مشرقی پنجاب میں اُردوتعلیم کی موجودہ صورتِ حال:ایک جائزہ

ڈاکٹر محمد عرفان ملک، پٹیالہ

مشرقی پنجاب میں اُردوتعلیم کی موجودہ صورتِ حال:ایک جائزہ

 

پنجاب ایک مشترکہ تہذیب و کلچر کی علامت ہے اور اِس مشترکہ کلچر میں پیروں پیغمبروں،صوفیوں، سنتوں اور گوروصاحبان نے اہم کردار نبھایاہے اور اپنی دعاؤں میں ہمیشہ شاملِ حال رکھا ہے۔یہ صوفی سنت، درویش اورگوروصاحبان سر زمینِ پنجاب میں اتنے ہر دلعزیز ہوئے کہ ان سب کے پیغامات پنجاب،پنجابی اور پنجابیت کی شناخت بن گئے۔ تقسیمِ ہندسے پہلے پنجاب ایک وسیع صوبہ تھا۔لاہور پنجاب کا ادبی و ثقافتی مرکز تھا۔اُس دور میں پنجاب اُردو زبان وادب کامرکزتھااور ذریعہِ تعلیم اُردو تھی۔اِسکولوں اور کالجوں میں اِس کا چلن تھا۔ یہ زبان روزگار سے وابسطہ تھی۔بیشتر اخبار و رسائل بھی اُردو ہی میں چھپتے تھے۔سرکاری اور درباری کام اُردو میں کیے جاتے تھے۔اس کابین ثبوت موجودہ دور میں پنجاب کی عدالتوں اور روزمرہ زبان میں فارسی اور اُردو الفاظ کی بہتات سے لگایا جاسکتا ہے۔ 1947 میں تقسیمِ ملک ایک درد ناک سانحہ تھا۔ اِس تقسیم کا سب سے زِیادہ اثر پنجاب پر پڑا اِس تقسیم سے نہ صرف مُلک کودو حصّوں میں تقسیم کیا بلکہ پنجاب کو بھی دو حصّوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اِس تقسیم سے سب سے بڑانقصان جغرافیائی طورپرپنجاب کو برداشت کرنا پڑا۔پنجاب کاخوبصورت تاریخی شہر لاہور جس کو پنجاب کادل کہا جاسکتا ہے پاکستان میں شامل کردیا گیا۔ پنجاب کا زِیادہ تر حصہ پاکستان میں شامل کردیا گیا بعد ازتقسیم پاکستان میں اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملا۔ مشرقی پنجاب تقسیمِ وطن سے زِیادہ متاثر ہوا اور یہاں اُردو زبان و ادب پر منفی اثرات پڑے کیونکہ اُردو داں طبقہ کی ایک بڑی تعداد مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب میں منتقل ہو گئی۔ جس سے اُردو زبان و ادب کا تعلیمی نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔اِسکولوں میں اُردو طلبا کی تعداد کم ہونے لگی۔وہ دور اُردو زبان و ادب کے لیے آرائشی دور تھا۔ مشرقی پنجاب میں اُردو زبان و ادب کے مسائل و مشکلات میں اضافہ ہو تاگیا۔ عین دو دہائی کے بعد اُردو زبان و ادب کی مشکلات میں اور اضافہ ہوا کیونکہ 1966میں مشرقی پنجاب سیاسی اعتبار سے تقسیم ہوا۔مشرقی پنجاب میں زبان کی بنیاد پر ہریانہ اور ہماچل پردیس پنجاب سے الگ ہوگئے۔ریاستوں کی تنظیم ِ نو کے بعد لسانی طور پر پنجابی پنجاب کی ہندی ہریانہ اور ہماچل پردیس کی سرکاری زبان بن گئی۔ اُردو کے تعلیمی اِدارے مزید تقسیم کے سبب پنجاب میں بہت کم رہ گئے۔ عِلاوہ ازیں اُردو زبان و ادب کے لیے پنجابیوں نے جو خدمات انجام دیں ہیں ان سے اِنحراف نہیں کیا جاسکتا۔اہلیانِ پنجاب کی اُردو سے دلچسپی اور شوق کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ اُنہوں نے پنجاب میں اپنی مادری زبان پنجابی کے ساتھ ساتھ اُردو کو فراموش نہیں کیا بلکہ پنجاب میں دو زبانیں ذریعہ تعلیم بنی۔اس نقطہ نظر سے انھوں نے ابتدا ہی سے بچوں کو دونوں زبانوں سے واقف کرانا ضروری سمجھا۔ پنجاب میں موجودہ اُردو تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ پنجاب میں اسکولی سطح سے یونیورسٹی سطح تک طلبا کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے کیونکہ پنجاب میں پنجاب وقف بورڈکے اسکول،سرکاری و غیر سرکاری اسکول،مدارس، ادبی انجمنیں، بھاشا وبھاگ کے مراکز اور اعلیٰ تعلیم کی سطح پر پنجاب کی صوبائی یونیورسٹیاں وغیرہ بھی اُردو کی تعلیم کے تئیں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ متحدہ پنجاب میں اُردو زبان و ادب کاذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جو مقام لاہور کو حاصل تھااُس کی ہلکی سی جھلک سرزمین مالیرکوٹلہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ آج بھی تاریخی و ریاستی شہر مالیرکوٹلہ کے باشندگان اُردو کی ترویج و ترقی میں ہر ممکن کوشش کررہے ہیںاور یہ کہا جاسکتا ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد مالیرکوٹلہ پنجاب میں اُردو زبان و ادب کا مضبوط مرکز بن گیا۔ آج مشرقی پنجاب میں اُردو کی شمع اہلیانِ مالیرکوٹلہ کے محبانِ اُردوکی وجہ سے روشن ہے۔مالیرکوٹلہ واحد ایسا شہر ہے جہاں سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں، کالجوں میں اول جماعت سے لے کرایم اے تک اُردوزبان وادب کی تعلیم کاانتظام ہے۔مالیرکوٹلہ کو‘‘City of The Urdu’’کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہاں اُردو کو بحیثیت مضمون اور اختیاری مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔پنجاب وقف بورڈ ایسا ادارہ ہے جہاں وقف بورڈ کے زیرِ اہتمام چلائے جارہے اسکولوں میں اُردو کو امتیازی مضمون کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔موجودہ تحقیق کے مطابق پنجاب میں ’’پنجاب وقف بورڈ ‘‘کے اُردو کے پانچ ہائی اسکول،تین مڈل اسکول،دو سینئر سیکنڈری اسکول اورتیس کے قریب مدارس وقف بورڈ کے زیر انتظام چل رہے ہیں عِلاوہ ازیں اسلامیہ گرلز کالج میں گریجویشن تک اُردو زبان کی تعلیم کا اِنتظام ہے۔پنجاب میں اسلامیہ سینئر سیکنڈری اسکول مالیرکوٹلہ تقسیم کے بعد مشرقی پنجاب کا واحد اُردو میڈیم اسکول کے طور پر ابھرکر سامنے آیا۔ اُردو تعلیم کا آزادی کے بعد سب سے بڑا اقلیتی تعلیمی اِدارہ ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔اس کے علاوہ اسلامیہ کمبوج سینئر سیکنڈری اسکول،اسلامیہ ہائی اسکول ،اسلامیہ پبلک ہائی اسکول احمد گڑھ،وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اسکول ہیں جہاں اُردو پڑھائی جاتی ہے۔میرا مقصد فہرست سازی نہیں ہے۔بلکہ یہ بتانا ہے کہ ان اِسکولوں میں پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک بطور مضمون اُردو پڑھائی جاتی ہے۔مالیرکوٹلہ کے گردونواح سرکاری اِسکولوں میں اُردو پڑھانے کا خاص اِہتمام ہے۔جہاں آزادی کے بعد پنجاب کے اسکولوں میں اُردو اِساتِذہ کی اسامیاں نہ ہونے کی وجہ سے اُردو تعلیم کا سلسلہ تقریباً منقطع ہوگیا تھا۔اکیسویں صدی کے آغاز میں محبانِ اُردو کی کوششیں رنگ لائیں اور 2004میں پنجاب سرکار کی جانب سے 51 اُردو کی آسامیوں کا اشتہار دیا گیاجن میں سے اُردو اساتذہ کا تقرر ہوا۔آزادی کے بعد مشرقی پنجاب میں پہلی بار سرکار کی طرف سے اُردو ٹیچر بھرتی کیے گئے۔