You are currently viewing ناول’’ بغیر عنوان کے ‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

ناول’’ بغیر عنوان کے ‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر جاوید اقبال

گورنمنٹ ڈگری کالج نگروٹہ،جموں

ناول’’ بغیر عنوان کے ‘‘کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

سعادت حسن منٹو ایک ایسی شخصیت ہیں جو کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے بارے میں سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ منٹو نے خود کو افسانہ تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے مکتوبات ، مضامین ، خاکوں، ڈراموں، ترجموں، انشائیوں اور فلمی کہانیوں پر بھی طبع آزمائی کی۔ منٹو نے ناول نگاری کے میدان میں بھی اپنے قلم کی توانائی دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ ان کا میدان نہیں تھا ۔ موذیل، ٹوپہ ٹیک سنگھ، بابو گوپی ناتھ ، نیا قانون اور ممی منٹو کے ایسے شاہکار افسانے تھے جنہیں ناول میں تبدیل کر دئے جانے کے سارے آثار موجود تھے۔ انہوں نے اپنا ایک ناول قسط وار اپنے ہفت روزہ رسالہ ’’ کارواں ‘‘ میں شائع کیا جو بعد میں ’’ بغیر عنوان کے ‘‘ نام سے شائع ہوا۔

منٹو نے اپنی ادبی زندگی میں صرف ایک ہی ناول ’’ بغیر عنوان کے‘‘ نام سے لکھا۔ اس ناول میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جن کی بنا ء پر ہم اسے ناول کہہ سکتے ہیں۔ منٹو نے یہ ناول اپنی موت سے تین دن سے پہلے لکھا اور اس کے بعد انہوں نے ایک افسانہ ’’ کبوتر اور کبوتری‘‘ کے عنوان سے لکھا اِس میں واقعہ یہ ہے کہ ’’ بغیر عنوان کے‘‘ ناول کے دوسرے باب میں بیشتر حصہ اور تیسری باب کے چند جزو اس افسانے میں مکمل طور پر نقل کئے گئے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ’’ بغیر عنوان کے ‘‘ کا ہیرو سعید ہے اور اس افسانے میں واحد غائب ’’ وہ‘‘ ہے بعض مقامات پر چند فقرئے حذف کئے گئے ہیں دونوں کے مشن میں نوکرانی کے تیں ہیرو کی نفرت کا اظہار ملتا ہے ’’ راجو‘‘ (افسانے) میں اس جذبے کا اظہار کفایتِ الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے اور ناول ’’ بغیر عنوان کے‘‘ میں اس کو ذرا وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ لیکن بات ایک ہی ہے۔ ہاں البتہ اس کے بعد ناول کو جس طر ف مو ڑ دیا گیا ہے۔ افسانے کی سمت اس سے زرا مختلف ہے۔ ناول میں راجو سعید کے تحت الشعور میں دبی رہتی ہے۔ اور وہ بھاگ کر لاہور چلا جاتا ہے جہاں وہ آخر فریا کی بانہوں میں کھو جاتا ہے اس کے بر عکس راجو افسانے میں وہ گھر سے بھاگ کر راجو کے ساتھ شادی کر لیتا ہے۔

ناول کے اختتام پر قاری کچھ غور و فکر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کہ منٹو کا خاص پنیترا ہے لیکن’’ راجو‘‘ نام کے افسانے میں یہ بات نہیں ملتی۔ راجو (افسانے ) کا اختتام عامیانہ ہے اور اس میں منٹو کی کہانیوں کے فنکارانہ اور چونکا دینے والے اختتام کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔

منٹو کا ناول ’’ بغیر عنوان کے‘‘ آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ سعید، عباس، راجو اور مس فریا اس ناول کے اہم کردار ہیں۔ سعید ناول کا مرکزی کردار ہے اور عباس اس کا جگری دوست ، راجو ایک بے کردار گھریلو ملازمہ ہے، جس کے لئے سعید کے دل میں محبت اور نفرت کے ملے جلے جذبات موجود ہیں کیونکہ وہ ایسی عورت تھی جو ایک ہی وقت میں چار بھائیوں کے ساتھ تعلقات رکھے ہوئے تھی۔ جس کی وجہ سے وہ اس سے نفرت کرتا ہے۔ مس فریا ایک نرس ہے جس کی طرف سعید اپنی بیماری کے دوران راغب ہوجاتا ہے اور اس کی چاہت مس فریا کے ساتھ جسمانی رشتے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

