You are currently viewing مارکسزم،روایت،اثرات  اور رجحانات

مارکسزم،روایت،اثرات  اور رجحانات

حمزہ اقبال

ایم فل اردو سکالر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج، یونیورسٹی لاہور

مارکسزم،روایت،اثرات  اور رجحانات

تعارف :

          اُردو ادب میں وقتاً فوقتاً کئی تحریکیں ابھریں ،کچھ ختم ہوئیں اور کچھ کے اثرات ادب میں  بدستور  دیکھے جا سکتے ہیں ، جیسے رومانوی تحریک ، مارکسزم (ترقی پسند تحریک)، فورٹ ولیم  کالج کی تحریک  ،  صوفیاء کی تحریک، انجمن پنجاب کی تحریک ، حقیقت نگاری کی تحریک ، اسلامی ادب کی تحریک ، حلقہ ارباب ذوق کی تحریک وغیرہ وغیرہ۔ ان سب تحریکوں نے مختلف ادوار میں اپنے اثرات ادب پر مرتسم کیے۔

          رومانوی تحریک کے رد عمل کے طور پر ادب میں ترقی پسند تحریک ابھری۔ منشی پریم چند  نے اس تحریک کے فروغ میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ اس تحریک کے پس منظر میں علی گڑھ تحریک، تحریک انجمن پنجاب ، 1917 ء کا انقلاب روس اور براعظم میں 1935 ء کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ جیسے واقعات کار فرما نظر آتے ہیں۔ 1917 ء کے انقلاب روس سے اشتراکی نظریات سے عام ہونا شروع ہوئے ۔ روسی ادیبوں نے لینن اور مارکس کے نظریات کی تبلیغ کی۔ انہوں نے مزدور اور کسان کو انقلا بی بنا دیا۔ ان نظریات سے بر اعظم کے نوجوان بھی متاثر ہوئے ۔ انہوں نے پرانی پرانی روایتوں ، قدروں اور تہذیب و ثقافت کو خیر آباد کہہ کر نئے معاشرے کی بنیاد کا عزم کیا اور حقیقت نگاری کے ذریعے معاشرے کی تصویر کشی کو سب سے بڑی خدمت قرار دیا ۔ ترقی پسند ادب میں ہوش سے زیادہ جوش کو معیار بنایا گیا۔ اور ماضی کی ہر یاد کو مٹا دینے  کا عزم کیا گیا ۔ ترقی پسند تحریک کے ادیبوں نے سب سے پہلی ضرب اخلاقیات پر لگائی اور اس کے بعد معاشرے کی چند اہم قدروں کے بعد علم بغاوت بلند کیا ۔ چنانچہ دسمبر 1932ء میں” انگارے” کے عنوان سے افسانوں کا مجموعہ شائع ہوا۔ جس میں سجاد ظہیر ، ڈاکٹر رشید جہاں انگارے کی بیشتر کہانیوں میں سنجیدگی اور ٹھہراؤ کم اور سماجی رجعت پسندی اور دکیا نوسیت کے خلاف غصہ اور ہیجان زیادہ تھا۔ قدامت پسند طبقے نے اس کتاب کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کیا ۔ چنانچہ مارچ 1933 ء میں اس کتاب کو ضبط کر لیا گیا ۔ ترقی پسند تحریک کی تنظیم کا منصوبہ اصل میں 1935 ء میں لندن کے نان کنگ ریستور ان میں بنا تھا اور وہاں ایک مختصر سا منشور تیار ہوا۔ ڈاکٹر محمد دین تاثیر (ایم ڈی تاثیر)  اور سجاد  ظہیر کے نام اہم ہیں۔ اسی سال  سجاد ظہر ہندوستان آئے اور الٰہ آباد ، کلکتہ ، ممبئی، دکن اور لاہور تک پھیلا دیا ۔ اپریل 1936 ء میں کل ہندوستان کا نفرنس ہوئی ۔ اس پہلی کا نفرنس ی صدارت اردو اور ہندی افسانہ نگار منشی پریم چند نے کی۔ اس کا نفرس میں منشور منظور ہوا۔ ادب میں نئے اسلوب ہیت اور موضوع کو اپنانے جدت کا ہمنوا بنانے ، ادیب کی آزادی ، انسان دوستی، جبر استحصال اور غلامی کے خلاف صف آرا کرنا اس تحریک کا مقصد قرار پایا۔

          ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کا ایک مقالہ “ادب اور زندگی ” اکتوبر1934 ء میں ہندی اور جولائی 1935 ء میں اُردو میں شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے نوجوان ادیبوں کی متذکرہ بغاوت کا ناطہ  زندگی سے جوڑ دیا   اور یوں وہ بنیادی ڈگر مہیا ہوا ۔ جس پر ترقی پسند تحریک نے اپنا سفر جاری کیا۔ ترقی پسند تحریک تین ادوار پر مشتمل ہے۔

(1)    پہلا دور        ( 1936 ء تا 1940ء)

پہلا دور 1936 ء سے 1940 تک محیط ہے۔ (نان کنگ ریستوران کے اعلان نامے سے سجاد ظہر کی گرفتاری تک )

(۲) دوسرا دور (1942ء تا1947ء)

دوسرا دور 1942 ءسے 1947 ء تک محیط ہے(  سجاد ظہیر کی رہائی سے پاکستان بننے تک)

تیسرا دور 1947 ء تا 1952 ء

تیسرا دور1947 ءسے 1952 ء تک محیط ہے (طلوع آزادی سے سیاسی پابندی اور نئے منشور کی اشاعت تک )

          قصہ مختصر 1932 ء میں انگارے چھپی تو یہ علامتی طور پر ترقی پسند تحریک کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔ گویا ” انگارے” کی اشاعت نے ترقی پسند تحریک کے آغاز کے لیے بنیاد فراہم کر دی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ اس سال لندن میں ہندوستانی ادیبوں کی ایک انجمن قائم ہوگئی جس میں سجاد ظہیر ، ملک راج آنند ، بنگالی ادیب ڈاکٹر جیوتی گھوش، ڈاکٹر محمد دین تاثیر اور پر مودسین گپتا شامل ہیں۔ اس انجمن کا کا نام” Indian Progressive Writers Association”رکھا گیا ۔ 1930 ء میں سجاد ظہیر ہندوستان لوٹ آئے اور انہوں نے “انجمن ترقی پسند مصنفین” کی بنیاد رکھی۔ ہندوستان میں اس تحریک  کا پہلا اجلاس 1936 ء میں منشی پریم چند کی زیرصدارت لکھنو میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے بینر  کے نیچے ہوا۔ اس کا نفرس کے منشور میں درج ذیل خیالات کا اظہار کیا گیا :

