محسنہ نگار
(ریسرچ اسکالر،روہیل کھنڈ،یونیورسٹی بریلی)
Supervisor Name
Dr. Abdur Rab, Head of Urdu Department
M۔H P G College، Moradabad
ابنِ کنول کی خاکہ نگاری
(’’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘‘کے حوالے سے)
خاکہ نگاری کا فن اردو ادب کی ایک اہم اور مقبول صنفِ ادب رہی ہے۔ادب کی ہر صنف نظم ہو یا نثر،اپنا ایک مخصوص ہیئت اور مزاج رکھتی ہے۔خاکہ نگاری ہیئت،فکری اور فنی اعتبار سے ایک منفرد صنف ادب ہے۔ اٹھارہویں صدی کی نصف دہائی میں اردو خاکہ نگاری کے آغاز کے اولین نقوش ملتے ہیں۔ اردو ادب میں قدیم تذکروں کو اردو تنقید کا ابتدائی نقش مانا گیا ہے اور خاکہ نگاری کی شناخت بھی تذکروں سے ہی ہوئی ہے۔خاکہ نگاری کے آغاز میں تذکرے بہت اہمیت رکھتے ہیں لیکن خاکہ نگاری کی توقع تذکروں سے مکمل نہیں ہو پاتی کیونکہ تذکروںمیںکسی شخصیت کے خد و خال بیان کرنے سے زیادہ اس کے ادبی کارناموں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ شخصیت سے متعلق چند تعریفی یا تعارفی جملے یا اس کی زندگی کا کوئی ایک آدھ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔لیکن ان تعارفی جملوںاورکچھ واقعات سے مجموعی طور پر کوئی واحد تاثرقائم نہیںہوتااور حقیقی شخصیت سامنے نہیں آپاتی۔ بلا شبہ قدیم تذکروںمیں خا کہ نگاری کی ایک جھلک تو ملتی ہے لیکن شعوری طور پروہ خاکہ نگاری کی مکمل تعریف پر پورا نہیں اترتے۔ اس خلا کو فنِ خاکہ نگاری میںپُرکیا گیاجس سے ایک کامل خاکہ کی تخلیق وجود میںآئی۔
اردو ادب میں خاکہ نگاری کا باضابطہ طور پر آغاز مرزا فرحت اللہ بیگ دہلوی کی مشہور تخلیق ’’مولوی نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی‘‘سے ہوا۔اس کے بعد اردو ادب میں خاکہ نگاری کی روایت میں فروغ آیا۔ ڈپٹی نذیر احمد کے خاکوں نے جو مقبولیت حاصل کی وہ دوسرے کسی خاکے کو نصیب نہیں ہوئی۔’’نام دیو مالی‘‘نام سے مولوی عبد الحق نے اور ’’کندن‘‘ نام سے رشید احمد صدیقی نے خاکے لکھے ہیں جس کے مرکز میں حاشیائی کرداروں کو ان کا جائز مقام عطا کرنے پر توجہ دی ہے۔اس کے علاوہ اردو ادب میں بہت سے خاکے تخلیق کئے گئے لیکن ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر خاکے گمنام ہو گئے ہیں۔
عام طور پر خاکہ ان افراد پر لکھا جاتا ہے جو راوی یاخاکہ نگار کے بے حد قریب ہو اور جس کا تعلق براہ راست خاکہ نگار سے ہو۔خاکہ نگاری کی ایک اہم شرط یہ ہوتی ہے کہ خاکہ نگار کو اپنی تخلیق میں جانب داری سے نہیں بلکہ حقیقت نگاری اور غیر جانب داری سے کام لینا ہوتا ہے۔خاکے میں ممدوح کی شخصیت کی تمام منفی اور مثبت پہلوئوں کو حقیقی طور پر اشاروں اور کنائیوں کے ساتھ ادا کیا جائے۔اردو خاکہ نگاری کی تاریخ میں ایسے بہت سے خاکے ملتے ہیں جن میں جھوٹ اور بے جا مبالغہ آرائی کا سہارا لیا گیا ہے۔اس طرح کے خاکوں سے ممدوح اور خاکہ نگار دونوں کی شخصیت اثر پزیرہوتی ہے۔