عباس اور سعید کا عورت و مرد کے جنسی رشتے کے بارے میں سوچنے کا نظریہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ سعید عورت و مرد کے تعلقات میں استحکام اور پائیداری کا قائل ہے جبکہ عباس اس کے بارے میں متنوع مزاج ہے اور کسی عورت سے مستقل طور پر منسلک ہونے کو معقولیت سے ماورا سمجھتا ہے۔ اس معمولی سے پلاٹ پر یہ کہانی مبنی ہے۔

کہانی کی ابتداء منٹو نے اس طرح کی ہے:

’’آئے دن سعید کا زکام ہوتا تھا، ایک روز جب زکام نے تازہ حملہ کیا تو اس نے سوچا کہ مجھے عشق کیوں نہیں ہوتا؟‘‘ (بغیر عنوان، ص۹۲)

سعید بھی چاہتا تھا کہ کسی کے عشق میں گرفتار ہوجائے کیونکہ اس کے جتنے بھی دوست تھے وہ کسی نہ کسی کی محبت میں گرفتار ہو چکے تھے لیکن اسے بھی ابھی تک کسی سے محبت نہیں ہوئی تھی جب وہ یہ سوچتا تھا کہ اس کا دل محبت سے خالی ہے تو اسے شرمندگی محسوس ہوتی تھی اس کے وقار کو ٹھیس لگتی تھی۔ منٹو نے اس ناول میں ایک ایسے نوجوان کی ذہنی کیفیت کو ابھارا ہے جو صرف محبت کرنا چاہتا ہے اور کسی سے محبت نہ کرنے کی وجہ سے وہ خود کو دوسروں کے مقابلے میں کمتر سمجھتا ہے اور ساتھ ہی اسے یقین بھی ہے کہ اس کا دل محبت کرنے کے اہل ہے اور اسے اس بات کا احساس ہے کہ اس کی دھڑکنیں بالکل فضول ہو رہی ہیں۔ سعید نے لوگوں سے سن رکھا تھا کہ زندگی میں ایک دفعہ محبت ضرور ہوتی ہے۔ اسے اس بات کا یقین تھا کہ جس طرح موت ضرور آئے گی اسی طرح محبت بھی اس کے حصے میں آئے گی لیکن کب اس کا اسے علم نہیں تھا ۔ جس طرح وہ اپنی مرضی سے ریڈیو پر گیت سنتا تھا ، کھانا کھاتا تھا، ویسکی بھی پیتا تھا جو اس کے مذہب میں منع ہے اُسی طرح وہ محبت بھی اپنی مرضی سے کرنا چاہتا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

منٹو نے جس طرح سعید کو عشق کی خاطر منصوبہ بندی کرتے دکھایا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عشق کو لغویات سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا چونکہ اس کی زندگی میں کوئی مصروفیت نہیں تھی اس لئے عشق کرنا ہی وہ اہم سمجھتا ہے۔ سعید کے مقابلہ میں دوسرے لڑکے عباس اور لطیف وغیرہ جنہیں بہ آسانی عشق میسر آجاتا ہے یعنی لڑکیاں مل جاتی ہیںوہ ان سے دل بہلاتے ہیں۔ عشق کرنے کے ارادے سے وہ ہمیشہ اپنی گلی کی نکڑ پر دریوں کی دکان پر بیٹھتا تھا۔ یہ دکان سعید کے ایک دوست کی تھی۔ جو ہائی اسکول کی ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا ۔ اس لڑکی سے اس کی محبت لدھیانہ کی ایک دری کے ذریعہ پیدا ہوئی۔ لطیف کو گفتگو کرنے کا سلیقہ تک نہیں آتا تھا۔ اگر اسے کسی چیز میں خوبصورتی تلاش کرنے کیلئے کہا جائے تو وہ بالکل بے وقوف دکھائی دیتا ہے لیکن پھر بھی ایک لڑکی اس سے محبت کرتی تھی۔ وہ اس کو خط لکھتی تھی جس کو لطیف ایسے پڑھتا تھاجیسے کسی جنگ کی خبریں پڑھ رہا ہو۔ لیکن اس کے باوجود بھی ایک لڑکی اس سے محبت کرتی تھی جو ہر لحاظ سے اس کے مقابلے میں ارفع و اعلیٰ تھی۔ ایک دن سعید نو لڑکیوں کی فہرست تیار کرتا  ہے۔ اور پھر ہر ایک لڑکی کے بارے میں غور سے چا ہت پھر کسی نہ کسی نقص کی وجہ سے اسے محبت کے قابل نہیں سمجھتا۔ در حقیقت اس پر نفسیاتی جھجک غالب ہے وہ اپنی کم ہمتی کی وجہ سے کسی بھی لڑکی کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرنے سے قاصر ہے۔

