You are currently viewing گاؤں کی مٹی کے  چراغ

گاؤں کی مٹی کے  چراغ

 

 

شاہ خالد مصباحی

گاؤں کی مٹی کے  چراغ(افسانہ)

 

میرا گاؤں، جہاں میری ولادت ہوئی، میرے بڑے ہونے کے خواب جوان ہوئے، بے شمار آرزوئے زندگی نے جنم لی ، ہوش و حواس میں ترقی ہوئی، ہر چیز کا خواب دیکھ کر  یہیں سے اتنے بڑے ہوئے کہ اب اسی منبع  پر واپس آنے کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے، یا کسی مصیبت و بیماری کا انتظار، جس کے بہانے سے اس پرانی جگہ کی یادوں میں ڈوبنے کا وقت ملتا ہے، جہاں  سارے ہم عمر  لوگ شام ہوتے کھیلنے کو جاتے تھے اور صبح ہوتے ہی مدرسہ یا اسکول جاتے تھے ۔

گاؤں کا موسم آج بھی ویسا ہی لگتا ہے ، جیسے سالوں پہلے لگتا تھا،  ہواؤں میں آج بھی وہی اپنائیت کا رنگ  ہے، صبح کی فضا میں بھینی بھینی خوشبو پھوٹتی ہے، جس سے جسم و جان کو تسکین ملتی ہے۔ شام کے وقت میں سورج کی سرخی آج بھی بچوں کے رنگ میں رنگتی ہے اور شام کی گلیاروں میں خوب رچتی ہے جس سے ہماری شام معطر ہوجاتی تھی، آج بھی درخت اور پودوں کے پتوں ،  آم اور پیپل کے  نیچے وہی سایہ ہے اور اسی طرح پتے ہل رہے ہیں، لیکن لوگوں کا وہ ہجوم جو اس کی زینت ہوا کرتی تھی وہ غائب ہے ۔ گاؤں آباد ضرور ہے لیکن اس گاؤں کی زینت اور وہ پرانے ہمسایے، یار و دوست سب بچھڑ گئے ہیں۔ شام ہوتے ہی دوستوں کی محفل کسی سایہ دار درخت یا گاؤں کنارے کسی سڑک کے پاس یا گلی میں  سجتی تھی، ساتھ قہقہے لگاتے تھے، ساتھ ہنستے تھے اور کھاتے تھے، لیکن آج سب کچھ ہے، وہی پرانی گلیاں اور وہی پرانے چبوترے اور وہیں نل سے نکالا گیا ٹھنڈا پانی، وہیں تالاب کے پانی کی رنگت وہیں آشنا راہوں کی درخشندگی سب کچھ موجود ہے لیکن میں تنہا ہوں، وہ  میری محفل آشنا نہیں رہی وہ میرے لوگ نہیں رہے، جو ہر لمحے کو فطری خوشیوں کے رنگ سے بھرتے تھے۔ اب اسی جگہ پر جہاں پہلے جیسا سب کچھ موجود ہے، آج بھی بچے اسی زمین پر جوان ہورہے ہیں، وہیں اسکول اور مدرسہ فیض الاسلام جس میں ہم پڑھتے تھے آج بھی بچوں کی ایک بڑی تعداد پڑھ رہی ہے، وہیں چھٹی کا وقت، کہ بچے چہچہاتے اور کودتے ہوئے اسکول سے گاؤں کی طرف آتے ہیں، بچوں کی آوازیں گاؤں تک آتی ہیں، سکون کے سارے وسائل موجود ہیں اور اپنے گزرے دن ان بچوں کی حرکت و عمل میں دکھائی دیتی ہے۔ اسکول سے آتے ہی بچے ماں کو تلاشتے ہیں، اماں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، ابا جان بازار سے کچھ کھانے کو لاتے ہیں، سب کچھ اسی زاویہ سے دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن اس فضا میں خود کو تنہا محسوس کررہا ہوں ۔۔۔کیوں کہ اب میں جوان ہوچکا ہوں ۔ میں اپنی ماں سے وہیں محبت مانگتا ہوں جو آج وہ اپنے پوتوں اور نتنیوں سے مدرسہ سے آنے کے بعد کرتی ہے، ماں کہتی ہے کہ تم بچے نہیں ، بڑے ہوگئے ہو۔ میں پس و پیش میں ہوں کہ گاؤں میں کچھ فطری تبدیلی نہیں آئی سوائے چند نئے گھروں کے، اور سیٹھ صاحب کی کوٹھیوں کے، اور مٹی کے گھروں کی جگہ اینٹ کے گھر بن گئے۔  مگر گاؤں بدلا نہیں میں خود ہوں۔ اس جگہ میں اب بدل چکا ہوں، میرے لوگ بدل چکے ہیں ، شہر میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئے، تعلیم و تعلم میں اتنا وقت گزرا کہ شہر کے مکین ہوگئے،گئے تھے کچھ دنوں کے لیے، لیکن اتنی عمر گزاری کی اب ادھیڑ سے لگنے لگے۔

