You are currently viewing ڈھاکا یونیورسٹی شعبئہ اردو کی صد سالہ تاریخ

ڈھاکا یونیورسٹی شعبئہ اردو کی صد سالہ تاریخ

ڈاکٹر محمود الاسلام

پروفیسر، شعبئہ اردو،ڈھاکا یونیورسٹی

ڈھاکا یونیورسٹی شعبئہ اردو کی صد سالہ تاریخ

مشرقی بنگال میں پہلی یونیورسٹی کے طور پر ڈھاکا یونیورسٹی ۱۹۲۱ میں قائم کی گئی تھی۔ نواب سر خواجہ سلیم اللہ بہادر اور دیگر کے مطالبات کے بعد ، وائسرائے لارڈ ہارڈنگ نے ۲ فروری ۱۹۱۲کو تجویز کی کہ بنگال کے اس حصے میں ایک نئی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔

ڈھاکا یونیورسٹی تقریبا۶۰۰ ایکڑ اراضی کے ساتھ ڈھاکا شہر کے رمنا کے علاقے میں قائم ہوئی تھی۔ پہلے ڈھاکا یونیورسٹی میں صرف۳  فیکلٹیاں:   سائنس ، آرٹس اور لاء تھیں جن میں   ۱۲ تدریسی شعبے تھے ۔ ۶۰  اساتذہ ،  ۸۴۷ طلباء  اور ۳   رہائشی ہال تھے۔

سائنس کی فیکلٹی کا آغاز تین شعبوں :(۱)طبیعیات  (۲)کیمسٹری  (۳)  ریاضی کے ساتھ ہوا۔ آرٹس  کی فیکلٹی کے ۸ شعبے تھے ۔ (۱) سنسکرت اور بنگلہ (۲)  انگریزی (۳)  تعلیم (۴) عربی اور اسلامی علوم  (۵) تاریخ (۶) فارسی اور اردو (۷)فلسفہ  (۸)  سیاسی  اور معاشیات۔ اور قانون کی فیکلٹی کا ایک شعبہ  تھا  وہ قانون کا شعبہ۔

۱ جولائی ۱۹۲۱ میں شعبئہ اردو و فارسی  کے تدریسی سفر کا آغاز ہوا جبکہ ۱۰ مارچ ۲۰۰۷ میں  شعبئہ اردو اور شعبئہ فارسی کے نام سے دو جداگانہ شعبے کی حیثیت سے  اس کا ظہور ہوا۔شعبئہ اردو میں چار  سال کے بی ۔اے آنرز ، ایک سال کے ایم۔ اے ، دو سال  کے ایم۔فل اور تین سال  کی پی ایچ۔   ڈی کی  ڈگریاں  فراہم کی جاتی ہیں۔بی۔ اے آنرز میں داخلہ کے لئے یونیورسٹی کے مرکزی انتظامیہ کی طرف سے ہدایات اور فیکلٹی کے ڈین کے ذریعے  تحریری امتحان اور موضوع کے انتخاب میں مختلف شرائط کے ماتحت   طلبا و طالبات اپنے اپنے پسندیدہ موضوع پر  داخلہ لے سکتے ہیں۔ایم۔ اے، ایم۔فل اور پی ایچ ۔ڈی کے داخلہ کے لئے مخصوص شرائط پر  دہ داخلہ لیتے ہیں۔بی۔اے اور ایم۔اے کے  نصاب سے طلبا و طا لبات ایم۔فل یا پی ایچ۔ڈی کا عنوان انتخاب کر  سکتے ہیں۔شعبے کی سمینر لائبریری میں درسی، تنقیدی، تحقیقی ، تاریخی ، ثقافتی  و غیرہ موضوعات پر کتابیں  و رسائل موجود ہیں۔اسی شعبے سے سالانہ ایک تحقیقی اردو  مجلہ ” ڈھاکا یونیورسٹی جرنل آف اردو ” کے نام سے نکالا جاتا ہے۔یہ مجلہ یونیورسٹی  کی سنڈیکیٹ سے منظور شدہ ہے جس میں اردو زبان  و ادب کے حوالے سے ملکی اور غیر ملکی اردو  محققین  اور دانشواروں کے  مقالے چھپے جاتے ہیں۔

شعبے کے اولین مقاصد:

¨   زبان  انسان  کے فکر  وخیال  کے اظہار و مواصلات کا مرکزی ذریعہ ہے۔اور ادب کسی  فرد کے جذبات اور احساسات کو بڑے پیمانے پر افشا کرنے کا  سب سے  مؤثر ٹول ہے جو بڑے پیمانے پر فرد کے آس پاس  کے ماحول اور معاشرے  کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ شعبہ طلبا میں  زبان کی صلاحیت کو بڑھانا چاہتا ہے  اور ان کی تحریروں میں ان کے احساسات و جذبات  کو پیدا کرنے اور اس کے اظہار  میں ادبی دلچسپی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

¨   شعبئہ اردو ڈھاکا یونیوسٹی  اپنے طلبا  میں ادب کے ذریعے   اقدار، اخلاقیات اور  انسانیت کا سبق  سکھا تا ہے ۔

¨   ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ  کی مختلف یونیورسٹیوں سے تعلقی پروگرام  تیار کرنا۔

