You are currently viewing تحفہ

تحفہ

ڈاکٹرمحمد ذاکر

 اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ساؤتھ کیمپس کشمیر یونیورسٹی

تحفہ (انشائیہ)

 کچھ خواہشات اظہار کی محتاج ہوتی ہیں ۔اس بات کا تجربہ مجھے کئی دفعہ ہوا۔ لیکن ان تمام تجربات میں ایک تجربہ بڑا ہی عجیب و غریب تھا۔ہوا یوں کہ ایک روز میں اپنے چند احباب میں بیٹھا کچھ غیر ضروری معاملات ومسائل پر زور آزمائی کر رہا  تھا اسی دوران مختلف قسم کی سبزیوں کے ذائقے کے حوالے سے بھی باتیں ہوئیں۔اب اتفاق دیکھیئے میں نے بھی غلطی سے یا پھر بے تکلفی میں ایک سبزی کے ذائقے کے ساتھ ساتھ اس کی شدید طلب کا ذکر کیا۔وہیں میرے ایک انتہائی عزیز اور بہت ہی قریبی دوست بیٹھے تھے۔وہ بڑے غور سے یہ ساری گفتگو سن رہے تھے ۔بلکہ بعد میں مجھے احساس ہوا کہ وہ صرف میری اس خواہش کو سننے کے لیے ہی اس محفل میں بیٹھے تھے اور انتظار میں تھے کہ میں انھیں خدمت کا موقع دوں ۔حضرت اگلے ہی روز جب انہوں نے مجھے گھر کے سامنے ڈراپ کیا تو تھوڑا توقف کے بعد بولے میاں آج ہم نے آپ کے لیے کچھ لایا ہے۔ہم کچھ دیر کے لیے سکتے میں پڑ گئے آخر یہ کنجوس آج ہم پر اس قدر مہربان کیوں ہوا اور ہمارے لیے کچھ لے آیا۔پھر ہم نے دل کو مطمئن کیا اور سوچا حالات انسان کو ایسا بنا دیتے ہیں ورنہ اپنی مرضی سے کوئی کنجوس نہیں بنتا۔ کیسا بھی ہو دوست تو ہمارا ہے۔یہ الگ بات ہے ہماری صحبت کا اثر بغیر سوچے سمجھے قبول نہیں کرتا۔ خیر وہ ہمیں اپنی موٹر کار کے پیچھے لے گیا اور ڈکی کھولتے ہوئے نہایت ہی مشفقانہ لہجے سے بولا۔ میاں ہماری طرف سے تحفہ کے طور پر رکھ لیجئے۔ حضرت نے ایک ایسا تحفہ عنایت کیا جس کی لمبائی یوں سمجھ لیجیے کہ ہمارے قد و قامت سے تھوڑی ہی کم تھی۔خیر شکریہ کہنا بھول گئے تحفے کو کندھوں پر اٹھایا اور جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ کر سیدھا اپنے کمرے میں رکھ دیا بلکہ کندھوں سے اتار دیا۔

اس کے بعد کچھ ذاتی مصروفیات میں مشغول ہو گیا ۔جیسے ہی فارغ ہوا تو آہستہ آہستہ ہمارے دوست کی عنایت ہماری توجہ کا مرکز بننا شروع ہو گئی۔ توجہ ہی نہیں بلکہ تشویش بھی ہونا شروع ہو گئی۔چونکہ  تحفہ چاروں طرف سے کسی بھی طرح غور وفکر کا متقاضی نہ تھا۔لیکن اب وہ مسائل میں بدلنا شروع ہو گیا۔ظاہر سی بات ہے مسائل غور وفکر کے بغیر کسی حل تک نہیں لے جاتے۔ خیر ذہنی ورزش کا سلسلہ شروع ہوا تو پہلے ہم نے غروفکر کیا کہ چلیے اسے سنبھال کے رکھتے ہیں۔لیکن یہ تحفہ زیادہ دن زینت تحفہ پہ برقرار رہنے والا نہ تھا۔ دو دن سنبھالتے چار دن سنبھالتے آخر اس تحفے کی تازہ کاری ختم ہو جاتی پھر پھینکنا پڑتا۔ تو ہمارے دوست کی عنایت کی بے حرمتی ہوتی۔ میں نے کسی طرح سے گھسٹ کر اس تحفہ کو رسوئی تک لے گیا۔ رسوئی میں اس تحفہ کے داخلے سے برتنوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں۔ اس سے پہلے کہ یہ چہ میگوئیاں کسی بڑی واردات میں بدل جاتیں میں نے آگے بڑھ کر تحفہ کا تعارف پیش کیا ۔کہ یہ آپ کی زینت بننا چاہتے ہیں۔ یہ کہنا ہی تھا کہ پوری رسوئی پر سکتے کا عالم طاری ہو گیا۔ہر برتن اپنی خاموش زبانی سے احتجاج کررہا تھا۔اور اپنی کم مائیگی کا اعتراف کر رہا تھا۔ آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ نہ تو کوئی برتن اس کی زینت بننے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی یہ تحفہ اپنی لمبائی کی وجہ سے کسی برتن کی زینت بن سکتا ہے۔

