
ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
ٹامی
ٹامی کوچ و کیلاں محلے میں رہتا تھا۔جس گلی میں اس کا مکان تھا اس گلی میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف ایک پختہ مکان، باہر ایک چھوٹا سا کنواں اور آگے ڈی ایس پی کا مکان جس کے سامنے ایک حویلی تھی۔اسی حویلی کے سامنے شمال کی طرف ٹامی کا مکان تھا جس کا ایک دروازہ جنوب اور دوسرا مشرق کی طرف کھلتا تھا۔ڈیوڑھی میں قدم رکھتے ہی دائیں طرف ایک کمرہ تھا۔کمرے میں دو کھوکھے پر گدا اور گدے پر ملتانی کھیس بچھا رہتا تھا۔شمالی دیوار کی کھڑکی کے پاس ایک میز پر ٹامی اکڑوں بیٹھ کر گھنٹوں کہانی لکھا کرتا تھا۔میز کی دائیں طرف چھوٹی سی الماری تھی جس میں رنگین فلمی رسالے رکھے ہوئے تھے۔ باہر سے آئی کتابیں میز پر رکھی رہتی تھیں۔طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک میز پر قلم دوات،کاغذاورکوپینگ پنسل ٹامی کی لمبی لمبی انگلیوں کی منتظر رہتی۔میز کی بائیں جانب ایک آتش دان پر بھگت سنگھ کا مجسمہ تھا۔مجسمے کی ایک طرف مٹی تیل کا ٹیبل لیمپ اور دوسری طرف پرانی وضع کے ٹیلی فون ریسور رکھے ہوئے تھے۔
ڈھاکے کی ململ کی طرح سفید اس کی گوری چمڑی شفاف اور سفید اس اُجلیچاندنی جیسی تھی جو رات ڈھلے کھڑکی سے چھن چھن کرکمرے میں آتی تھی۔اس کے کمرے کی دیوار پر بند کالر کا کوٹ اور بڑی بڑی خشمگیں آنکھوں والی اس کے باپ کی تصویر لگی تھی۔ان ہی آنکھوں کی دہشت سے ٹامی ایک دفعہ گھر چھوڑ کر بھاگ گیاتھا۔ان آنکھوں کی دہشت نے ٹامی کو ایک بار چھت سے پتنگ اُڑاتے وقت نیچے کو د جانے پر مجبور کیا تھا لیکن اُف کی آواز تک نہیں آئی۔برسوں وہ سفوف شیشے اور سابودانے سے تیار مانجھے اورتلنگی پننگ اُڑاتا رہا اور چھت سے کودتا رہا۔کئی دفعہ وہ لوگوں کے سرپر کود گیا جس کے سر پر وہ کوداوہ بھنائے، گالیاں دیں لیکن اس کی ایک ہی ضد کہ آسمان کی وسعتیں کسی کے پرکھوں کی جاگیر اور میراث نہیں ہیں۔ان وسعتوں میں پتنگ اُڑانے کی آزادی کا بنیادی حق اُس کے پاس بھی ہونا چاہئے۔
ٹامی کا باپ پیشے سے منصف تھا اور دو دو شادی کررکھاتھا۔ٹامی کی ماں اس کی دوسری بیوی تھی لیکن اس منصف نے ٹامی اور اس کی بہن کے ساتھ انصاف نہ کر سکاجس کی وجہ سے ٹامی کے اندر کرواہٹ پید اہوئی۔ یہ کڑواہٹ اس کے شریانوں میں زہر کی طرح پھیل گئی جس کا واحد علاج شراب کی بوتلیں تھیں۔
اس کو سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہنے کی عادت تھی ردعمل میں پھینکے گئے پتھروں سے وہ لہولہان ہوتا رہا لیکن رحم کی التجااس کے نصاب میں شامل نہیں تھی۔