¨   قومی اور بین الاقوامی برادری  سے شعبے کی تشکیل ا   ور پڑوسی ممالک کی زبانوں سے رشتہ جوڑنا ۔

کورسز کی معینہ مدتیں:

(۱)بی۔اے آنرز چار سال    (۲)     ایم ۔اے ایک سال     (۳)    ایم ۔فل دو سال        (۴)  پی ایچ۔ ڈی کی مدت  تین سال مقرر کئے گئے۔

شعبہ کا نصاب:

اس  شعبہ نے  اردو زبان ، زبان کے قواعد، اردو  ترجمہ نگاری ، اردو کمپوزیشن،اردو لسانیات، علم عروض ، ارود مختصر افسانہ، اردو ناول، اردو ڈراما، اردو غزل، اردو مثنوی، اردو قصیدہ، اردو رومانی شاعری، اردو سیاسی شاعری، اردو اخلاقی شاعری، اردو فلسفی شاعری ، تاریخ اردو ادب ابتدا سے لیکر اکیسویں صدی تک، تنقید و تحقیق کے اصول و قواعد، بنگلا ۔اردو ادبی ترجمہ ، مختلف زبانوں کا تقابلی مطالعہ، اردوپر فارسی اور انگریزی کے اثرات،غالب اور اقبال کا خصوصی مطالعہ وغیرہ اپنے نصاب میں شامل کئے ہیں۔علاوہ ازیں طلبہ میں حوصلہ افزائی  اور نوکری میں شمولیت کے لئے دوسرے موضوعات جیسے انگریزی ، کمپیوٹر، بین الاقوامی تعلقات، تاریخ، اقتصاد، بنگلادیش سٹاڈیز وغیرہ نصاب میں اضافے کئے گئے۔

شعبے کے سابق اساتذہ:

خان بہادر فدا علی خان:

خان بہادر فدا علی خان ۱۸۷۰ میں ہندوستان کے صوبئہ بہار کے ماتحت رام پور ضلع میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ۱۸۹۸ میں  الہ   ٓاباد یونیورسٹی سے اور ۱۹۱۰ میں کلکتہ یونیورسٹی سے فارسی میں ایم۔اےکیا اور اسی یونیورسٹی سے ہی عربی میں بھی  ایم۔ اےکیا۔پہلا جولائی ۱۹۲۱ میں ڈھاکا یونیورسٹی کے قیام کے دوران    شعبہ اردو و فارسی میں ان کا تقرر ہوا۔چودہ سال اسی شعبے میں صدر کے عہدے پر فائز تھے اور دو دعفہ شعبہ  عربی و اسلامک سٹاڈیز میں صدر کی حیثیت سے مقرر رہے۔انہوں نے  فیکلٹی  آف  ارٹس میں ڈین کی ذمہداری نبھائی اور ڈھاکا یونیورسٹی کے اولین  پروکٹر تھے۔۱۹ اپریل ۱۹۳۸ میں رام پور میں فدا علی کا انتقال ہوا۔

خان بہادر فدا علی خان ماہر تعلیم ،ماہر لسانیات،شاعر،نقاد،مورخ اور مترجم تھے۔اردو ،فارسی ،عربی،انگریزی و بنگلا زبان میں ان کی مہارت تھی۔وہ چار کتابوں کے مصنف تھے۔جن میں تراجم و تحقیقی کتابیں شامل تھیں۔اردو مقالے اور فارسی موضوع پر انگریزی مقالے انکے اہم کارنامے ہیں۔

ڈاکٹر عندلیب شادانی:

ڈاکٹر عندلیب شادانی ۱۹۰۴ میں ضلع مراد آباد ، رام پورمیں پیدا ہوئے۔ انہوں نے رامپور عالیہ مدرسہ سے منشی عالم و فاضل   کا امتحان پاس کر کے  ذاتی طو پر بی ۔اےپاس کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ۱۹۲۵ میں فارسی میں ایم ۔اےکیا۔۱۹۳۴ میں لنڈن  یونیورسٹی سے پی ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔۱۹۲۸ میں  ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبئہ   اردو وفارسی   میں  لکچرر کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا۔ڈاکٹر شادانی ۱۹۴۴ سے ۱۹۶۹  تک یعنی ۲۶  سال شعبئہ  اردو وفارسی کے صدر تھے۔ اور تین دفعہ ڈھاکا یونیورسٹی  فیکلٹی آف ارٹس  کے ڈین منتخب ہوئے۔ان کے پہلی شعری مجموعہ کا نام ہے ” نشاط رفتہ”  جس میں چھوٹے بڑے ۱۶ غزلیں موجود ہیں۔اس کے علاوہ سچی کہانیاں، تحقیق کی روشنی میں،پیام اقبال،چہار مقالے،چھوٹا خدا ،پیام اقبال ان کی مشہور کتابو ں میں شامل ہیں۔”مشرقی پاکستان”   و”خوار”  کے نام سے اخبارات بھی نکالے۔

ڈاکٹر افتاب احمد صدیقی:

پروفیسر افتاب احمد صدیقی ۲۵  جولائی ۱۹۱۵ میں بارہ بنکی ضلع ہندوستان میں پیدا ہوئے۔۱۹۳۹ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو  میں  بی۔ اے ٓانرز اور ۱۹۴۰ میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔۱۹۴۸ میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔۱۹ ستمبر ۱۹۴۹ میں  شعبئہ اردو وفارسی میں لکچرر کے طور پر ان کا تقرر ہوا۔دسمبر ۱۹۷۱ میں ڈھاکاسے ہجرت کر کے کراچی چلے گئے۔

