You are currently viewing اردونعت کے فروغ میں دہلوی غیر مسلم شعرا کی خدمات

اردونعت کے فروغ میں دہلوی غیر مسلم شعرا کی خدمات

ڈاکٹر سید محمد فضل الرحمن

اسسٹنٹ پروفیسر ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ہمدر د(ہمدرد یونیورسٹی) ، نئی دہلی

ڈاکٹر محمد احمد نعیمی

اسسٹنٹ پروفیسر ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ہمدر د(ہمدرد یونیورسٹی) ، نئی دہلی

اردونعت کے فروغ میں دہلوی غیر مسلم شعرا کی خدمات

 

ہندوستان گنگا جمنی تہذیب اور عقیدت و محبت کی سرزمین ہے۔ اس کے ذرہ ذرہ میں کچھ ایسی مقناطیسی قوت رہی ہے کہ دنیا کی ساری قومیں اور مذہبی اکائیاں اس کی طرف شروع سے ہی متوجہ رہی ہیں۔ غالباً اسی وجہ سے ہمارا یہ عزیز ملک نہ صرف ہمیشہ انسانیت و مروّت کا مرکز بنا رہا بلکہ اس کا سماجی ماحول اور معاشرتی زندگی گوناگوں مذہبی و روحانی اثرات سے ہم آہنگ رہی۔ کیونکہ علم سماجیات کا عام اصول ہے کہ جب دو یا چند عظیم ثقافتیں و تہذیبیں باہم قریب ہوتی ہیں تو ان میں گفت و شنید، نشست وبرخاست، تبادلۂ خیالات، باہمی تعلقات و میل جول اور آپسی معاملات ولین دین کی وجہ سے بہت سے اثرات معرض وجود میں آتے ہیں۔ اسی باعث اس وطنِ عزیز میں نت نئے افکار و نظریات نے جنم لیا۔ افکار و نظریات کے اختلاف نے نہ صرف ہندوستانی تہذیب کو عروج بخشا بلکہ مختلف تہذیبوں کے اتصال و ربط کا راستہ ہموار کیا اور ایک دوسرے کے خیالات اور نظریات کو سمجھنے کا بھی موقع فراہم کیاجس کے نتیجے میں ایک مشترکہ تہذیب کی نشو ونما ہوئی۔

مشترکہ تہذیب ہندوستان کی ایک امتیازی شان ہے جس کی نشو ونما میں صوفیاء کرام، علماء عظام اور مختلف مذاہب کے سادھوئوں، سنتوں، دھرم گروئوں اور دانشوروں کا اہم کردار رہا ہے۔ اپنے خیالات اور تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت کے لیے نہ صرف انھوں نے رواداری، امن و آشتی کا طریقہ اختیار کیا بلکہ عوام کے قلوب اور اذہان تک پہونچنے کے لیے انھیں کی زبان استعمال کی۔ کیونکہ عوام کو متاثر کرنے اور ان کو قریب کرنے کے لیے ان ہی کی زبان میں گفتگو کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی ایک دوسرے کے خیالات و نظریات میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اس لیے تبلیغ و تعلیم کے لیے انھوں نے جہاں دیگر اصول و طریقے اپنائے وہاں اس علاقہ کی رائج زبانوں پر دسترس حاصل کی تاکہ بحسن وخوبی اپنا پیغام عوام تک پہونچا سکیں۔ چنانچہ فروغ اردو اور ارتقاء اردو کی تاریخ شاہد ہے کہ شروع سے ہی مسلم اور غیر مسلم دانشواران قوم کا تعلق اردو ادب سے رہا۔ یہاں تک کہ بھکتی اور ریت کال میں بھی مسلم صوفی اور غیر مسلم سادھو سنت شعرا اور دیگر اہل علم و دانش نے اردو ادب کے حوالہ سے مثالی کردار ادا کیا ۔

مختصر یہ کہ اردو کی ارتقائی تاریخ میں مسلم دانشوروں کے علاوہ غیر مسلم اہلِ علم و دانش کی بھی ایک طویل فہرست ہے کہ جن کو شعر وسخن سے کافی دلچسپی تھی اور یہ ذوق فطری اور قدرتی طور پر ان میں ودیعت تھا۔ چنانچہ انھوں نے اردو زبان میں نعتیں، منقبتیں، غزلیں، رباعیات، قطعات، نظمیں، کہانیاں، افسانے اور ناول وغیرہ لکھے۔ اور اردو ادب کو خوب خوب فروغ بخشا۔ اور ادب کی اہمیت کو بحسن و خوبی جانا پہچانا اور اپنی ادبی تخلیقات کے زیورات و جواہرات سے اس کے حسن کو مزید دوبالا کیا۔