پروفیسر ابنِ کنول اردو ادب میں ایک نمایاں افسانہ نگار کی حیثیت سے اہم مقام رکھتے ہیں۔وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ایک بڑے اور کامیاب افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ہی وہ ایک محقق، ناقد،شاعر، ڈرامہ نگار،خاکہ نگار، انشائیہ نگار اور سفر نامہ نگار بھی ہیں۔ کووڈ۔۱۹ جیسی مہا ماری کے سبب دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ہی ہندوستان میں بھی جب حاکمِ وقت نے ۲۴ مارچ، ۲۰۲۰ کو ۲۱ دن کا لاک ڈائون کا اعلان کیا۔ اس دوران کوئی بھی کسی سے نہیں مل سکتا تھا اور ہر کسی کو گھر سے باہر آنے جانے پر پابندی تھی۔ایسے وقت میں اردو ادباء اور شعراء کو گھر بیٹھے کام کرنے کا موقع ملنا کسی نعمت کے ملنے سے کم نہ تھا۔اس دوران کسی نے شاعری کی تو کسی نے افسانے لکھے، کسی نے گھر بیٹھے اپنا تحقیقی کام انجام دیا تو کسی نے تنقیدی اور کسی نے اپنے زندگی کی اہم شخصیات اور اپنے رفیقوں کو یاد کرتے ہوئے خاکے لکھے۔انہیں میں سے ایک پروفیسر ابنِ کنول نے بھی دورانِ لاک ڈائون میں فیس ُبک اور یوٹیوب پر ویڈیو کی شکل میں اردو ادباء پر اپنے لکھے ہوئے خاکے پڑھتے ہوئے نظر آئے ۔ انہیں خاکوں کو ایک مجموعہ کی شکل میں ’’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘‘ عنوان سے تحریر کیا جس میں انہوں نے اپنے معاصرین، رفیقوں اور اساتذہ کے نام سے خاکے قلم بند کئے ہیں جو کتابی شکل میں کتابی دنیا، دہلی سے ۲۰۲۰ء میں شائع ہوا۔اس مجموعے میں کل پچیس خاکے شامل ہیں۔جن میں سے ایک ادارتی خاکہ ’’ منٹو سرکل‘‘ کے عنوان سے لکھا ہوا ہے اور باقی سبھی خاکے ادبی شخصیات پر مبنی ہیں۔
اس مجموعے میںپروفیسرابنِ کنول نے ان سبھی اشخاص کے خاکے تحریر کئے ہیں جن سے ان کو دلی وابستگی تھی۔ مجموعے میںشامل ہر خاکے کا عنوان ان اشخاص کے نام پر ہی ہے ۔پروفیسرابنِ کنول نے مجموعے میں تحریر کئے گئے خاکوں کے متعلق دیباچہ نما ’’معذرت نامہ‘‘ میں اپنے قارئین تک مزید معلومات پہنچاتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
’’ اس نظر بندی میں مجھے میرے اپنے یاد آئے،جن سے میرا خون کا رشتہ نہیں دل
کا رشتہ تھا اور دل کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔میں نے ان کو قلم کے ذریعہ یاد کرنے
کا فیصلہ کر لیا۔۱۲؍ اپریل کو’’داستان کی جمالیات‘‘کا پیش لفظ لکھ کر کتاب مکمل کی اور
۱۴؍اپریل سے خاکے لکھنا شروع کر دیئے۔سب سے پہلے اپنے پرائمری اسکول کے
استاد کو یاد کیا،پھر اسکول کے ہم جماعت کی یاد آئی،پھر علی گڑھ اور دہلی کے اساتذہ
اور دوستوں کو یاد کیا۔ہر روز ایک خاکہ لکھا،پھر سوچھا کہ محنت کیوں رائگاں جائے،
اسے کتابی شکل دے دی جائے،سو کتاب حاضر ہے۔‘‘
(کچھ شگفتگی، کچھ سنجیدگی، صفحہ نمبر ۹)
پروفیسر ابنِ کنول نے معذرت نامہ کے بعد پہلا خاکہ اپنے پرائمری اسکول میں ریاضی اور آرٹ کے استاد ’منشی چھٹن‘کے نام سے تحریر کیا ہے۔اس خاکے میں انہوں نے قصبہ گنور کے اردو میڈیم اسلامیہ اسکول اور وہاں کے اساتذہ سے متعلق دل چسپ یادوں کو قلم بند کیا ہے۔پروفیسر ابنِ کنول اپنی زندگی کی یادوں کے اوراق کو پلٹتے ہوئے قارئین کو اس زمانے میں لے گئے ہیں جہاں کی فضا میں صرف سچائی اور صداقت گھلی ملی تھی۔اس خاکے میں انہوں نے اپنے استاد محترم کی شخصیت، ان کی خوبیوں اور خامیوں کو بہت خوبصورت رنگوں سے ابھارا ہے۔اس بات کا اعتراف انہوں نے خود کیا ہے کہ بچپن میں جو بھی سبق اپنے استاد منشی چھٹن سے پڑھا تھا وہ سب آج بھی یاد ہے۔وہ اپنے استاد محترم منشی چھٹن سے بہت متاثر رہے۔ ان کی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر کیا ہے جس سے ایسا خیال ہوتا ہے کہ پروفیسر ابنِ کنول کا یہ خاکہ ان کے دل کے بے حد قریب اور بہت عزیز رہا ہوگا۔اس خاکے میںہمیں ان کے استاد محترم منشی چھٹن سے ان کی بے پناہ خلوص و محبت کا ثبوت اور ان کے بچپن کی خوبصورت یادوں کی جھلکیاں ملتی ہیں۔