ذیل میں ان کی تصنیفات درج ہیں:

۱۔گلہائے داغ: یہ ایک تنقیدی کتاب ہے،سن اشاعت ۱۹۵۷۔۲۔شبلی ایک دبستان: یہ سوانحی  کتاب ہے، سن اشاعت ۱۹۵۷۔۳۔صہبائے  مینائی: یہ بھی ایک سوانحی کتاب ہے جو ۱۹۵۸ میں شائع ہوئی۔۴۔آتش کدہ: یہ ایک تنقیدی کتاب ہے۔اس کے علاوہ ان کے بہت سے مقالات ہیں جو مختلف جرائد سے شائع ہوئے۔

فیض احمد چودھری:

فیض احمد چودھری ۱۹۱۷ میں چٹگام کے ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔شعبئہ  اردو وفارسی سے۱۹۴۳ و ۱۹۴۴ میں    بالترتیب     فارسی میں بی۔ اے آنرز و ایم اےکی ڈگریاں حاصل کیں۔اور ۱۹۵۵ میں اسی شعبے سے اردو میں ایم ۔اےکی ڈگری حاصل کی۔۲۰ نومبر ۱۹۴۶ میں وہ اسی شعبے میں لکچرر کے عہدے پر فائز ہوئے۔۱۹۷۷ میں ڈھاکا یونیورسٹی سے  سبکدوش ہوئے۔وہ بنگلہ۔ اردو لغات کے مصنف ہیں جس میں ۵۳ ہزار سے زائد الفاظ شامل ہیں جس کی مکمل جلد بنگلاکاڈمی سے سن ۱۹۸۱ میں شائع ہوئی۔ان کے کئی مشہور مقالے ڈھاکا کے مختلف مجلے میں شائع ہوئے۔

رستم علی دیوان :

پروفیسر رستم علی دیوان ۱۹۲۲ میں راجشاہی ضلع میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۶ اور ۹۴۷ ۱میں انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے بالترتیب بی۔ اےآنرز اسلامک سٹاڈیزا ر و ایم ۔اے  اسلامک سٹاڈیز موضوع پر ڈگریاں حاصل کیں۔اس کے علاوہ انہوں نے فارسی و  اردو میں بھی  ڈگریاں حاصل کیں۔ ۲۵ جولائی ۱۹۷۲ میں وہ اسی شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر  کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس سے پہلے مختلف کالج میں  پروفیسر، وائس پرنسپل  اور پرنسپل کے عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے۔۱۹۸۲ میں ڈھاکا یونیورسٹی سے سبکدوش ہوئے۔۱۱ فروری ۱۹۹۹ میں وہ ڈھاکا میں انتقال فرمائے۔ان کی تصنیفات میں “بنگلہ زبان پر فارسی کے اثرات” ایک فارسی لغات  ہے۔اس  کے علاوہ فارسی اور اردو   موضوع پر  بنگلا اور انگریزی  مقالے   مختلف اوقات میں مختلف مجلے  میں شائع ہوئے۔

ڈاکٹر محمد حنیف فوق:

ڈاکٹر محمد حنیف فوق ۲۶  دسمبر ۱۹۲۶ سال بھوپال، پاکستان میں پیدا ہوئے۔وہ لکھنئو یونیورسٹی  سے ۱۹۴۸ میں بی ۔اے آنرز اردو اور ۱۹۴۹ میں ایم ۔اے اردو کی ڈگریاں حاصل کیں۔اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے ۱۹۶۴ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۵۰ میں انہوں نے شعبہ اردو و فارسی میں لکچرار کا عہدہ سنبھالا اور ۱۹۷۱ میں پاکستان چلے گئے۔ان کی کتاب مثبات قدریں ۲۲ مضامین کا مجموعہ ہے۔اس کتاب کی سن اشاعت ۱۹۶۰ ہے۔ان کے بہت سے مقالات ہیں جو اردو غزل ،تنقید،ڈراما اور اسلام و تہزیب پر شامل ہیں۔

ڈاکٹر محمد معز الدین:

ڈاکٹر محمد معزالدین ۵ جنوری ۱۹۲۷  میں پٹنہ،ہندوستان میں پیدا ہوئے۔پٹنہ یونیورسٹی سے انہوں نے ۱۹۴۷ میں بی۔ اے ٓانرز اردو اور ۱۹۴۹ میں ایم ائے اردو کی ڈگریاں حاصل کیں۔اور ۱۹۵۵ میں ڈھاکا یونیورسٹی سے  ایم ۔اےفارسی کی ڈگری حاصل کی۔ڈھاکا یونیورسٹی کے  شعبئہ اردو و فارسی  سے ۱۹۶۳ میں  پی ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔۷ نومبر ۱۹۶۰ میں  انہون نے اسی شعبہ  میں لکچرار کے عہدہ پر  فائز ہوئے۔ ۱۹۷۱ میں ڈھاکا  یونیورسٹی چھوڑ کے چلے گئے۔علم بلاغت پر ان کی کتاب “رہنمائے سخن”  جو بہت   مشہور    ہے۔یہ کتاب ۱۹۶۰ میں ڈھاکا سے اشاعت ہوئی۔ “انتخاب مضامیں عندلیب شادانی” یہ ان  کی دوسری کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ان کے بہت سارے مضامیں مختلف جریدوں میں شائع ہوئے۔