“ہندوستانی ادیبوں کا فرض  ہے کہ وہ ہندوستانی زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بھر پور اظہار اور ادب میں سائنسی عقلیت پسندی کو فروغ دیتے ہوئے ترقی پسند تحریک کی حمایت کریں اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کے انداز تنقید کو رواج دیں جس سے خاندان ، مذہب ، جنس ، جنگ اور سماج کے بارے میں رجعت پسندی اور ماضی پرستی کے خیالات کی روک تھام کی جاسکے۔ وہ ایسے ادبی رجحانات کو نشو و نما پانے سے روکیں جو فرقہ پرستی ، نسلی تعصب اور انسانی استحصال کی حمایت کرتے ہیں”۔ (01)

           اس طرح ترقی پسند تحریک کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ ترقی پسند تحریک اُردو ادب کی وہ پہلی تحریک تھی۔ جس کے لیے ایک باضابطہ منشور تحریر کیا گیا ۔ اس کامقصد بقول سجاد ظہیر  یہ تھا کہ افراد اجتمائی طور سے ادبی مسائل پر گفتگو کریں ۔ فرد اور جماعت کی ضروریات کو سمجھیں۔ سماجی کیفیت کا تجزیہ کریں اور اس طرح مشترک نصب العین قائم کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ ڈاکٹر حنیف فوق کے مطابق اس تحریک کی روح یہ جملے تھے ؛

“ادبیات اور فنون لطیفہ کو قدامت پرستوں کی مہلک گرفت سے نجات دلائی جائے ۔ ان کو عوام کے دکھ سکھ اور جدوجہد کا ترجمان بنا کر اس روشن مستقبل کی راہ دکھلائی جائے جس کے  لیے انسانیت اس دور میں کے  کوشاں ہے………ہندوستان کا نیا ادب ہماری زندگی کے بنیادی مسائل کو اپنا موضوع بنائے ۔ یہ بھوک، افلاس اور سماجی غلامی کے مسائل ہیں۔ (02)

ممتاز شیریں ترقی پسند ادب کی مختصر تعریف یوں کرتی ہیں؛

” وہ ادب جو زندگی کو اپنے  کو اپنے حقیقی روپ میں پیش کرے………. جس میں زندگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت ہو “

ترقی پسندوں کے منشور کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ زندگی کے قدیم تصورات اورعقائد کو توڑ کر اس کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لانا چاہتے تھے۔ جہاں تک ادب کا تعلق ہے تو یہ تحریک دو طرح سے اثر انداز ہوئی۔ نئے نئے موضوعات پر قلم اٹھا یا گیا اور طبقاتی کشمکش کو ظاہر کرنے کے لیے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالی گئی۔ اس کے علاوہ اس کا دوسرا اثر فن و اسلوب کے لحاظ سے ہوا کیونکہ ترقی پسند چاہتے تھے کہ ادب کو زیادہ سے زیادہ قارئین ملیں۔ ادب کو خواص تک محدود نہیں رہنا چا ہے۔ ادب اس لیے  تخلیق کیا جاتا ہے کہ وہ معاشرے کو بہترین نظریات دے اور  جب یہ کہا جاتا  ہے کہ ادب خواص تک محدود نہیں بلکہ عوام اس کے صحیح مخا طب ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ادب کو عام فہم  ہونا چاہیے ۔ چنانچہ ادب کو عوام کے نزدیک لانے کے لیے جہاں روز مرہ کے مسائل زیر بحث لائے گئے  وہاں ا نہیں پیش  کرنے میں ایک براہ راست ، سیدھا اور خوبصورت طرز اظہار بھی اختیار کیا گیا۔

          چنانچہ ترقی پسند تحریک کے ساتھ حقیقت پسندی واضح طور پر ہمارے سامنے آئی ۔ حقیقت پسندی کی بنیاد مارکس اور لینن کے نظریات پر رکھی گئی۔

  جس کے مطابق ساری انسانی تاریخ طبقاتی نظام کی تاریخ ہے ۔

” اُردو افسانے میں حقیقت نگاری کے رجحان کو فروغ دینے میں انقلاب روس اور مارکسزم کے اثرات نے بھی بہت کردار ادا کیا ۔ اس لیے کہ انقلاب روس اور مارکسزم نے زندگی کو دیکھنے اور سمجھنے کا نیا زاویہ نظر دیا اور ساتھ ہی سماجی انقلاب اور معاشی مساوات کے نظریے پر زور دیا “۔

          ترقی پسندوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ وہ ایک وہ ایک طبقاتی کشمکش کے دور سے گزر رہے ہیں ۔ اس لیے انہیں اپنے طبقوں کے احساسات اور جذبات کی عکاسی کرنا ہے جو صدیوں سے ظلم و ستم سہتے ہوئے آئے ہیں اور عدل و انصاف کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ہماری اخلاقیات ، سیاسیات ، جذبات و احساسات اور مختلف رشتوں کے پیچھے وہی معاشرتی قوتیں کام کرتی ہیں جن کی خواہش طبقاتی تقسیم ہوتی ہے۔

“اس وقت ہندوستانی سماج میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور جاں بلب رجعت پرستی جس کی موت یقینی اور لازمی ہے اپنی زندگی کی مدت بڑھانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ ادب جدید قسم کی ہیت پرستی اور گمراہ کن منفی رجحانات کا شکار ہو گیا ہے۔ ہندوستانی ادبیوں کا فرض ہے کہ وہ ہندوستانی زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بھر پور اظہار کریں اور ادب میں سائنسی عقلیت پسندی کو فروغ دیتے ہوئے ترقی پسند تحریکیوں کی حمایت کریں ۔ ہماری انجمن کا مقصد ادب اور آرٹ کو ان رجعت پسند طبقوں کے چنگل سے نجات دلانا ہے جو اپنے ساتھ ادب اور فن کو بھی انحطاط کے گڑھوں میں دھکیل دینا چاہتے ہیں ۔ ہم ادب کو عوام کے قریب لانا چاہتے ہیں اور اسے زندگی کی عکاسی اور مستقبل کی تعمیر کا موثر ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کا نیا ادب ہماری زندگی کے بنیادی مسائل کو اپنا موضوع بنائے ۔ یہ بھوک، افلاس، سماج پستی  اور غلامی کے مسائل ہیں”۔

