You are currently viewing کرشن چندر بحیثیت  افسانہ نگار

کرشن چندر بحیثیت  افسانہ نگار

ڈاکٹرثریا بیگم محمود خان

اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو،شیواجی کالج، ہنگولی

کرشن چندر بحیثیت  افسانہ نگار

کرشن چندر اردو ادب کے اُن چند ادیبوں میں سے ہیں جھنوں نے بہت کچھ لکھا ہے ۔اور مختلف اصناف ناول ،افسانہ، ڈرامہ، رپوتاژ، انشائیہ اور خاکہ نگاری میں طبع آزمائی کی ہے۔ لیکن افسانہ نگاری کو ان کی تخلیقی  زندگی کا طرہ امتیاز سمجھا جاتا ہے ان کے افسانوں کی تعداد ۵۰۰ سے زیادہ ہے جس میں اچھے و برے بلند و پست ،رومانی اور غیر رومانی سب ہی طرح کے افسانے شامل ہیں جو ہیئت اور تکنیک کے تجربوں اور موضوع و مواد کے تنوع کے باعث ایک دوسرے سے ممتاز نظر آتے ہیں لیکن جو خصوصیت ان کے افسانوں کو دیگر افسانہ نگاروں کے افسانوں سے متاثر کرتی ہے وہ ان کے فن کی نمو پذیری ہے، ان کا فن ارتقاء کے مختلف منازل طئے کرتا ہے اور اپنے عہدے کے فنی تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے۔

          کرشن چندر کے افسانوں کے اس گرانمایہ سرمایہ اور تنوع کے باجود ان کے ابتدائی دور کے افسانے خاص اہمیت کے حامل ہیں جو نہ صرف ان کے فن کے اولین نقوش ہیں بلکہ ان کا تعلق زندگی کی ان محروموں اور آرزو مندیوں سے بھی جن کا عکس ان کے آخری دور کے افسانوں تک موجود ہے۔

          کرشن چندر کا بچپن اور جوانی کا بیش قیمت حصہ وادی کشمیر میں گزراتھا۔ جہاں کے فطری حسن عوام کی معصومیت اور سادہ زندگی نے انھیں بے حد متاثر کیا تھا لیکن کشمیر کی زندگی کا دوسرا رخ عوام کی غربت ، افلاس جہالت ،مظلومیت اور جاگیر دارانہ نظام کی چیرہ دستیاں اور ان سب کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی عوام کی جدوجہد بھی ان کی نظر سے پوشیدہ نہیں تھی۔ چنانچہ ان کے ابتدائی دور کے افسانے بچپن کی ان ہی حسین یادوں ،جوانی کی امنگوں ،آرزد مندی، محرومی کے احساس ،کشمیر کے غریب حسن اور وہاں کے عوام کی قابل رحم زندگی سے عبارت ہیں۔

          کرشن چندر کا مطالعہ اگر چہ وسیع اور مشاہدہ عمیق ہے وہ جزئیات سے بڑی خوبصورت تصویر بناتے ہیں اور انھیں حسین پس منظر سے سجاتے بھی ہیں ان کے افسانوں میں کشمکش اور تصادم کی ایسی فضا بھی موجود ہے جو افسانوں میں حرارت پیدا کرتی ہے۔ لیکن ان تمام اسباب اور اور محرکات کے باوجود ابتدائی دورکے افسانوں میں ان کی رومان پسند طبیعت اور مزاج کی سیمابیت انھیں کہیں ٹھہرے نہیں دیتی اور وہ یادوں کے حسین و شوخ رنگوں سے جو تصویر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اس کے نقوش کو پوری طرح ابھرنے سے قبل ادھورا چھوڑ کر وہ دوسری تصویر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کے باعث ان کے اکثر افسانے تاثر، جذبہ و خیال کی منزل سے گزر کر سماجی حقیقت نگاری کا روپ اختیار نہیں کرپاتے۔ اس معاملہ میں ان کی نظر ایک سیاح نظر کے مانند ہے جو دنیا کا تما م حسن اپنی آنکھوں میں سمیٹ لینے کا خواہشمند ہوتا ہے لیکن وقت اسے کہیں ٹھہرنے نہیں دیتا چنانچہ ان کے اکثر افسانے اپنی ہیئت اور تکنیک کے اعتبار سے سفر ناموں کا جزو معلوم ہوتے ہیں جس کی بہترین مثال’’ آنگی‘‘ افسانہ ہے۔

           کرشن چندر بنیادی طور پر ایک رومان پسند اور شاعرانہ شخصیت کے مالک ہے۔ انھوں نے مختصر افسانے کو فن کی دھڑکن اور فنونِ لطیفہ کا حسن بخشا ہے۔ کرشن چندرکے افسانوں کی دلکشی اور سحر آفرینی ذہنوں کو مسخر اور دلوں کو مسکور کرنے والی ہے۔ کرشن چندر حسن کے شہدائی نظر آتے ہیں۔ وہ فطری حسن اور نسوانی حسن دونوں کے رنگ و نور سے اپنی کہانیوں کی محفلیں سجاتے ہیں۔ کشمیر کے پس منظر میں اُبھرنے والی کہانیوں میں اس رومانی رنگ و آہنگ ساس زیادہ شدت سے ہوتا ہے جہاں زندگی شفق کے رنگ بہار کے جھونکے ۔ حسن کی معصومانہ اداؤں کی طرح حسین معلوم ہوتی ہے۔ اور پھرکرشن چندر کا دلکش اور دل آویز انداز تحریر ان کی کہانیوں کو اور بھی تبناک اور روشن بنادیتی ہے۔ کرشن چندر کی ابتدائی کہانیوں کا خمیر اگرچہ کے حسن و عشق کے نازک جذبات اور رومانیت کی سرمستی اور سر ساری سے ہوا ہے۔ پھر بھی ان کہانیوں میں درد کی ہلکی سی کسک اور غم کی حرارت کا احساس ہوتا ہے۔ ان کی کہانیوں میں پایا جانے والا درد مندی کا یہ عنصر انھیں ان کی غم آشنا فطرت اور انسانی دکھ درد پر تڑپ اٹھنے والے دل سے ملا ہے۔ درد مندی کا یہ احساس آگے چل کر کرشن چندر کی کہانیوں کی نمایاں شناخت بن گئی۔

          کرشن چندر کے اولین مجموعہ ’’طلسم خیال‘‘ کے افسانوں کا مطالعہ کرنے پر یہ احساس ہوتا ہے۔ کہ ان کا فن ایک حد تک نہ پختہ ہے۔ وہ فرد سماج اور فطرت کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں نا کام رہے۔ ان کے دوسرا مجموعہ ’’نظارے‘‘ کہ افسانوں میں ہمیں رومان و حقیقت کی دھوپ چھاؤں نظر آتی ہے۔ ایک جانب حسن کی کشش ہے۔ تو دوسری جانب زندگی کے اُبھرتے ہوئے دامن گیر معلوم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی کہانیوں میں رومان کی لذت میں زندگی کا زہر بھی شامل دکھائی دیتا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں۔ اس میں درد دل کی کسک شامل کرکے افسانہ بنادینے کا ہنر کرشن چندر رکھتے ہیں۔ ’’نظارے‘‘ میں شامل افسانہ’’ دو فرلانگ لمبی سڑک ‘‘ اُردو میں غالبہً پہلا افسانہ ہے۔ جو افسانے کی روایتی اصولوں سے ہٹ کر لکھا گیا ہے۔ اس افسانے میں نہ تو کوئی پلاٹ ہے۔ نہ کردار یہ سڑک کسی فلم کے پردے کی مانند معلوم ہوتی ہے۔ جس پر سارے واقعات دیکھائے جاتے ہیں ۔ کرشن چندر اپنے افسانے کے پلاٹ کی تیاری میں ملک کے سیاسی وہ معاشی نظام اور جاگیر دارنہ تہذیب کے ظلم و ستم سے مدد لیتے دیکھائی دیتے ہیں۔ سماجی عدم مساوات اور انسانیت کی تو ہین ان کے احساس میں زہر گھول دینے کے لیے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ان کہانیوں میں کافی تلخی اور کڑواہٹ کا احساس محسوس ہوتا ہے۔ جن میں انھوں نے اپنے عہد کے ان داغوں کو نمایاں کرنے سماج کے ان ناصوروں پر نشتر چلانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے افسانوں میں ان کی طنز نگاری کی ہیئت کھول کر سامنے آجاتی ہے ۔ ’’ٹوٹے ہوئے تارے‘‘،’’ حسن اور حیوان‘‘،’’ زندگی کے موڑ پر‘‘،’’ بھگت رام‘‘ اور’’ ان داتا‘‘ اپنی تکنیک احساس کی شدت طنز کی نشتریت کے اعتبار سے اُردو کے چند بہترین افسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں ۔

