You are currently viewing میرا نظریہ میری بات

میرا نظریہ میری بات

کتاب کا نام:              میرا نظریہ میری بات،،

مصنف:                 ڈاکٹر وقار رضوی

مرتب:                     موسی رضا

مبصر:                   ابراہیم اعظمی، لکھنو

          اردو ادب کے فروغ میں جس طرح سے اس کی شعری اور نثری اصناف مقبول ہوئے ہیں اسی طرح سے صحافت بھی اردو ادب کا ایک حصہ ہے۔ادب اور صحافت کا رشتہ چولی دامن کا ہے۔ابتدائی ادوار میں بہت سارے ادیب و شعرا نے اس میدا ن میں اپنے کارہائے نمایاں انجام دے چکے ہیں۔یہ کتاب،، میرا نظریہ میری بات،، اردو صحافت کے میدان میں ایک نمایا اور منفرد کتاب ہے۔کتاب کے سرورق پر وقار  رضوی کی تصویر چسپاں ہے۔اس تصویر کو دیکھ کر معلوم ہوتاہے کہ وقار رضوی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ابتدا میں پیش لفظ ہے ۔اس کے بعد شارب ردولوی کا طویل مقدمہ ہے ۔اور پھر رام نائک (سابق  گورونر آف اترپردیش )کے کچھ تائثراتی کلمات ہیں ۔

          وقار رضوی اردو صحافت کے میدان کا وہ عظیم نام ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ موضوع پر قلم اٹھایا اس کا حق ادا کردیا ہے۔لکھنو سے نکلنے والا اودھ نامہ،،جس کے نگران وقار رضوی رہے۔یہ اخبات اپنے اداریے کی وجہ سے بہت قلیل مدت میں اپنی تشہیر سے ہم کنار ہوا۔ان سب اداریوں پر مشتمل یہ کتاب بہت مفید اور کار آمد ثابت ہوگی۔صحافت کے میدان میں جو خدمات وقار رضوی نے انجام دی ہیں  وہ ناقابل فراموش ہیں۔وقاررضوی نے بہت کم عمری میں اپنی شخصیت کا لوہا منوا یاتھا ۔اس کی مثال یہ کی اس کتاب کے درمیان میں کچھ تصویری صفحات کو بھی منسلک کیا گیا ہے ۔کیونکہ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن تھے ۔ہر کسی کے دل میں گھر کس جاتے تھے ۔اس کا ذکر شارب ردولوی اور رام نائک نے اپنے تائثرات میں تفصیلی انداز میں کیا ہے ۔سماجی سرگرمیوں میں بہت دلچسپی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے ہمیشہ سے اپنے بڑے بزرگوں سے ادب احترام سے ملتے تھے ۔جن ان کا انتقال ہوا تو لکھنو کیا ہندوستان کی عظیم سے عظیم ترشخصیات نے اظہار افسوس جتایا ۔جیسا کہ اس کتاب کے آخری صفحات میں دیکھا جا سکتا ہے ۔

                   موت سے کس کو رستگاری ہے۔                            آج وہ، کل ہماری باری ہے

          موت برحق ہے ۔اور خدا  کے اسی فیصلے پر ہم راضی ہیں۔آج سے ایک سال قبل 10مئی 2021 کو وقار کے انتقال کی خبر سنی تھی یقین ہی نہیں ہورہا تھا۔مگر سچائی یہی ہے کہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔

          وقاررضوی ایک اچھے انسان،ایک اچھے صحافی،سماج و معاشرے کی فکر رکھنے والے بڑے صفات کے حامل تھے۔انہوں نے ادبی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔اپنی زندگی کے اتنے مختصر وقت میں اتنے بڑے بڑے کام انجام دیے جو ایک عام انسان کے لئے آسان نہیں تھا۔پورے انہماک کے ساتھ اسے پایہ تکمیل تک پہونچایا ہے۔ان کے لکھے ہوئے  اداریے کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پروردگار نے انھیں ایسا دماغ دیا تھا جو بہت ہی کم لوگوں کو میسر ہے۔وہ قومی یک جہتی کے علمبردار تھے جس نے بغیر کس خوف وخطر کے صحافت کی صحیح عکاسی کی اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا جاری کردہ اخبار اودھ نامہ منزل کمال تک پہنچ گیا  اللہ مزید ترقی دے۔جب تک اخبار اودھ نامہ پڑھ نہیں لیتے اس وقت تک بڑی ہی بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔

          اس کتاب کا سر ورق بہت پر کشش اور جاذب نظر ہے ۔دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ وقار رضوی ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ۔اور جب اداریہ پڑھنا شروع کرتے تو لگتا ہے کہ وہ ہم سے باتین کررہے ہیں ۔اس کتاب میں سب سے پہلے پیش لفظ ہے ۔شارب ردولوی نے اپنی بات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک روشن چراغ تھا نہ رہا ،اداریہ کسی بھی اخبار کی جان ہوتا ہے ۔کچھ لوگ اسے ریڑھ کی ہڈی گمان کرتے ہیں ۔اسی طرح سے کچھ ایسے اخبا ر بین بھی ہوتے ہیں جب تک وہ اداریہ پڑھ نہیں لیتے ان کو سکون نہیں ملتا ہے ۔حالانکہ اس کتاب میں ایک فہرست ہونی چاہیئے تھی ۔مگر ایسا نہیں ہوا ،کسی کتاب کی فہرست اس کی پہچان ہوتی ہے ۔کیونکہ جب کوئی شخص کتاب ہاتھ میں لیتا ہ تو سب سے پہلے اس  کی فہرست دیکھتا ہے۔جس سے قاری یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مضمون پڑھنے کے لائق ہے ۔اس کتاب میں تام ادارئیے الگ الگ عنوان سے ہیں ۔ان کی اداریوںکی ترتیب میں مرتب نے ان ادارئیے کو سب سے پہلے رکھا ہے جو کہ ان کے مسلکی اعتبار کے تھے ۔کہیں نہ کہیںپڑھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اودھ نامہ اخبار اور اس سے جڑے تمام لوگ فرقہ شیعہ کی پرزور اشاعت کرتے ہیں۔مگر جب ہم اس اخبار کے ادارئیے یا اس کتاب میں شامل اداریوں کو  پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وقار رضوی کے دل میں سب کے لئے یکساں جگہ متعین ہے ۔یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔

          وقار ضوی کی تمام تحریروں کو یکجا کرکے ان کو کتابی شکل میں(میرا نظریہ میری بات) محترمہ تقدیس فاطمہ صاحبہ او

ر موسی رضا صاحب نے  مرتب کرکے ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔اس کے لیے وہ  بہت مبارکباد کے مستحق ہیں۔اس کتاب میں مرتبین نے بہت محنت اور جانفشانی کا مظاہرہ کرکے ان کے لکھے تمام اداریے مع عنوانات کے جمع کیے ہیں۔علاوہ ازیں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے تمام اداریے قوم اور زبان اردو ادب کے فروغ و اشاعت کے پیش نظر لکھے گئے ہیں۔

          زبان اس قدر سادہ اور سلیس ہے کہ قاری ایک وقت میں پوری کتاب ختم کرنے کا متمنی ہوگا۔اور ساتھ ہی ساتھ اس کی زبان سے یہ الفاظ ضرور ادا ہونگے کہ

          ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے۔                       بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔

          جیسے اس کتاب میں کچھ اداریوں کے عنوان ۔کربلا انسان سازی کی درس گا ہ،یہ مجلسیں نہ ہوتی تو ،جنگ میں ہم پہل نہیں کرتے ،جو کم بولتے ہیں وہ کام زیادہ کرتے ہیں ،اردو آکاڈمی کا باقی رہنا  زیادہ ضروری ہے،اسلام ایک سائنسی مذہب ،اپنی پریشانی دور کرنے کا ایک راستہ یہ بھی ہے،رکھیوغالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف ۔۔آج کچھ درد میرے اس دل میں سواہوتا ہے ،آو مل کر انقلاب تازہ تر پیدا کریں ۔دہرپر  اس طرح چھا جائیں کی سب دیکھا کریں ، مسلم جوش میں ہوش نہ کھو ئیں،امام حسین اتحاد کا مر کز بھی اور ہماری ضرورت بھی ،بغیر اجازت کوئی عبادت قبول نہیں ،وغیرہ ہیں ۔یہ وہ اداریئے ہیں جس میں وقار رضوی نے سماجی ،معاشی ،اور مذہبی باتوں کو بہت پر کشش انداز میں ضبط تحریر کیا ہے ۔کچھ اداریئے ایسے ہیں کہ جن کو پڑھ کر اندازہ وہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام کے پر چم کو بلند کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ۔کربلائی واقعات پر مشتمل  ان کا سب سے بہتریں اداریہ ’’ کربلا انسان سازی کی درس گاہ ‘‘ ہے ۔اس میں وقار رضوی نے محرم کے موقع پر لکھنو میں عزاداری اور مجلسوں کے انعقاد کا منظر نامہ بڑے دلچسپ انداز میں کیاہے ۔کیونکہ لکھنو  میں محرم کا جلوس اور اس کی مجلسوں کی وجہ سے عالمی پیمانے پر شہرت کا حامل رہا ہے ۔

          وقار رضوی اپنے اداریئے میں ہمیشہ با محاورہ زبان استعمال کرتے تھے ۔ان کی زبان نہایت نفیس زبان اور سلیقہ سے سے بھر پور ہوتی تھی ۔بہشتر اداریوں میں دینی و مسلکی باتوں کا سراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے ،مگر کبھی کسی فرقہ یا مسلک کی دل آزاری نہیں کی ہے ۔اس کتاب میں شامل ہر اداریہ اپنے آپ میں ان کی شخصیت کا مرقع لئے ہوئے ہے ۔اور خاص بات یہ ہے کہ اس کتاب میں اردو زبان کے ساتھ ساتھ ہندی زبان میں تمام اداریئے کو جمع کیا گیا ہے ۔تاکہ جو لوگ اردو زبان سے واقف نہیں ہیں وہ ہندی زبان میں بھی پڑھ سکیں ۔کیونکہ یہ اخبار آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہندی اور ارودو ،دونوں زبانوں میں یکساں طور پر جاری و ساری ہے ۔اودھ نامہ اخبا ر اور وقار رضوی کی سربراہی اس بات کی غماز ہے کہ آج یہ اخبار ان تمام تر نا مساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے کامیابی کی منازل طئے کررہا ہے ۔اور یہ ان کی خدمات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان کی خدمات کے اعتراف میں قلم کار اپنی قلم کو روک نہیں پائے ۔اور کتابی شکل میں آج آپ کے سامنے موجود ہے ۔

           اس کتاب کے مرتبین نے جس طرح سے ان کو دیکھا ،سمجھا اور پہچانا ان تما م باتوں کا ذکر اس کتاب کے پیش لفظ میں کردیا ہے ۔ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا آج کے دور میں معیوب سمجھا جانے لگا ہے ۔مگر اس کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی کچھ لوگ زندہ ہیںجو حق کی صدائیں بلند کرنے کو تیار بیٹھیے ہیں ۔ہم دعا کرتے ہیں پروردگار عالم وقار رضوی کی مغفرت کرے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔

                                                                   ***

Leave a Reply