
مریم منیر
ایم فل اسکالر، شعبہ اردو، جی سی یونی ورسٹی، لاہور
گارساں دتاسی اور اس کی تصنیف (ہندی اور اردو ادب کی تاریخ) کا تجزیہ
تعارف:
گارساں دتا سی اردو زبان و ادب کے اولین مغربی محققین اور مترجمین میں سے ایک تھے۔ وہ ایک فرانسیسی مستشرق، ماہر لسانیات، مورخ ادب اور مترجم تھے۔ جنہوں نے اردو ادب کو یورپ میں متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی اور علمی خدمات اردو زبان و ادب کے ارتقا میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
گارساں دتا سی کی پیدائش 25جنوری1974ء کو مرسیلز شہر میں ہوئی تھی۔ اس نے مشہور ماہر لسانیات اور مشرقی علوم کی باوثوق شخصیت ’’سیلو بسترے دے ساسی‘‘ کے یہاں زانوئے نلمذتہ کیا جس کی وجہ سے اسے عربی فارسی اور اس وقت کی رائج الوقت ترکی سیکھنے کا موقع ملا۔ ۲ ستمبر1978کو گارساں دتا سی کا مارسیلز پیرس میں انتقال ہوا۔
گارساں دتا سی نے اردو زبان کو ایک مکمل مہذب، فکری اور ادبی زبان ثابت کیا اور اسے یورپ کی جامعات اور علمی حلقوں میں روشناس کروایا۔ان کا تحقیقی انداز مغربی تنقید، لسانیات اور تاریخی تجزیے کے امتزاج پر مشتمل تھا۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ سفر:
٭ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مشرقی زبانوں کے مشہور ادارےEcole des Langues Orientalesمیں اردو، فارسی اور عربی کی تدریس سے منسلک رہے۔
٭ 1838میں وہ اردو اور ہندی زبانوں کے پہلے مستقل پروفیسر مقرر ہوئے۔
٭ فرانس کیAcedemie des Inscriptions
Belles – Lettresکے رکن منتخب ہوئے۔
٭ انہوں نے برصغیر کے سفر نہیں کیے لیکن وہاں کے مخطوطات سفیروں، شعرا کے دیوان اور مقامی اساتذہ کے زریعے زبان سیکھی۔
ادبی خدمات:
۱۔ گارساں دتا سی نے اردو ادب پر منظم اور تحقیقی بنیادون پر پہلی کتاب لکھی جو تین جلدوں پر مشتمل تھی۔
۲۔ انہوں نے اردو شعرا جیسے میر، غالب، سودا، ولی، سراج اورنگ آبادی کے کلام کو فرانسیسی میں ترجمہ کیا، ان پر تبصرے کیے اور ان کے فکری پہلو اجاگر کیے۔
۳۔ اردو، ہندی اور فارسی زبانوں کی گرامر، الفاظ، لغات، تلفظ اور ساخت پر تحقیقی مضامین لکھے۔
۴۔ انہوں نے اردو کو محض عوامی یا مذہبی زبان سمجھنے کے بجائے ایک مکمل تہذیبی و فکری نظام کے طور پر پیش کیا۔
۵۔ پیرس میں اردو اور ہندی زبان کی باقاعدہ تدریس شروع کی اور کئی فرانسیسی طالب علموں کو اردو پڑھائی۔
مشہور تصانیف:
۱۔ “Historie de la litterature Hindouie
et Hindoustanie” (1861-1839)
٭ تین جلدوں پر مشتمل اردو ہندی ادب کی مکمل تاریخ
٭ اردو ادب کی پہلی مغربی تنقیدی و تحقیقی تصنیف
۲۔ Chants Popularies de L’lnde
(ہندوستان کے عوامی گیت)
۳۔ La langue et la littrature hindoustanie
(ہندوستانی زبان اور ادب)
۴۔ (Rudiments de la langue hindoue
(ہندی زبان کے بنیادی اصول)
