجی صورت حال مختلف تھی لھٰذا انہوں نے ماحول کو بھانپتے ہوئے اپنے مطالعے کو وسیع کرنا شروع کردیا۔دوردرشن سے وابستگی کے بعد ان کی ترقی ہوتی گئی اور یہاں تک کہ انہیں اس میں پروڈیو سر (Producer) کے منصب پر فائز کردیا گیا ۔اس پلیٹ فارم سے انہوں نے متعدد ڈاکیومینٹری فلمیں بنائیں اور سیریلس کے علاوہ ڈوکو ڈرامہ پہ بھی کام کیا ۔ڈوکومینٹری فلم کے لیے اسکرپٹ لکھنے کی ذمہ داری اکثرخود ہی سنبھالتے تھے۔انھوں نے اردو اور ہندی کے متعدد قلم کاروں پہ ڈاکو مینٹری فلمیں بنائیں۔الیکٹرانک میڈیا کے توسل سے ان کا کام قابل قدر ہے اور اس جہاں میں نمایاں کارنامہ انجام دیا ۔ذوقی نےAs a producer ٹی وی پہ بہت تجربہ کیا ہے ،بڑی تعداد میں انہوں نے لوگوں پہ ڈاکومینٹری فلمیں بنائیں اور ناولوں میں سے ’’بے جڑ کے پودے ‘‘پہ انھوں نے ۲۶؍ قسطوں میں سیریل بنایا ۔اس درمیان ادب کے موضوع کو بھی مطمح نظر رکھا،بھلا ادبی ماحول میں پروردہ انسان کو ادب سے دوری کیسے برداشت ہوسکتی ہے ؟
قرۃ العین حیدر ،نامورسنگھ،راجندر یادو ،جوگندر پال اور ڈاکٹر محمد حسن وغیرہ پہ ڈوکومینٹری فلمیں بنائی۔اس کام میں ان کی اہلیہ نے برابر ساتھ دیا اور وہ بھی سیریل بنانے میں تعاون پیش کرتی رہیں ۔تبسم فاطمہ نے ذوقی ؔکے ناول ’مسلمان ‘ پر’ملت‘ کے نام سے ایک سیریل بنایا جو کہ بہت مقبول ہوا ۔
ذوقی ؔنے ادب کے سرمایے میں ناقابل فراموش اضافہ کیا ہے ،سیکڑوں کہانیاں ،متعدد ناول ،خاکے ،ڈرامے ،تنقیدی مضامین اور افسانوی مجموعوں نے اردو ادب میں انہیں زندۂ جاوید بنا دیا ہے ۔اس کے علاوہ ہندی زبان میں بھی ان کی کہانیوں کے متعدد مجموعے شائع ہو چکے ہیں،ذوقی اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں لکھتے تھے ۔
ذوقیؔ ایک ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔ انہوں نے یہ نام اپنی بے حد محنت اور ریاضت سے کمایا ہے ۔ادب سے نہ صرف لگاؤ ہے بلکہ عشق اور جنون کی حد تک اس سے منسلک رہے ۔اسی جنون وعشق نے ادب کے حوالے سے ان سے وہ کام لیا جس سے وہ اپنے معاصر ادیبوں میں ممتاز ہوگئے ۔
ادب میں ذوقیؔ نے فکشن کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا اور اتنا لکھا کہ موضوع کا حق ادا کردیا ،ان کا اختصاص یہ ہے وہ ہمیشہ سلگتے اور حساس مسئلے کو اپنے ناول یا کہانی کو موضوع بناتے اور سیر حاصل گفتگو کرتے۔انداز تحریر نرالا ،اسلوب مایہ ناز ،بہترین تکنیک،خوبصورت مافی الضمیر کی ادائیگی اور سہل انداز بیان ان کا خاص وصف ہے ۔پیچیدہ اور گنجلک عبارتوں سے پرہیز،مبہم خیالات سے اجتناب اورغیر ضروری باتوں کو شامل کرنے سے ان کی تحریر پاک وصاف نظر آتی ہے ۔جو کچھ لکھتے ہیں بہت سوچ سمجھ کر لکھتے ہیںاور مکمل ذہانت اور شعور کااظہار ان کی تحریر میں ملتا ہے ۔
فکشن کے فن نے ہر عہد میں سماجی ،معاشرتی،سیاسی ،اقتصادی،تہذیبی ،علمی ،فنی اور ادبی میدان میں حقیقی زندگی کی عکاسی کی ہے ۔آج ہم جس عہد سے گزررہے ہیں وہ انٹر نیٹ اور گلوبلائیزیشن کا عہد کہلاتا ہے، زندگی کی ہر سانس سائنس اور ٹیکنالوجی سے متاثر نظر آتی ہے۔ذوقی ؔ کی تخلیقات میں عصر حاضر کے تقاضوں کی عکاسی واضح ہے ۔ان کے یہاں موضوعات میں تنوع ہے ،ہر ایک اہم اور حساس مسئلہ پہ بے خوف تحریرپیش کرتے،ان کے کئی ناولوں نے سانحات اور سماج سوز واقعات کی فوری ترجمانی کی ہے مثلاًبیان ،مسلمان ، آتش رفتہ کا سراغ،لے سانس بھی آہستہ ، نالۂ شب گیر یہ مرگ انبوہ وغیرہ ایسے ناول ہیں جو نہ صرف ادبی تخلیق ہیں بلکہ سماج کے مظلوم طبقوں کے لیے نوحہ اور مرثیہ بھی ہیں۔
ذوقیؔ کا فکشن :
ذوقیؔ کا نام فکشن کی سلطنت میں ایک شہنشاہ کی حیثیت کا حامل ہے کیوں کہ فکشن میں انہوں نے جتنا لکھا ہے اورجس قدر انوکھے ومنفرد موضوعات کو ہاتھ لگایا ہے اس کی نظیر ان کے ہم عصروں میں مفقود ہے ۔ذوقی معاصر فکشن نگاروں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ ناول نگاری اور افسانہ نگاری میں ان کا مرتبہ قدرے بلند ہے ۔فکشن کے موضوعات کا دائرہ بڑا وسیع ہے اور اس میں کامیابی کی منزلیں وہی شخص پا سکتا ہے جسے لکھنے کا فن ،دنیا سمجھنے کا ادراک، اسلوب بیان اور طرز تحریر میں کمال کا درک حاصل ہو ۔ذوقی میں لکھنے کا فن بھی ہے، دنیا کو بہت گہرائی کے ساتھ دیکھتے بھی ہیں اور ان کا اپنا اسلوب بیان ہے ۔اپنی منفرد تخلیقات کے بدولت انہوں نے فکشن کی دنیا میں اپنی اہمیت کا لوہا منوایا ہے ۔ان کی کتابیں اس بات پر شاہد ہیں کہ انہیں فکشن کا امام کہا جائے ۔ ا ن کامطالعہ ،مشاہدہ ،تجربہ اور نظریہ اتنا وسیع ہے کہ وہ دنیا میں ہر اہم اور غیر اہم چیزوں پر نظر رکھتے ہیں اور انہیں کو اپنی تحریر کا عنوان بناکر کوئی ناول یا افسانہ لکھ کر ادب کے سرمایے میں اضافہ کرتے ہیں ۔ تہذیب کی بدلتی ہوئی حالت ،زندگی کے موڑ پہ نئے مسائل کی آہٹ کا احساس ذوقی کو سب سے پہلے ہوجاتا ہے۔وہ بیحد سنگین مسائل کو اور پیچیدہ صورت حال کو اپنے فکشن کا نہ صرف موضوع بناتے ہیں بلکہ ان پہ ایسی تخلیق پیش کردیتے ہیں کہ جسے پڑھ کر قاری حیرت کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے ۔’’سلسلہ ٔروزوشب‘‘ میں ذوقیؔ نے اپنے بارے میں کہی ہوئی بات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’ابھی حال میں آفاق عالم صدیقی نے بھی کم وبیش یہی بات میرے فکشن کو لے کر کی تھی ۔ مشرف عالم ذوقی اپنے انداز کے سب سے توانا اور منفرد افسانہ نگار ہیں ۔تہذیب کی ہر نئی کروٹ اور تیز رفتا ر زندگی سے پیدا ہونے والے ہر مسئلہ پر عموماً ذوقی کی نظر سب سے پہلے پڑتی ہے ۔وہ آج کی زندگی کے ایسے سفاک افسانہ نگار ہیں جو تمام تر معنویت کو جھیلنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔وہ سنگین سے سنگین ترین مسائل اور پیچیدہ ترین صورت حال پر اتنی خوبصورت سے افسانے کا محل کھڑا کردیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ۔مشرف عالم ذوقی کی افسانہ نگاری ہو یا ناول نگاری کا معاملہ ان کے تما م ہمعصروں اور پیش رؤں سے مختلف ہے ۔ ‘‘ 6
ذوقیؔ کے فکشن کا موضوع جدید زمانوں کے ابھرنے والے مسائل ہوتے ہیں ۔ایسے موضوعات جو انسانی زندگی پہ گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔چاہے وہ سماجی یا سیاسی مسائل ہوں ،قومی یا بین الاقومی سطح کی بات ہو ،مظالم ومصائب کے واقعات ہوں،تقسیم،فسادات اور عورتوں پہ زیادتی کا مسئلہ ،بچوں کی نفسیات کا امر،سیاسی مکاریاں وچالبازیاں ہو ںاور جنریشن گیپ وگلو بلائیزیشن جیسے مسائل کو انہوں نے اپنی تحریر کا موضوع سخن بنایا ہے۔ جیسا کہ صوفیہ پروین اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ :
’’ان(ذوقی)کے ناولوں کا موضوع سماجی وسیاسی مسائل،انسانی زندگی ،زندگی کی مصروفیات،فسادات،سیاسی چالبازیاں،تقسیم،عورت کے مسائل،جنریشن گیپ ، گلوبلا ئیز یشن وغیرہ جیسے موضوعات کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے ۔ذوقی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خود کو کبھی دہرایا نہیں ہے۔بلکہ ہر بار ایک نئے موضوع کے ساتھ ہمارے سامنے پیش آئے ہیں ۔‘‘ 7
ان کی تحریروں سے عیاں ہے کہ سماجی ،سیاسی ،اقتصادی اور معاشی تبدیلیوں کاگہرائی سے نہ صرف وہ معائنہ کرتے ہیں بلکہ ان تبدیلیوں کے اثرات مستقبل پہ کیا مرتب ہوں گے ان کا بھی وہ اندازہ لگا لیتے ہیں ۔اور پھر جس بات کی پیشین گوئی وہ کرتے ہیںوہ شئی حقیقت میں لوگوں کودکھائی دیتی ہے۔ان کا ایک ناول ’’پوکے مان کی دنیا ‘‘ ہے، جسے انہوں نے ۲۰۰۴ء میں لکھاتھا ۔اس زمانے میں موبائل فون ،انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا اثر بہت زیادہ نہیں تھا ۔اس ناول میں انہوں نے مستقبل کے جن خدشات کا ذکر کیا وہ موجودہ عہد میں دکھائی دینے لگے ہیں اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ذوقیؔ کی نگاہ بہت دور تک دیکھتی ہے ۔
ذوقی ؔکے فکشن میں بڑاتنوع ہے ،گیرائی اور گہرائی کے ساتھ لکھنے کا فن ان کا خاصہ ہے ۔ وہ کسی ایک ہی پہلو سے دنیا کو نہیں دیکھتے بلکہ ہر جہت سے مسائل کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔سیاسیات ،سماجیات ،معاشیات،اقتصادیات اور انسانی تہذیبوں اور ثقافتوں کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اور جو انہیں محسوس ہوتاہے اسے تحریر کا جامہ پہنا کرادب کے گلستان میں پیش کر دیتے ہیں ۔
کم عمر بچوں کی نفسیات بھی ان کے سامنے ہے ،بچوں میں کس طرح کے رجحانات پنپ رہے ہیں ان کی ذہنیت کس شئی کو پسند کررہی ہے ،والدین کے ساتھ ان کا رویہ کیسا پروان چڑھ رہا ہے؟ والدین اور بچوں میں کس قدر گیپ ہو نے والا ہے ان جیسے تمام اندیشوں کا اظہار ذوقی کی کتابوں میں مل جاتا ہے ۔ان کی ایک کتاب ’’ پوکے مان کی دنیا ‘‘ہے جس میں انہوں نے کارٹون کو بطور تمثیل پیش کرکے درج بالا مسائل کا گہرائی سے نقشہ کھینچا ہے۔ذوقی کی کتابیں ان کے متنوع فکشن کی شہادت دے رہی ہیں۔نئی ٹیکنالوجی نے سماج میں کیا تبدیلیاں پیدا کی ہیں اوران کے سبب معاشرتی اقدارمیں کتنی گراوٹ آچکی ہے ؟وقت کے نئے تقاضوں نے کیا چیلینج پیش کیا ہے ؟ان جیسے بہت سارے عنوانات پہ بلا خوف وخطر ذوقی کا قلم رواں دواں رہتا ہے ۔ ذوقی کا اندازبیاں اہل علم وادب کے درمیان قابل ذکر ہے اور لائق تحسین بھی ۔ان کے فکشن اور انداز بیان پہ ڈاکٹر منور حسن کمال کا یہ اقتباس قابل تذکرہ ہے :
’’ذوقی کے ناولیاتی مشاہدات،تجردات،تمسکات اور نوادرات پر گفتگو ہوتی ہے تو وہ اپنے الگ اور منفرد انداز بیاں کے سبب دنیا کے تمام نقادوں کو انگشت بدنداں کردیتے ہیں ۔ صدیوں پر محیط چاہے تاریک کے حوالے ہوں ،یا تہذیبی ڈرامائی موڑ ،تاریخی مشاہدات کو چاہے رومانی رنگ وبو میں پیش کرنے کا موقع ہو یا سماجی زندگی کے کسی نکتے پر نشتر لگانا ہو ہر جگہ ان کا انداز قاری کو چونکا دیتا ہے ۔‘‘ 8
مشرف عالم ذوقیؔ یقینا اپنے عہد کے بڑے فن کار اور ممتاز فکشن نگار تھے ،ان کی عظمت کی گواہی ان کی کتابیں دے رہی ہیں ، خوبصورت اسلوب کے پیرایے میں لکھنا ان کا کمال ہے اور قاری کو اپنی کہانی کے حصار میں بنائے رکھنے کا ہنر ان کا وصف خاص تھا ۔ ذوقیؔ کی ادبی عظمت کی شہادت ان کی تصانیف دے رہی ہیں ۔ان کی تخلیقی کا ئنات کی فہرست ملاحظہ ہو۔
تصانیف:
ناول :
(۱) عقاب کی آنکھیں (پہلا ناول ) 1979
(۲) نیلام گھر تخلیق کار پبلشرز،دہلی 1985
(۳) شہر چپ ہے تخلیق کار پبلشرز ،دہلی 1988
(۴) ذبح تخلیق کارپبلشرز ،دہلی 1990
(۵) مسلمان عالمی میڈیاپرائیویٹ لمیٹید 2014
(۶) بیان تخلیق کارپبلشرز ،دہلی 1995
(۷) پوکے مان کی دنیا ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی 2000
(۸) پروفیسر ایس کی عجیب داستان ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی 2004
(۹) لے سانس بھی آہستہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی 2012
(۱۰) آتش رفتہ کا سراغ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی 2013
(۱۱) نالۂ شب گیر ذوقی پبلیکیشنز،دہلی 2015
(۱۲) مرگ انبوہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی 2019
افسانوی مجموعے( اردو):
(۱) بھوکا ایتھو پیا تخلیق کارپبلشرز ،دہلی
(۲) منڈی تخلیق کارپبلشرز ،دہلی
(۳) غلام بخش تخلیق کارپبلشرز ،دہلی
(۴) صدی کو الوداع کہتے ہوئے شاشا پبلی کیشنز،دہلی
(۵) لینڈ اسکیپ کے گھوڑے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی
(۶) ایک انجانے خوف کی ریہر سل عرشیہ پبلی کینشنز،دہلی ۹۵
(۷) نفرت کے دنوں میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس
افسانوی مجموعے (ہندی):
(۱) غلام بخش جن وانی پرکاشن
(۲) فرشتے بھی مرتے ہیں جن وانی پرکاشن
(۳) فزکس،کیمسٹری،الجبرا جن وانی پر کاشن
(۴) بازار ی ایک رات (ان ۔پی۔ایچ)
(۵) مت رو سالک رام (ان ۔پی۔ایچ )
(۶) فرج میں عورت گیان پیٹھ
(۷) امام بخاری کا نیپکن پین گوئن
(۸) لیبارٹی کانفلوئمنس انٹر نیشنل
(۹) ذوقی کی سریشٹھ کہانیاں (ان ۔پی۔ایچ )
(۱۰) ذوقی کی متنوع کہانیاں نمن پرکاشن
(۱۱) شاہی گلدان ارو پرکاشن
(۱۲) ذوقی کی حسیت کہانیاں آلیک
درج بالا کتابوں کے علاوہ ادب کی دوسری اصناف میں مثلا تنقید ،خاکے ،ڈرامے اور ادبی اسکرپٹ پہ بھی ذوقی نے ایسی کتابیں لکھی ہیں جو اردو ادب کے خزانے میں قیمتی سرمایہ کا درجہ رکھتی ہیں۔
مجموعی طور پہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مشرف عالم ذوقی اکیسویں صدی کے ایک اہم فکشن نگار کادرجہ رکھتے ہیں اورموجودہ صدی کے حساس مسائل پہ لکھنا ان کا طرۂ امتیاز تھاوہ اپنے ہم عصروں میں بہت مقبول ومشہور رہے اور سماج کے نہایت اہم مسائل کو اپنی تحریر کا موضوع بنانے میں وہ کسی خوف کا شکار نہیں ہوئے۔مظالم کے خلاف ان کا قلم رواں دواں رہتا تھا جس کے لیے انہیں پریشانیوں کا بھی کبھی کبھار سامنا کرنا پڑتا تھا ،لیکن وہ لکھنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ لکھنے کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ دنیا میں عالمی وبا کی دستک ہوئی ،انسانی ہلاکت خیزی کی دعوت دینے والی بیماری ــ’’کورونا وائرس ‘‘نے پوری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لے لیا اور ساری دنیا اس وبا سے متاثر ہوگئی۔اسی عالم میں مشرف عالم ذوقی ؔنے ہمیشہ کے لیے دنیا کو الوداع کہا، ۱۹؍ اپریل ۲۰۲۱ء کو اردو کا یہ روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا ۔
حواشی
1 (ذوقی، میرا شہر آرا)مشرف عالم ذوقی کے فیس بک وال سے ماخوذ ہے ۔
2 مشرف عالم ذوقی ،سلسلۂ روزوشب ،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،دہلی ،سن اشاعت ۲۰۱۳ء،ص:۱۳۲
3 ایضا،ص :۴۴۳
4 ایضا،ص:۱۷۷۔۱۷۶
5 ایضا،ص:۴۴۲
6 ایضا،ص: ۱۹۲۔۱۹۳
7 مضمون ’کولاژ کا بادشاہ مشرف عالم ذوقی کے ناولوں میں بدلتے ہوئے موضوعات کا احاطہ ’مرگ انبوہ ‘کے حوالے سے ،از صوفیا پروین،مشمولہ ، ماہنامہ ’ترجیحات ‘شمارہ :مارچ ؍اپریل ۲۰۲۳ء
8 فکشن تنقید ،تکنیک ،تفہیم ،مرتب ڈاکٹر منور حسن کمال ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی ،اشاعت ۲۰۲۰ء،ص:۲۰۔۲۱