اسی طرح 2011میں سرب سکھیا ابھیان کی طرف سے42 اُردو اِساتِذہ بھرتی کیے گئے۔ان اساتذہ کی بدولت آج مالیرکوٹلہ اور اس کے اِطراف کے قصبوں اور دیہاتوں میں واقع سرکاری اسکولوں میں اُردو پڑھائی جارہی ہے۔جو اچھی خاصی تعداد میں مسلم اور غیر مسلم طلبا اُردو زبان سیکھ رہے ہیں۔پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کی جانب سے نواب شیر محمد خان انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اِن اُردو پرشین اینڈ عربک مالیرکوٹلہ کا اِنعِقاد کیا گیا۔جو اُردو تعلیم کی اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔اِس اِدارے میں اُردو اور فارسی میں پی ایچ۔ڈی، ایم۔ایاور ایک سالہ سرٹیفکیٹ کورس کروائے جارہے ہیں۔اِس اِدارے کی جانب سے پنجاب کے حوالے سے تنقیدی و تحقیقی کام بھی بڑے پیمانے پر کروایا جارہا ہے۔سرکاری کالج مالیرکوٹلہ میں اُردو میں ایم۔اے،بی۔اے آنرز،اُردو جرنلزم و ترجمہ نگاری ایڈ آنالائن کورس، مضمون کے طور پر پڑھائے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ اسلامیہ گرلز کالج مالیرکوٹلہ، حرف کالج مالیرکوٹلہ، کے۔ایم۔آر۔ڈی جین کالج فار ویمن مالیرکوٹلہ،میں بھی بی۔اے سطح تک اُردو بطور مضمون پڑھائی جارہی ہے۔سرکاری کالج آف ایجوکیشن مالیرکوٹلہ اور شری گورو تیغ بہادر کالج آف ایجوکیشن کے قائم ہونے سے پہلے پنجاب کے کسی بھی کالج میں اُردو اِساتِذہ کی ٹریننگ کا انتظام نہیں تھا جس کے لیے اکثر طلبا دہلی اور جموں کشمیر جانے کے لیے مجبور تھے۔ لیکن اب سرکاری کالج آف ایجوکیشن مالیرکوٹلہ اور شری گورو تیغ بہادر کالج آف ایجوکیشن میں ٹیچنگ آف اُردو کا مضمون پڑھا یا جارہا ہے۔جس سے ٹرینڈ اُردو اِساتِذہ کی کمی کا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔جن محبانِ اُردو نے اُردو کو ذریعہ تعلیم بناکر Teaching Trainingاسناد حاصل کیں، ان میں سے95فیصداُردو محبان نے روزگار حاصل کر لیا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی حیدر آباد کی جانب سے عالیشان ماڈل ہائی اسکول مالیرکوٹلہ میں ایک اوپن لرننگ سینٹر کھولا گیا۔اس سینٹرکی جانب سے فاصلاتی طرزِتعلیم کے ذریعے اُردو میڈیم میں بی اے،ایم اے،بی ایڈ،بی ایس سی، ڈپلومہ ان جرنلزم کے علاوہ اور بھی بہت سے کورسز کروائے جارہے ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان نئی دہلی کی جانب سے پنجاب میں بھی اُردو کی تعلیم کے ادارے قائم کیے گئے ہیں۔جن میں مالیرکوٹلہ کے دارالسلام کمپیوٹر سینٹر، شعبۂ اُردو سرکاری کالج مالیرکوٹلہ،آبان پبلک اسکول مالیرکوٹلہ،ششی فاؤنڈیشن جالندھر،پیپلز ویلفیئر سینٹرگوبند گڑھ،جامعہ عربیہ عزیزالعلوم جالندھروغیرہ مراکز میں اُردو ڈپلوما کورسز چلائے جارہے ہیں۔جس سے اُردو سیکھنے کے خواہش مند ایک سالہ ڈپلوما کورس کے ذریعے اُردو زبان سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ اُردوکے تعلیمی ادارے مالیر کوٹلہ تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ مالیر کوٹلہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی قائم ہیں جن میں لدھیانہ،جالندھر،سنگرور،جیتو منڈی, پٹیالہ، منڈی گوبند گڑھ، کپورتھلہ، گورداس پوروغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ لدھیانہ پنجاب کا ہی نہیں بلکہ شمالی ہند کا سب سے زیادہ آبادی والا اور بڑا صنعتی شہر ہے۔ لدھیانہ کو ساحرؔ لدھیانوی، نظیر لدھیانوی اور سعادت حسن منٹو جیسے بے باک فنکار پیدا کرنے کا شرف حاصل ہے۔فی الحال اس شہر میں اُردو بولنے والے موجود ہیں۔ اِن لوگوں کی اُردو دوستی اور شوق کو دیکھتے ہوئے پنجاب وقف بورڈ نے لدھیانہ میں اِسلامیہ پبلک اِسکول قائم کیاہے جس میں اُردو کی شمع کو بھی روشن کیا گیاہے۔خالِصہ کالج پٹیالہ اور خالِصہ کالج امرتسر کا نام بھی اُردو تعلیم کی فہرست میں شامل ہے۔اِن اِداروں میں ایک سالہ ڈپلوما اُردو کورسزکا اِہتمام کیا جارہا ہے۔ان کالجز میں وہ حضرات جو ملازمت کررہے ہیں بڑے ذوق و شوق سے اُردو تعلیم حاصل کررہے ہیں۔پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کے کیمپس میں ناردن ریجنل لنگویج سینٹر (شمالی علاقائی لسانی مرکز)بھی اُردو کی تعلیم کے لیے عمل پیرا ہے۔اس میں پنجابی، کاشمیری، ڈوگری زبانوں کے ساتھ ساتھ اُردو ڈپلوما کروایا جارہا ہے۔اِس کے عِلاوہ اِس اِدارے کی جانب سے اردو اِساتِذہ کے لیے اسباق کی تیاری، اُردو ورکشاپ، ریفریشرکورس، اورینٹل کورس اور سیمیناروں کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔جس سے اُردوتعلیم و تدریس کے مسائل کے بارے اُردو اساتذہ کے شعور اور تازگی میں اضافہ ہورہاہے۔پٹیالہ میں واقع بھاشا وبھاگ پنجاب اُردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لیے کام کرنے والا شمالی ہند کا ایک اہم ادارہ ہے۔ بھاشا وبھاگ پنجاب کی اُردو خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔اس ادارے کی جانب سے فروغِ اُردو کیلئے 1975میں ایک نئے سیکشن کا افتتاح ہوا۔اس سیکشن نے نوجوان نسل میں اُردو زبان سیکھنے کی شدید خواہش کو محسوس کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ضلع صدر مقامات میں اُردو کے مراکز قائم کیے جائیں۔ 1976کی پہلی صبح کو پنجاب کے تقریباً دس بڑے ضلع صدر مقامات پر اُردو کی تعلیم کے مفت مراکز کھولے گئے۔جوہرضلع میں‘‘ضلع بھاشا مرکز’’کے نام سے ششماہی کورس‘‘اُردو آموز’’جنوری سے جون اور جولائی سے دسمبر کے دوران اُردو تعلیم مفت دینے میں رواں دواں ہے جس میں تقریباً تین،چارسو طلبا سالانہ اُردو پڑھتے ہیں۔پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ نے فروغِ اُردو کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔شعبۂ فارسی،اُردو اور عربی پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں پی ایچ ڈی(اُردو،فارسی)، ایم اے (اُردو،فارسی)، اُردو،فارسی اور عربی میں ایک سالہ سرٹیفکیٹ کورس،اُردو فارسی ڈپلوما اور پوسٹ گریجویٹ سطح کی تعلیم کا انتظام ہے۔اس شعبہ کی جانب سے کیے گئے تحقیقی و تنقیدی کام کے ذریعے اُردو اور پنجاب کے رشتہ کو برقرار رکھنے کے لیے بھی بھرپور کوششیں جاری ہیں زِیادہ تر تحقیقی کام پنجاب کے حوالے سے ہی کروایا جارہا ہے۔ہر سال یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے اُردو فارسی طلبا اکثر وہ ہوتے ہیں جن کی مادری زبان پنجابی ہوتی ہے۔