1935 ء میں لندن کے نان کنگ ریستوران میں ان کا پہلا اعلان نامہ تیار کیا گیا جس پر ہندوستان کے بڑے بڑے محترم ادیبوں نے بعد میں  دستخط کیے اور پھر اسی اعلان نامہ کی بنیاد پر 15 اپریل 1936 ء کو انجمن کی پہلی کانفرس لکھنو میں منشی پریم چند کی زیر صدارت منعقد ہوئی ۔ ترقی پسند تحریک بڑی تیزی سے پھیلنے لگی اور اردو کے تقریبا تمام بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں نے اس کا خیر مقدم کیا جن میں سب سے اہم پریم چند، جوش ملیح آبادی ، حسرت موہانی ، ڈاکٹر عبد الحق ، ڈاکٹر عابد حسین ، مولانا نیاز فتح پوری ، قاضی عبدالغفار، فراق گورکھپوری ، مجنون گورکھپوری ، علی عباس حینی اور ساغر نظامی کے نام ہیں ۔ اقبال نے بھی سجاد ظہیر کی حوصلہ افزائی کی۔ “روشنائی ” میں سجاد ظہیر نے علامہ اقبال سے ملاقات کا مفصل اور دلچسپ احوال قلمبند کرتے ہوئے علامہ کی جانب سے یہ جملہ بھی لکھا ہے :

“میرا نقطہ نظر آپ جانتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مجھے ترقی پسند ادیب یا سوشلزم کی تحریک  کے ساتھ ہمدردی ہے ۔ آپ لوگ مجھ سے ملتے رہیں “

          دسمبر 1932 ء میں احمد علی، سجاد ظہر ، رشید   جہاں اور محمود الظفر کے افسانوں کا مجموعہ ” انگارے ” طبع ہوا اور چار ماہ بعد ضبط کر لیا گیا ۔ 1934 ء میں احمد علی کے افسانوں کا مجموعہ شعلے چھپا۔ 1938 ء میں جب دوسری کا نفرس کا کلکتہ میں ٹیگور کے خطبہ سے افتتاح کیا گیا تو  اس سجاد ظہیر کا ناولٹ “لندن کی ایک رات”، کرشن چندر  کے افسانوں کا پہلا مجموعہ “طلسم خیال”، مجازکی  “آہنگ ” اور حیات اللہ انصاری کے افسانے “انوکھی مصیبت ” شائع ہو چکے تھے۔ اور ان ہی کو افکار نو کے قصر کی اولین خشت قرار دیا جا سکتا ہے لیکن احمد  علی نے اپنے ایک مضمون” تحریک ترقی پسند مصنفین اور تخلیق مصنف “میں اس تحریک کی داستان یوں بیان کی ہے ؛

” محمود الظفر نے میرے اور رشید جہاں کے مشورے سے 1933 ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کا اعلان کیا اور چونکہ سجاد ظہیر اس وقت لندن میں تھے ان کی رضا مندی کا ذمہ لیا جو بعد میں انہوں نے خود بھی بذریعہ خط بھیج دیا۔ چنانچہ  1932 ء  تا 1933 ء میں اس کے باقی بانیوں کے سامنے جو اصل مقصد تھا وہ بالکل ادبی تھا اور اس میں سیاسی رحجانات اس سے زیادہ نہ تھے کہ ہم ان تمام اہم مسائل زندگی پر آزادی رائے اور تنقیدی حق چاہتے ہیں جو نسل انسانی کو بالعموم اور برصغیر کے لوگوں کو بالخصوص در پیش ہیں۔( لیڈر الہ آباد مورخہ 15 اپریل 1933 ء )۔اسی زمانہ میں لیکن اس اعلان کے بعد بر صغیر کے ادبیوں کا ایک جلسہ لندن میں بھی منعقد ہوا جس میں ملک راج آنند، راجہ راؤ ، اقبال سنگھ اور سجاد ظہیر کے علاوہ دیگر حضرات بھی شامل تھے جنہوں نے ہمارے مقصد سے ملتے جلتے  خیالات سے اتفاق کیا “۔(03)

 

 

 

ترقی پسند اور سیاست

”  انجمن ترقی پسند مصنفین کبھی بھی سیاسی پارٹی نہیں تھی اور نہ اب ہے۔ انجمن کا اصل کام ترقی پسند ادب کی تخلیق اور ترویج ہے، سیاسی عمل نہیں ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ رجعت پرست حکمرانوں کی دھمکیوں اور سختیوں سے ڈر کر ترقی پسند ادیب اور ان کی انجمن اپنی آزاد سیاسی رائے رکھنے اور اس کے اظہار کرنے کے حق سے دستبردار ہو جائے یا انجمن کے ایسے ممبر جو سیاسی پارٹیوں کے رکن ہیں اور ادیب کی حیثیت کے علاوہ ان کی ایک سیاسی حیثیت بھی ہے انجمن سے کنارہ کش ہو جائیں”