’’منٹو سرکل‘‘ اس مجموعے کا ایک واحد ادارتی خاکہ ہے جس کو لکھ کر پروفیسر ابنِ کنول نے اپنی ابتدائی درس گاہ کو قلمی خراجِ عقیدت پیش کی ہے۔منٹو سرکل علی گڑھ کی وہ درس گاہ ہے جہاں سے ابنِ کنول کی زندگی کا ایک نیا آغاز ہوا۔اس خاکے میں انہوں نے اپنے طالب علمی کے زمانے کی سنہری یادوں اور اپنی حرکت و عمل کو ایماندارانہ طور پر قلمی قالب پہنایا ہے۔اس خاکے میں انہوں نے منٹو سرکل کے اپنے دوست اور اساتذہ کا ذکر بہت خوش اسلوبی سے کیا ہے کہ خاکے کو پڑھ کر ایسا خیال ہوتا ہے کہ منٹو کی تعلیم و تربیت کا اثر اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی پروفیسر ابنِ کنول کے دل میں نقش پا رہا۔
اس کے بعد پروفیسر ابنِ کنول نے مجموعے ’’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘‘ میں اپنے قابل احترام اساتذہ اور چند قدآور شخصیات اور وہ دوست جن کے ساتھ اپنی زندگی کا طویل سفر طے کیا،ان کے خاکے تحریر کئے ہیں۔ قاضی عبدالستار، قمر رئیس، تنویر احمد علوی، گوپی چند نارنگ، حیات اللہ انصاری، محمد عتیق صدیقی، عصمت چغتائی اور عینی آپا کے ساتھ ہی اپنے ہم عصروں اور رفیقوںمیںفاروق بخشی، علی احمد فاطمی، پیغام آفاقی، خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر ارتضیٰ کریم، پروفیسر اے رحمن اور محمد زماں آزردہ جیسے نئے دور کے تخلیق کاروںپر قلم اٹھایا ہے۔آخری خاکہ ’’محمد شریف‘‘ ایک ملازم کے نام پر لکھاہے جس کا مقصدایسی شخصیات پر قلم اٹھا کر روشنی میںلاناہے جن کو لوگ کمتر سمجھ کر نظر اندازکر دیتے ہیں۔ پروفیسر ابنِ کنول نے اس مجموعے میںلکھے اپنے عزیز اساتذہ کے خاکوںکو بہت ہی شفقت اور عقیدت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ان خاکوںمیںممدوح کی شخصیت اور افعال کو اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ ان کی حقیقی تصویر ہماری نظروںکے سامنے ابھر آتی ہے۔
دیکھا جائے توخاکہ نگاری کی روایت اکیسویں صدی میںکچھ ماند سی پڑھ گئی ہے۔عہد جدید میںخاکے لکھنے کے بجائے خاکہ نگار نے تنقید اور تنقیص کو ترجیح دی لیکن پروفیسرابنِ کنول نے اس رحجان سے الگ ہٹ کرخاکہ نگاری کی قدیم روایت اور اس کے فن کی پیروی کرتے ہوئے نظر آئے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے خاکہ نگاری میںپھر سے جان پھونک دی ہے۔خاکہ نگاری کے متعلق معزرت نامہ میں لکھتے ہیں کہ :۔’’خاکہ نگاری بہت ہی نازک صنف ہے، شیشہ گری ہے۔ذرا سی
لغزش سے خاکہ نگار بھی اور وہ شخصیت بھی جس پر خاکہ لکھا گیاہے، برباد ہو سکتے ہیں۔غزل کی طرح اس میں اشاروں اور کنایوں میں بات کی جاتی ہے۔جو شخص اشاروں میں بات نہیں کر سکتا وہ خاکہ نہیں لکھ سکتا۔‘‘