ڈاکٹر  محمد صدرالحق:

ڈاکٹر محمد صدرالحق    ۱۰ جنوری ۱۹۳۰ میں پٹنہ میں پیدا ہوئے۔پٹنہ یونیورسٹی سے ۱۹۴۸ میں بی۔ اے آنرز اردو  اور ۱۹۵۱ میں ایم۔اے اردو  کی ڈگریاں حاصل کیں۔اسی یونیورسٹی سے ۱۹۵۲ میں فارسی میں ایم۔ اےکی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۶۷ میں شعبئہ اردو وفارسی سے پی ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۶۵ میں ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبئہ اردو و فارسی میں لکچرار کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا۔۱۹۷۱ میں دیگر اساتزہ کی  طرح وہ بھی پاکستان چلے گئے۔” حیات نساخ و تصانیف” یہ ایک سوانحی کتاب ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے بےشمار کتابیں و مقالے لکھے۔

ڈاکٹر محمد عبداللہ :

محمد عبد اللہ کی ولادت یکم اپریل ۱۹۳۲ کو لکھی پور ضلع کے بنگا خان گاؤں کے ایک علم دوست گھرانے میں ہوئی۔انہوں نے ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبئہ اردو و فارسی سے بالترتیب  ۱۹۵۲ و ۱۹۵۳ میں بی ۔اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔اسی طرح اسی یونیورسٹی سے ۱۹۷۲ و ۱۹۷۳ میں اسلامک سٹاڈیز  و عربی میں  ایم ۔اے کی اور بھی دو   ڈگریاں کیں۔اس کے بعد یہی سے ۱۹۸۱ میں ایم۔ فیل اور ۱۹۸۳ میں پی ایچ ۔ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔سن ۱۹۷۲ میں شعبئہ اردو و فارسی میں اسسٹنٹ پروفیسر  کے عہدہ پر فائز ہوئے اور تا موت اسی شعبے  میں پڑھاتے رہے۔اردو میں آپ کی ہنر مندی کے لئے  لاہور کے  “سیارہ” اخبار کے ایڈیٹوریل بورڈ   نے۱۹۶۶ میں انہیں ” نشان  اردو ” کے خطاب سے نوازا۔ان کی بہت سار ی   کتابیں  شائع ہوئی ہیں۔  جن میں نذر الاسلام، بنگلادیش میں فارسی ادب، مغربی بنگال میں فارسی ادب، حکیم حبیب الرحمن،مولانا عبید اللہ سہراوردی وغیرہ۔

ڈاکٹر کلثوم ابو البشر مجوم دار:

ڈاکٹر کلثوم ابو البشر مجوم دار  ۱۱ فروری ۱۹۴۷ میں  بمبئی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔انہوں نے  ۱۹۶۸ میں بمبئی یونیورسٹی سے  تاریخ میں بی۔ اے آنرز  کی اور سن ۱۹۷۱ اور سن ۱۹۷۳ میں  ڈھاکا یونیورسٹی سے بالترتیب   اردو و فارسی میں  ایم ۔اےکی ڈگریاں حاصل کیں۔یکم جولائی ۱۹۷۴ میں شعبئہ اردو و فارسی میں ان کا تقرر ہوا۔اردو و فارسی میں انہوں نے بہت کتابیں لکھی ہیں جن میں  آسان اردو،  ڈاکٹر عند لیب شادانی،گلشن فارسی، فارسی ادب کا ارتقا وغیرہ اہم ہیں۔

ڈاکٹر ام سلمی:

ڈاکٹر ام سلمی  ۲ جون ، ۱۹۴۷  کو برہمن باریہ  ضلع کے ایک مخصوص  گھرانے میں پیدا ہوئیں۔انہوں نے روال پنڈی  خواتین  سرکاری کالج سے ۱۹۶۶ میں بی۔ اے پاس کیا ۔ ۱۹۶۸ میں پنجاب یونیورسٹی سے  اردو میں ایم ۔اے کیا پھر یہی سے ۱۹۷۰ میں بی۔ ایڈ بھی کیا۔ ۱۹۷۶ میں ڈھاکا یونیورسٹی  سے فارسی میں ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی اور اسی یونیورسٹی سے ۱۹۸۸ میں پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری لی۔۷ا جون ۱۹۷۴ میں  شعبئہ  اردو وفارسی میں لکچرار کی حیثیت سے خدمت انجام دینا شروع کیا ۔اردو، فارسی، بنگلہ و انگریزی میں  ان کے بہت سارے مقالے مختلف ممالک میں شائع ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر زینت آرا سیراجی:

ڈاکٹر زینت آرا سیراجی ۱۴ دسمبر ۱۹۴۷  کو سراجی خاندان میں پیدا ہوئیں۔۱۹۷۱ میں ڈھاکا یونیورسٹی سے اردو میں بی۔ اے اور ۱۹۷۲ میں ایم۔ اے کیا۔پھر ۲۰۰۹ میں اسی یونیورسٹی سے ہی پی ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔سن ۱۹۹۰ میں اسی شعبے میں لکچرار کے طور پر ان کا تقرر ہوا۔” ڈھاکا میں شیعہ خاندان کے ادب و ثقافت”ان کی اہم کتاب ہے۔