’’نفس‘‘ کسی جوان لڑکی کی قربت چاہتا ہے۔ اس کے جوان جسم کی گرمی، اس کے ہونٹوں کے لمس، یہ خواہش اسے اکساتی ہے کہ وہ کسی بھی لڑکی سے عشق کرے، اس کے قریب ہو، اسے حاصل کرے لیکن اس کا ذہن جو پرانے اخلاقی اقدار کا پروردہ ہے، روایتی طور پر ایک ایسے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی معشوقہ میں وہ ساری تصوراتی خوبیاں ہونی چاہیں۔ جو ایک اچھی بیوی اور ایک اچھی طوائف میں الگ الگ موجود ہوتی ہیں۔ وہ مختلف لڑکیوں فہرست تیار کرتا ہے اور انہیں رد کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے ’’کمپلیکس‘‘ کو پورا طرح اجاگر کرتا  ہوا نظر آتا ہے۔

فہرست میں نمبر ۹ پر جو لڑکی ہوتی ہے اس کا نام سعید نہیں جانتا وہ سامنے کے ایک گھر میں نوکرانی کا کام کرتی ہے ۔ ایک دن سعید اس سے ایسی حالت میں دیکھ لیتا ہے کی سعید کو اس سے ہمدردی بھی ہوتی ہے اور ساتھ میں اس سے نفرت کے جذبات بھی ابھرتے ہیں۔ راجو وہاں سے کام چھوڑ کر سیدھے گھر میں کام کرنے کی خاطر آجاتی ہے ۔ سعید کی ماں راجو کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی اسے اپنے گھر میں رکھ لیتی ہے۔سعید اچانک بہت بیمار ہو جاتا ہے اس پر بے ہوشی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے جس اسے ہوش آتا ہے تو راجو کو کپڑا بگھو بگھو کر اپنے ماتھے پر لگاتے پاتا ہے ۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیتا ہے۔ اور اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔ محبت کا بھی اور نفرت کا بھی، وہ راجو سے کہتا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ محبت کئے جانے کے قابل نہیں مگر یہ جانتے ہوئے بھی تم سے محبت کرتا ہوں ، لعنت ہو مجھ پر کیونکہ وہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہے۔

 راجو اس کے پاس بیٹھی ہوئی اس کی زبانی گفتگو سنتی ہے اور خاموش رہتی ہے اور رات کو جو اس نے دیکھا ہوتا ہے پورے من و عن سے انہیں بتا دیتا ہے۔ راجو یہ سوچ کر حیران ہو جاتی ہے کہ سودا گر بھائیوں سے اپنے تعلقات کا راز جو اب تک سینے میں چھپائے ہوئے تھی۔ سعید پر آشکارا ہو چکا ہے۔ اور سعید اس بات پر شرمندہ ہوجاتا ہے کہ بے ہوشی کی حالت میں اس نے راجو سے اپنی محبت کا اظہار کر دیا ہے۔

سعید کے ذہن میں جاری کشمکش میں ان اخلاقی اقدار کو فتح حاصل ہوتی ہے۔ جس میں وہ پلا بڑھا تھا۔ وہ راجو سے دور بھاگ جانا چاہتا ہے اسے خوف ہے کہ وہ راجو کے سامنے موجود رہا تو اس گناہ سے خود کو بچا نہیں پائیں گا، جس کے آدم و حوا شکار ہو گئے تھے اور انہیں جنت سے باہر نکال دیا تھا۔