شہر جب گئے تھے تو بڑی خوشی تھی ، بڑی بڑی عمارتوں کو دیکھ کر اور ان عمارتوں میں شیشوں کی سیٹ ایپ کو دیکھ کر بعض عمارتیں جو شیشہ پلائی دیوار تھیں، ان کو دیکھ کر حیرت میں پڑ جاتا، گاڑیوں کا شور و شرابہ خوشی دیتی تھی ، ہر طرف لوگوں کی بھیڑ، بھاڑ دوڑ دیکھ کر چہرہ مسرت سے بھر جاتا تھا، مصنوعی بلبوں کی  روشنی سے شہر کا چاروں کونے کو  جگمگاتے دیکھ کر دنگ رہ جاتا تھا ، ایسے میں گاؤں کی تاریکی یاد آتی تھی ، کہ شہر کتنا اچھا ہے، چاروں طرف کاروبار اور پیسوں کی کھنک ہے، لوگوں کا ہجوم سرگوشیوں میں مست و رقصاں ہے ایک لمبے عرصے تک میں اسے دیکھتے رہا، پاس سے دیکھنے کا موقع نہیں ملا، ابھی شہری زندگی سے آشنائی نہیں ہوئی تھی گاؤں کا سب یاد آرہا تھا، رفتہ رفتہ شہری ماحول کی عکاسی مجھ میں نظر آنے لگی، وہی بھاگ دوڑ

کی کیفیت ، گرمی سے شرابور، جہاں گاؤں میں پانی بلا عوض دست یاب تھا اب شہر میں اسے پیسے سے خرید کر پیتے ہیں، گاؤں میں ہمسایہ کے یہاں سے دودھ ، دہی فری میں ملتا تھا ، لیکن یہاں ہمسایہ تو دشمن معلوم ہوتا ہے، سالوں ایک عمارت میں گزار دیے کسی سے ہمسایگی نہ ہوسکی۔  ایک رات کھانا پکاتے وقت مرچ کی کمی پڑ گئی ، چوتھی منزل سے اتر کر دو کلو میٹر دور سبزی بازار لینے جانا پڑا، تب گاؤں یاد آیا کہ اپنا کام تو پڑوسی کے یہاں سے لے کر چل جاتا تھا، یہاں تو اپنی زندگی خود جینی پڑتی ہے ، کوئی حامی و مددگار نہیں ۔

اب تو معاملہ یہ ہے کہ شہر میں جو وقت گزرے وہ میرے بشاش چہرے پر ایک باریک گرد و غبار کا تہہ جما دیا، جسم کو بامشکل تھوڑ آرام ملتا ہے لیکن روح کی تھکن اب جسم پر نمایاں ہوتی ہے، اب گاؤں کی ساری بہاریں یاد آتی ہیں ۔۔۔ ہر پل گرد و غبار سے دور فطری اور صاف ستھری فضا میں سانس لینے کا دل کرتا ہے۔

میں شہر سے  تھکا ماندہ گاؤں پہونچا، دروازے پر اما جان کھڑی تھی، چہرے کی جھریوں میں شہر کے گرد و غبار کو  دیکھ کر بولی کہ اس بار بیٹا میرا دبلا ہو گیا ہے، کھانا نہیں ملتا تھا کیا؟ چہرے کا رنگ بھی پھینکا پڑ گیا ہے۔ طبیعت بھی مرجھائی سی لگ رہی ہے، وہی ڈیری ملک کی چائے اور وہی بے سواد پانی پی کر میرے بچے کی جان میں اب طاقت نہیں۔

