
ڈاکٹرمحمد رکن الدین
شعبۂ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی، دہلی
ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان و ادب
ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان و ادب
مرتب: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
مبصر: ڈاکٹر محمد رکن الدین
ناشر: اردو اکادمی، دہلی
ڈیجیٹل میڈیا نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں ایک طرح سے انقلابی کردار انجام دیا ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ای بکس، بلاگز، اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے اردو کے قارئین اور تخلیق کاروں کو ایک نیا اور دل چسپ پلیٹ فارم مہیا کرایاہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ کلاسیکی ادب تک رسائی کے ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی بے شمار مواقع میسر آئے ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اردو زبان وادب کی تدریس، تحقیق ،ترویج واشاعت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ آن لائن جرائد، اردو ویب پورٹلزاور پوڈکاسٹس کے ذریعے زبان و ادب کا دائرہ کار عالمی سطح پر وسیع ہوا ہے۔ مجموعی طور پر ڈیجیٹل میڈیا نے اردو زبان و ادب کو ایک نئی اور توانا زندگی بخشی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا اوراردو زبان وادب پروفیسر خواجہ محمداکرام الدین کی نئی کتاب ہے۔اس کتاب کو اردو اکادمی، دہلی نے 29/05/2025کو شائع کیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا پر یہ کتاب ایک منفرد کتاب ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے ڈیجیٹل عہد میں اردو زبان و ادب کی سمت و رفتار کا تعین آسان ہوگا اور نئی نسل کے لیے معلومات کا خزانہ بھی۔
اس کتاب میں مصنوعی ذہانت کے عہد میں چیلنجز اور اخلاقی سوالات، زبان سیکھنے کے مراحل، عملی دنیا میں NLPکے نقوش، مشکلات، مستقبل، اردو زبان کے لیے چیلنجز، معیاری ڈیٹا کی کمی، اردو رسم الخط اور ٹائپ سیٹ کی پیچیدگیاں، اردو کی صرفی و نحوی پیچیدگیاں، کوڈ۔سوئچنگ اور اردو ۔رومن کا مسئلہ، جدیدOCRٹولز (جو اردو متن کی بہتر شناخت اور پراسیس کرسکیں)، عملی آزمائشیں، تخلیقی آزمائش، چیٹ جی پی ٹی، کوپائلٹ، ڈیپ سیک، گوگل جیمینائی، اردو فونٹ کا ارتقا، کمپیوٹر فونٹس کی ایجاد، کمپیوٹر فونٹ کی ابتدا، ابتدائی مونو اسپیسڈ فونٹس، سی آر ٹیCathode Ray Tube(CRT))ڈسپلے فونٹس1960، بٹ میپ(Bitmap)1960، اردوفونٹ کا آغازو ارتقا، خط نسخ، خط نستعلیق، نوری نستعلیق فونٹ کی تخلیق، نوری نستعلیق کی اہمیت اور اثرات، جدید اردو فونٹس کی بنیاد، شاہکار اردو پبلشنگ سسٹم، صدف اردو ڈیٹابیس، ان پیج، یونی کوڈوغیرہ جیسے ہمہ جہت اور کار آمد موضوعات اس کتاب میں شامل ہیں۔
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے ڈیجیٹل عہد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:
’’یہ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی ہےجو عالمی سطح پر ترقیات کی صدی سے تعبیر کی جارہی ہے۔ بلاشبہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ایجادات نے انسانوں کو حیران و ششدر کردیا ہے، لیکن بات یہیں تک محدود ہوتی تب بھی خیر تھا۔ اب تو بات یہاں تک آن پہنچی ہے کہ برقی وسائل کی ترقی نے (AI) مصنوعی ذہانت کو ہماری زندگی میں اتنا دخیل بنا دیا ہے کہ انسانی ذہن کہیں کند نہ ہوجائے؟ یا انسانی ذہن کی حیثیت ثانوی نہ ہوجائے؟ عالمی معاشرے کے لیے یہ بڑا سوال بنتا جارہا ہے۔
مصنوعی ذہانت دراصل کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی ایسی ایجاد ہے جو مشین کو انسانی ذہانت کے طورپر پیش کرتی ہے۔ اس کی پروگرامنگ حیرت انگیز طورپر انسانوں جیسا کام کرتی ہے۔ اس کی مثال Alexa, Siri, Google Assistantاور اب Chat GPT, Deepseek, Grok, Copilot, Geminiہیں جو آپ کے حکم سے سارے کام انجام دیتا ہے۔ دور حاضر کا یہ بڑا کرشمہ بھی ہے اور عالمی معاشرے کا بڑا سوال بھی ہے کہ اب اس کے بعد انسان کیا کرے؟‘‘
اس کتاب میں حرف آغاز، مقدمہ اور کلیدی خطبہ کے ساتھ چھ ذیلی عناوین ہیں جن میں کل مضامین کی تعدادتینتیس(33)ہیں۔جن میں’’ ڈیجیٹل میڈیا اور اردو‘‘ کے ذیل میں آٹھ ، ’’کمپیوٹرٹکنالوجی اور اردو‘‘ کے ذیل میں ایک ، ’’مصنوعی ذہانت ‘‘کے ذیل میں پانچ ، ’’تعلیم وتدریس اور ڈیجیٹل میڈیا ‘‘ کے ذیل میں سات ، ’’ڈیجیٹل میڈیا اور ادب‘‘ کے ذیل میں پانچ اور ’’ڈیجیٹل میڈیا اور صحافت‘‘ کے ذیل میں سات مضامین شامل ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان و ادب پر یہ کتاب یقیناً ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس اہم کتاب کی اشاعت پر استاد محترم پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ،اردو اکادمی، دہلی کے ہر دل عزیز سیکریٹری جناب محمد احسن عابد اور اردو اکادمی ، دہلی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