پروفیسرابنِ کنول کے دلچسپ اسلوب اور دلکش اندازِبیان نے ہر طرح کے قاری کو ان کے خاکے پڑھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عام طور پراکثر خاکہ نگار ممدوح پر طنز کرتا ہے لیکن ابنِ کنول کی خصوصیت ہے کہ انہوں نے ممدوح کے ساتھ ہی خود پر بھی طنز کیا ہے جو کہ خاکہ نگاری کی روایت میں ایک جدید روش سی معلوم ہوتی ہے۔اس کتاب میں
پروفیسر ابنِ کنول کے تخیل اور تفکر کی بہترین کارفرمائی نظر آتی ہے۔اس کتاب میں انہوںنے جس ایک کا بھی خاکہ لکھا ہے ان سے متعلق خاص پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
’’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘‘ میں شامل تمام خاکوں میں پروفیسر ابنِ کنول کی اپنی شخصیت بھی جھلکتی ہے کہ ان تمام اشخاص سے ان کے بے حد قریبی رشتے رہے ہیں۔ان خاکوں کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ابنِ کنول نے بہت ہی ایمانداری،بے باکی اور غیر جانب داری سے خاکے تحریر کئے ہیں۔ممدوح کی جیسی شخصیت تھی ہو بہ ہو اسی طرح سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خاکہ کا فن کسی کی شخصیت کو ایمانداری سے ہلکے پھلکے انداز میںبیان کرنا ہے یعنی کہ اس میں کسی کی نہ تو بے جا برائی کی جائے اور نہ ہی تعریف۔پروفیسر ابنِ کنول نے اپنے مجموعے میں ان تمام باتوں کو دھیان میںرکھتے ہوئے ممدوح کے متعلق خاکہ تحریر کیا ہے اور فن خاکہ نگاری کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے کہ خاکہ پڑھتے وقت ایسا گمان ہوتا ہے کہ ان کا ہر خاکہ افسانوی ادب کا ایک حصہ ہے۔
اس کتاب کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اس میں پروفیسرابنِ کنول نے خاکہ نگاری کی روایت میں ایک بالکل جدید قسم کی تکنیک کا استعمال کیا ہے وہ یہ کہ انہوں نے جس بھی ادبی شخصیت پر خاکہ تحریر کیا ہے اس کی خصوصیات کو اس کے ادبی تخلیقات کے نام سے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔جیسا کی قاضی عبدالستار کے خاکے میں ان سے متعلق لکھتے ہیں :۔
’’قاضی صاحب نے زندگی چاہے ’’غالب‘‘کی طرح گزاری ہو، لیکن ’’خالد
بن ولید‘‘کی طرح رسولِ خدا سے محبت کرتے تھے، مجاہدانہ انداز ’’صلاح
الدین ایوبی‘‘جیسا تھا، ’’دارا شکوہ‘‘سے گنگا جمنی تہذیب کا درس لیا تھا۔وہ
’’شب گزیدہ‘‘فن کار’’غبار شب‘‘میں بھٹکتے ہوئے ’’بادل‘‘کو’’ مجو بھیا‘‘کا
پیغام دیتا تھاکہ اب کسی’’ حضرت جان‘‘کا ’’پہلا اور آخری خط‘‘نہیں آئے
گا۔’’رضو باجی‘‘ کی ’’آنکھیں‘‘ پتھرا گئیں۔’’پیتل کا گھنٹا‘‘ بس ’’ایک کہانی‘‘
بن چکا تھا۔’’نیا قانون‘‘آنے کے بعد’’ میراث‘‘ میں بس ایک ’’دیوالی‘‘ کا
دیا بچا تھا جو’’ لالہ امام بخش‘‘نے’’ ٹھاکر دوارے‘‘ کی ’’مالکن‘‘ کے آگے
رکھ دیا تھا،جس کی مدھم روشنی سے’’تاجم سلطان‘‘ کا حسن دمک رہا تھا، لیکن
’’بھولے بسرے‘‘کبھی ’’مجری‘‘ہوتا تھا۔‘‘
(کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی، صفحہ نمبر ۳۴ تا ۳۵)
اسی طرح قراۃ العین حیدر، عصمت چغتائی وغیرہ پر تحریر کردہ خاکوں میں بھی اس انداز سے لکھا ہے کہ قارئین اس کو خاکہ کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ اپنی علمی صلاحیت اور زورِ قلم کی بنا پر انہوں اس نئی طرز کو اپنے قارئین سے متعارف کروایاہے، جو کافی دلچسپ اور لازوال ہے۔
