
محمد ہلال عالم
ریسرچ اسکالر
گورنمنٹ رضاپی۔جی۔کالج،رامپور،اتر پردیش
گھر کا ماحول
کنڈیسرا، ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں کھیتوں کی ہریالی، صبح کی تازہ ہوا اور پرندوں کی چہچہاہٹ ہر دل کو موہ لیتی تھی۔ اس گاؤں میں دو بھائی، اظہر اور مظہر، اپنی سادگی اور محنت کے لیے مشہور تھے۔ دونوں بھائی ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی بیویوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی زندگی سادہ مگر محنت سے بھرپور تھی۔ صبح سویرے اٹھ کر وہ کھیتوں یا گاؤں کے دیگر کاموں میں لگ جاتے اور شام کو تھکے ہارے گھر لوٹتے، لیکن دو وقت کی روٹی کا انتظام کر ہی لیتے۔ دونوں بھائیوں کی محنت ایک جیسی تھی، مگر ان کے مزاج اور میل جول بالکل مختلف تھے۔
اظہر، جو عمر میں چھوٹا تھا، گاؤں کے چند پڑھے لکھے لوگوں سے دوستی رکھتا تھا۔ وہ ان کی صحبت سے متاثر ہوا تھا۔ اس کی گفتگو میں شائستگی اور لہجے میں نرمی آ گئی تھی۔ وہ اپنے دوستوں سے سیکھتا کہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نہ صرف محنت بلکہ سلیقہ بھی ضروری ہے۔ وہ ان کی طرح شہری انداز اپنانا چاہتا تھا، چاہے گاؤں کا ماحول اسے اس کی اجازت کم ہی دیتا ہو۔ جب اس کی شادی ہوئی، تو اس کی زندگی میں ایک نئی رنگت آ گئی۔ اس کی بیوی، شازیہ، ایک نرم مزاج اور سمجھدار عورت تھی۔ اظہر اس سے بڑے ادب سے پیش آتا۔ وہ اسے کبھی “تو” کہہ کر نہیں پکارتا تھا، بلکہ ہمیشہ “تم” یا “آپ” کا لفظ استعمال کرتا۔ وہ کہتا، “آپ یہ کپڑے دھو دیں،” یا “تم آج کیا پکاؤ گی؟” وہ شازیہ کا ہر طرح خیال رکھتا، اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ دیتا اور گھر میں ایک پرسکون ماحول بنائے رکھتا۔ شازیہ بھی اس کے اس انداز کی قدر کرتی اور دونوں کے درمیان ایک خوبصورت رشتہ پروان چڑھ رہا تھا۔
دوسری طرف، مظہر، جو بڑا بھائی تھا، گاؤں کے سادہ اور روایتی لوگوں کے ساتھ زیادہ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ اس کے دوست وہ لوگ تھے جو گاؤں کی روایات پر چلتے تھے اور زندگی کو سادہ انداز میں جیتے تھے۔ مظہر کی بیوی، رابعہ، ایک محنتی اور گھریلو عورت تھی، لیکن مظہر اس سے روایتی انداز میں ہی بات کرتا۔ وہ اسے “تو” یا “تیری” کہہ کر پکارتا اور کہتا، “تو کھانا بنا لے،” یا “تیری وجہ سے گھر میں ہر وقت ہنگامہ رہتا ہے۔” اس کا یہ لہجہ گاؤں کے رواج کے مطابق تھا، کیونکہ اس نے اپنے بڑوں اور اردگرد کے لوگوں کو یہی انداز اپناتے دیکھا تھا۔ رابعہ کو اس سے کوئی خاص شکایت نہ تھی، کیونکہ وہ اسی ماحول میں پل کر بڑی ہوئی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ اسے احساس ہونے لگا کہ اس کا شوہر اسے وہ احترام نہیں دیتا جو اظہر اپنی بیوی کو دیتا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ دونوں بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف رہے، لیکن گھر کے ماحول میں ایک عجیب سی کشمکش پیدا ہو گئی۔ رابعہ کو اظہر کا اپنی بیوی سے بات کرنے کا شائستہ انداز بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ سوچتی کہ کاش مظہر بھی اس سے اسی طرح بات کرے۔ وہ جب بھی اظہر کو شازیہ سے “آپ” یا “تم” کہتے سناتی، اس کے دل میں ایک حسرت سی جاگتی۔ اسے لگتا کہ مظہر کا “تو” کہنا اس کی عزت کم کرتا ہے۔ یہ حسرت آہستہ آہستہ اس کے دل میں کڑھن بن کر سمٹنے لگی۔
ایک صبح، جب گھر میں سب ناشتہ کر رہے تھے، رابعہ کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے مظہر سے کہا، “تم مجھ سے ہر وقت ‘تو’ کہہ کر بات کرتے ہو۔ دیکھو نہ، اظہر اپنی بیوی سے کتنی عزت سے پیش آتا ہے۔ وہ شازیہ کو ‘آپ’ یا ‘تم’ کہتا ہے۔ تم کبھی مجھ سے اس طرح کیوں نہیں بولتے؟” مظہر کو یہ بات بری طرح چھو گئی۔ اس نے فوراً کہا، “یہ کیا بکواس ہے؟ بیوی کو ‘تو’ کہنا کوئی جرم تو نہیں۔ ہمارے گاؤں میں سب یہی کہتے ہیں۔ کیا اب ہر بات پر بحث کرنی ہے؟” رابعہ نے پھر کہا، “اظہر بھی تو اسی گاؤں کا ہے، پھر وہ کیوں اپنی بیوی سے شائستگی سے بات کرتا ہے؟”
اظہر، جو خاموشی سے یہ سب سن رہا تھا، بولا، “بھائی، اس میں کیا برائی ہے؟ ‘تم’ یا ‘آپ’ کہنا تو محبت اور احترام کا انداز ہے۔ اس سے گھر کا ماحول اچھا رہتا ہے۔” مظہر نے غصے سے کہا، “یہ سب شہریوں کے چوچلے ہیں۔ کس کتاب میں لکھا ہے کہ بیوی کو ‘آپ’ کہنا ضروری ہے؟ ہمارے ماں باپ نے بھی تو ‘تو’ ہی کہا تھا۔ کیا ان کے گھر کا ماحول خراب تھا؟” بات اتنی بڑھ گئی کہ دونوں بھائیوں کے درمیان گرماگرم بحث شروع ہو گئی۔ شازیہ اور رابعہ نے انہیں منع کرنے کی کوشش کی، لیکن دونوں بھائی اپنی اپنی بات پر اڑے رہے۔
آخر کار، دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ گاؤں کی مسجد کے امام صاحب سے اس معاملے پر رائے لیں گے۔ وہ دونوں شام کو مسجد پہنچے اور امام صاحب کو اپنی پوری بات بتائی۔ امام صاحب ایک بزرگ اور سمجھدار شخص تھے۔ انہوں نے دونوں بھائیوں کی بات غور سے سنی اور پھر مسکراتے ہوئے کہا، “بیٹو، یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ اس پر لڑائی کی جائے۔ بیوی کو ‘تو’ کہنا کوئی گناہ نہیں، کیونکہ یہ ہمارے رواج کا حصہ ہے۔ لیکن اگر کوئی اپنی بیوی کو ‘تم’ یا ‘آپ’ کہہ کر پکارتا ہے، تو یہ اس کی محبت اور احترام کی علامت ہے۔ دونوں طریقوں میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ تم اپنی بیویوں کے ساتھ دل سے محبت اور خلوص سے پیش آؤ۔ الفاظ سے زیادہ تمہارا رویہ گھر کا ماحول بناتا ہے۔”
امام صاحب کی بات سن کر دونوں بھائیوں کے دل ہلکے ہوئے۔ وہ مطمئن ہو کر گھر لوٹے۔ گھر پہنچتے ہی مظہر نے رابعہ سے کہا،
“تو گھر کا ماحول خراب مت کر”
***