
دانش حماد
چینی لہجے میں اردو شاعری
اردو زبان کے درخشندہ ستارے زیادہ تر اتر پردیش اور خصوصی طور پر دہلی آگرہ اور لکھنوکے آسمان ادب میں چمکتے ہیں۔جھارکھنڈ سے غیاث احمد گدی اور الیاس احمد گدی دو ایسے ستارے ہیں جنہوں نے آسمان ادب میں اپنے آپ کو منور کیا ہے ۔لیکن کولہان کا علاقہ جس کی ادبی تاریخ سو سال سے زائد نہیں ہے اس عرصے میں یہاں ایک ستارہ جو بقیہ ستاروں سے مختلف تھا ایسا بلند ہوا کہ جلد ہی آسمان ادب میںاس نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ۔کولہان کے ایک شاعر جس کے آباء و اجداد چین سے کلکتہ آئے اور پھر جمشید پورمیں مقیم ہوئے وہ شیدا چینی ہیںصغر سنی سے شاعری کی ابتدا ء شہر اور بیرونی شہر میں مشاعروں میںشرکت کر اپنے چینی لب و لہجے سے اردو بول کر سب کو حیران کر دیا ۔ اور بہت جلد لوگوں نے تسلیم کیا کہ چینی بھی اردو سے شیرینی لیتا ہے ۔ایک قلیل مدت میںڈاکٹر لیو ینگ ون اپنے قلمی نام شیداؔ چینی سے آسمان ادب میں ایک درخشندہ ستارے کی حیثیت سے چمکنے لگے۔
تعارف: شیدا چینی کااصل نام لیئو ینگ وِ ن (liu yung ven)اور قلمی نام شیداچینی ہے.۱۰جون ۱۹۳۱ء کو آپ کی پیدائش کلکتہ میں ہوئی۔شیدا کے والد کا نام لیئو چھائو چھن (liu chao chen)اور والدہ کا نام چھن شن (chen shin)تھا۔ ۴ ۱۹۳ ء میں آپ کے والد کلکتہ سے جمشید پورمنتقل ہوگئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کری۔شیداکی ابتدائی تعلیم اردو میڈیم میں ہوئی اس لئے زبان و ادب سے انہیں گہرا لگائو ہو گیا ۔اور یہ لگائو وقت کے ساتھ محبت میں تبدیل ہوگیا۔شیدا نے اپنی شاعری کا آغاز حیدر آباد کی ایک نشست سے کیا۔ حصول تعلیم کے بعد جمشید پور میں مستقل قیام کیا۔یہاں کو لہان اور جمشید پور کے مشہور شاعر بدرالزماں مائلؔ نے دیکھا کہ شیدا اردو اخبارو رسائل خریدتے ہیں۔میرؔ و غالبؔ، سودؔ ا و مومنؔ اور درد ان کے مطالعے میں ہیں اورطبیعت کا میلان شاعری کی طرف ہے تو انہوں نے شیدا کو شعر گوئی کے لئے اکسایا۔ان کی ایمانے شیدا کی شعری صلاحیت کو جلابخشی۔ ۱۹۵۱ء سے شیدا نے اپنے شعر ی سفر کا آغاز کیا ۱۹۵۸ ء میں شیدا مقامی مشاعروںمیں شرکت کرنے لگے ۔لوگوں نے چینی لہجے میں اردو زبان سنا تو بہت پسندکیا اور پہلے مشاعرے میں انہیں ہر شعر پر خوب دا د ملی۔ شیدا کے لب و لہجے اور شعر پڑھنے کے انداز نے انہیں مقبول و معروف کیا اور مقامی شاعروں سے نکل کر وہ ملک کے دیگر خطوں میں مشاعرہ پڑھنے لگے ۱۹۵۸ء میں ہی شیداکو آل انڈیا مشاعرے میں خصوصی طور پر شرکت کی دعوت ملی جو مغربی بنگال انجمن ترقی اردو کے زیراہتمام منعقدتھا۔ شیداکو موسیقی سے دلچسپی تھی وائلن بڑے شوق سے بجاتے تھے ۔شیدا کو اردو زبان سے والہانہ الفت تھی ۔ ایک جگہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔
’’مجھے اعتراف ہیکہ اردو زبان نے مجھے جو فکرئشعوربخشا ہے میرے لئے بہت