اُردو والوں کو یہ جان کرخوشی ہوگی کہ پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ ایسی پہلی یونیورسٹی ہے کہ جس میں شعبۂ اُردو فارسی اساتذہ کے تعاون سے پنجابی ڈپارٹمنٹ کے بی۔اے آنرز اِن پنجابی اور ایم۔اے طلبا کو بھی اُردو فارسی زبان سکھانے کے لیے باقاعدہ ریگولر کلاسیز لگائی جارہی ہیں۔’اکیسویں صدی میں اُردو فروغ اور امکان‘میں ڈاکٹر ناشرنقوی لکھتے ہیں: ’’مشرقی پنجاب کے حوالے سے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ موجودہ زمانے میں جن لوگوں نے اُردو زبان و ادب میں تحقیقی کام کیے تقریباً سبھی روزگار حاصل کر چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اسکولی سطح سے یونیورسٹی سطح تک طلبا کی تعداد میں دن بدن اضافے ہو رہے ہیں۔اس اضافے کو اس مثال سے واضح کیا جاسکتا ہے کہ1968 سے 2000تک پنجابی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے صرف آٹھ لوگوں نے پی ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی جب کہ2001سے 2013کے دوران گیارہ اسکالرز کو پی ایچ۔ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔اور بیس ریسرچ اسکالرز پی ایچ۔ڈی میں رجسٹرڈ ہیں۔اس طرح اکیسویں صدی کے ابتدائی تیرہ برسوں میں اکتیس پی ایچ ایک ہی یونیورسٹی سے ہونا اُردو کے بہترین مستقبل اور وسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‘‘ اکیسویں صدی میں اُردو کی اطمینان بخش صورتِ حال پچھلی صدیوں سے کہیں زِیادہ بہتر نظر آتی ہے۔ اس تعداد میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔گورو نانک دیو یونیورسٹی امرتسر کا شعبۂ اُردو فارسی بھی اُردو ترویج و ترقی کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔اس شعبہ کی جانب سے بھی سرٹیفکیٹ،ڈپلوما اور ایڈوانسڈ ڈپلوما اِن اُردو،فارسی کے عِلاوہ ایم۔اے کی سطح تک اُردو زبان وادب کی تعلیم کا بھی اِہتمام ہے۔طلبہ ریسرچ کی سہولت سے بھی فیضیاب ہورہے ہیں۔مشرقی پنجاب کی راجدھانی چنڈی گڑھ میں واقع پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ کے کیمپس میں شعبۂ اُردو قائم ہے۔ جہاں پر سرٹیفکیٹ،ڈپلوما اور ایڈوانسڈ ڈپلوما اِن اُردو،فارسی کے علاوہ ایم اے اُردو اور شعبۂ اُردو کے اساتذہ کی زیرِ نگرانی اُردو ریسرچ اسکالر پی ایچ۔ڈی کررہے ہیں۔ عِلاوہ ازیں اُردو طلباکی ایک کثیر تعداد مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالے تحریر کرکے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کر چکی ہے۔یونیورسٹی کے ایوننگ اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں بھی بی۔اے کی سطح تک اُردو تعلیم کا اِنتظام کیا گیا ہے۔ پنجاب کی ان تینوں یونیورسٹیوں کے فاصلاتی نظام ِ تعلیم میں اُردو بطور مضمون بی۔اے اور ایم اے میں پڑھانے کا انتظام ہے ساتھ ہی بی۔ایڈ(ایڈیشنل اُردو) بھی پرائیویٹ طور پر کی جاسکتی ہے۔ مشرقی پنجاب میں سال رواں سے شری گورو گرنتھ صاحب یونیورسٹی فتح گڑھ صاحب میں بھی ڈپلوما اُردو کورس شروع کیا گیا ہے۔امید ہیصوبہ پنجاب میں اُردو کی ترویج و ترقی میں یہ یونیورسٹی بھی اہم کردار نبھائے گی۔پنجاب اُردو اکیڈمی مالیرکوٹلہ محبانِ اُردو کا ایک دیرینہ خواب ہے۔