گارساں دتا سی کی اردو سے محبت:
گارساں دتا سی اردو کے محسن، نرمی، تہذیب اور فکری گہرائی کے دل سے معترف تھے۔ وہ اردو کو ’’مشرق کی موسیقی سے لبریز زبان‘‘ کہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اردو ادب مشرقی روحانیت، تہذیب شاعرانہ احساسات ، اور فکری بلندیوں کا حامل ہے۔
ان کے مطابق:
’’اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب کا آئینہ ہے جو دل اور دماغ دونوں سے مخاطب ہوتی ہے‘‘
گارساں دتا سی کی اردو ادب پر اثرات:
٭ اردو شاعری کو یورپی زبانوں میں متعارف کروایا۔
٭ عروضی نظام، ردیف، قافیہ، بحریں وغیرہ جیسے موضوعات پر تحقیق کی۔
٭ مغربی جامعات میں اردو ادب کی تدریس کو بنیاد فراہم کی۔
“Histoire de la Litterature Hindouie et Hindoustanie”
(ہندی اور اردو ادب کی تاریخ) کا تجزیہ:
اردوادب پر لکھی جانے والی پہلی غیر ہندوستانی اور منظم تحقیقی و تنقیدی تاریخ ہے، جو اردو زبان و ادب کے فکری، لسانی، تہذیبی اور تریخی ارتقاء کا ایک مفصل مطالعہ پیش کرتی ہے۔
یہ کتاب فرانسیسی زبان1839سے1861کے دتمیان تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس کا مقصد یورپی قارئین کو اردو ادب سے روشناس کرانا اور اردو کی علمی حیثیت کو عالمی سطح پر تسلیم کرانا تھا۔
کتاب کا پس منظر:
انیسویں صدی کے اغاز میں اردو ادب کو نہ تو خود ہندوستان میں ایک منظم اور سائنسی طریقے سے مدون کیا گیا تھا اور نہ ہی مغرب میں اسے کوئی سنجیدہ توجہ حاصل تھی۔ ایسے وقت میں گارساں دتا سی نے اردو شاعری اور نثر کے ارتقائی مراحل کو علمی تحقیق اور مغربی تنقیدی اصولوں کی روشنی میں بیان کیا۔ یہ کتاب اردو ادب کی پہلی مفصل، تاریخی، اور تنقیدی تصنیف شمار کی جاتی ہے۔
کتاب کی ساخت اور مواد:
یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ ہر ہلد ایک مخصوص دور، صنف، یا رجحان پر روشنی ڈالتی ہے۔
جلد اول:
۱۔ اردو ادب کی اتبدائ، دہلی اور دکن کے ادبی مراکز
۲۔ ولی دکنی، میر، سودا، سراج اورنگ آبادی جیسے شعرا کا تعارف
۳۔ اردوکی دکنی دہلوی لہجوں میں فرق
جلد دوم:
۱۔ اردو نثر کا ارتقا
۲۔ داستانوں، مذہبی منون، اور صوفی ادب کا ارتقا
۳۔ شاعری کی اصناف: غزل، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ وغیرہ۔
جلد سوم:
۱۔ اردو زبان کے مختلف مکاتب فکراور ان کا باہمی موازنہ
۲۔ عوامی ادب(لوک شاعری) پر تبصرہ
۳۔ اردو ادب کی مستقبل کی سمت پر قیاس
جلد اول:
۱۔زبان کی ابتدا کانظریہ:
گارساں دتا سی اردوزبان کو ایک قدرتی ارتقائی عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، جو مختلف لسانی اثرات (سنسکرت، پراکرت، فارسی، عربی، ترک) کے امتزاج سے پیدا ہوئی۔
اہم نکات:
۱۔ اردو ادب یا اردو حرف ایک لشکری زبان نہیں بلکہ تہذیبوں کے اختطلاط کا ثمرہے۔
۲۔ مسلمانوں کے ہندوستان آنے کے بعد شمالی ہند کی زبانوں میں عربی و فارسی کے الفاظ داخل ہوئے۔