بڑا عطیہ ہے اور میں اسی شعور کو برو ئے کار لائے ہوتے اپنی زندگی پہ غور کرتا ہوں،،)منقول، مضمون منظر کلیم(
شیدا کے خاندان میں آج بھی چینی زبان پڑھی اور لکھی جاتی ہے اور ان کے تمام اہل خانہ اردو بولنا جانتے ہیں خود ان والد اور چچا بھی اردو سے واقف تھے۔
ادبی خدمات: شیدا پیشے سے دندان ساز تھے ۔مگر ان کے انداز سخن نے انہیں شہرت عطا کی جس کی وجہ سے وہ بیرون شہر اکثر مشاعروں میں شرکت کی غرض سے جاتے رہتے۔ اس مصروفیت نے انہیں اپنے شعری اثاثے کو یکجا کرنے سے بے پرواہ کردیا۔ اپنے دوصاحبزادوں اور پانچ بیٹیوں کامستقبل سنوارنے میں انہوں نے خاصاوقت دیا ۔عمر کے آخری حصے میں جب وہ بیمار رہنے لگے تب ان کے صاحبزادے مجموعے کی اشاعت کے لئے پریشان ہوئے اور شمس فریدی، منظر کلیم اور سیداحمد شمیم کی کاوش سے شیداؔکا شعری مجمو عہ ۲۰۰۹میں’’ لکیر وںکی صدا‘‘ کے نام سے شائع ہو۔ شیدا کی وفات ۲۰۱۴ء میں ہوئی۔
اعزازات: ایک چینی شاعر کو اردو زبان میں شاعری کرتے ہوئے دیکھنا حیران کن منظر تھا ان کی شعری خدمات پر انہیں ۲۰۰۳ء میں’’ فراق گور کھپوری ایوارڈ‘‘ جمشید پور انجمن ترقی ہند کی جانب سے عطاکیا گیا۔
ہندی ساہتیہ سمیلن کی جانب سے انہیں تلسی داس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بزم ادب رانچی کالج رانچی نے انہیں لائف ممبر شپ کا اعزاربخشا۔
کاکیناڈا(آندھرا پردیش) میں قیام کے دوران’’ شمع‘‘ نامی رسالے میں کرشن چندر کا افسانہ’’ ایک گدھے کی سرگذشت ‘‘کئی اقسا ط میں شائع ہوااور آخر میں قارئین سے تبصرے مانگے گئے۔یہ ایک انعامی مسابقہ تھا ۔بہترین تبصرہ کرنے پر شیدا ؔکو انعام اول حاصل ہوا ۔عوام میں یہ بات پھیلنے لگی کہ ملکی سطح کے قارئین میں ایک چینی شخص نے انعام اول حاصل کیا ہے کہ ایک چینی شخص اردو لکھتا ہے اور اتنا اچھا لکھتا ہے کہ اس نے انعام اول حاصل کیا۔
شاعری : شیدا کی شاعری پر بحث کرنے کے لئے ہمارے سامنے شیدا چینی کا واحد شعر ی مجموعہ’’ لکیروں کی صدا‘‘ ہے ۲۰۰۹ء مارچ میں منظر عام پر آیا جس میں ۱۲۷ غزلوں کے علاوہ چند پا بند نظمیں اور چند آزاد نظمیں شامل ہیں ۔ حضو ر اکرم ﷺ سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے شیدا ؔنے دو نعت بھی لکھی ہے ۔کوئی شخص محمد ﷺ کو اچھی طرح جانے بغیر ان کے بارے میں نہیں لکھ سکتا۔ شیداؔکے معیاری اشعار کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ شیدا کو آنحضور ﷺ سے صرف عقیدت ہی نہیں تھی بلکہ سیرت نبوی ﷺ کا گہرا مطالعہ بھی تھا ۔آئیے شیدا کی نعت گوئی سے چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
محمد رحمت اللعالمیں ہیں محمد ہی امام المرسلیں ہیں
اطاعت ہر طرح لازم سے شیدؔا محمد سرور دنیا و دیںہیں
ثنا خواں ہے گلستاں ہو کہ صحرا ہو محمد کا غرض کہ ایک ایک ذرہ ہے گرویدہ محمد کا
رہ حق سے بھٹکتے دیکھ کر آج اہل ایمان کو خدا شاہد بہت دلگیر ہے شیدؔا محمد کا