           رومان اور سیاست کے متوازن متزاج سے لے کر کرشن چندر نے اُردو افسانے کو ایک نئی سمت دی اور کچھ ایسے افسانے لکھے جو اپنے موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے چوکا دینے والے ہیں۔ اس لحاظ سے ’’ زندگی کے موڑ پر‘‘ ،’’ گرجن کی ایک شام‘‘ ،’’ بالکنی‘‘،’’ ان داتا‘‘ اور ’’کالوبھنکی‘‘ پوری طرح سے کامیاب افسانے ہیں۔ ان میں کرشن چندر کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ ابتدائی افسانوں کے برخلاف ان افسانوں میں فنی پختگی اور توازن ملتا ہے۔ تکنیک کے نئے تجربہ ان افسانوں کو نیا پن عطا کرتے ہیں۔ ان کے یہاں ایسی بہت سی شاہکار تخلیقات موجود ہے۔ جو فن کی اعلیٰ روایات خصوصیات کی حامل ہے۔ پھر ان کا کبھی نہ تھکنے والا انداز بیاں روشن و شاداب تحیر اور شاعرانہ اسلوب ان کی عظمت کا رشتہ ابدیت سے جوڑنے کے لیے کافی ہے۔منظرا یمائیت کا تجربہ کرکے کرشن چندر نے اُردو افسانے کو وسعت بخشی اور نئے نئے موضوعات سے اُردو افسانے کو مالا مال کردیا۔

          غرض یہ کہ کرشن چندر کے افسانے زندگی کی سچی تفسیر ہوتے ہیں۔ اور وہ اس دور کے اہم افسانہ نگار ہیں۔ افسانوی ادب میں اعلیٰ فن کاری کے لیے جذبے خلوص اور خیالات میں ہم آہنگی و توازن کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن کرشن چندر کے یہاں جب جذبے کی بہتات سر اٹھاتی ہے تو ان کے خیالات کے جذبے کی روانی میں بہہ جاتے ہیں۔ ’’آدھے گھنٹے کا خدا‘‘ اور’’ ان داتا‘‘ میں یہ عیب مائیاں دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح جب خیالات کا جادو سر چڑھتا ہے۔ تو جذبہ اور خلوص ثانوی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں ۔ ان کے آخری زمانے کے افسانے ہمیں پوری طرح مایوس کرتے ہیں ۔غالباً اشتراکی نظریات کے دباؤ کی وجہ سے ان کے ہاتھوں سے ان کا سراج جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کرشن چندر کہی کھوگیا۔ جس نے ’’نظارے‘‘ اور’’ طلسمی خیال‘‘ کی کہانیاں اور’’ شکست ‘‘جیسا ناول تخلیق کیا ہے۔ غرض ان خامیوں کے باوجود کرشن چندر کی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے۔

٭٭٭

حوالہ جاتی کتب

          ۱۔اردو افسانہ فکری و فنی مباحثہ ، عظیم الشان صدیقی

          ۲۔اردومیں بیسویں صدی کا افسانوی ادب، پروفیسر قمر رئیس

          ۳۔کرشن چندر شخصیت اور فن ، جگدیش چندر ودھاون

          ۴۔رسالہ شاعر کرشن چندر شخصیت نمبر

Leave a Reply