۳۔ لسانی و معاشرتی تعامل کے نتیجے میں اردو ایک ’’تہذیبی زبان‘‘ کے طور پر ابھری۔
“L hindoustani n’est pas une language batarde, mais une fusion Culturelle” (1)
۲۔ رسم الخط اور لغت:
اردو کے لیے نستعلیق رسم الخط کو ’’فکری جمالیات‘‘ کا نمائندہ قار دیتے ہیں اور لغت میں فارسی، عربی، ترکی اور سنسکرت الفاظ کی آمیزش کو اردو کا اثاثہ گردانتے ہیں۔ (۲)
۳۔ ابتدائی صوفی شعرا اور مذہبی ادب:
گارساں دتا سی اس باب میں صوفی تحریک کے اردو زبان پر اثرات بیان کرتے ہیں۔ وہ نام دیو، کیز راما نند، امیر خسرو، خواجہ بندہ نواز گیسو دراز جیسے شعرا کا ذکر کرتے ہیں۔
’’صوفی شعرا نے مذہب، انسانیت اور عشق کو مقامی زبان میں بیان کیا۔ اردو کا اولین لہجہ شعری روحانیت اور وحدت الوجود سے متاثر تھا۔ امیر خسرو کو ارو کا ’’پہلا باقاعدہ شاعر‘‘ تسلیم کرتے ہیں‘‘ (۳)
“L’ hindoustani n’est pas une langue batarde, main une fusion organieuq de tradition liguistiques, forgee par lee peuples de L’inde du Nord et les conquernt Musulmans”
ترجمہ: ’’ہندوستانی (اردو) کوئی بگڑی ہوئی زبان نہیں، بلکہ مختلف لسانی روایات کا ایک قدرتی اور مربوط امتزاج ہے، جو شمالی ہند کے باشندوں اور مسلمان فاتحین کے تعامل سے وجود میں آئی۔‘‘ (۴)
“Le style Nasta’iq utilise en hindoustani est d’une grade beaute Calligraphieque refletant I’ame artistique de la language”
ترجمہ: ’’اردو میں استعمال ہونے والے خط نستعلیق خوشنویسی کے لحاظ سے بے حد خوبصورت ہے، جو زبان کی فنی روح کی عکاسی کرتا ہے‘‘ (۵)
“La Litterature du deccan. bien que moins raffinee, Montre une vigueur ordinale et une sensibilite autochtone admirable”
ترجمہ: ’’اگرچہ دکنی ادب فنی طور پر کم میقل ہے، مگر اس میں ایک جداگانہ جوش اورقابلِ تحسین مقامی حساسیت پائی جاتی ہے‘‘ (۶)
جلد دوم:
۱۔ اردو کلاسکی شاعری کا آغاز:
ولی دکنی کو اردو کا باقاعدہ یعنی اردو غزل کا پہلا استاد تسلیم کیا گیا۔ دکنی اور دہلی اسکول کے فرق پر روشنی ڈالی گئی اور ابتدائی شعرا جیسے سراج، شاہ حاتم اور خواجہ میر درد کا جائزہ لیا گیا ہے۔
“ٰWali Dakhani a un Metite historique: il a etabli forme de la ghazal hindustanie classique”
ترجمہ: ’’ولی دکنی کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے اردو غزل کی کلاسیکی شکل قائم کی۔‘‘ (۷)
۲۔ دہلی اور لکھنو اسکول کا موازنہ:
گارساں دتا سی دہلی اسکول کو سنجیدہ، فکری، اور صوفیانہ جبکہ لکھنو اسکول کو رنگین، نازک اور صنفِ لطیف کی نمائندگی والا اسکول قرار دیتے ہیں۔
اہم شعرا:
دہلی: میر، سودا، درد، انشاء
لکھنو: مصحفی، آتش، ناسخ، جرات، رنگین
“Le style de Delhi est grave et mystique, celui de Lucwnow est orne. glant et perfois fricole.”