          کیا ترقی پسند ادب کی تحریک ایک سیاسی تحریک تھی ؟ یہ سوال وقتا فوقتا ادبی نزاعات کا باعث بنتا رہا ہے۔ اس ضمن  میں مختلف نظریات کے حامل اہل قلم نے مخالفت اور موافقت میں بہت کچھ لکھا ۔ تازہ مثال ڈاکٹر وحید قریشی کا ہفت روزہ “زندگی”71 – 1970 ء (لاہور) میں ایک طویل مقالہ ہے جو بالاقساط شائع ہوتا رہا ۔ احمد علی کے محولہ بالا مضمون کے بعض حصوں سے تحریک میں سیاست کے آغاز کا سراغ بھی ملتا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ انگارے کی اشاعت کے وقت اور بعد میں سب کے ذہن میں ادبی مقاصد تھے لیکن وہ ہنگامہ جو 1936 ء میں پہلی ترقی پسند مصنفین کی کا نفرس میں ہوا ، زیادہ تر سیاسی تھا اور اس نے تحریک کی اس شکل و ہیست کو مسخ کر دیا جس پر اس کی بنیاد پڑی تھی اور جس  کا اعلان اس کا نفرس کے انعقاد سے تین سال قبل کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کا نفرس کے بعد وہ مصنف جو دراصل تخلیقی تھے آخر کار تحریک کے سیاسی گروہ سے دور ہوتے گئے اور کٹتے ہی چلے گئے جس کی بنا پر سجاد ظہیر نے ان کا اور اصل واقعات کا ذکر اپنی یک طرز تصنیف میں یا تو نگہ تعصب سے کیا ہے یا ان کو نظر انداز کر دیا ہے اور ایسی تصانیف کا نام تک نہیں لیا ہے جو ان کے مفاد کے منافی تھیں یا ان کی بساط کے جھے ہوئے نقشہ کو درہم برہم کر دیتیں۔ حالانکہ یہی تحریریں ادبی ترقی میں مشعل راہ قرار دی گئی ہیں۔

          احمد علی کا یہ بیان اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ وہ اس تحریک کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ بظاہر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سجاد ظہر کی قیادت میں زیادہ جارح ادیب سیاست میں انتہا پسندی کا شکار ہو گئے اور یوں اعتدال پسند مصنفین کے لیے کنارہ کشی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ رہا ۔

مقاصد

“اگر یہ صبح ہے کہ ادیب انسان ہے اور ہر انسان کی طرح ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور اگر یہ حقیقت ہے کہ ادب نگاری بھی ایک قسم کا سماجی عمل ہے اور انسانیت اس سے اثر انداز ہوتی ہے تو ادب اور انسانیت کے مقاصد ایک ہیں۔ ادب زندگی کا ایک شعبہ ہے۔ زندگی کے مقاصد سے ہٹ کر ادب نہ اپنی منزل تلاش کر سکتا ہے اور نہ ہی ممکن ہے۔ ادب زندگی کے اس سوال کا جواب ہے کہ انسان کس سے محبت کرے اور کس سے نفرت کرے اور کس طرح زندہ رہے۔ صحیح ادب کا معیار یہ ہے کہ وہ انسانیت کے مقصد کی ترجمانی اس طریقہ سے کرے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے اثر قبول کر سکیں۔ ہر ایماندار اور صادق ادیب کا مشرب یہ ہے کہ قوم وملت اور رسم و آئین کی پابندیوں کو ہٹا کر زندگی کی یگانگی اور انسانیت کی وحدت کا پیغام سنائے ۔ اس رنگ و نسل او اور قومیت و وطنیت کے جذبات کی مخالفت اور اخوت و مساوات کی حمایت کرنی چاہیے جو دریائے زندگی کو چھوٹے چھوٹے چہ بچوں میں بند کرنا چاہتے ہیں۔ کیا زمانہ حال کا ادیب یہ کرے گا ؟ “

اختر حسین رائے پوری

” ادب اور زندگی ” مطبوعہ”  اردو ” اپریل 1935 ء ترقی پسند مصنفین عملی لحاظ سے نہ سہی لیکن نظریاتی اعتبار سے اشتراکیت کے ہمنوا تھے اور یوں اشتراکی مقاصد قرار پائے۔ چنانچہ ہندوستان کے ادیب نے پہلی مرتبہ طبقاتی کشمکش کا شعور حاصل کیا اور عوامی جدوجہد میں اپنے مقام کو پہچانا ۔ عوامی اخوت کے تحت ترقی پسند ادیب کسی مخصوص خط یا نسل کا نہیں بلکہ عوام کا ترجمان بنا اور یوں ظلم، جبر، استحصال اور غلامی کے خلاف احتجاج اور اس کی مذمت بین الاقوامی سطح پر کی گئی۔  ادب محض کاروبار، دل کا نقیب اور تفریح  طبع کا ذریعہ نہ رہا بلکہ پہلی  مرتبہ اسے عوامی مسائل کے حل کا وسیلہ قرار دے کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عوامی امنگوں کا ترجمان بنایا گیا۔ ترقی پسند مصنفین نے پہلی مرتبہ معاشی استحصال اور اس کے عوامل  و  محرکات کا عقلی تجزیہ ہی نہ کیا بلکہ کمیونزم کی صورت میں خوش رنگ مستقبل کی بھی بشارت سنائی۔ یوں بے مقصد ادبیات کو مقصد دیا گیا جس سے اختلاف بھی کیا گیا اور انہیں گالی کے طور پر ملحد ، جنس پرست ، سرخے اور روسی آلا کار  بھی کہا گیا ۔ ان سب الزامات کا جواب سجاد ظہیر نے اپنے ایک مضمون میں یوں دیا ؛

“ہماری تحریک پر جو الزام لگائے گئے ہیں، وہ غلط ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ ترقی پسند ادب کی تحریک کسی بیرونی یا دشمن طاقت کے اشارے پر ہمارے ملک میں جاری کی گئی ہے۔ وہ ادب کی ایک ایسی تحریک ہے جس کی بنیاد حب الوطنی، انسان دوستی اور آزادی پر ہے۔ اس کا مقصد ہرگز ہمارے پرانے تمدن ، اخلاق اور ان کے ادبی یا فنی مظاہروں کو مسترد کرنا نہیں ہے۔ وہ اس ملک کی تہذیب کےبہترین عناصر کو زندہ کرنا، اجاگر کرنا اور ان کی بنیاد پر نئی زندگی کے حالات کے مطابق پرانے تمدن کے خمیر سے نئے اور بہتر ادب، فنون لطیفہ اور کلچر کی تعمیر کی کوشش کرتی ہے۔ ترقی پسند ادیبوں کی انجمن سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ وہ ادب کی تخلیق اور ترقی پسند خیالات اور نظریات کی ترویج کا ایک تہذیبی ادارہ ہے۔ اس کے ہر گز یہ معانی نہیں ہیں کہ ادیب سیاسی امور پر کوئی رائے نہ رکھیں یا اپنی انجمن کے ذریعہ وقتا فوقتا اس کا اظہار نہ کریں ؟”