سعید کی لاپرواہی کی وجہ سے بخار نمونیہ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور صحت بہت زیادہ بگڑ جاتی ہے۔ اور ڈاکٹر سکندر لال کے کہنے پر سعید کو ہسپتال میں داخل کروایا جاتاہے ۔ جہاں اس کی ملاقات مس فریا سے ہوتی ہے مس فریا ایک نرس ہوتی ہے جو سعید کی دیکھ بھال کرنے پر معمور کی جاتی ہے لیکن سعید اس کی جانب راغب ہوجاتا ہے۔ سعید اگرچہ نرس کی طرف راغب تھا لیکن اپنی کم ہمتی کی وجہ سے وہ اس سے اپنے دل کی بات نہیں کہہ پایا۔وہ ہسپتال سے صحت مند ہوکر اس مس فریا کی یاد دل میں لئے گھر واپس آجاتا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ سعید کی مس فریا سے محض ذہنی وابستگی ہی رہتی ہے۔ اس مقام سے پیش قدمی کرکے، آخری مرحلے کو طے کرنا اس کے بس کی بات نہیں پندرہ دنوں کے بعد سعید گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کی نظر سب سے پہلے راجو پر پڑتی ہے اور اسے وحشت محسوس ہوتی ہے ۔ کچھ عرصے کے لئے لاہور چلا جاتا ہے تاکہ ذہنی کشمکش سے نجات حاصل کر سکے۔ جب وہ امرتسر کو چھوڑ کر لاہور چلا گیا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ ہزاروں میل اپنے پیچھے چھوڑ آیا ہے۔

لاہور میں اس کی ملاقات مس فریا سے ہوتی ہے وہ اسے اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کی داستان سُناتی ہے۔ اسے سعید پر اس قدر بھروسہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ ا س کے کمرے میں مقیم ہو جاتی ہے۔ ان کی قربت بہت عمدہ ثابت ہوتی ہے۔

’’ بغیر عنوان کے‘‘ انسان کے جبلی تقاضوں کی کہانی ہے۔ منٹو کا ہیرو اپنی نا آسودہ سی جبلت سے مغلوب ہے لیکن ساتھ ہی اپنے معاشرے کی روایت، اس کے قواعد و ضوابط ، اس کے طور طریقوں کے تابع ہے۔ اس لئے وہ اپنی خواہشات کو دبانے پر مجبور ہوتا ہے۔ آخر میں اپنی فطری جنسی دبائو ں کی چکی میں پس کر نڈھال ہوجاتا ہے اور مس فریاکی سلگتی ہوئی بانہوں میں کھو جاتا ہے ۔ اخلاقی اقدار پر فطری تقاضے غالب آجاتے ہیں ۔ سعید اگر نفسیاتی طور پر صحت مند ہوتا تو راجو کے ماضی کو نظر انداز کر کے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیتا اور بات ابتدائی مرحلے پر ہی ختم ہوجاتی راجو بھلا جرات انکار کیو کر سکتی تھی۔ عورت کے معاملے میں سعید بہت بزدل تھا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ اسے عورت کی قربت نصیب ہوتی ہے اور نہ قلبی سکون ملتا ہے۔ اور وہ ’’ ناکردہ گناہوں ‘‘ کی سزا بھگتا چلا جاتاہے۔ اس کے ذہن میں عورت صرف ماں، بہن کے مقدس کے رشتے سے عبارت تھی اس نے خود کو عورت کے متعلق ہر خواہش اور فطری جذبے کو کچل دیا۔ سعید اپنے آپ کو عورت کی قربت سے بچ نکلنے کا عادی ہو گیااور یہ عادت اتنی مظبوط ہو گئی کہ وہ اس کی سرگذشت بن جاتی ہے۔

سعید مس فریا کو بتاتا ہے کہ اگرچہ راجو اس کے مقابلے میں ذہنی سطح پر اس کے بہت کمزور ہے لیکن پھر بھی وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ یہ سن کر مس فریا حیرت سے کہتی ہے کہ کس قدر عجیب بات ہے۔