اما جان نے  مسکرا کر کہا:

شہر میں بہت دن رہ لیے، اب ذرا مٹی کو بھی پہچان لو۔ دیکھو کھیت میں دھان کی بالی لگی ہوئی ہے ، ہر طرف ہریالی ہے، موسم بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے لیکن کچھ بارش ہوجاتی تو فصل اور اچھی ہوجاتی ، اما جان نے آسمان کی طرف نظر کر کے بولی کہ روز بادل اٹھتا ہے لیکن بارش نہیں ہوتی ہے۔ میں خاموشی سے اما جان کی باتوں کو سنتا رہا، اور کھیتوں کے کنارے بنے میڑیوں پر چلتا رہا، چاروں طرف سر سبز و شاداب فصل لہلہاتی نظر آرہی ہے، اور ساتھ میں اما جان کی بات جس میں خوب مٹھاس ہے، جو  شہد میں نہیں۔

کھیت سے واپس آتے وقت شام ہوگئی، رات اپنی آخری پہر پر تھی، اور جیسے ہی رات ڈھلی، بجلی چلی گئی، چاروں طرف تاریکی کی  گھٹا چھا گئی۔ گھر پر ہم اندھیرے میں پہونچے اور گھر میں آج بھی چاروں طرف وہی اندھیرا ہے جو شہر جانے سے پہلے تھا۔

اما جان نے تھوڑا غور و  فکر کیا اور کہا بیٹھو بیٹا، چراغ جلاتی ہوں ۔‌اما جان کیا کہا؛ آپ کو چراغ جلانا!

میں نے حیرت بھری آنکھوں سے ماں کو دیکھتے ہوئے پوچھا:

کیوں ابھی بھی گاؤں میں چراغ جلتے ہیں، لائٹ آئے گی نا، چراغ کیوں جلانا ؟

اما جان نے مسکراتے ہوئے کہا: چراغ تو میں روز جلاتی ہو اور ہم اسی مٹی کے  چراغ سے روز روشنی حاصل کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ چراغ بجھانے والے گاؤں چھوڑ کر شہر چلے گئے۔

اما جان نے مٹی کے ایک چھوٹے سے دئے میں کپڑے سے بنی ہوئی بتی ڈالی اور اس دئے میں تیل ڈالا اور پھر ماچس سے ہلکے ہاتھ دئے کو  جلا دی، اس دئے سے ایک شمع روشن ہوئی جو آروز اور خوابوں کی تعبیر سے پر تھی، اس دئے سے اٹھنے والی لو اگر چہ کمزور تھی لیکن اما جان کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کے لیے ہمت اور ان کے حوصلوں کے لئے پر امید چراغ تھی ۔ چراغ جہاں جل رہے تھے چاروں طرف دیوار پر دھبے پڑے ہوئے تھے، اس لو سے اٹھنے والے دھویں سے گھر کالے ہورہے تھے، لیکن پھر بھی اس کی روشنی کمرے کے چاروں طرف پھیل رہی تھی، دئے کی لو ٹپٹپا رہی تھی لیکن چراغ روشنی بخشنے کے لئے پر عزم تھی۔

  میں مسرت بھری آنکھوں سے اس چراغ  کی طرف  دیکھ رہا تھا، جہاں اس چراغ کی لو میں مختلف رنگ دکھ رہے تھے وہیں پر شہری زندگی میں بھٹکے ہوئے ، مصیبت و پریشانی کے راستے یاد آ رہے تھے۔ سچ کہوں تو بچپن میں یہ روشنی آنکھوں میں کھٹکتی تھی، اس کا دھواں  آنکھوں میں لگتے تھے لیکن اب یہ روشنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہونچا رہی ہے اور اس کی رنگیز لو دل میں اتر رہی ہے۔ میں اس چراغ کے سایہ تلے گاؤں میں گزرے دنوں کو یاد کر رہا ہوں ، بچپن کی ساری یادوں کو دہرا رہا ہوں جب اما جان چولہوں کے پاس بیٹھ کر کہانیاں سنایا کرتی تھیں اور انہیں چراغوں کی روشنی میں ہم کھانا پکاتے تھے اور وہ بکھرا پریوار جو آج وطن کے مختلف شہروں میں بسا ہوا ہے، سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔

آج اس چراغ کی لو تلے سب یاد آرہے ہیں وہ باتیں جو اب کہانیاں بن چکی ہیں اور وہ دادا جان جو اب من و من مٹی کے نیچے دفن ہیں اور وہ میرے گاؤں کے لوگ جن کو  ہم چچا اور دادا کہتے تھے ، سب آج اسی  مٹی کے چراغ کی روشنی سے غائب ہیں، میں مسلسل چراغ کی  لو کو گھورتا ہوں اور جب رات کا آخری حصہ گزرتا ہے تو بالآخر ان چراغوں میں آنکھوں کا  خواب رکھ کر سوجاتا ہوں۔

بستر پر لیٹتے وقت دل میں یہ بار بار احساس پیدا ہو رہا تھا کہ یہ چراغ جس کو اما جان نے جلایا وہ صرف تیل سے نہیں جل رہے ہیں بلکہ اس میں برسوں کی کہانیاں اور یادیں ہیں، اور جب یہ چراغ سجتے ہیں تو  بزرگوں کی یادیں روشنی بن جاتی ہے۔ اور اپنوں کے احساسات ان کے تحت زندہ ہوجاتے ہیں۔ آج سمجھ میں آیا کہ یہ چراغ جو برسوں سے جل رہا ہے، اس کی لو کیوں نہیں بجھی۔ دادی جان پہلے جلاتی تھی اور اب سالوں سے اماں جان کو جلاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ، کیوں کہ ان چراغوں میں یادوں اور باتوں کی جان ہے، دادا جان کی کہانیاں اس میں چھپی ہوئی، ان میں پرکھوں کی یادوں کی گرماہٹ ہے ، احساس و شعور کی تابندگی ہے جس سے یہ چراغ ہر روز چراغاں ہوتے ہیں۔

شہر میں لائٹوں کے بیچ زندگی گزاری، مختلف قسم کے رنگ برنگے بلف دیکھے، لیکن ان میں قلبی حرارت نہیں تھی وہ سب بے جان تھے۔ لائٹ جلتی تھی روشنی ضرور ملتی تھی لیکن احساس کے ان خزانوں سے ہم دور تھے۔

اور اس چراغ کی روشنی کے تلے جب صبح کے وقت نیند کھلی تو اس چیز کا احساس ہوا کہ اب تو  سانس لینا بھی شفا بن گیا ہے۔

گھر سے باہر نکل کر دیکھا تو پھر وہی خوب صورت صبح کے نظارے، کسان لوگ اپنے کھیتوں میں بیج بو رہے تھے اور آسمانوں میں پرندے اڑ رہے تھے۔

 میں نے  صحت مند فضا میں ایک گہری سانس لی، ایسا لگا کہ جیسے اس شفاف ہوا کے ساتھ چراغ کی روشنی کا اثر دل میں اتر رہا ہو۔

 میں رات بھر جلتے اس چراغ کے پاس گیا اور اسے اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا تو اس میں مٹی کی ٹھنڈک تھی، چراغدان ٹھنڈ تھا لیکن اس میں ماں کی ممتا کی گرماہٹ ضرور دکھ رہی تھی، تب دل میں خیال آیا کہ چراغ مٹی کا ہے یہ اس میں رات بھر جو روشنی پھوٹتی رہی ہے یہ  یادوں کی روشنی ہے، محنت کشوں ، مزدوروں اور غریبوں کی جانفشانی کی روشنی ہے۔

میں چراغ کے سامنے دست بستہ ہوکر عرض کیا کہ اما جان یہ روشنی کہاں سے آتی ہے؟

اما جان :  پاگل بچے چراغ سے روشنی آتی ہے۔

 لیکن اب میں یہ جان چکا ہوں کہ روشنی وہیں ہے جہاں مٹی سانس لیتی ہے اور جہاں چراغ جلتے ہیں وہیں پر سکون و راحت ہے۔

میں لمبے عرصوں تک شہر کی چمک میں دھن رہا لیکن میری روح کو راحت میسر نہیں ہوئی کیوں کہ وہاں مٹی کے وہ چراغ نہیں جو میرے گاؤں میں جلتے ہیں، اور جس کی لو انسانوں کے دلوں تک پہنچتی ہے۔

Leave a Reply