ڈاکٹر کنیز بتول:

ڈاکٹر کنیز بتول ۱۹۵۱ میں  ڈھاکا  کے نواب خاندان میں  پیدا ہوئیں۔۱۹۸۱ میں ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبئہ اردو و فارسی سے  اردو میں بی۔اے اور  ۱۹۸۲ میں ایم ۔اے  کی ڈگریاں کیں۔ ۱۹۸۷ میں  شعبئہ اردو و فارسی میں  لکچرار کے عہدہ پر فائز ہوئیں۔”آتش و گل، اردو زبان میں نذرل چرچا ان کی معروف کتابیں ہیں۔علاوہ ازیں اردو، بنگلہ و انگریزی میں بے شمار مقالے بھی لکھی ہیں۔

شعبے کے حالی اساتذہ:

فی الحال شعبے میں ۹ کل وقتی اور ۶ پارٹ ٹائم اساتذہ ہیں۔ ذیل میں کل وقتی اساتذے کے مختصر حالات درج کئے جاتے ہیں:

۱۔ڈاکٹر جعفر احمد بھوئیاں:

ڈاکٹر جعفر احمد بھوئیاں  ۱۹۶۹ میں ضلع  نواکھالی میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۸۸ میں شعبئہ اردو و فارسی ڈھاکا یونیورسٹی سے ایم۔اے کیا۔شعبے میں سنیئر ترین پروفیسر  اور مشیر طلبا ہیں۔ ۱۹۹۵ میں لکچرار کے طور پر تقرر ہونے کے بعد عہدے میں ترقی کرتے ہوئے اس درجے تک پہنچے۔ تین سال کے لئے شعبے کے چئیرمین بھی رہ چکے تھے۔”احسن احمد اشک: حیات، کام اور فکر”  ان کی پی ایچ۔ ڈی  کا موضوع تھا۔سات کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ ان گنت تحقیقی مقالے بھی لکھ چکے ہیں۔ وہ ایک  انسان دوست  شخصیت کے حامل ہیں۔ہر انسان کی خدمات میں وہ ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔

۲۔ڈاکٹر محمد محمود الاسلام:

راقم الحروف ڈاکٹر محمد محمود الاسلام ۲۱ فروری  ۱۹۷۶میں ضلع   بگوڑا میں پیدا ہوے۔ڈھاکا یونیورسٹی شعبئہ اردو و فارسی سے باترتیب ۱۹۹۵ اور ۱۹۹۶ میں اردو میں بی۔ اے آنرز اور ایم ۔اے   دونوں امتحانوں  میں اول درجہ کے ساتھ   ڈگریاں حاصل کیں۔”اردو زبان کی سرپرستی میں انگریز افسران کا حصہ اور اردو ادب پر انگریزی ادب کا اثر” کے عنوان سے ۲۰۰۵ اسی شعبے سے پی ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔  ۲۰۰۴  میں   شعبے میں تقرر ہوتے ہوئے  فی الحال پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ مشیر طلبا اور چئیرمین کے عہدے سنبھالنے  کے بعد درس و تدریس ، شعر و شاعری  اور تنقید و تحقیق میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔اب تک  چھ کتابوں (۱)  “اردو گرامر اور کمپوزیشن” (قواعد)  (۲)  “اردو پر مغرب کے اثرات” (تحقیق) (۳)” مختلف زبانوں کا باہم تعلق”(تحقیق)  (۴) “پیاسا من”(شعری  مجموعہ)   (۵) “کلام اقبال “(بنگلا ترجمہ) (۶) “بنگلادیش کی منتخب کہانیاں” (اردو ترجمہ)کے مصنف ہیں۔ان کے  ۲۵ تحقیقی مقالے چھپ چکے ہیں ۔  بھارت، پاکستان اور ترکی میں منعقدہ    ۲۲بین الاقوامی کانفرنسز  اور مشاعرے میں شرکت کر چکے ہیں۔ مختلف انتظامیہ عہدے پر فائز تھے۔ معاشرتی کار کردگی کے ساتھ اب تک منسلک ہیں۔اردو، فارسی،بنگلا ، عربی اور انگریزی  پانچ زبانوں میں دسترس رکھتے ہیں۔

ایک طرف مذہب کی گہرائی میں غوطہ لگا ان ان کو اچھا لگتا ہے  تو دوسری طرف رقص و سرود کے سمندر میں تیرنا بھی پسند  آتا ہے۔کبھی انسانیت  کی لہر میں اپنے کو بے قرار رکھتا ہے  تو کبھی غصے کی آگ میں دوسرے کو  سبق سکھانا ان کا مقصد بنتاہے۔ پر تعیش زندگی  گزارنا جہاں بہتر ٹھراتے ہیں  ادھربرادری کے نشے میں غریبوں کی چھاؤنی  پر افلاس کی تکلیف  کوبھی  محسوس کرتے ہیں۔

۳۔ڈاکٹر محمد غلام ربانی:

ڈاکٹر محمد غلام ربانی ۱۹۷۴ میں  ضلع کشور گنج    میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۹۸ میں ڈھاکا یونیورسٹی شعبئہ اردو و فارسی سے ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ شعبۂ اردو میں ۲۰۰۴ میں شامل ہونے کے بعد  اب پروفیسر بن گئے ہیں۔تین کتابوں کے مصنف ہیں۔ بہت سارے مقالات چھاپے ہیں۔ وہ پہلے سے ہی تحریری شغل میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔  اردو سے بنگلا ترجمہ نگاری میں ایک مستقل مقام پیدا کیا ہے۔

۴۔ڈاکٹر محمد اسرافیل:

ڈاکٹر محمد اسرافیل ۱۹۷۹ میں ضلع  برہمن باریہ میں  پیدا ہوئے۔ ۲۰۰۰ میں شعبئہ اردو و فارسی سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی پھر اسی شعبے سے ۲۰۱۰ میں پی ایچ۔ڈی کی سند لے لی۔۲۰۰۴ میں شعبے میں لکچرار کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ اب پروفیسر کی ذمہداری نبھارہے ہیں۔ دو کتابوں کے مصنف ہیں اور اردو و بنگلا میں  ان کےبہت سارے مقالات چھپ چکے ہیں۔

۵۔ڈاکٹر رشید احمد:

ڈاکٹر رشید احمد۱۹۷۹ میں  ضلع کوملا میں پیدا ہوئے۔۲۰۰۱ میں شعبئہ اردو و فارسی سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔۲۰۰۸ میں شعبئہ اردو میں لکچرار کے   طور پر ذمہ داری لے لی۔ دو کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ کئی مقالات بھی لکھے ہیں۔اقبالیات پر  پی ایچ۔ڈی کا تحقیقی  مقالہ ہے۔ فی الحال شعبے میں  پروفیسر ہیں۔

۶۔ڈاکٹر محمد رضا الکریم:

ڈاکٹر رضا الکریم۱۹۶۷ میں ضلع   نوگاؤں میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۹۴ میں اردو موضوع پر  شعبئہ السنہ  راجشاہی یونیورسٹی سے ایم۔اے کی ڈگری لی۔ پھر اسی شعبے میں ۱۹۹۸ میں لکچرار کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔اور ۲۰۱۶ میں شعبئہ اردو ڈھاکا یونیورسٹی میں ایسوسئٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ایک کتاب اور کئی مقالوں کے خالق ہیں۔فی الحال شعبے میں چیئرمین  اور پروفیسرکے فرائض انجام دےرہے ہیں۔

۷۔محمد غلام مولا:

محمد غلام مولا ۱۹۸۲ میں ضلع نواکھالی میں پیدا ہوئے۔۲۰۰۴ میں شعبئہ اردو و فارسی سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔۲۰۰۸ میں اسی شعبے میں لکچرار کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں  اور تحقیقی مقالے بھی لکھے ہیں۔ Poet of Politicsان کا اہم کارنامہ ہے۔ فی الحال شعبے میں ایسوسیئٹ  پروفیسر ہیں۔

۸۔حسین البنا:

حسین البنا ۱۹۸۰ میں ضلع  نرسندی میں پیدا ہوئے۔۲۰۰۵ میں شعبئہ اردو و فارسی ڈھاکا یونیورسٹی سے ایم۔اے کی سند لے لی۔۲۰۱۲ میں اسی شعبے میں لکچرار کے عہدے پر فائز ہوئے۔ فی الحال شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔کئی کتابوں اور مقالوں کے خالق ہیں۔اسلامیات کے موضوعات پر میڈیا میں سرگرم ہیں۔

۹۔حفصہ اختر:

حفصہ اختر ۱۹۹۰ میں ضلع  نرائن گنج میں پیدا ہوئیں۔ ۲۰۱۳ میں شعبئہ اردو  ڈھاکا یونیورسٹی سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی اور ۲۰۱۴ سے اسی شعبے  میں  لکچرار کی ذمہداری نبھارہی ہیں۔کئی مقالات لکھ چکے ہیں۔ فی الحال شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

شعبے کی تحقیقات:

پچھلے سو سال میں شعبے سے جن محققوں نے پی ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی  ان کے نام، موضوعات، سن کی فہرست ذیل میں درج ہیں:

محققین کے نام              پی ایچ۔ڈی کے موضوعات                                                سن

۱۔ایس۔ اے سبزواری         The Philosophical History of Urdu Language                           1953

۲۔ محمد عبد الحق               The Influence of Persian Poetry on Urdu Poetry (Down to 1857)                  1961

۳۔محمد حنیف قریشی            Social Analysis of Urdu Poetry during 1857and After      1964

۴۔ ایم۔زیڈ    ۔ ہدا              Indo-Pak contributions to Persian literature C.E.1451to C.E.1525                 1966

۵۔ محمد صدر الحق              Nassakh, his life and works                                          1967

۶۔سید یوسف حسن            Bengal men Urdu upto 1947                                         1971

۷۔محمد محمود الاسلام         اردو ادب کی سرپرستی میں انگریز افسران کا حصہ اور اردو ادب پر انگریزی ادب کا اثر 2005

۸۔ اے ۔کے۔ایم امین الحق  بنگلادیش میں اردو مختصر افسانہ (۱۹۴۷۔۲۰۰۰)                             2008

۹۔محمد سلیم اللہ              اسلامی تعلیم کے انتشار میں بیسویں صدی میں ضلع چاند پور کے علما کی خدمات    2008

۱۰۔ زینت آرا سیراجی        ڈھاکا  میں  شیعہ خاندان  کی ثقافت اور اردو و فارسی میں ان کی خدمات            2009

۱۱۔محمد سہیل البرونی         بنگال میں تعلیم کے انتشار اور تعلیم کے افکار میں نواب علی چودھری کی خدمات    2009

۱۲۔رشید احمد               علامہ محمد اقبال کی شاعری میں اسلامی تصور                                   2009

۱۳۔محمد اسرافیل            حکیم حبیب الرحمان :سماجی کارکن  اور ادبی اسکالر                              2010

۱۴۔ محمد نور   الاسلام          اسلامی معیشت میں سرمایہ کاری کے نظام: بنگلادیش کے تناظر میں              2011

۱۵۔محمد عالمگیر حسین        مرزا اسد اللہ غالب کی اردو شاعری:موضوع کا تنوع  و فنی شکل                  2016

۱۶۔ محمد منہاج الدین    اردو ادب میں علامہ شبلی نعمانی کی خدمات                                    2016

۱۷۔ محمد بہار الاسلام         اردو ادب میں سید سلیمان ندوی کی خدمات                                   2017

۱۸۔ اے سلام              اسلامی قانون اورسماجی افکار میں مولانا ابو الکلام آزاد                  2019

۱۹۔ا۔ن۔م احسان المالکی    پریم  چاندکے مختصر افسانے میں سماجی تصویر                                   2019

۲۰۔ محمد طوطی الرحمن       حضرت شاہ جلال سمیت کچھ قابل ذکر اولیا:اسلام کی تبلیغ  اور ریاستی و سماجی زندگی میں ان کے اثرات   2019

کمپیوٹر سنٹر:

شعبے میں طلبا و طلبات کے لئے ایک کمپیوٹر سنٹر ہے جس میں مختلف قسم کی سہولتیں میسر ہیں۔یہ سنٹر  اس غرض سے قائم ہوئے کہ  جدید   انفرمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں  طلبا کمپیوٹر کے  بارے میں مختلف  معلومات حاصل کر سکے۔

لائبریری کی سہولتیں:

شعبہ اردو کی اپنی سمینر لائبریری ہے۔طلبا اندر بیٹھ کر اسے استعمال کر سکتے ہیں ۔انہیں یہاں سے کتابیں باہر لے جانے کی اجازت بھی ہے۔نیز یہ کہ یونیورسٹی کے ہر ایک رہائشی ہال کو ان کے طلبا  کے لئے جداگانہ  لائبریری  موجود ہیں۔

مہمان لکچر سیریز:

شعبہ اردو موجودہ دور کے مختلف موضوعات کے حامل اور بہت ہی مشہور و معروف شخصیت کو مہمان لکچرار کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔یہ  شعبہ ہر سال کو  ایک پروگرام کا اہتمام کرتا ہے۔ ان خاص لکچراروں کو  مختلف موضوعات  پر تقریر دینے کے لئے بلائے جاتے ہیں۔

جرنل ا ٓف اردو:

شعبہ اردو ” ڈھاکا یونیورسٹی جرنل  آف اردو “نامی ایک سالانہ مجلہ باقاعدگی کے ساتھ۔ شائع کرتا ہے۔جس کی اشاعت  کے لئے شعبہ اردو نے اپنی فیکلٹی  کے کچھ ارکان کے ذریعے ایک ایڈیٹوریل بورڈ  بھی قائم کیا ہے۔یہ مجلہ مختلف تحقیقی،  معلوماتی  و اکاڈمک مقالات شائع کرتا ہے ۔

گولڈ میڈل اور وظیفہ:

علامہ اقبال گولڈ میڈل:

علامہ اقبال گولڈ میڈل اس طالب علم کو  دیا جاتا ہے جو ایم ۔اے کے امتحان میں فرسٹ پوزیشن   یعنی جسے سب سے اعلی سی جی پی   ملتا ہے۔۱۹۹۷  سے علامہ اقبال گولڈ میڈل دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر اے ایس نور الدین گولڈ میڈل:

ڈاکٹر اے ایس نور الدین گولڈ میڈل اس طالب علم کو  ملتا ہے جو  بی ۔اے امتحان میں درجہ اولین حاصل کرتا ہے اور یہ میڈل کا سلسلہ سن ۱۹۹۸ سے جاری ہے۔

ڈاکٹر ام سلمی گولڈ میڈل:

ڈاکٹر ام سلمی گولڈ میڈل بھی بی۔ اے آنرز امتحان میں درجہ اولین حاصل کرنے والا کو ہی ملتا ہے۔۲۰۱۴  سے اس میڈل کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

ڈاکٹر کنیز بتول وظیفہ:

ڈاکٹر کنیز بتول وظیفہ ان تین طلبا  کے لئے مقرر ہے جو بہت  ذہین مگر  مالی حالت  کمزور ہے۔ ۲۰۱۴ سے اسکا اجرا عمل میں  آیا ہے۔

غیر نصابی سر گرمیاں:

نووارد  ین کا استقبال:

شعبہ اردو ہر سال نئے طلبا کے لئے ورینٹیشن  تقریب کا  اہتمام کرتا ہے۔

بین الاقوامی مشاعرہ:

شعبہ اردو میں اردو مشاعرہ منعقد ہوتا ہے۔یہاں اردو کا پہلا مشاعرہ  ۲۰۱۴ میں انعقاد ہوا۔اس کے بعد ۲۰۱۹  میں   قومی طور پر مشاعرہ کا اہتمام  کیا گیا۔ ۲۰۲۰کے مشاعرے میں شعرا بھارت ،  قطر، امریکہ ، کینڈا، ناروے، مصر، جرمنی و بنگلادیش نے شرکت کی تھی۔

بین الاقوامی کانفرنس:

شعبہ اردو بین الاقوامی  کانفرنس  کا بھی اہتمام کرتا ہے ۔اردو کا پہلا بین الاقوامی کانفرنس  ۲۰۰۴  میں انعقاد ہوا۔۲۰۱۷ میں بھارت و بنگلادیشی محققین  و دانشوروں سےایک بین الاقوامی کانفرنس منائی گئی ہے۔۲۰۲۰ میں بھارت ،قطر ،امریکہ، ایران، کیناڈا،  ناروے، مصر، جرمنی اور بنگلادیشی پروفیسر و   محققوں نے اپنے تحقیقی مکالے پیش کئے ہیں۔

ادبی و ثقافتی ہفتہ:

شعبہ ادرو کبھی کبھی ادبی و ثقافتی ہفتےکا اہتمام کرتا ہے۔مختلف پروگرام جیسے پاک قرآن کی تلاوت، شاعری، گانے،اداکاری،ظرافت نگاری،تقریر،مباحثہ(ڈبٹ) وغیرہ پر طلبہ کے بیچ میں مقابلے ہوتے ہیں۔ ۲۰۱۲،۲۰۱۳،۲۰۱۴  میں یہ پروگرام با قاعدہ طور پر منایا گیا ہے۔

سالانہ  پکنک:

شعبہ اردو ہر سال  کم از کم ایک پکنک کا اہتمام ضرور کرتا ہے۔جو طلبہ،اساتذہ  اور دفتری عاملہ  بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔

تعلیمی سفر:

بی۔ اے آنرز فائنل  سال کے طلبہ کے لئے شعبہ اردو بنگلادیش  اور سارک ممالک کے اندر ہی ایک تعلیمی  سفر کا اہتمام کرتا ہے۔

بین الاقوامی ادبی سفر یا سارک سفر:

شعبہ اردو کبھی کبھار  بین الاقوامی  سفر کا بھی اہتمام کرتا ہے۔  جیسے بنگلادیش،انڈیا،پاکستان،نیپال،بھوٹان،مالدیپ وغیرہ ممالک  میں۔۲۰۱۴،۲۰۱۷،۲۰۱۸میں اس قسم کے سفر کا اہتمام  کیا گیا ہے۔

دیوار میگزین:

مختلف   کلاس کے طلبہ مل کر کبھی کبھی دیوار میگزین شائع کرتے ہیں اور اس  میگزین کی ہر قسم کی تیاری وہ خود ہی کرتے ہیں۔

ثقافتی تقریب:

شعبہ اردو اپنے طلبہ کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور دوسرے  نصابی کارناموں میں  منسلک ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔مختلف تقریب میں  طلبا اردو میں   مختلف پروگرام کا اہتمام کرتے ہیں۔

کھیل:

ڈھاکا یونیورسٹی اپنے اندرونی شعبے کے  بیچ میں مختلف کھیل کود کا  انتظام کرتا ہے۔شعبہ اردو کے طلبہ بھی اس قسم کے فٹ بال،بس کٹ بال و  کرکٹ میچ میں  شرکت کرتے ہیں۔دوسرے کھیل میں بھی بہت اچھے ہیں اور اکثر وقت کامیاب ہوتے ہیں۔

زبانی  کلب:

اردو،بنگلا اور انگریزی زبان  کی مشق کے لئے شعبئہ اردو میں  زبانی کلب بھی  موجود ہے۔

مباحثہ کلب:

شعبہ اردو کے مباحثہ کلب ڈھاکا یونیورسٹی کے ایک مشہور و دل عزیز  کلب ہے۔۲۰۱۷  میں شعبہ اردو کو   آرٹس فیکلٹی میں چیمپئن  ہونے کا اعجاز حاصل ہوا۔

سابق طلبا کی سرگرمیاں:

تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد طلبا ملک اور بیرون ملک میں اپنی قابلیت اور استعداد کے معیار پر  کام کر رہے

 ہیں۔ملک میں بی۔سی۔ایس۔، پولیس، بنک،سرکاری اور غیر سرکاری اسکول میں تعلیم، مترجم ، دوسرے سرکاری دفتر ، نجی کمپنی میں  کام کرتے ہوئے معاشرے کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

شعبئہ اردو کے طلبا   نےتحریک لسان  ،جنگ آزادی  اور  ۹۰ کی عوامی بغاوت میں شامل ہوکر   حب وطنی  کا ثبوت دیا ہے۔قوم و ملت کے فلاح و بہبودی کے لئے شعبہ کے طلبا ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ملک کے سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی شعور میں بھی وہ ایک قدم آگے ہیں۔

***

Leave a Reply