شاعری

 اُردو میں ترقی پسند شاعری کی اولین روایت کو علی گڑھ اور انجمن پنجاب کی تحریکوں نے فروغ دیا ۔محمد حسین آزاد نے اسے انکشاف فطرت کے لیے اور مولانا الطاف حسین حالی نے مقاصد ملی کے حصول کے لیے استعمال کیا ۔ ترقی پسند تحریک میں ماضی کی روایت اور مخالفت کا جو سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس کا مضبوط اظہار شاعری میں کیا گیا ۔ اور اس تحریک سے وابستہ شاعروں نےترقی پسندی کا مفہوم خاص معنی میں ابھارنے کی بھر پور کوشش کی ۔ اس ضمن میں بہت سارے شاعروں نے اپنا کردار ادا کیا۔ ان شعراء نے معاشی اور معاشرتی استحصال اور خیر کے خلاف بلند لہجے میں لکھنا شروع کیا۔ ترقی پسند شاعری کا مقصد دکیانویسی ، خیالات ، رویے ، انداز اور طریقے کو رد کر کے نئے اصول ، ترکیب اسلوب ،طرز اور رجحانات کو اختیار کرنا مقصود تھا۔ ان شعراء نے تصوراتی ، فرضی اور غیر حقیقی دنیا کی بجائے ان موضوعات پر گہری نظر ڈالی ۔ جو معاشرے میں چاروں طرف نظر آ رہے تھے۔ سماجی تفاوت ، بگاڑ، سیاسی اجاراداری اور اس طرح کے دیگر مسائل ان شعراء کے پسندیدہ موضوعات تھے جس میں انسان دوستی کا عنصر سب سے اہم تھا۔ اس ضمن میں بہت سارے شاعروں کے نام دیکھے جاتے ہیں ۔

جوش ملیح آبادی

          ان سب میں سے سب سے پہلا نام جوش ملیح آبادی کا ہے ۔ ترقی پسندی ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ حیدر آباد کی ملازمت سے برطرفی کے بعد احتجاج کا زاویہ اور رد عمل کی قوت پیدا ہوئی ۔ اُن کی چند نظمیں غلاموں کی بغاوت ، ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام نظام نوع اور انسانیت کا کورس جوش کا تصور انقلاب ہندوستان کی غلامی کے ردعمل میں پروان چڑھا۔ان کی نظموں میں جوش و جنون کی کیفیت تو موجود ہے ۔ لیکن بعض جگہ انقلاب کی آواز دبی ہوئی ہے۔ جوش کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے لہجے کو  قبول عام حاصل ہے۔ اور بیشتر ترقی پسند شعرا ء نے ان کی تقلید کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے جیلا کی طبع کے باعث انگریز حکومت کے باعث جو نظمیں لکھیں ۔ وہ بہت مقبول ہوئیں۔ وہ خود کہتے ہیں ؛

؎         کام ہے میرا تغیر ، نام ہے میرا شباب                        میرا نعره انقلاب و انقلاب و انقلاب

بنیادی طور پر جوش امن اور انسانیت  کے  شاعر تھے۔ انگریزوں  کے خلاف آزادی کے خواب کے علاوہ محنت کش عورتیں اور کسان ان کی شاعری کا موضوع ہیں۔ ان کی بعض دیگر نظموں میں شکست زندان کا خواب ، کسان ، وطن، ابلیسی صبح ، خاتون مشرق ، حسن اور مزدوری اور مفلس وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔

فیض احمد فیض

          ترقی پسند شاعروں میں دوسرا اہم نام فیض احمد فیض کا ہے۔ جن کے ہاں ترقی پسند نظریے کا اور اک واضح انداز میں موجود ہے ۔ انہوں نے عشق سے انقلاب کی طرف قدم اٹھایا ۔ ان کی شاعری میں نظریہ اور جذبہ دونوں موجود ہیں۔ فیض نے بعض ہنگامی موضوعات پر بھی نظمیں کہی ہیں۔ اپنے وطن کے دیگر گو حالات کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کے عوام کی بدحالی اور انقلابی تحریکیں فیض کا موضوع ہیں۔ وہ سرمایہ دار ملکوں کے استحصالی رویوں کی ملازمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری میں جنگ و جدل ختم کرکے امن کا پیغام دیا ۔ اس ضمن میں ان کی نظمیں اہم ہیں “آجاؤ افریقہ، ملاقات دریچہ، ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے ” وغیرہ اس ضمن میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ فیض کی منفر د  ادا یہ ہے کہ انہوں نے الفاظ کو نئی سیاسی معنویت بخشی ۔

فیض کہتے ہیں :

؎         کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگئی                       سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

اسی طرح آپ ایک یہ شعر بھی دیکھیے؛

؎         اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا                               راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

اسی طرح آپ لکھتے ہیں کہ؛

؎         دل نا اُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے                                                                              لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

مزید لکھتے ہیں کہ؛

؎         ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد                             فیض گلشن میں وہی طرز بیاں ٹھہری ہے

          ترقی پسند مصنفین کے تخلیقی مقاصد کے سلسلہ میں فیض احمد فیض نے افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اچھی بات کی ہے ۔ انہوں نے مقالہ بعنوان ” شاعر کی قدریں ” کے اختتام میں اپنے دلائل کو یوں سمیٹا ہے؛

“خلاصہ بحث کا یہ ہے کہ شعر کی جمالیاتی قدر کافی حد تک شاعر کی دوسری قدروں پر منحصر ہے۔ ان قدروں کی ترتیب ان کی سماجی اہمیت کے مطابق ہونی چاہیے۔جمالیاتی قدر بھی ایک سماجی قدر ہے جو اجتماعی مفاد میں اضافہ کرتی ہے۔ اس لیے اسے دوسری افادی قدروں سے الگ نہیں کیا جاسکتا  شعر کی مجموعی قدر میں جمالیاتی خوبی اور سماجی افادیت دونوں شامل ہیں ۔ اس لیے مکمل طور پر اچھا شعر وہ ہے جو فن کے معیار ہی پر نہیں زندگی کے معیار پر بھی پورا اترے ۔ “