دبلا پتلا گورا چٹا۔لمبا تڑنگا شرارت آمیز بڑی بڑی آنکھوں والا ٹامی، کھدّر کاسفیدبنگلہ قمیص اور بڑی موری کا پاجامہ پہنے بغل میں چند ناولوں کا تھیلا لٹکائے ایک ہاتھ میں پیٹنٹ دوا کی بوتل اور دوسرے میں چند مالٹے اور سیب کی ٹوکری لے کر روزانہ اس گلی سے گذرتا تھا لیکن جیسے جیسے عمر کے سائے ڈھلتے گئے اس کے ہاتھوں کے سامان کی نوعیت بھی بدلتی گئی۔کچھ ہی دنوں کے بعد اب دونوں ہاتھوں میں شراب کی بوتلیں دِکھائی دینے لگیں۔پاس پڑوس کے لوگوں سے پتہ چلا کہ ان بوتلوں کی سائز تو نہیں بدلی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شراب کی کوالیٹی بدلتی رہی۔شیمپن سے پورٹ اور پھر پورٹ سے ٹھرّا۔غرض جیسے جیسے ان بوتلوں کی شراب کی کوالیٹی بدلی اس گورے چٹے نوجوان کی جسمانی بناوٹ میں بھی تبدیلی آتی گئی۔گرتی صحت کی وجہ سے جب ان ہاتھوں نے بوتل ڈھونے کی سکت کھودی اور سرخ بلغم تھوکنے کی آواز آنے لگی تواسے سرمئی پہاڑیوں کے دامن میں سالوں سال سینی ٹوریم کے وارڈ نمبر ۶میں بھرتی ہونا پڑا۔
طالب علمی کے زمانے میں یہ جتنا شرارتی تھا اتنا ہی مظلوم۔اسکول روزانہ آتا لیکن رجسٹر میں غیرحاضر رہتا۔ایسا اس لیے کہ وہ اپنے دوستوں کو آلو چھولے کھلا کر کسی ناول کا پلاٹ سنانے آتا۔کلاس میں بستہ کے اوپر جغرافیہ کی کتاب رکھتا اور اندرانگریزی ناول۔مولوی صاحب دینیات پڑھاتے اور وہ ناول پڑھتا۔فر فر انگریزی بولتا۔اس لیے اپنے دوستوں میں ٹامی کے نام سے مشہور تھا۔ایک دفعہ چوری کرتے پکڑا گیا اور پولس لے جانے لگی تو زور زور سے نعرے لگانے لگا:
انقلاب زندہ باد۔!! زندہ باد۔۔۔زندہ باد۔!!
راہ گیروں نے اسے کوئی انقلابی سیاسی ملزم سمجھا اور نظر انداز کردیا۔
ٹامی بچپن سے بیمار رہتا تھا اور موت کا خوف اس پر طاری رہتا۔وہ افواہ پھیلانے میں ماہر تھا۔ایک بار اس نے افواہ اُڑادی کے امریکہ تاج محل لے کر چلا گیا۔ایک دفعہ اپنے اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے خلاف اشتہار چھپوادیا:
“مسلم ہائی اسکول کا ہیڈ ماسٹر دن رات بچوں کو بری طرح پڑھاتاہے جس سے بچوں کی تندرستی اور ذہنی خرابی پیدا ہورہی ہے۔اس لیے تمام گارجین حضرات اسہیڈ ماسٹر کے خلاف بغاوت کردیں۔”
ایک دفعہ اس نے اپنے باپ کے خلاف کمیٹی بنائی اور ایک دھمکی آمیز خط ان کے نام لکھا:
“اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو قتل کردیئے جاؤ گے!”
ایک دفعہ والدہ کے زیورات چوری کر کے گھر سے فرار ہوگیا۔ٹامی کی اس حرکت کودیکھتے ہوئے ماں باپ نے ناخلف اولاد،عزیزوں نے طوطا چشم،استادوں نے آوارہ اور دوستوں نے بدقماش کہا۔ اس کی بیوی اس کی حرگت سے نالاں تھی۔عاجزآکر ایک دن اس کی بیوی نے اس کو کرانے کی دکان کھولنے کا مشورہ دیا۔اس نے بیوی کو سمجھاتے ہوئے کہا:
“دیکھویہ دکان میری فکر کے لیے کولڈ اسٹور بن جائے گی۔”
تپ دق سے جس دن ٹامی کی موت ہوئی۔اس دن اس کی موت پرسبھوں نے خوب رویا،جی بھر کر رویا۔ نہالا دھلا کر جب اس کو سفید سفید کفن میں لپیٹ دیا گیااس وقت گورا،چٹا ٹامی براق کی طرح لگ رہا تھا جیسے ساردااور سلطانہ کا مسیحا کوئی بہت بڑے مقدس سفر پر جارہا ہو جس کا ظاہر وباطن ایک تھا!
٭٭٭