 اب میری تشویش اور زیادہ بڑھ گئی اور میں سوچ بچار میں پڑ گیا۔ادھر اُدھر ٹہلنا شروع کیا تاکہ کوئی حل نکال سکوں۔دانتوں میں انگلی ڈالی اور یہاں تک کہ شہادت کی انگلی سے دو تین مرتبہ دانت بھی صاف کر لیے۔ سر کو چاروں طرف سے کھجایا کیوں کہ اوپر سر کے کھجانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں جو تھا چند گنے چنے بالوں کا مایہ  وہ اس خوف سے بچا کر رکھا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی غور فکر کی نظر نہ ہو جائے۔  کچھ سمجھ میں نہیں  آ رہا تھا کہ آخر اس کا کیا کیا جائے ۔ایک گھنٹہ سوچا دو گھنٹے سوچا دوستوں سے پوچھا کہ آخر  اس تحفے کا کوئی علاج بتا دیجئے کہ اس کا کیا کیا جائے۔ دوست مشورہ دینے کے بجائے حصے دار بننے کی باتیں کرنے لگے تو ہم نے تنہا ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی جستجو تیز کر دی۔ حضرت جب میں نے یہ تحفہ کندھوں پہ اٹھایا تھا تو چشم دید گواہوں کو تحفہ کم توپ زیادہ لگ رہا تھا۔ بس یوں سمجھ لیجئے اگر ہمارے دوست رات کے وقت عنایت کرتے تو نہ جانے پولیس ہم پہ کونسی دہارا لگا کر پابند سلاسل کر دیتی۔ یہ تو ہماری خوش بختی ہے کہ اس دن ڈیپارٹمنٹ سے ہم وقت پر رہا کر دیے گئے ورنہ یہ تحفہ مصیبت بن کر نازل ہوتا۔ کمرے تک لانے کے بعد جب ہم نے اچھے سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہماری چشم ایاغ نے آج تک سبزیوں کی نسل میں ایسی کوئی سبزی نہیں دیکھی تھی  جو غور وفکر کے باوجود ہمارے کسی برتن کی زینت بنتی ۔خیر غور و فکر کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔ مفکرین کا طرزِ عمل اختیار کیا اور چھت کی طرف دیکھنا شروع کیا تو عنکبوت کی کارکردگی مائل بہ کرم ہوئی تو پھر نظریں دامن پہ گھاڑ لیں۔ اس کے علاوہ دو تین مرتبہ بیت الخلاء میں بھی گیا کیوں کہ اس حوالے سے سن رکھا تھا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان نہ صرف ہلکا ہوتا ہے بلکہ نئے خیالات بھی ذہن میں آتے ہیں۔خیر وہاں بھی ہمارا ذہن کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکا۔ غور وفکر کے اس عمل کےدوران ہمیں ایک واقعہ یاد آیا کہ کچھ روز پہلے ہم نے ایک شخص کو جو قد و قامت سے بالکل ہمارے جیسا تھا ،ایسا ہی ایک تحفہ انہوں نے اپنے شانوں پر اٹھایا ہوا تھا چونکہ وہ ان کے قد و قامت سے تھوڑا بڑا تھا۔ہم ہنس دیے ان پہ،ہمیں کیا معلوم تھا ایک دن یہ مصیبت ہمارے سر  بھی پڑے گی۔ ہم نے استغفار کیا اور چار و ناچار  دوست کو  بھی کال کی جن کی یہ عنایت تھی کہ حضرت آپ نے تحفہ تو بڑھیا دیا بلکہ بہت بڑا دیا بہتر ہوتا اس کے ساتھ اس کے استعمال کا کوئی نسخہ بتا دیتے۔تاکہ اس تحفے کا ہم صحیح استعمال کر سکتے۔ خیر انھوں نے جو طریقہ بتایا وہ ہم پہلے آزما چکے تھے جو کارگر ثابت نہیں ہوا۔ اب تحفہ ہمارے سامنے تھا اور ہم سوچ رہے تھے کیا کیا جائے۔کیونکہ اگر ہم اسے سینے سے لگاتے ہیں لوگ کچھ اور سمجھ بیٹھیں گے ۔خیر ہم بار بار تحفے کو دیکھتے تھے اور غور وفکر کرتے تھے۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہاں سے شروع کیا جاۓ کہاں ختم ہوگا اور پھر کیا نتائج نکلیں گے ۔بس تشویش کا عالم تھا۔ہم رسوئی کی طرف نظر دوڑاتے ظروف کی کم ظرفی  دیکھ کر پریشان ہو جاتے۔ غور وفکر کے اس عمل میں ہمارا کھانا رہ گیا۔اور ہم تحفہ کا حل نکالنے میں ناکام ہو گے۔ اب سامنے تحفہ اور ہم تھے۔ اچانک ذہن میں خیال آیا کیوں نہ  اسے قسطوں میں پکایا جائے۔ تاکہ یہ بلا قسطوں میں ٹل جائے۔ساتھ ہی ایک اور نیک خیال آیا کہ ایسا کرتے ہیں کافی دنوں سے بہت سارے دوست  دعوت کا  شوق ظاہر کر رہے ہیں۔ کیوں نہ انھیں دعوت پہ بلایا جائے۔اس سے ان کا شوق بھی پورا ہو جائے گا اور ہمارے سر سے مصیبت بھی ٹل جائے گی۔ اب ساتھ میں تشویش بھی ہوئی کہ دوستوں کو وقت دینے کے لیے پورا دن چاہیے جو  ہمارے پاس نہیں ہے۔اور پھر یہ کہ  ایک دفعہ انہیں یہ شوق پیدا ہو گیا بار بار آئیں گے اور بار بار کہاں ہم پہ  دوست مہربان ہوتے ہیں اور تحفے عنایت کرتے ہیں۔ خیر ذہن کی یہ تجویز بھی مسترد کر دی ۔ آخر میں جب ہم کسی  بھی نتیجے تک نہ پہنچے تحفے کو بستر پہ سلا دیا اور ایک طرف ہم  آرام فرمانے لگے ۔ سونے سے پہلے طے کیا کہ کل اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے۔

Leave a Reply