پہاڑی  زبان کا آغازوارتقا : ایک تاریخی   جائزہ

عمر فاروق ریسرچ اسکالر،ہندوستانی  زبانوں کا مرکز جواہر لا  ل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی      پہاڑی زبان کا آغازوارتقا : ایک تاریخی جائزہ ہندوستان کو زبانوں کا عجائب  گھر کہا…

Continue Reading     پہاڑی  زبان کا آغازوارتقا : ایک تاریخی   جائزہ

ناول’’نارسائی‘‘ایک تنقیدی جائزہ

صوفیہ  پروین ریسرچ اسکالر ،دہلی یونیورسٹی دہلی ناول’’نارسائی‘‘ایک تنقیدی جائزہ اردو ادب میں ناول کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ناول ادب برائے زندگی کی ترجمانی کرتا ہے  .ناول نگار…

Continue Readingناول’’نارسائی‘‘ایک تنقیدی جائزہ

کناڈا کی ایک منفرد نسوانی آواز ’’ روبینہ فیصل‘‘

ظہور احمد ریسرچ اسکالر، جواہر لعل نہرو  یونیورسٹی، نئی دہلی کناڈا کی ایک منفرد نسوانی آواز ’’ روبینہ فیصل‘‘                              مہجری ادب کے تناظر میں بے شمار خواتین قلم…

Continue Readingکناڈا کی ایک منفرد نسوانی آواز ’’ روبینہ فیصل‘‘

کوثر رسول کی آزاد اور  نثری نظموں کا مجموعہ  ‘ ہوں’ : تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹر معراج دین شیخ (اسسٹنٹ پروفیسر (کنٹریکچول )  جنوبی کیمپس ، کشمیر یونیورسٹی ) کوثر رسول کی آزاد اور  نثری نظموں کا مجموعہ  ' ہوں' : تجزیاتی مطالعہ عورت تخلیق…

Continue Readingکوثر رسول کی آزاد اور  نثری نظموں کا مجموعہ  ‘ ہوں’ : تجزیاتی مطالعہ

ابن صفی بحیثیت مصلح سماج

محمد سلمان ریسرچ اسکالر ،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی ابن صفی بحیثیت مصلح سماج (غیر جاسوسی نثر کی روشنی میں) ادیب اور شاعر بہت حساس ہوا کرتے ہیں۔ وہ…

Continue Readingابن صفی بحیثیت مصلح سماج

ادا جعفریؔ کی نظم نگاری

سلطانہ فاطمہ انصاری   ریسرچ اسکالر  یونیور سٹی آف کوٹہ،کوٹہ( راجستھان)    ڈاکٹر نادرہ خاتون , نگراں ایسوسی ایٹ پروفیسر گورنمنٹ آ رٹس گلر س کالج ،کوٹہ      یونیور سٹی…

Continue Readingادا جعفریؔ کی نظم نگاری

بہار آنے تک

   ڈاکٹر ریاض توحیدی ؔکشمیری افسانہ’’بہار آنے تک‘‘    کشمیر کے خوبصورت مناظرکادلکش احساس ہی اسے جنت ارضی کہلانے کے لئے کافی ہے۔کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر جب…

Continue Readingبہار آنے تک

ابھی کچھ نہ بولو

ڈاکٹر مہیمنہ خاتون سابق اسسٹنٹ پروفیسر(عارضی) سیٹیلائٹ کیمپس، کشمیر یونی ورسٹی،  کارگل ابھی کچھ نہ بولو میں حیدرآباد کے ایک کالج میں پڑھاتی ہوں ۔ہمیشہ کی طرح اس باربھی گرمیوں…

Continue Readingابھی کچھ نہ بولو