شیدا کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا مگر شیدا بہت زیادہ مذہبی نہیں تھے ۔ان کی شاعری میں بھی کوئی بات نہیں ملتی ۔ ہاںآپ نے دیوالی اور عید کادن پر نظمیں لکھی ہیں اورآپ سے جذباتی لفظوں میں اظہار عقیدت کیا ہے۔
کسی کے لیے شاعری ابلاغ کا ذریعہ ہے تو کسی کے لئے شاعری جذبات کی عکاسی ہے۔ کسی کے لئے شاعری سامان تفنن ہے تو کسی کے لئے زندگی کا مقصدشاعری ہے ۔شیدؔا اپنی زندگی کے بارے میںاپنے الفاظ میں یوں کہتے ہیں ؎
شاعری جذبات کی قندیل فانوس خیال روح فطرت زندگانی کی حقیقت کا جمال
کوکب تقدیر عالم خالق حسن عمل پیکر نظم جہاں تہذیب انساں کا کمال
شیدا پر بنی ڈاکو مینٹری میں اسلم ؔبدر کہتے ہیں:
’’شیدا چینی جمشید پور ،جھارکھنڈ ،بہار ،ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں واحد شاعر ہے جس کی مادری زبان چینی ہے جو چینی نسل کا ہے۔ اردو ادب پر انہیں مکمل دسترس حاصل ہے کامیاب شاعری ،گفتگو بامحاورہ ،دلچسپ ،برجستگی اپنی انتہا تک شاعری کا فن اور علم العروض سے مکمل واقفیت ۔ان تمام چیزوں کو یکجا کریں تو شیدا چینی نظرآتا ہے ‘‘
ایک حساس شاعر کی کی خوبی یہ ہیکہ وہ اپنے آس پاس کے واقعات، بدلتے حالات اور زندگی کے تجربات کو اپنی شاعری میں ڈھا لتا ہے در اصل ایک حساس شاعر کی شاعری اس کی زندگی کا عکس ہوتی ہے۔ شاعر اپنی شاعری کو وہ آئینہ بناتا ہے جسے وہ دنیا والوں کو دکھانا چاہتا ہے۔ شیداؔ نے اپنی شاعری میں اپنے تجربات و مشاہدات اور زندگی کے ہر پہلو کو سمونے کی کوشش کی ہے۔ منظر کلیم نے شیداؔ کی شاعری پر پڑنے والے اثرات کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:
’’دو تجربے ایسے میں جس نے شیدا چینی کی زندگی اور شاعری کو متاثر کیا ہے۔اول ملک پر چین کی جارحیت یہ ایک محب وطن کے لئے صدمے سے کم نہیں تھا۔ شیدا نے اس جارحیت کے خلاف لکھا، جلسے کئے جلوس میں شریک بھی ہوئے ان سب کے باوجود وہ حکومت کی نگاہ میں مشکوک رہے ۔ان پر پابندی عائد کر دی گئی حصار بندی کا یہ زمانہ ایک دندان ساز کے لئے تو قابل بر داشت ہوسکتا ہے لیکن ایک فنکار کے لئے ذہنی اور نفسیاتی اذیت سے کم نہ تھا۔ شیدا تنہائی کا شکار ہو کررہ گئے ۔دوسرا تجربہ جمشید پور کا فرقہ وارانہ فساد تھا ۱۹۶۴ء کے اس فساد نے انہیں تقریبا جھنجھوڑ کر رکھ دیا یہ حادثہ ایک سیکو لر اور انسانیت پر ایمان رکھنے والے فنکار کو مفلوج کر دینے کے لئے کافی تھا ۔شیدا ایک عرصہ تک خاموش رہے لیکن آہستہ آہستہ فطری تڑپ اور احباب کے اصرار پر دوبارہ شاعری کی جانب رجوع ہوئے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی شاعری مشاعرے اور بیاض تک ہی محدود رہی ۔رسائل میں اشاعت کا سلسلہ کم کم رہا اس کی وجہ ان ہی کی بے نیازی اور قلندرانہ خو ہے‘‘
(لکیروںکی صدا، مضمون: منظر کلیم)
شیدا کے الفاظ دیکھئے ؎
اس میں تو شک نہیں ہے کہ تاریخ سازہوں شیدا یہ اور بات ہے میں بے نیازہوں