جومسلسل کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد پنجاب اُردو اکیڈمی فعال نظر آئی ہے۔پنجاب اُردو اکیڈمی کا قیام اُردو زبان و ادب کے فروغ کے مقصد سے عمل میں آیا۔طلبا کے اندر خود اعتمادی اور گرم جوشی پیدا کرنے کی خاطر اکیڈمی کی طرف سے مقابلے کروائے جارہے ہیں۔امید ہے کہ صوبہ پنجاب میں اُردو کی ترویج و ترقی اور اُردو درس و تدریس کو دیہاتوں تک پہنچانے کے لیے اکیڈمی مددگار ثابت ہوگی۔افسوس اس بات کا ہے کہ پنجاب اُردو اکادمی میں مستقل ریگولر آسامیاں نہیں ہیں۔اردو زبان کو فروغ دینے میںدینی مدارِس نے جو کردار نبھایا ہے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔مشرقی پنجاب کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں بے شمارایسے اُردودینی مدارِس قائم ہیں جن میں اُردو میڈیم کے ذریعے تعلیم دی جارہی ہے۔اُردو تعلیم کی ترقی کے لیے مدارِس نے بے شمار خدمات انجام دی ہیں۔پنجاب میں اُردو تعلیم کی ترویج و ترقی اور ادبی ماحول بنانے میں مختلف انجمنوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔آزادی کے بعد جب اُردو زبان کا پر سانِ حال کوئی نہ تھا تو اُس وقت اِسے اُردو انجمنوں نے سہارا دیا۔انجمنوں نے ریاست کے مختلف علاقوں میں اُردو زبان دانی کے لیے کلاسیں شروع کیں۔آج بھی انجمن فروغِ ادب،بزمِ ادب،جماعتَ اسلامی ہند،ایجوکیشنل سوسائٹی،افسانہ کلب، ادیب انٹرنیشنل جیسی ادبی و مذہبی تنظیموں نے بھی اُردو کی شمع کو مزید تقویت بخشی ہے۔مشرقی پنجاب میں اسکولوں کا اہم مسئلہ اُردو کتب کی فراہمی کا ہے۔پنجاب اِسکول ایجوکیشن بورڈ کی طرف سے این سی ای آر ٹی کی اُردو کتب نصاب میں شامل کی گئی ہیں۔عام طور پر کتابوں کی دستیابی وقت پر نہ ہونے کی وجہ سے اِسکولوں کے ذمہ داران کودہلی جاکر کتابیں حاصل کرنی پڑتی ہیں۔دہلی میں بھی آسانی سے کتابیں حاصل نہیں ہوتیں۔اگر کتابوں کی فراہمی کے مسئلے کو قومی کونسل برائے فروغِ اُردو زبان کے اشتراک سے حل کر لیا جائے تو پنجاب میں اُردو پڑھانے والے اسکولوں کا اہم مسئلہ حل ہوجائے گا۔فی الحال پنجاب میں اُردو کے تقریباً110 پرائمری اِسکول،60مڈل اِسکول اور14 ہائر سیکنڈری اِسکول چل رہے ہیں۔ 6 کالج 2بی۔ایڈ کالج،چار یونیورسٹیوں کے علاوہ، کافی تعداد میں دینی مدارِس اور ادبی انجمنوں کے ذریعے بھی اُردو کی تعلیم و ترقی کیلئے کوششیں جاری و ساری ہیں امید ہے مشرقی پنجاب میں فروغِ اُردو کا مستقبل روشن ہے۔ المختصر اِن حقائق کی روشنی میں اِتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ مشرقی پنجاب میں اُردو کی دن بدن ترقی ہورہی ہے اور اُردو کا مستقبل خوشنما ہے۔لیکن ضرورت اِس بات کی ہے کہ قومی کونسل برائے فروغِ اُردوزبان،نئی دہلی جیسے فعال اِدارے پنجاب سرکار کے تعاون سے مشرقی پنجاب میں فروغِ اُردو کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہے اِن اِداروں،اِسکولوں اور کالجوں میں اُردو کی ترقی کے لیے راستے میں آرہی رکاوٹوں کا حل نکالیں۔مجھے امید ہے کہ یہ مقالہ مشرقی پنجاب کے حالیہ منظر نامے کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔

***

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *