
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، نئی دہلی
مولاناابوالکلام آزاد اور یوم تعلیم
ماہ نومبر کو ہم کئی اعتبار سے اہم جانتے ہیں ۔ اسی ماہ میں یوم تعلیم اور یوم اردو کا اہتمام ہوتا ہے ۔ یہ تقریبات بہت حدتک اب رسم میں تبدیل ہوچکی ہیں ۔سال بھر جس طرح الگ الگ دن منانے کی رسم چلی ہے اسی طرح ان ایام کو بھی رسم کا حصہ مان کر ہم اہتمام کرلیتے ہیں ۔ حالاں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تقریبات کے پس پردہ اس مقصد کو سمجھا جائے جس کے لیے اس دن کو مختص کیا گیا ہے۔
11 نومبر مولاناابو الکلام آزاد کی یوم پیدائش ہے ۔اسی مناسبت سے ہر سال گیارہ نومبر کو’ قومی یوم تعلیم ‘کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔مولانا آزاد ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ سیاسی اعتبارسے جس قدر وہ متحرک اور فعال تھے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے ۔ اسی طرح جب وہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم بنے تو انھوں نے اپنی ذہانت اور دوررس بصیرت سے ملک کو کئی ایسے ادارے دیئے جو آج بھی ہندستانی نظام تعلیم اور ہندستانی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ان میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشن ، ساہتیہ اکادمی ، سنگیت ناٹک اکادمی ، للت کلا اکادمی ، انڈین انسٹی ٹیو ٹ آف ٹکنالوجی جیسے ادارے بہت اہم ہیں ۔ انھوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہندستانی تہذیب و ثقافت، قومی یکجہتی اور مشترکہ ہندستانی تہذیب کے فروغ کے لیے جو کام کیے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں ۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو صرف گیارہ نومبر کو ہی یا دنہ کیا جائے بلکہ ان کی تعلیمات کو عام کرنا موجودہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیوں کہ انھوں نے ہندستان کی سالمیت اور قومی یکجہتی کے لیے جوعلمی اور تحریری طور پر کام کیا وہ آج بھی وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ مولاناابو الکلام آزاد نے جو بھی کام کیا ، وہ چاہتے تھے کہ عام ہندستانی بھی اسی جذبے اور صداقت سے کام کرے ۔ ملک کو آگے بڑھانے اور ہم وطنوں کو سربلند کرنے کے لیے ان کے جذبات کو دیکھنا ہو تو ’’ البلاغ ‘‘ کا یہ اقتباس پڑھیں :
’’میں وہ صدا کہاں سے لاؤں جس کی آواز چالیس کروڑ دلوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کردے۔ میں اپنے ہاتھوں سے وہ قوت کیسے پیدا کروں کہ ان کی سینہ کوبی کے شور سے سرگشتگانِ خواب موت سے ہوشیار ہوجائیں ۔ دشمن شہر کے دروازے توڑ رہے ہیں ۔ اہلِ شہر رونے میں مصروف ہیں۔ ڈاکوؤں نے قفل توڑ دیے ہیں اور گھر والے سوئے ہوئے ہیں۔ لیکن اے رونے کو ہمت اور مایوسی کو زندگی سمجھنے والو!یہ کیا ہے کہ تمھارے گھر میں آگ لگ چکی ہے، ہوا تیز ہے اور شعلوں کی بھڑک سخت ہے، مگر تم میں سے کوئی نہیں جس کے ہاتھ میں پانی ہو ۔ ‘‘( البلاغ ،ابوالکلام آزاد )
قوم و ملک کے لیے مولانا آزاد کا یہ درد اوریہ جذبہ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ہے ۔ وہ تکثیری ہم آہنگی کے بڑے علمبردار تھے ۔ہندستانیوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کے لیے انھو ں نے جابجا تقریریں بھی کیں۔ اتحاد و اتفاق پر ان کی تحریریں بہت دلآویز اور پُر اثر ہیں ۔ میر ا خیال ہے کہ ان کی اس طرح کی تحریروں کو ہندستان کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کرکے نئی نسل تک پہنچانے میں اگر ہم کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہی سب سے اہم خراج عقیدت اور اس طرح کی تقریبات کا مقصد ہوگا۔