You are currently viewing ‌‌آواز خلق نقارہ خدا

‌‌آواز خلق نقارہ خدا

غلام حسن طالب

‌‌آواز خلق نقارہ خدا

(انشائیہ)

آواز کی معانی ہیں بول، لفظ، الاپ، بانگ، ہانک، پکار، غل، شور، صدا، ندا، چیخ، کھڑکا، آہٹ، سر سر، دھماکہ،راگ، نغمہ، آہنگ، شہرہ وغیرہ -چنانچہ بنی آدم کو اشرف المخلوقات کہنا اس لئے بھی ضروری بنتاہے کہ خدا نے اسے تمام جانداروں میں ناطفہ یعنی کہ طاقت گویائی سے نوازا ہے تاکہ وہ اپنے مافی الضمیر کا کھل کر اظہار کرسکے-قدرت نے اسے مختلف اعضاء بدن کے استعمال میں لانے کی شکتی دے رکھی ہے جس کی بدولت وہ قوت سامعہ اور قوت گویائی کی نعمتوں سے سرفراز ہوا ہے کیونکہ خدا نے اسے دیگر آوازوں کے ساتھ ساتھ کسی بھی قسم کی بات زبان سے نکالنے کے لئے دہن یا منہ، جبڑے ، دانت‌ اور تالو جیسے اعضاء  عطا فرمائے ہیں-کاہینات کے باقی تمام جاندار  بالکل ویسے ہی اعضاء رکھنے کے باوجود تکلم کی خوبی سے محروم ہیں -اگر غور سے دیکھیں تو پھر یہ دنیا طرح طرح کی آوازوں اور انسانوں کی شیریں بیانی اور گیت گانوں سے رونق دار ہے – ورنہ راتوں کے سناٹے وبال جان بن جاتے ہیں -خلقت کی بول چال کے درمیان ہونے والی طرح طرح کی آوازوں سے دنیاوی زندگی میں چار چاند لگ جاتے ہیں ،ان آوازوں میں بے جان چیزوں  کا ٹن ٹن، ٹھنا ٹھن،ٹھناکا، جھنکار، کھڑکانا ، کھنگالنا ، سرسرانا، آہٹ، حرکات و سکنات وغیرہ سے انسانوں کے ذہنوں میں ملا جلا ردعمل پیدا کرتا ہے -اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا کہ بنی آدم کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ وہ آواز نکالتا بھی ہے، سنتا بھی ہے اور سناتا بھی ہے – اسے سونے پہ سہاگا ہی سمجھیں کہ آدم کو آواز گوش آشنا ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

بہر حال تعارفی کلمات کے بعد موضوع کو آگے بڑھاتے ہیں – کون نہیں جانتا کہ “آواز خلق نقارہ خدا” کا دوسرا ہم معنی محاورہ “زبان خلق نقارہ خدا” ہے-جس کا مطلب ہے جو بات خلقت کی زبانوں پر ہوتی ہے عموماً سچ اور صحیح ہوتی ہے- آہستہ آہستہ وہ بات مشہور بھی ہوجاتی ہے – یہ بھی کہاگیا ہےکہ اکثریت کی رائے مقدم ہوتی ہے -مشاہدے میں آیا ہے کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت جس بات کا چرچا کرتی رہتی ہے عموماً وہ ہو ہی جاتی ہے – بعض حضرات کا کہنا ہے کہ راے عامہ در اصل  پیغامِ الہیہ ہوتا ہے۔

آج تک اس موضوع کے متعلق اتنا کچھ سننے اور سنانے کے باوجود میں اس محاورے یا قول سے اپنےایک مخصوص نظریہ سے متفق ہوں-
اولاً  یہ کہ انگریزوں کی کہاوت voice of the people is voice of God کا ترجمہ ہے، وہ بات جو علامہ اقبال نے اپنی ایک رباعی میں کہی ہے، کرگس کا جہاں اور ہوتا ہے اور شاہین کا اور، کوئی اگر ہر آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھتا ہے تو اس کی وضاحت کرنا لازمی ہے – غور طلب بات یہ ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی ہے ہاں! البتہ خداوند مجازی سے منسوب معاملات کی بعض خوبیاں اور بعض برائیاں اچانک مقامی یا ملکی سطح یا پھر چار دانگ عالم میں چرچے میں ہوتی ہیں،  کئی لوگ رائے عامہ کی تشہیر سے نام روشن کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنے برے کار کرتوت کی خبر پھیلنے  سے راہ مستقیم پر آنے کی کوشش  کرتے ہیں- تاہم ہو نہ ہو‌ ،  یہ سب کچھ کردہ الٰہی ہے کیونکہ جب خدا کی خدائی میں کوئی دخل نہیں دے سکتا تو پھر اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ خدا کی باتیں خدا ہی جانے-موضوع کے ضمن میں اس قول کو دہرانا چاہوں گا کہ بعض مفکرین رائے عامہ کو پیغام الٰہی سمجھتے ہیں ، گویاجن شخصیات کے کارناموں کی تشہیر کرانا مشیت ایزدی ہوتی ہے وہ کارنامے خودبخود لوگوں کی زبانوں پر آنے شروع ہوجاتے ہیں ، کسی کی نیک نامی یا کسی کی بدنامی کے چرچے ہونے کے پیچھے بھی ضرور کوئی حکمت الٰہی ہوتی ہے جس پر ہماری قطعاً کوئی رسائی نہیں ہوتیی۔