’’ کہ تم ایک عورت سے محبت کرتے ہو اور پھر ساتھ محبت کرنا نہیں چاہتے‘‘۔ (بغیرعنوان۔ص۹۴)

فریا کا یہ جملہ سعید کی نفسیاتی کیفیت کا صحیح نقشہ پیش کرتا ہے۔ اسے ستم ظریفی ہی کہیئے کہ مس فریا سے قربت اور خلوت کے باوجود سعید جسمانی طور پر اس کے کھینچا کھینچا رہتا تھا۔ فریا جو کہ ایک نرس ہے وہ سعید کی نفسیاتی کمزوری کو پہچان لیتی ہے۔ اور وہ اسے پیار سے بانہوں میں بھر لیتی ہے۔ سعید کی ساری حرارت اس کے ڈرپوک دل میں سمٹ جاتی ہے اور وہ ماتھے سے پسینہ پوچھتا ہوا فریا کی آغوش سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس سے فریا کے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے۔

منٹو نے مس فریا اور سعید کے ماحول میں فرق واضح کیا ہے کیونکہ فریا آزاد خیال رکھنے والے ماحول میں پیدا ہوئی ہے جبکہ سعید ایک جکڑے ہوئے سماج کی پیداوار ہے۔ اسے سماج میں اپنی بدنامی کا ڈر ستاتا ہے اور فریا سعید کی نفسیاتی الجھنوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اس کی مدد کرتی ہے۔ سعید فریا سے والہانہ انداز میں محبت کرنے لگتا ہے اور فریا پہلے سے ہی اس کی محبت میں ڈوبی ہوئی تھی خود کو اس کے سپرد کی دیتی ہے۔

منٹو کا ناول’’ بغیر عنوان کے‘‘ زبان و بیان کا اپنامنفرد انداز اختیار کیا ہے جس کا کوئی مقابل نہیں۔ وہ شاعری نہیں کرتے اور نہ الفاظ کا استعمال لیکن تشبیہوں اور استعاروں کا استعمال ضرور کرتے ہیں جن سے ان کا ماضی زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ ان کی تراکیب بھی ان کے فن کے دوسرے لوازمات کی طرح ایک شان بے نیازی رکھتے ہیں۔ ان میں ایک تازگی اور شادابی کا احساس ہوتا ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ لفظ ، تراکیب، استعارہ یا تشبیہ صرف اسی موقع کے لئے گڑھ کی گئی ہے کہانی کے چوکھٹے میں فٹ ہوکر یہ الفا ظ اپنے سفی بدل دیتے ہیں اور ایک نئی دنیا سامنے آجاتی ہے۔ منٹو کے اسلوب کی یہ ندرت ، جدت طرازی اور تیکھا پن ان کے فن کی رعنائی کا ایک ثبوت ہے۔

منٹو جزٔیات نگاری میں بے مثال ہیں۔ جزٔیات نگاری سے وہ کچھ اس طرح کام لیتے ہیں کہ ناول میں کرداروں کی شخصیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ اور قاری کے دل پر نقش چھوڑ دیتی ہے۔ راجو جو گھریلو ملازمہ ہے اس کے کردار کی بڑی جاندار تصویر کشی کی گئی ہے اس کی کردار نگاری نے منٹو کے ناول میں پائیداری عطا کی ہے۔