علی سردار جعفری

علی سردار جعفری نے ترقی پسند تحریک کا پیغام زمانہ طالب علمی میں سنا اور پھر شعوری طور پر اس کو یوں قبول کیاکہ اب علی جعفری کی پہچان ترقی پسند تحریک کے وسیلے سے ہی ہوتی ہے ۔ ” جشن بغاوت ،سامراجی، لڑائی ،  انقلاب روس ”  جیسے موضوعات پر انہوں نے اپنے خیالات کو پورے ولولے سے شاعری میں ڈھالا ۔وہ کہتے ہیں ؛

؎         کوئی اب اُڑھتے شرارے کو دبا سکتا نہیں                              کوئی بادل سُرخ تارے کو چھپا سکتا نہیں

؎         ایک ہی ہلکے سے جھٹکے سے کلائی موڑ دے                            اے مجاہد ! سامراجی انگلیوں کو توڑ دے

          علی سردار بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ لیکن انہوں نے غزلیں بھی لکھیں ہیں ۔ قوم وملت کی خوشحالی اور ترقی ان کا خواب تھا۔ اس لیے انہوں نے شاعری کو امن و سلامتی کا پیغمبر ترقی پسند تحریک کے آگے بڑھانے میں علی سردار کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ ان کی نظموں میں اس ترقی پسند اور انقلاب کی صاف  صاف ترجمانی ملتی ہے۔ وہ اپنے کرب و جوار میں بسنے والے انسان کے رنج والم کو سمیٹ کر شاعری کے قالب میں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں ۔

          مثلاً ان کی نظم مشرق و مغرب دیکھیے؛

؎         جس نے لوٹا ہے ہمیں جس نے ستم ڈھایا ہے                          ارض مغرب نہیں ، مغرب کا وہ سرمایا ہے

          اور سرمایہ نہ ہندی ہے نہ برطانی ہے                                   یہ مرے اور ترے خون کی ارضانی ہے

          تیرا قاتل بھی وہی میرا قاتل بھی وہی                                  زیست کی جو ہد بھی اور جوہد کا حاصل بھی وہی       کام اب کوئی نہ آئے گا بس اب دل کے سوا                       راستے بند ہیں سب کوچہ قاتل کے سوا

مخدوم محی الدین

          ان کی شاعری میں رومان اور انقلاب کی آواز بیک وقت سنائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری خلوص کی پیداوار ہے اور انہوں نے اپنے محبوب اور نظر یے دونوں کے لیے اپنے خلوص کو یکساں استعمال کیا ہے۔ ان کے عشق میں ولولہ ہے اور عشق سے انقلاب کی طرف پیش قدمی میں یہ ولو لہ قائم رہتا ہے۔ انہوں نے انقلاب روس سے متاثر ہو کر نظمیں لکھیں کہ ہندوستان کے محنت کش کے مسائل کی عکاسی ان کے کلام میں نمایاں ہے۔

؎         رات کے ہاتھ میں ، اک کا سہ در یوزخ گری                          یہ چمکتے ہوئے تارے یہ چمکتا ہوا چاند

          بھیک کے نور نے ، مانگے کے اجالے میں مگن                           یہی ملبوس عروس ہے ، یہی ان کا کفن

اسرار الحق مجاز

اسرار الحق مجاز بنیادی طور پر رومانوی شاعر ہیں۔ ان کی نظموں میں رومان کے ساتھ ساتھ خارج کے واقعات اور صورت حال کی کہانی بھی سنائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری محبوبہ کے حسن کی تو صیف بھی ہے اور انقلاب کا نعرہ بھی سنائی دیتا ہے ۔

؎         گرادے ، قصر تمدن کا ، ایک قریب ہے یہ                            اٹھا دے رسم محبت ، عذاب پیدا کر

                    تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر                                جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کرے

                   چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر                              اب تو بس آواز ہی آواز ہے

ظہیر کاشمیری

          ظہیر کا شمیری کی شاعری رومان سے انقلاب کی طرف سفر ہی نہیں بلکہ اس شاعری میں ایک ایسے شخص کا اعتماد جھیلتا ہے۔ جس نے زندگی کا سفر ایک مخصوص نظریے کی روشنی میں طے کیا ہے ۔ ان کے ہاں رجانیت کا زاویہ نمایاں ہے ۔ تاریخ اور فلسفے کے گہرے کے گہرے شعور نے انہیں فکری توانائی عطاکی ہے۔

؎         ہمیں خیر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب                                ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

           ہمارے حال سے مایوس کیوں ہیں اہل چمن                              خزاں زدہ ہیں تو پیغمبر بہار بھی ہیں

احمد ندیم قاسمی

          ترقی پسند شاعری کے حوالے سے احمد ندیم قاسمی کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں دشمن کا تصور شعوری سطح پر پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اور نفرت کی شمشیر کو حصول مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اپنے افسانوں کی طرح شاعری میں بھی احمد ندیم قاسمی کے ہاں بلند بانگ لہجہ سنائی دیتا ہے۔

؎         زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم                                      بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

عارف عبدالمتین

          ان کا شمار ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے ۔ جنہوں نے غریبوں اور غیور مزاجی کا اعلان کیے بغیر ترقی پسند نظریات پر غیر متزلزل نظریات کا اظہار کیا۔ ان کی شاعری مصنوعی طور پر ایک مخصوص آئیڈیل کے طور پر تعمیر ہوتی ہے۔ تاہم ان کی شاعری کا اہم ترین پہلو ر جانیت کی موجود ہے۔

کیفی عاظمی

          جانثار اختر، کیفی عاظمی اور ساحل لدھیانوی کا شمار ایسے ترقی پسند شاعروںمیں ہوتا ہے جنھوں نے لفظ نظریہ کی فوقیت کو تسلیم کیا ۔ اور شاعری کو مستقیم انداز میں نظریاتی تبلیغ کا وسیلہ بنایا۔ کیفی عاظمی کے لیے میں گھن گرج زیادہ سنائی دینی ہے ۔ جبکہ جانثار اختر نے غربت اور عمارت کے تضاد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس شاعر لدھیانوی کے لہجے میں طنز کی زیر زیادہ ہے۔