جن غیر مسلم شعراو ادبا نے اپنی منثور یا منظوم تخلیقات سے اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کی ایک بڑی تعداد ہے۔ ہر ایک کا بالتفصیل یا بطور اختصار تذکرہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے بلکہ ایک تحقیقی مقالہ کا متقاضی ہے۔ جن میں سے چند شعراوادبا کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:

٭      پنڈت امرناتھ، آشفتہ دہلوی

٭      پروفیسر جگن ناتھ آزاد

٭      کشن لال، خنداں دہلوی

٭      منشی گنیشی لال، خستہ دہلوی

٭      پیارے لال، رونق دہلوی

٭      پنڈت تربھون ناتھ زتشی، زار دہلوی

٭      پنڈت امرناتھ مدن، ساحر دہلوی

٭      پنڈت جواہر ناتھ کول، ساقی دہلوی

٭      لالہ مُرلی دھر، شاد دہلوی

٭      چنڈ پرشاد نِگم، شیدا دہلوی

٭      شیش چندر، طالب دہلوی

٭      منشی عزت سنگھ، عیش دہلوی

٭      پنڈت جگموہن ناتھ ہکو، فدا دہلوی

٭      پنڈت برج موہن دتاتریہ، کیفی دہلوی

 ٭      چندر بھان، کیفی دہلوی

٭      آنند موہن زتشی، گلزار دہلوی

٭      دِگمبرپرشاد، گوہر دہلوی

٭      لالہ چھنومل، نافذ دہلوی

٭      جوئیس، نحیف دہلوی

٭      لالہ فتح چند، نسیم دہلوی

٭      لالہ دھرم پال گپتا، وفا دہلوی

مذکورہ بالا شعراو ادباکی مختصر سوانح حیات اور اردو ادب کے حوالہ سے کی گئیں ان کی خدمات کا اجمالی جائزہ لینے کے لیے بھی ایک طویل مقالہ کی ضرورت ہے لہٰذا وقت کی قلت، موقع کی مناسبت اور مقالے کے طوالت کے خوف کے پیش نظر مشتے نمونہ از خردارے ائندہ سطور میں ہم چند دہلوی غیر مسلم شعراو ادبا کا اجمالی خاکہ پیش کر رہے ہیں:

پروفیسر جگن ناتھ آزاد:

 اسمِ گرامی جگن ناتھ اور تخلص آزاد ہے۔ والد محترم کا نام تلوک چند محروم ہے۔ جو پاکستانی پنجاب میں دریائے سندھ کے پارعیسیٰ خیل میں ہیڈ ماسٹر تھے۔ ۵؍ دسمبر ۱۹۱۸ ء کو عیسیٰ خیل میں ہی آپ کی ولادت ہوئی۔ آزاد نے بی اے کا امتحان راولپنڈی اور ایم اے کا امتحان لاہور سے پاس کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ’’خلافت تحریک‘‘ کے سر گرم رکن ہوگئے۔ بعد ازاں جے ہند اخبار سے وابستہ ہوگئے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ترک وطن کرکے دہلی میں سرکاری رسالہ ’’آج کل‘‘ میں نائب مدیر بن گئے پھر انفارمیشن آفیسر ہوگئے۔ جگن ناتھ آزاد کو شاعری سے فطری وابستگی تھی۔ آپ کے والد اچھے شاعر تھے اور محروم تخلص کرتے تھے۔ اوائل عمر ہی سے شعر وسخن سے شغف ہونے کے باعث آہستہ آہستہ آپ کی شاعری نے ترقی کی اور اچھے نامور شعرا میں آپ کا شمار ہونے لگا۔ آپ نے جملہ مروّجہ اصناف سخن مثلاً: غزل، رباعی، نظم، نعت اور منقبت وغیرہ میں طبع آزمائی کی ہے لیکن غزل اور رباعی کے میدان میں کافی شہرت حاصل کی ہے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ کل ہند انجمن ترقی اردو کا آپ کو صدر بنایا گیا۔ آپ کی متعدد تصانیف ہیں جو اردو نثر و نظم میں گراں قدر اضافہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا نعتیہ مجموعہ ’’نسیم حجاز‘‘ بھی کافی مشہور و مقبول ہوا اور جس پر آپ کو بہت سے ایوارڈس و انعامات سے سرفراز کیا گیا۔ آزاد کی نعتیہ کاوشات میں ان کا سلام جس کا عنوان ’’فخرِ دوراں‘‘ ہے کافی مشہور ہے۔ جس کے چند اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