ترجمہ: دہلی کا اسلوب سنجیدہ اور صوفیانہ ہے، لکھنو کا اسلوب مزین عاشقانہ اور بعض اوقات سطہی بھی۔‘‘ (۸)
۳۔ میر تقی میر کا مطالعہ:
گارساں دتا سی میر کو ’’اردو کا سب سے گہرا شاعر‘‘ کہتے ہیں ان کے اشعار کی سادگی، سوز اور فلسفہ حیات کی گہرائی پر زور دیا ہے۔
“Mir Taqi Mir est le poete du coeur blesse, Sa langue est simple, mais chaque mot saigne.”
ترجمہ: ’’میر دل مجروح کے شاعر ہیں، ان کی زبان سادہ ہے مگر ہر لفظ سے لہو ٹپکتا ہے‘‘ (۹)
“Sauda insuffle dans la poesie une vigueur presque equique: il peint la decadence avec rage.”
ترجمہ: ’’سودا نے شاعری میں تقریباً رزمیہ طاقت بھر دی ہے، وہ زوال کو غصے سے رقم کرتے ہیں‘‘ (۱۰)
“La ghazal est un nicrocosm de I’ane indienne: amour, souffrance, spiritualitie.”
ترجمہ: ’’غزل ہندوستانی روح کا ایک مختصر کائنات ہے: عشق، درد اور روحانیت۔‘‘ (۱۱)
۴۔ خواتین شاعرات کا ذکر:
ماہ لقابائی چند، لبنیٰ اور دیگر خواتین کی شاعری کا مختصر تعارف کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری کو بھی معیاری اور لطیف قرار دیا ہے۔
“Les femmes poetessess, bien que rares, ont exprine’ une sensibilite exquise.”
ترجمہ: ’’خواتین شاعرات، اگرچہ کم ہے تعداد میں، مگر نہایت لطیف حساسیت کی مالک تھیں۔‘‘ (۱۲)
۵۔ اصنافِ سخن کاتجزیہ:
گارساں دتا سی نے اردو شاعری کی درج ذیل اصناف پر مستقل تبصرہ کیا:
صنف
تجزیہ
غزل
سب سے ترقی یافتہ اور جامع صنف
قصیدہ
درباری اور بیانیہ پہلو
مثنوی
داستانوی وعشقیہ کہانیوں کا اظہار
ہجو
طنزو مزاح اور سماجی تنقید
رباعی
مختصر مگر گہری فکر کی عکاسی
جلد سوم:
۱۔ اردو نثر کا آغاز:
اردو نثر کی ابتدائی شکل: مذہبی، مواعظ، ترجمے ابتدائی نثری کارنامے: قصص الانبیاء تذکرہ، مکتوبات شامل ہیں۔
“La prose hindoustanie nee de la necessite religieuse, a d’obord servi les preches et less”
ترجمہ: ’’اردو نثر مذہبی ضرورت کے تحت پیدا ہوئی، ابتدا میں یہ خطبوں اور ترجموں کی خدمت گزار رہی۔‘‘ (۱۳)
۲۔ داستانوی ادب:
کتاب کے دوسرے باب میں داستانوی ادب کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ جن میں داستان امیر حمزہ، باغ و بہار طلسم ہو شربا۔ قصہ گوئی روایت اور عوامی دلچسپی۔ زبان میں تخیلاتی رنگ، نثر میں فصاحت و بلاغت شامل ہیں۔
“Les recits comme Bagh-o-Bahar eveillent J’imaginaire collefif de I’inde Musulman.”
ترجمہ: ’’باغ و بہار جیسے قصے مسلم ہندوستان کے اجتماعی تخیل کو بیدار کرتے ہیں۔‘‘ (۱۴)
۳۔ اردو نثر کی فکری ارتقائی:
اس باب میں نثر کی فکری ارتقا جس میں مترجم ادب، اخلاقی کتابیں، تاریخی نثر، اخلاق ناصری، اخلاقِ ہندی، جیسی تصانیف شامل ہیں اور فارسی طرِ نگارش سے آزادی کی کوشش وغیرہ شامل ہیں۔
“La prose hindoustanie cherche une identite propre, liberee de la rhetorique persane.”
ترجمہ: ’’اردو نثر ایک انفرادی شناخت کی تلاش میں ہے۔ جو فارسی لفاظی سے آزاد ہو۔‘‘ (۱۵)
۴۔ اردو صحافت اور مطبوعات:
اس باب میں فورٹ ولیم کالج کی خدمات اردو اخبارات کا اغاز(جام جہاں نما، دہلی اردو اخبار) اور مذہبی، تعلیمی اور عوامی موضوعات کا فروغ شامل ہے۔
“Le press en ourdou fut le moteur de L’eveil Litteraire moderne en Inde”
ترجمہ: ’’اردو صحافت نے ہندوستان میں جدید ادبی بیداری کا محرک کردار اداکیا۔‘‘ (۱۶)
۵۔ مذہبی وصوفیانہ ادب:
اس باب میں قوالی، مناجات، ملفوظات، اردو میں قرآن، احادیث، اور فقہی کتابوں کے تراجم اور شعوری و لاشعوری صوفیانہ اثرات شامل ہیں۔
“L’islam populaire en Inde s’est nourride textes en ourdou, accessibles et touchants.”
ترجمہ: ’’ہندوستان میں عوامی اسلام نے اردو منون سے غذا پانی جو عام فہم اور اثرانگیز تھے‘‘ (۱۷)
۶۔ عوامی ادیب اور ان کی نثر:
اس باب میں سادہ عوام کے لیے تصانیف جیسے قصہ چار درویس اور عوامی ادیب مرزا رجب علی بیگ سرور، محمد حسین آزاد، مولوی نذیر احمد شامل ہیں۔
“La Litterature orcrdoue ne fat pas qu’elitiste: elle a parle aux Masses avec grace.”
ترجمہ: ’’اردو ادب صرف اشرافیہ تک محدفود نہ رہا: اس نے عوام سے بھی خوبصورتی سے بات کی۔‘‘ (۱۸)
محاکمہ
جلد اول اردو زبان کی تاریخی بنیادوں کو اجاگر کرتی ہے۔ گارسا دتا سی نے اردو کو ہندی اور فارسی کے اشتراک پیدا ہونے والی زبان قرار دیا ہے اور اس کے تہذیبی و لسانی عوامل پر تحقیق کی۔
دوسری جلد اردو شاعری کی روحانی، فنی اور لسانی ساخت کا بھرپور جائزہ پیش کرتی ہے۔ گارسا دتا سی نے شعرا کی سوانح، اسلوب اور فکری جہات پر مغربی تنقیدی انداز میں بات کی۔
تیسری جلد اردو نثر کے اولین نقوش سے لے کر انیسویں صدی تک کے تمام اہم نثری مظاہر کا احاطہ کرتی ہے۔ گارسا دتا سی نے مذہبی ادب، ترجمے، تصوف اور صحافتی ادب کو تاریخی تسلسل میں بیان کیا۔ اردو نثر کو علمی حیثیت دینے میں یہ جلد سنگِ میل ثابت ہوئی۔
حوالہ جات
1 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ، جلد اول، ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور1990،ص:90
2 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ، جلد اول، ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور1990،ص:75
3 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد اول، ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور1990،ص:100
4 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد اول، ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور19990ف،ص:15
5 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد اول، ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1990،ص:78
6 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد اول، ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1990،ص:168
7 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد دوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1992،ص:17
8 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد دوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1992،ص:95
9 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد دوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1992،ص:124
10 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد دوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1992،ص:147
11 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد دوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1992،ص:185
12 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد دوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1992،ص:215
13 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد سوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1994،ص:12
14 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد سوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1994،ص:67
15 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد سوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1994،ص:98
16 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد سوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1994،ص:134
17 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد سوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1994،ص:160
18 گارساں دتا سی،ہندی اردو ادب کی تاریخ،جلد سوم ترجمہ: ڈاکٹر شفیق الرحمن، مجلس ترقی ادب، لاہور 1994،ص:200
٭٭٭