؎         میں ان اجداد کا بیٹا ہوں جنہوں نے پیہم                                اجنبی قوم کے سائے کی حمایت کی ہے

           غدر کی سات ناپاک سے لیکر اب تک                                  ہر کڑے وقت میں سرکار کی خدمت کیا ہے

بحیثیت مجموعی ترقی پسند شاعری میں زندگی کے خارج کو موضوع بنانے اور قاری کو براہ راست مخاطب کرنے کا رجحان نمایاں ہے۔ اس تحریک نے زندگی جبریت کو موضوع بنایا ۔ اور شاعر کو اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی دعوت دی۔ جس کے نتیجے میں سماجی اقدار کے خلاف رد عمل کا جذبہ پیدا ہوا ۔

افسانہ نگاری

 انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام 1936 ء سے افسانوں کا میدان اپنے موضوعات کے اعتبار سے بہت وسیع ہو گیا ۔ اس انجمن کا نصب العین انگارے کے مصنفین نے مرتب کیا تھا اور اس کی پہلی کانفرنس کی صدارت منشی پریم چندنے  کی تھی۔ اس کے قیام سے 1947 و تک کا افسانہ پریم چند اور انجمن کے بانیوں کی متعین کی ہوئی حدود کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔ کرشن چندر، احمد علی ، سعادت حسن منٹو ، حیات اللہ انصاری، را جندر سنگھ بیدی ، سہیل عظیم آبادی ،عصمت چغتائی اور ان سے آگے بڑھ کر احمد ند یم قاسمی ،غلام عباس ،خواجہ احمد عباس ، بلونت سنگھ ، حسن عسکری ، ممتاز مفتی، اختر اور نیوی ، اپندر ناتھ اشک، ابراهیم جلیس وغیرہ نے افسانہ میں وسعت پیدا کی اور گہرائی بھی۔ تیزی سے بدلتے ہوئے خارجی ماحول اور اس سے متاثر ہوتی اور بدلتی ہوئی شخصیت کے ساتھ ان کا فن بھی بدلتا اور ترقی کرتا رہا۔

          ان افسانہ نگاروں میں حیات الله انصاری ، دیوندر ستیار تھی ، احمد ندیم قاسمی، اختر اور نیوی، سہیل عظیم آبادی ، بلونت سنگھ کے افسانوں میں دیہات کی زندگی اور اس کے مسائل کی عکاسی ملتی ہے۔

          کرشن چندر، احمد علی ، منٹو ، حیات اللہ انصاری، بیدی، عصمت ، ابراہیم جلیس، غلام عباس ،حسن عسکری کے افسانوں میں شہری  زندگی کی مختلف طبقاتی سطحیں اور ان کے مخصوص حالات و مسائل کی آئینہ داری ہے۔

          کرشن چندر نے ے نے اپنے افسانوں کا آغاز ایک شدیدقسم کے جذباتی رومان پرست کی طرح کیا تھا۔ ان کی افسانہ نگاری انداز فکر میں تدریجی ترقی اور پختگی کی ایک اچھی مثال ہے لیکن جیسے جیسے ماحول تبدیل ہوتا ہے ، زندگی کی تلخیاں افسانہ نگار کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں اور وہ آہستہ آہستہ رومان کی منزلوں سے گزر کر زندگی کی پیکار سے دوچار ہوتا ہے۔

          کالو بنگھی ، انداد تا ، بالکونی اور پیاسا جیسے افسانے ایسے ہیں کہ جن میں انسان کی ازلی و ابدی محرومیوں کے گرد حقیقی واقعات کا تانا بانا بنا گیا ہے۔

احمد علی نے انگارے میں شامل اپنے افسانوں  “بادل نہیں آئے  اور  مہاوٹوں کی ایک رات ” کے توسط سے یہ بتا دیا تھا کہ وہ افسانے کے لیے زندگی اور فن کے گہرے اور قریبی میل جول کو سب سے مقدم اور اہم  سمجھتے ہیں۔ ان افسانوں اور دیگر افسانوں میں احمد علی نے اپنی سماجی ، معاشرتی اور سیاسی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے ان افسانوں کا مواد فراہم کیا ہے ۔ ان کے ایک اور افسانوی مجموعے “شعلے” کے عنوان میں دم توڑتی تحریک حسرت اور بے باکی سے عمدہ انداز میں نظر کیا گیا۔

          افسانہ نگاری کے میدان میں راجندر سنگھ بیدی کے نام بھی اہم ہے۔ اس کے افسانوں میں انسانی دکھ ، پریشانیاں اور محرومیاں موضوع بنی ہیں ۔ ” بھولا ، اپنے دکھ مجھے دے دو ، اور لاجونتی “جیسے افسانوں میں بیدی نے زندگی کو معصوم ناظر کی حیثیت سے دیکھا۔

          اس طرح خواجہ احمد عباس نے اپنے گردو پیش کی زندگی کو ہمیشہ ایک سیاسی اور مصلحانہ جوش و خروش کے ساتھ اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ ایسے افسانوں میں” زعفران کے پھول ، داروغہ صاحب ، ایک لڑکی ، شکر اللہ ، ایک پائلی چاول ، اور سردار جی “خاص ہیں۔

          عصمت چغتائی کی شہرت بقول ڈاکٹر انور سدید عظمت کم اور حیرت زیادہ ہے ۔ عصمت نے اردو افسانے میں ڈاکٹر رشید جہاں کی نسوانی بغاوت کو وسعت دی۔ اور جنس نگاری کے پردےمیں معاشرتی حقیقت نگاری کا فریضہ سر انجام دیا ۔ ان کے افسانے “کلیاں ، چھوٹی ، گیندا ، منادی، لحاف ، چھ طقی کا جوڑا  ،اور پردے کے پیچھے” اس انحراف کی بہترین مثالیں ہیں۔

          اوپندر ناتھ اشک کے افسانوں میں زندگی کا عرضی پہلو نمایاں ہے۔ انہوں نے نچلے اور متوسط طبقے کی معاشی، سماجی اور جنبی محرومیوں کو بنیاد بنا کر خیال لکھے۔ ان کے افسانوں میں “ناسور، اُبال ،  کو نپل” اور چٹان وغیرہ کو اہمیت حاصل ہے