سلام اس ذاتِ اقدس پر، سلام اس فخرِ دوراں پر

ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکاں پر

سلام اس پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا

رہا جو بیکسوں کا آسرا، مشفق غریبوں کا

سلام اس پر جو آیا رحمۃ للعالمین بن کر

پیام دوست لے کر، صادق الوعد و امیں بن کر

جگن ناتھ آزادشاعری میں جوش اور اقبال سے بہت متاثر تھے بلکہ اقبال پر اتنا عمیق اور وسیع مطالعہ تھا کہ ماہر اقبالیات تسلیم کیے جاتے تھے۔ غزلوں کے علاوہ آپ نے نظموں میں بھی اپنی جولانیٔ طبع کے کافی جوہر دکھائے ہیں۔

(ڈاکٹر اسماعیل آزاد، ہندو پاک کی اردو نعتیہ شاعری، نئی دہلی، برائون بک پبلی کیشنز ، ۲۰۱۹ء، ص ۵۰؍۵۱)

آنند موہن زتشی، گلزار دہلوی:

اردو ادب کے فعال رکن اور قومی ہم آہنگی کے ممتاز ترجمان گلزار دہلوی ۷؍جولائی ۱۹۲۶ ء کو گلی کشمیر یان، بازار سیتارام، دہلی کے ایک معزز اور ذی علم خاندان میں پید اہوئے۔ آپ کے والد ماجد جناب پروفیسر تربھون ناتھ زتشی زارؔ، دہلی کے مشہور شاعر اور والدہ محترمہ برج رانی بیزارؔ دہلوی مشہور شاعرہ تھیں۔ گلزار صاحب کیفی دہلوی اور سائل دہلوی کے شاگرد رشید ہیں۔ علاوہ ازیں مولوی عبد الحق اور مولانا کفایت اللہ سے بھی شرف تلمذحاصل کیا۔ ۱۹۴۷ ء سے انجمن تعمیر اردو کے بانی سکریٹری اور تقریباً ۲۵؍ سال تک حکومت ہند کے ماہنامہ ’’سائنس کی دنیا‘‘ کے مدیر اعلیٰ رہے۔ آپ کا مجموعۂ کلام ’’گلزار غزل ‘‘ ۲۰۰۰ ء میں شائع ہوا۔ دہلی اردو اکیڈمی نے دو مرتبہ آپ کو انعام سے سرفراز کیا۔ آپ نے حمد، نعت، غزل، رباعی، نظم ،قطعہ اور منقبت سبھی اصنافِ سخن میں کلام کہا ہے۔ مثلاً ان کے یہ اشعار دیکھیں:

گلزار آبروئے زباں اب ہمیں سے ہے

دلّی میں اپنے بعد یہ لطفِ سخن کہاں

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے

قرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے

چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں

دل کو پگھلائیں تو ہوسکتا ہے سانسیں نکلیں

گلزار صاحب نے غزل کے علاوہ بارگاہِ رسول ﷺمیں نعتیہ کلام بھی نہایت صاف، سادہ، رواں اور سلیس انداز میں پیش کیا ہے۔ آپ کی نعتوں میں نبیٔ اکرم ﷺ کا وصفی بیان زیادہ ہے۔ جیسے:

آنکھوں میں بس رہا ہے سراپا رسول کا

دل پر ہوا ہے نقش وہ نقشہ رسول کا

مست مئے الست ہے گلزار دہلوی

بخشش کے واسطے ہے سہارا رسول کا

(عظیم اختر، بیسویں صدی کے شعراء دہلی، اردو اکیڈمی، جلد دوم، ۲۰۰۵ ء ، ص ۱۰۸۴)

دِگمبر پرشاد گوہر دہلوی:

