You are currently viewing خاموش فاصلے

خاموش فاصلے

 

ڈاکٹر نا زنین سلطا نہ آصف احمد

اسسٹنٹ پر وفیسر ،شعبہ اردو

چشتیہ کا لج آف آرٹس ،سا ئنس اینڈ کا مر س،خلدآباد،ضلع اورنگ آبا د(مہا راشٹر)

خاموش فاصلے

شام کا وقت تھا۔ سورج مغرب کی سمت ڈوب رہا تھا اور آسمان پر سنہری اور نارنجی رنگوں کی ملی جلی چادری بچھ گئی تھی۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی جو درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر ایک اداس سا ساز پیدا کر رہی تھی۔ وہی پرانا راستہ تھا، جس کے دونوں طرف لمبے، بوڑھے درخت خاموش کھڑے تھے، جیسے کسی گزرے ہوئے زمانے کے گواہ ہوں۔سیما آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سامنے تھیں مگر دل ماضی کے کسی گہرے گوشے میں قید تھا۔ ہر قدم اسے وہاں لے جا رہا تھا جہاں وقت رک سا گیا تھا۔وہی ہنسی، وہی باتیں، وہی وعدے۔۔۔ اور وہی آسیہ۔سیما اور آسیہ کی دوستی واقعی کسی افسانے سے کم نہ تھی۔ دونوں نے زندگی کے ہر موڑ کو ساتھ دیکھا تھا۔ اسکول کے ننھے دنوں سے لے کر یونیورسٹی کے وسیع ہالوں تک، دونوں ایک دوسرے کی عادت نہیں بلکہ ضرورت بن چکی تھیں۔آسیہ خواب دیکھنے والی لڑکی تھی، جو ہر بات میں امید تلاش کر لیتی تھی اور سیما حقیقت کے سخت پتھروں پر چلنے والی، مگر محبت میں نرم دل انسان۔کالج کے لان میں دونوں اکثر درخت کے سائے میں بیٹھ کر مستقبل کے نقشے بنایا کرتی تھیں۔

آسیہ :(آسیہ ہنس کر کہتی)’’سیما! اگر میں گر گئی تو تم سنبھالو گی نا؟‘‘

سیما: (فوراً جواب دیتی ہے): ’’تم گرنے کا سوچو گی بھی تو پہلے مجھے سامنے کھڑا پاؤ گی۔‘‘

دونوں ہنس پڑی اور ہوا میں جیسے ایک وعدہ تحلیل ہو گیا۔

وقت گزرتا گیا۔ دن مہینوں میں، اور مہینے سالوں میں بدل گئے۔ دونوں نے ایک ساتھ گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور پھر پی ایچ ڈی مکمل کی۔ تحقیق کے دن، رات کے نوٹس، لائبریری کی خاموشیاں،سب کچھ مشترکہ تھی۔

(ایک دن لائبریری میں آسیہ نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا۔)

آسیہ : سیما، اگر تم نہ ہوتیں تو شاید میں یہ سب کبھی مکمل نہ کر پاتی۔

سیما:سیما نے مسکرا کر جواب دیا: ’’ہم نے ساتھ شروع کیا تھا آسیہ، اور ساتھ ہی مکمل کیا ہے۔ یہ کامیابی الگ الگ نہیں۔‘‘

مگر وقت ہمیشہ وعدوں کا پاسدار نہیں ہوتا۔پی ایچ ڈی کے بعد زندگی نے رخ بدلنا شروع کیا۔ آسیہ کو بیرونِ شہر ایک بڑا تعلیمی موقع ملا۔ شروع میں وہ ہچکچائی، مگر پھر خوابوں کی کشش نے اسے کھینچ لیا۔دوسری طرف سیما وہیں رہ گئی، جیسے کسی نے وقت کے دروازے پر اسے روک دیا ہو۔پھر حالات نے ایک اور کروٹ لی۔ آسیہ کے گھر والوں نے جلدی میں اس کی شادی طے کر دی۔ شادی کے دن آسیہ نے سیما کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔

آسیہ ـ: ’’سیماچاہے کچھ بھی ہو جائے، تم میری سب سے قریب رہو گی۔‘‘

سیما: (سیما نے آنکھوں میں نمی چھپاتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا)’’رشتے بدل جائیں آسیہ، دل نہیں بدلنے چاہیے۔‘‘

شروع میں سب ٹھیک رہا۔ کالز آتی رہیں، پیغامات بھی۔ مگر پھر زندگی کی مصروفیت نے ایک ایک کر کے رشتوں کے دھاگے ڈھیلے کر دیے۔کالز مختصر ہو گئیں، پیغامات رسمی، اور خاموشی لمبی۔

ایک دن سیما نے ہمت کر کے فون کیا:

سیما: آسیہ، تم بدل گئی ہو یا میں غلط ؟‘‘

(دوسری طرف کچھ لمحے خاموشی رہی۔پھر آواز آئی۔ )

آسیہ :’’سیما، میں وہی ہوں، بس زندگی بدل گئی ہے۔‘‘

سیما کی آواز کانپ گئی۔’’میں نے تو اپنی زندگی نہیں بدلی۔۔۔ میں تو آج بھی وہیں ہوں جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا۔کال کٹ گئی۔

اس کے بعد ایک ایسی خاموشی شروع ہوئی جو شور سے زیادہ بھاری تھی۔

سیما اب اکثر اسی راستے پر آتی۔ وہی درخت، وہی ہوا، وہی شامیں۔ مگر ساتھ چلنے والی شخصیت اب صرف یاد بن چکی تھی۔ایک رات شدید بارش ہو رہی تھی۔ سیما کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ بوندیں شیشے پر ایسے گر رہی تھیں جیسے کوئی پرانا قصہ بار بار لکھا جا رہا ہو اور مٹایا جا رہا ہو۔