        اختر انصاری دہلوی نے جاگیر درانہ سماج اور ابتداء اور ظلم کو محنت کش طبقے کی مظلومیت سے ابھارنے کی کوشش کی ۔ ان کے ہاں بھی نظریاتی مقصدیت غالب نظر آتی ہے ۔ ان کے اس طرز کے افسانوں میں” دریا کی سیر ، ستارہ اور دینی صاحب” وغیرہ شامل ہیں۔

          حیات اللہ انصاری کا افسانوں میں اصلاح کا نقطہ نظر بے حد وسیع ہے ۔ اس میں انسانیت کو اولیت حاصل ہے۔ اور جو کوئی انسانیت کے وسیع مفہوم کو مجروح کرے وہیں ان کے لیے طنز اور نفرت کے لائق ہے۔ “آخری کوشش اور شکر گزار آنکھیں ” جیسے افسانوں میں انسانی دکھوں کی عکاسی حقیقت نگاری سے کرتے ہیں۔

          احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں میں جو ماحول پیش کیا ہے وہ بڑا وسیع ہے ۔ اس میں زندگی کچھ محدود نہیں ۔ اس کی معاشرتی ، اخلاقی اور معاشی زندگی پر ملکی سیاست ، بین الاقوامی سیاست اور معاشیات کا اتنا گہرا رنگ چڑھا ہوا ہے کہ انھیں مجرد حالت میں دیکھنا ممکن نہیں۔ ان کے افسانے میں “چوپال ، بگوے ، رئیس خانہ ، بندگی ، بیچارگی اور الحمد اللہ “شامل ہیں ۔

          سعادت حسن منٹو کافنی  شعور افسانہ نویسی کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ ان کے عام افسانوں میں طوائف کی زندگی اور جنسی الجھنوں سے دو چار نوجوانوں کے علاوہ ہندوستان کی سیاسی بیداری کے مناظر، سیاسی جلسے ، جلسوں پر پولیس کی گولہ باری ، گلیوں اور بازاروں میں مسلح فوج کا راج، جیل خانے ، مارشل لا، بغاوت کو ختم کرنے والی برچھیاں اور گولیاں ، ایک نئے قانون کی خواہش، انقلاب کے نعروں کی گرما گرمی جیسے موضوعات بکثرت ہیں۔ ان کے افسانوں میں تماشا،شرابی اور نیا قانون مثالی ہیں۔ منٹو لکھتے ہیں کہ  :

“آه آزادی ……. خدا معلوم اس کا ذائقہ کس قدر لذیز ہوگا ۔ میں آزاد لوگوں کے حالات پڑھتا ہوں تو مجھے ایک افسانہ سا معلوم ہوتے ہیں۔ میں اپنے دل سے پوچھتا ہوں کہ کیا ہم بھی کبھی آزاد ہوں گے ……. اس کا جواب مجھے نہیں ملتا”(5)

          افسانہ نگاری اپنی غلامی اور مظلومی و بے بسی کا احساس بھی بیان کرتا ہے ۔

پریم چند کا اافسانہ” کفن ” اور” انگارے “یہ  افسانے ترقی پسند ادب میں  رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ان میں بڑا فرق یہ ہے کہ؛

“ایک نے مستقبل کے افسانے کو ایک سنجیدہ، دھیمی ، سبک رو لیکن دیر پا بغاوت کی راہ دکھائی ، اور دوسرے نے جارحانہ انداز فکرونظر کو انقلاب کا پیش خیمہ سمجھنے کی روش عام کی ۔ ایک میں ایسی گہرائی ہے جس نے انسانی فطرت کی پوشیده تہوں تک رسائی حاصل کی اور دوسرے کی نظر زندگی کے ہر خارجی پہلو کے رگ وپے کا جائزہ لیتے اور اس کے ساتھ عمل جراحی کرنے پر اصرار کرتی ہے ۔ فن کے پرستار دونوں ہیں لیکن ایک نے فن کے ماضی کو سامنے رکھ کر اسے زیادہ حسین اور زیادہ بامعنی بنانے کو فن کی خدمت جانا ہے دوسرے نے ماضی کی روایت کے سارے رشتوں کو کاٹ کر فن کے ایک آزادانہ مسلک کی پیروی اور تلقین کی ہے “۔(06)

          یہ سب لکھنے والے ایک خاص ماحول کو جو سیاسی ہل چل اور ہنگاموں سے پر ہے ، مختلف زاویوں سے پیش کرتے ہیں ۔ انھوں نے سیاسی تقاضوں اور تحریکوں کا پوری طرح مشاہدہ بھی کیا تھا اور اثرات بھی قبول کیے تھے ۔ وہ  اپنے ان مشاہدات اور اثرات کا مطالعہ، تخیل اور فکر کی پوری شدت کے ساتھ افسانےکا موضوع بناتے ہیں ۔ ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان افسانہ نگاروں نے ملکی اور غیر ملکی سیاست سے تاثر قبول کیا تھا اور ان کے پیش نظر ملک کی سیاسی آزادی کا کیا لائحہ عمل تھا۔

حوالہ جات

(1)         فوزیہ اسلم ، ڈاکٹر ، اردو افسانےمیں اسلوب اورتکنیک کے تجربات ،اسلام آباد ، پورب اکادمی،۲۰۱۰ ،ص ۱۳۳۔

(۲)          فوزیہ اسلم ، ڈاکٹر ، اردو افسانےمیں اسلوب اورتکنیک کے تجربات ،اسلام آباد ، پورب اکادمی،۲۰۱۰ ،ص۱۳۴۔

 (۳)     سلیم اختر، ڈاکٹر، اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ ،لاہور ،سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۷، ص ۴۴۷۔

 (۴)      سلیم اختر، ڈاکٹر، اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ ،لاہور ،سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۷، ص ۲۲۹۔

(۵)      معین الدین عقیل ، ڈاکٹر، تحریک آزادی میں اُردو کا حصہ، لاہور ،علی پر نٹرز،۲۰۰۸،ص ۴۳۲۔

(۶)     ابو سعید نورالدین ، ڈاکٹر، تاریخ ادبیات اُردو،لاہور : ظفر پر نٹرز ۱۹۹۷، ص ۳۶۶ ۔

Leave a Reply