اردو نعت کے فروغ و ارتقاسے متعلق دہلی کے غیر مسلم شعرا میں گوہر دہلوی کا نام بھی قابلِ ذکر ہے۔ آپ پیشے کے لحاظ سے جوہری تھے اور دریبہ میں بڑی دوکان تھی لیکن شعر و ادب سے بھی حد درجہ شغف رکھتے تھے۔ آپ حضرت آغا شاعر قزلباش کے شاگرد رشید تھے۔ اورمشاعرے یا شعری نششتوں میں اپنا کلام پڑھنے سے قبل استاذ کے ۲یا۳؍ اشعار ضرور پیش کرتے تھے اور اس روش کو انھوں نے تا حیات جاری رکھا۔ شعلہ و شبنم کے نام سے ایک ادبی ماہنامہ بھی جاری کیا لیکن تقسیم ہند کے کچھ عرصہ بعد ناگفتہ بہ حالات سے متاثر و دل برداشتہ ہوکر اس کو بند کردیا۔ اور شاعری ترک کرکے مکمل گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ گوہر صاحب کی نعتیہ شاعری کس معیار کی ہے اس کا اندازہ ان کے ان اشعار سے بحسن و خوبی لگایا جاسکتا ہے:

کھُل گئے چرخ پہ اسرارِ خدا آج کی رات

پڑ گئی عرش پہ بنیادِ وفا آج کی رات

کس کے پر تو سے منور ہے بساطِ عالم

عرش پہ کون ہوا جلوہ نما آج کی رات

نورِ عرفاں سے مرا دل بھی ہے روشن گوہرؔ

ظلمتِ کفر میں پھیلی ہے ضیا آج کی رات

(نور احمد میرٹھی، بہرِ زماں بہرِ زباں ﷺ ، ادارہ فکر ِ نو ، کراچی، ۱۹۹۶ ء ص ۵۲۱)

پنڈت برج موہن دتاتریہ ، کیفی دہلوی:

دہلی کے ایک مشہور کشمیری پنڈت خاندان میں ۱۲؍ دسمبر ۱۸۶۶ ء کو آپ کی پیدائش ہوئی۔ دہلی میں ہی تعلیم حاصل کی۔ سنسکرت اور ہندی سے بخوبی واقف تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ اردو، فارسی اور انگریزی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ نے لالہ سری رام کے مشہور تذکرے ’’خمخانہ ٔ جاوید‘‘ کی جلدوں کی ترتیب و تدوین میں تعاون کیا۔ میدان صحافت میں بھی کافی شہرت حاصل کی۔ انبالہ میں لالہ مُرلی دھرکے اخبار ’’خیراندیش‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔

کیفی صاحب کی نظم و نثر میں ڈیڑھ درجن سے زائدکتابیں ہیں جس میں کیفیہ، منشورات، چراغِ ہدایت، بھارت درپن اور واردات بہت مشہور ہوئیں۔ توزک قیصری، مراری دادا، پریم ترنگی، تمثیلی مشاعرہ، راج دُلاری، نہتا رانا، دریائے لطافت ، جگ بیتی، ہماری زبان، خمسۂ کیفی، دساتیر اردو، چند نظمیں (مختصر انتخاب کلام) ۱۹۵۴ء میں علی گڑھ سے شائع ہوئی۔ جناب نرائن داس ضمیر نے آپ کے ذوق شعری کی رہنمائی کی اور خواجہ الطاف حسین حالی جیسے معروف و مستند اردو ادیب سے بھی غزلوں پر اصلاح لی۔ ۱۸۸۴ ء میں روایتی غزل گوئی سے جدا ہوکر حالی اور آزاد کی تحریک کے زیر اثر شاعری کی طرف مائل ہوئے اور کئی اصناف سخن پر طبع آزمائی کی۔ کیفی صاحب کے مندرجہ ذیل نعتیہ اشعار ان کی بالغ نظری اور فکری بلندی کی بخوبی ترجمانی کرتے ہیں:

ہو شوق نہ کیوں نعتِ رسول دوسرا کا

مضمون ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا

تھی بعثتِ محمود خدا کو منظور

تھا پھل وہ بشارت کا نتیجہ نہ دعا کا

ہے حامیٔ و ممدوح مرا شافعِ عالم

کیفی مجھے اب خوف ہے کیا روزِ جزا کا

(بیسویں صدی کے شعراء دہلی، جلد اول، ماہنامہ شاعر، بمبئی، اگست ۱۹۸۹ ء مدیر افتخار امام صدیقی)