مذہبی یا مسلکی بحث سے ہٹ کر آواز خلق نقارہ خدا کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کسی بھی آبادی کےلوگوں سے پرانے رشتے داروں،دوستوں وغیرہ کے نام ظاہر کرنے کے سوالات پوچھیں ،مشکلی سے ایک یا دو بندے صحیح جوابات دے پاہیں گے، اپنی اپنی پیڑھی تو کیا ان کو اپنے اپنے پردادے اور  پردادی کا نام تک یاد نہیں ہوگا لیکن صوفیوں ، شاعروں ، فنکاروں ،بزرگان دین اور دیگر مشہور شخصیات مثال کے  طور شیخِ نورالدین ولی، سلطان العارفین ، شاہ ہمدان، نقشبند صاحب ، بڈشا بادشاہ،  سکندر اعظم ،حاتم طائی،  علامہ اقبال ، مرزا غالب، سرسید احمد خان ،  حبہ خاتون ، للہ عارفہ وغیرہ کے نام وہ فر فر دہرانے لگیں گے ۔

آواز خلق نقارہ خدا کاایک اور پہلو اس طرح ہے کہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت ماحولیات، منشیات، گراں بازاری، بےحیائی یا بے شرمی وغیرہ موضوعات کے ساتھ ساتھ کسی کی ایمانداری ، کسی کی ہاریاجیت ، کسی کی سخاوت ، کسی کے عدل و انصاف اور کسی کی نیک اعمالیوں پر ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں ، شاید یہ مشیت خدا ہوتی کہ دوسروں‌ کی ہدایت کےلئے ایسی نیکیاں چرچے میں رہیں یا پھر ایسے بندوں کو آزمایشیوں میں ڈال کر ان میں سے بعضوں کو گمراہی کی طرف دھکیلنا ہوتا ہے- بہرحال خدا سب کی محنت سوارت  کرتا ہے،  محنت اچھائی اور برائی دونوں کے لئے ناگزیر ہوتی ہے، جس وقت دنیا میں برے لوگوں کے برے کام آواز خلق نقارہ خدا کا روپ اختیار کرتے ہیں تو سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ مشیت الٰہی یہی ہے کہ اپنے نیک بندوں کے اعمال صالح در پردہ رہیں اور برے لوگوں کی بد اعمالیاں چرچے میں رہیں، تاکہ اول الذکر سے لوگ مثبت سوچ پاسکیں اور موخر الذکر سے عبرت پکڑیں – اپنے تجربات کی بناء پر کہنا چاہوں گا کہ دنیا میں جرائم کا گراف اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا کہ اس کی تحاریر و تقاریر میں تشہیر ہوتی ہے۔

آواز خلق نقارہ خدا کا قول انسانوں کے ذریعے وجود میں آئے ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں سے زیادہ موثر ثابت ہوا ہے،شاید  اس خود اختیاری قول کو بنی آدم کی زندگی کے جملہ معاملات میں لاہف لائن قراردینے میں کوئی قباحت نہیں ہے – آخر گوناگوں آوازیں پوری کائنات کو رنگین اور حسین بنادیتی ہیں۔

انسانوں کی کثیر تعداد مزاجاً شہرت پسند ہوتی ہےجب کہ آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کو مشہور ہونے سے الرجی ہوتی ہے۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ ایسے کٹر لوگ ویسے بھی اپنی ناپسندیدگی پر آواز خلق نقارہ خدا بن جاتے ہیں ۔ واقعی کسی انسان کی اچھائی یا برائی، لاکھ چھپائیں، ایک نہ ایک دن آشکارا ہوجاتی ہے -کہتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں کسی خدا رسیدہ بزرگ نے اپنے انتقال کے بعد اس انسان سے نماز جنازہ پڑھوانے کی وصیت کی تھی جس نے زندگی بھر کوئی نماز قضا نہ کی ہو اور جس کی نطر کسی بھی نامحرم خاتون پر نہ پڑی ہو، بزرگ کےمرنے پر سارے ملک میں منادی ہونے کے باوجودکہیں سے کوئی ایسا انسان سامنے نہیں آیا، کہا جاتا ہے بادشاہ وقت اچانک حاضر ہوگیا اور جنازہ نماز پڑھوانے کی رسم ان کلمات کے بیان کرنے کے بعد روبہ عمل لائی،” کیا میرے راز سربستہ کا افشاء ہونا خدا کو منظور تھا ؟” گویا اس نوعیت کا بھید کھلنا بھی آواز خلق نقارہ خدا بن گیا۔

Leave a Reply