منٹو کے ناول کو جو چیز بہتر بناتی ہے اور ہمارا دھیان اس کی طرف مرکوز کرتی ہے ، وہ ہے بے مثل اسلوب بیان ، منٹو کو اگر صاحب اسلوب،انشاپردازی کی اونچائی پر دیکھنا ہوتو’’ بغیر عنوان کے‘‘ ایک مثالی ناول ہے۔ جس میں ہمیں ان کے اسلوب کے الگ ہی رنگ چمکتے ہوئے ملتے ہیں۔ منٹو انسانی نفسیات کے ماہر ہیں۔ انہوں نے انسانی جبلت کے فطری تقاضوں کی عکاسی کی ہے۔ یہ خوبی ان کی کہانیوں میں ابتداء سے ہی دکھائی دیتی ہے۔ شوشو ہو، یا خوشیا، یا ہتک ہر جگہ انسانی نفسیات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ’’بغیر عنوان کے‘‘ میں زندگی ایک ہی بڑی گردش کرتی نظر آتی ہے۔ راجو کا کردار ایک متحرک کردارہو سکتا تھا لیکن نہ جانے کیاں منٹو نے بہت جلد ہی اسے ایک ٹائپ کردار بنا دیا نہ تو سعید کے کردار میں رنگا رنگی ہے اور نہ ہی اس کے دوستوں کی زندگی میں مس فریا کا کردار سعید کے مقابلہ میں زیادہ بولڈ اور متحرک نظر آتاہے لیکن اس کی وجہ منٹو نے یہ بتائی ہے کہ وہ ایک اینگلو انڈین لڑکی ہیاور اس کے سماج میں اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا۔  زندگی جس نے راجو جیسی لڑکی کو چار چار مردوں کو ایک ہی وقت میں خوش رکھنے کا ہنر سکھا دیا تھا وہ ابھی احتجاج کی قوت سے اپاہج نہیں ہوئی تھی صرف ایک رات میں لیمپ پوسٹ کی نیچے کھڑی ہوکر سودار گر کو گڑگڑانے پر مجبور کر سکتی تھی۔ اسے اگلے ہی سین میں سعید کے گھر پہنچا دیا گیا جہاں وہ ایک چابی کی عورت بن کر رہ گئی ہے۔ جو مشینی طور پر حرکت کرتی ہے شایٔد یہی وجہ ہے کہ منٹو کے اس ناول کو وہ شہرت اور مقبولیت حاصل نہ ہوسکی جو ان کے افسانوں کو حاصل ہوئی ہے۔ اس ناول میں منٹو نے کئی سوالات قائم کئے ہیں وہ پوچھتا ہے:

’’ میں پوچھتا ہوں۔۔۔۔۔ کیا تم سے محبت کرنا ضروری ہے؟ یعنی تم سے محبت کئے بغیر دوستی نہیں ہو سکتی‘‘ (بغیرعنوان،ص۹۸)

در اصل سعید سے منٹو یہ سوال کروانا چاہتا تھا کہ شادی کا مطالبہ کئے بغیر جسمانی رشتہ قائم نہیں رہ سکتاہے۔ منٹو کا خیال یہ ہے کہ ایسے بھی زندگی بسر کی جا سکتی ہے لیکن ایک شریف ہندوستانی مرد عمر بھر یہ حوصلہ نہیں کر سکتا۔ بغیر شادی کئے ہوئے وہ کسی عورت کو اپنی بیوی بنا کر اپنے گھرمیں کیسے رکھ سکتا ہے یہی اس کے سماج کا عطیہ ہے اس کے تمدن، اس کے معاشرے کا جز ہے جس سے وہ آزاد نہیں ہو سکتا۔

سعید آخرکار مس فریا کی محبت میں پگھل جاتا ہے لیکن یہ سوال ابھی بھی باقی ہے کہ کیا وہ اسے اپنی بیوی، اپنی شریف حیات کی حیثیت سے سماج میں پیش کرپائے گا۔ یہ ایسا سماج ہے جس میں شرفا کسی بھی لڑکی کے ساتھ جسمانی رشتہ قائم کرلینا چاہتا ہے لیکن اسے اپنی بیوی کی حیثیت سے قبول نہیں کر سکتا۔ نتیجہ کے طور پر ایک دوہری زندگی ان کا مقدر ہوجاتی ہے۔

منٹو کا یہ ناول، ناول نگاری کے میدان میں ان کا پہلا تجربہ تھابہر حال اردو ناول کے فن کا مطالعہ کرتے ہوئے منٹو کے ناول کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ناول ’’بغیر عنوان کے‘‘ ایک اوسط درجے کا نفسیاتی ناول ہے۔ ’’بغیر عنوان کے‘‘ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ منٹو ناول نگاری کے فن سے واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے ناول میں شخصیت کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیوں کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔

***

Leave a Reply