پنڈت تربھون ناتھ زتشی، زار دہلوی:

زار دہلوی کشمیری پنڈت جناب پرتھی ناتھ زتشی کے فرزند ارجمند تھے۔ ۱۸۷۱ ء میں آپ کی ولادت ہوئی۔ مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی جیسے قدر آور اور عظیم دانشور سے اردو، فارسی اور عربی پڑھی۔ اندر پرستھ کالج دہلی یونیورسٹی میں ۳۲ سال اردو اور فارسی شعبہ کے صدر و استاد رہے، داغ دہلوی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ اردو کے علاوہ انگریزی اور فارسی پر بھی اچھی دسترس رکھتے تھے۔ آپ کے صاحبزادگان میں پنڈت رتن موہن ناتھ، خار دہلوی ،پنڈت آنند موہن، گلزار دہلوی نے بھی اردو ادب کے حوالہ سے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں بالخصوص گلزار دہلوی نے میدانِ شاعری میں بہت عزت و شہرت پائی ہے۔

زار صاحب نے حمد، نعت، منقبت، سلام، مرثیہ، غزل، رباعی، مسدس بلکہ تمام اردو اصناف سخن پر طبع آزمائی کی۔ تین گیتائوں کے منظوم ترجمے کئے۔ آپ کے کلام میں تصوف، ویدانت اور عرفانیت کا رنگ جھلکتا ہے۔ آپ کی خالص غزلوں میں بھی ایک شعر حمدیہ اور ایک شعر قرآنِ پاک کی آیات سے متعلق ہوتا تھا۔عربی اور فارسی کلاسیکی ادبی حوالے اور تلمیحات آپ کا خاص مذاق تھا۔مثلاً: ان کے یہ اشعار دیکھیں:

اناالحق جزوِ لاینفک بنا ہے میرے ایقاں کا

یہی ہے قل ھواللہ احد مستوں کے قرآں کا

وہی مصطفی، وہی مجتبیٰ وہی مبتدا وہی منتہا

وہی سوز میں وہی ساز میں وہی ترک میں وہی تا زمیں

(ڈاکٹر محمد اسماعیل آزاد فتح پوری، سوغات صنم خانہ، قلمی ص ۸۲)

شیش چندر ، طالب دہلوی:

آپ خاندانی رئیس تھے اور سکسینہ کائستھ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ مشن کالج (سینٹ اسٹیفنز ) سے انٹر اور ہندو کالج سے بی۔ اے کیا۔ کالج کے زمانے سے ہی شعر کہنے لگے تھے۔ آپ کے حقیقی پھوپھا منشی مہراج بہادر، برق دہلوی نے آپ کی رہنمائی کی۔ طالب صاحب صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک اعلیٰ مترجم اور نثر نگار بھی تھے۔ ماہنامہ ’’آج کل‘‘ ، روزمانہ تیج اور امریکن رپورٹر سے وابستہ رہے لیکن یہ ملازمتیں عارضی اور شوقیہ تھیں۔ آپ نے بہت سی نثری کتابوں کی تصنیف و تالیف کی۔ حرف نا تمام، یہ تھی دلی تمنا، یادگار برق، ہمارے حسین، انوار نظر، حد نگ ناز، کشمیر کی سیر اور چمنستان کیفی آپ کی نثری تخلیقات ہیں جب کہ رتن مالا، سبزۂ بیگانہ اور سحر حیات شعری مجموعے ہیں۔ ان کے کلام کے یہ نعتیہ اشعار بطور خاص ملاحظہ فرمائیں:

حلقہ ہے مہِ نو کا گریبانِ محمد

ہے مطلع انوار یہ دامانِ محمد

کیا درسِ مساوات دیا نوعِ بشر کو

اُترے گا نہ سر سے کبھی احسانِ محمد

کیوں ایسی امیری پہ نہ صدقے ہو رہائی

آزادِ دو عالم میں غلامانِ محمد

طالب اسے انسان بھی کہنا نہیں زیبا

جو مردِ مسلماں نہیں شایانِ محمد

(ڈاکٹر دھرمیندر ناتھ آزاد، ہمارے رسول، سفارت جمہوری اسلامی ایران، دہلی نو، ۲۰۱۱ ء ص ۳۳۸)

٭٭٭

Leave a Reply