وہ آہستہ سے بولی: ’’کیا دوستی ہمیشہ ایک ہی طرفہ ہو تی ہے ۔(محبت کی طر ح)‘‘

جواب میں صرف بارش کی آواز تھی۔

مہینے گزر گئے۔ سال قریب آ گئے۔ مگر یادیں کم نہ ہوئیں۔

ایک دن سیما کو اطلاع ملی کہ آسیہ اسی شہر واپس آ رہی ہے کسی کانفرنس کے لیے۔دل میں ایک ہلکی سی امید جاگی، جیسے کوئی بجھا ہوا چراغ آخری بار جل اٹھا ہو۔مگر ملاقات نہ ہو سکی۔آسیہ واپس چلی گئی، اور سیما ایک بار پھر اسی راستے پر اکیلی کھڑی رہ گئی۔اس بار اس نے کچھ نہیں کہا۔ نہ شکوہ، نہ سوال۔بس ایک لمبی سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھا۔جہاں بادل آہستہ آہستہ بکھر رہے تھے۔اسے احساس ہوا کہ کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے، بس وقت کے ساتھ خاموش ہو جاتے ہیں۔اور خاموش رشتے۔۔۔ سب سے زیادہ درد دیتے ہیں۔وہ پلٹی اور آہستہ آہستہ چل پڑی۔اس بار اس کے قدم ہلکے تھے، مگر دل میں ایک ایسی سمجھ آ چکی تھی جو صرف وقت سکھاتا ہے۔اور دل ہی دل میں اپنے آپ بڑ بڑاتی رہی۔۔۔۔۔ہر ساتھ چلنے والا ہمیشہ ساتھ نہیں رہتا۔۔۔ مگر ساتھ کا نقش ہمیشہ دل پر ۔۔۔۔اور پیچھے صرف یادوں کے جھروکے رہے جا تے ہے جو کبھی بند نہیں ہوتے۔

اسی لمحے دور سڑک کے کنارے ایک گاڑی آ کر رکی۔سیما نے بے دھیانی میں دیکھا۔ ایک لمحہ۔۔۔ دوسرا لمحہ۔۔۔ اور پھر ایک جانی پہچانی سی شخصیت گاڑی سے باہر نکلی۔(یہ آسیہ تھی۔)

مگر یہ وہ آسیہ نہیں تھی جو کبھی چمکتی ہوئی زندگی کے ساتھ دور چلی گئی تھی۔ اس کے چہرے پر وقت کے نشان تھے، آنکھوں میں تھکن تھی، اور قدموں میں ایک عجیب سی جھجک۔دونوں چند لمحے ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتی رہیں۔نہ کوئی مسکراہٹ، نہ کوئی لفظ۔صرف وقت جیسے رک گیا تھا۔

آسیہ :(پھر آسیہ نے آہستہ سے کہا۔)’’سیما۔۔۔ کیا میں واقعی اتنی بدل گئی ہوں کہ تم مجھے پہچان بھی نہ سکو؟‘‘

سیما:(سیما کے ہونٹ کانپے، مگر لفظ نہیں نکلے۔ آنکھوں میں برسوں کا بوجھ اکٹھا ہو گیا۔)

’’میں نے تمہیں نہیں بدلا آسیہ۔۔۔ تم تو میرے اندر آج بھی وہی ہو۔‘‘

(یہ سنتے ہی آسیہ کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔)

آسیہ :وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور بولی: ”میں نے بہت کوشش کی تم سے رابطہ رکھنے کی۔۔۔ مگر زندگی نے ہر بار مجھے تم سے ایک قدم پیچھے کر دیا۔ شادی کے بعد میں خود کو بھی کھو بیٹھی تھی۔۔۔ مگر تمہیں کبھی نہیں۔‘‘

(سیما نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔)

سیما:میں تو وہیں تھی آسیہ۔۔۔ جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا۔ مگر شاید تم کبھی واپس آ نہیں سکیں۔

آسیہ:(آسیہ نے فوراً کہا)میں واپس آنا چاہتی تھی۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔

ایک لمحہ خاموشی چھا گئی۔ پھر دونوں کے درمیان برسوں کا فاصلہ ایک ہی جملے میں پگھلنے لگا۔آسیہ نے آگے بڑھ کر سیما کا ہاتھ پکڑ لیا۔کیا ہم دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔۔۔ وہاں سے جہاں ہم نے چھوڑا تھا؟سیما کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس بار یہ شکایت کے نہیں تھے۔اگر یادیں سچی ہوں آسیہ۔۔۔ تو شروع دوبارہ ہو سکتا ہے۔اور دونوں مسکرا دیں۔

ہوا نے جیسے اس لمحے کو قبول کر لیا ہو۔ درختوں کے پتے ہلکے سے جھوم اٹھے، اور شام کی روشنی نرم ہو گئی۔وہ دونوں اسی پرانے راستے پر ساتھ چلنے لگیں۔مگر اس بار خاموشی تکلیف نہیں تھی۔۔۔ بلکہ سکون تھی۔اور راستہ، جو کبھی جدائی کا نشان تھا، اب دوبارہ ملن کی کہانی بن چکا تھا۔

’’کچھ رشتے وقت سے نہیں ہارتے۔۔۔ وہ صرف انتظار کرتے ہیں، کہ کوئی واپس پلٹ آئے۔‘‘

Leave a Reply