ایسے واقعات ایک حساس شاعر کے دل پر گہرے نقوش مرتب کر دیتے ہیں اور فطری طور پر یہ باتیں الفاظ کا روپ لے کر کا غذ پر پھیل جاتی ہیں۔ شیدا چینی کی نظم کا ایک ٹکڑا ملاحظہ کریں ؎
لوگ کہتے ہیں ؍اسی طور سے جینا ہوگا؍خون کا گھونٹ شب وروز ہی پینا ہو گا؍اور ہونٹوں کو بھی سینا ہو گا ؍ہاں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حالات بدل جاتے ہیں؍ شاید اپنا بھی مقدر پلٹے ؍غم نہ کھا سختی حالات سے مایوس نہ ہو ؍ اور آنسو نہ بہا ۔
نعت اور نظموں کے علاوہ شیدا کا زیادہ ترشعری سرمایہ غزل کی صورت میں ہے ۔شید ا غزل کے ہی شاعر ہیں ا ن کی غزلوں میں روایت کلا سکیت ، سیاست و اقتصادیت جا بجا پائے جاتے ہیں ۔عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ شیدا کی شاعری کا ایک بڑا حصہ روایت کا پاسدار ہے ۔شاعری میں مقصد کو ضرور اولیت حاصل ہے مگر روایت کے بنا شاعری پھیکی لگتی ہے ۔شاعر کے اشعار میں رنگ تو یہ روایتی اشعار ہی بھرتے ہیں ۔وصل فراق، غم دوراں، غم جاناں اور غم حیات یہ اردو شاعری کا خاصہ ہے اور شیدا کے یہاں ایسے اشعار کی کمی نہیں اس لئے شیدا چینی کے اشعار ہمیں رنگین نظر آتے ہیں شیدا کی شاعری میں محبت کے پھول کھلتے ہیں تمنائوں اور آرزئوں کا اظہار ہے تو ناکامی اورمحرومی کی سسکیاں بھی سنائی دیتی ہیں ۔ آئیے شیدا چینی کی کچھ ایسے اشعار پر نظر ڈالتے ہیں جن میں روایت اور کلاسکیت کا بھر پور رچائو ہے ؎
غیر سے کھل کے آپ ملتے ہیں ایک مجھ سے ہی پردہ داری ہے
لے لولیکن سنبھال کر رکھنا دل تمہارا ہے جاں تمہاری ہے
جب بھی سپنوں سے ترے نین ملے میرے بے چین دل کو چین ملے
پیار کی راہ کا مسافر ہوں کاش زلفوں کی تیری رین ملے
تمام عمر نہ اک فرصت گنا ہ ملی بہت سنا تھا ترے لطف کے فسانے کو
جہاں ملا تھا کبھی وعدئہ و فاشیوہ چلو چلیں اسی در پر فریب کھانے کو
یوں بزم میں وہ ہم سے ملے بے رخی کے ساتھ
ملتا ہے کوئی جیسے کسی اجنبی کے ساتھ
شیدا کسی کے طرز تعلق کو کیا کہوں
وہ دوستی بھی چاہتے ہیں دشمنی کے ساتھ
یہ راہ محبت ہے اس میں اے دوست توقف کیا معنی
ہو جس کو میسر ذوق یہاں ہرگام پہ سجدہ کر بیٹھے
کیا جانے وہ کیسی محفل ہے کیا جانے وہ کیسے میکش ہیں
پینے کے جب آئے دن شیدا کہتے ہیں کہ توبہ کر بیٹھے
دیوانہ کہاں تھا ترے دیدار سے پہلے رشتہ مرا کیا تھا رسن ودار سے پہلے
سورنگ سے گزری ہے قیامت مرے دل میں اے حرف تمنا ترے اظہار سے پہلے
میری وفا کو شمع سے تشبیہ تم نہ دو ہے شمع کی حیات فقط ایک رات کی
بے کیف صبح و شام ہے بے کیف روز و شب تھم سی گئی ہے گردش دوراں ترے بغیر
صبر و سکوں قرار خوشی عزم حوصلہ حاصل کہاں ہے زیست کا ساماں تیرے بغیر
تم ساتھ ساتھ تھے تو زمانہ بھی ساتھ تھا تم سے بچھڑکے کوئی کہیں کا نہیں رہا
شب وصال گئی صبح انتظار گئی ہجوم یاس میں ہرلذت قرار گئی
اثر یا رب مجھے دے یا اسے درد آشنا کر دے کہ اس دل میں محبت کی کمی معلوم ہوتی ہے
شیدا کے خاندان میں کئی مذاہب کا اختلاط ہے۔ شیدا عیسائیت سے تعلق رکھتے تھے مگر اسلام کا بھی اچھا خاصہ مطالعہ تھا۔ نعت نبوی کے علاوہ ان کی شاعری میں محشر ،حرم پاک ،حشر ،نماز، علی حسین ،محمود و ایاز کا تذکرہ بھی ملتا ہے ۔اس کی ایک وجہ جمشید پور کا ماحول بھی ہو سکتا ہے۔ چند اشعارر شیدا چینی کے ملا حظہ فرمائیں جس سے ان کا مطالعہ اسلام جھلکتا ہے ۔ان اشعار کو شیدا نے خوبصورت تشبیہات اور صنعتوں سے تراشا ہے ؎
ہمیں بھی اس کی زیا رت نصیب ہوجاتی کہ جس دیار کا سب احترام کرتے ہیں
سرمحشر گنہ گاروں کی صف میں خود کھڑے ہوکر
تری رحمت کی بخشش کا تماشا ہم بھی دیکھیں گے
گرو ید گان عظمت محمود سے کہو میرا بھی احترام کریں میں ایاز ہوں
مجھ سے بچی ہے دار ور سن تک کی آبرو میں وقت کی صلیب پہ یوں سرفراز ہوں
مجھ سے گناہ گار کو کیوں کر اماں ملے مربوط ما سوا سے بہ وقت نماز ہوں
کرب وبلائے وقت میں رکھتا ہوںحوصلہ میں وارث حسین علیٔ حجاز ہوں
اک چیز عجب ہے دل بیداد نگر بھی مسکن ہے بتوں کا بھی یہ اللہ کا گھر بھی
شیدا کے بیاض میں ایسے بہت سے اشعار ہیں جو مذہب اسلام کے نور سے منور ہیں ۔ مذہب کے اسی لگاؤ کی وجہ سے وہ اقبالؔ کو بہت پسند کرتے ہیں بی ۔زیڈ۔ مائل کی صحبت کی وجہ سے شیدا کے کلام میں جابجا اقبالیات کی جھلک بھی نظر آتی ہے ۔پروفیسر سید احمد شمیم شیدا کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’زندگی سے والہانہ محبت اور اس کی رفعت کے یقین نے شیدا چینی کو فکر ونظر عطا کی ہے ۔اس کے مشاہدے و تجربے میں وسعت پیدا ہو گئی اس کا کلام پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اسے فلسفہ و حکمت سے گہری دلچسپی تھی۔ فلسفہ کے علاوہ اس نے ایک زمانے میں تصوف کی کتابو ں کا مطالعہ کیا ہے ۔ میں کہ جسے کسی ان دیکھے وجود پر یقین نہیں تھا اس معاملے میں اکثرالجھتا رہتا تھا لیکن اب اسکی بصیرت میں ایک کشش محسوس کرتا ہوں ‘‘
ناداں سکون اور دل بے قرار میں پانی کی جستجو ہے تجھے ریگزار میں
نہ ملا کچھ سراغ ہستی کا مدتوں سے بھٹک رہے ہیں ہم
صدائے باز گشت ان کی مجھے سمجھو زمانے میں بدل دیتے ہیں تقدیر امم بھی جو نگاہوں سے
خودی کے جذبہ معصوم کو نہ ٹھیس لگا ہمارا فقر کہاں، تیرا التفا ت کہاں
خلاصہ کلام کہ شیداکی شاعری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ شید ا چینی ایک غزل گو شاعر تھے نظم گو ئی صلا حیت ان کے اندر موجود تھی جس کاثبوت انہو ں نے اپنی چند مختصر نظموں میں دیا ہے مگر شیدا نے نظم گوئی کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی ۔چند ایک نظمیں کہہ کر خاموش رہے ۔ایک چینی نژاد کا کولہان میں مقیم ہونا اور اردو میں اچھی شاعری کرنا یہ بات کولہان کے لئے قابل فخر ہے۔ کولہان(جھارکھنڈ) کو اس بات پر فخر ہے کہ اردو کا واحد چینی نژاد شاعر ہمارا ہے ۔
٭٭٭