پروفیسرابنِ کنول کی خاکہ نگاری کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے خاکوں میں بہترین منظر کشی بھی کی ہے۔انہوں نے مناظر کے بیانیہ میں ایک ڈرامائی عناصر پیدا کر کے اس کی بقا میں مزید چار چاند لگا دئے ہیں۔جن کو پڑھتے ہوئے ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنی آنکھوں سے ان مناظر کو دیکھ رہے ہوں۔
پروفیسرابنِ کنول نے اپنے خاکوں میں نئی نئی جدت و ندرت اور دلچسپ اسلوب کو استعمال کیا ہے جو ان خاکوں کو زندہ جاوید بنانے کے ساتھ ہی ہر طرح کے قاری کو محظوظ کراتا ہے۔وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کس کو کس طرح سے قاری کو متعارف کرانا ہے جس سے کہ ہر قسم کا قاری ان سے محظوظ رہے۔پروفیسرا بن کنول اپنے عزیزوں کا بیان نہایت ہی خوبصورتی اور لطف اندوزی کے ساتھ کرتے ہیں کہ ایک خوشنما فضا کا احساس ہوتا ہے۔بعض جگہ واقعات طوالت لئے ہیں جس سے لگتا ہے جیسے خاکہ نگار اصل موضوع سے ہٹ گیا ہے اور خاکے پر افسانوی ادب کا رنگ چڑھ گیا ہے۔پروفیسرابنِ کنول نے ان خاکوں میں عام فہم زبان استعمال کی ہے اور بعض جگہ ضرب المثل اور محاورات کا بر جستہ استعمال کیا ہے،اس کے ساتھ ہی خاکوں میں چست جملے اور درست فقرے استعمال کئے ہیں۔
پروفیسر ابنِ کنول کے خاکوں میں بات سے بات نکالنے کا فن معنی خیز ہے۔انہوں نے چھوٹی چھوٹی باتوں کو خاکوں میں قلم بند کر کے رنگا رنگی کی ہے۔ کتاب کی جازبیت اس قدر ہے کہ اگر قاری اس کا مطالعہ ایک بار شروع کر ے تو اختتام پرہی دم لے۔ پروفیسرابنِ کنول نے ان خاکوں میں تحریر کردہ سبھی موضوعِ اشخاص کے ساتھ انصاف کیا ہے۔خاکے میں جہاں ان کے اوصاف کو بیان کیا ہے تو وہیں ان کی خامیوں کو بھی قلم بند کیا ہے۔بزرگ ادیبوں کے خاکوں میں زبان و بیان کو سہولیت کے ساتھ برتاہے۔واقعہ نگاری اور منظر نگاری کو جزئیات کے ساتھ پیش کیا ہے۔
اگر کہا جائے کہ ’’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘‘ صرف خاکوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ تو معلومات کا خزانہ ہے، تو بے جا نہ ہوگا۔جیسا کہ کتاب کا عنوان ہے اسی کے مطابق ان خاکوں میں’ شگفتگی اورسنجیدگی‘کے عناصر کی موجودگی جا بجا ملتی ہے ۔
پروفیسرابنِ کنول نے ان خاکوں میں صحت مند تنقید کے پہلو مزاح کی چاشنی میں لپیٹ کر پیش کئے ہیں۔ پروفیسر ابنِ کنول نے ان خاکوں کو اپنے قلمی جوہر سے نوازتے ہوئے بہت عمدگی اور خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ساتھ ہی وہ وقار اور توانائی بخشی ہے کہ فنِ خاکہ نگاری میں نئی جان ڈال دی ہے۔انہوں نے خاکہ نگاری کی روایت کو مزید زندہ رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ کیونکہ ان کو یہ احساس تھا کہ آنے والی نسلیں ان خاکوں کے مطالعے سے مجموعے میں تحریر کردہ اشخاص کی ادبی حالات زندگی اور شخصیت سے رو برو ہو سکتی ہیں۔ پروفیسرابنِ کنول کے خاکے دورِ حاضر کے لکھے خاکوں میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔بلاشبہ ان کو لکھ کر پروفیسر ابن کنول نے خاکہ نگاری کی روایت میں ایک اہم اضافہ کیا ہے ۔یقینا ان کے تحریر کردہ خاکے تاریخ خاکہ نگاری میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیںکہ اس فن میں انہوں نے ادب کومنفرد طرزادا سے واقفیت کرائی ہے۔
حوالہ جات :
۱۔ اردو ادب میں خاکہ نگا ری، ڈاکٹر صابرہ سعید،۱۹۷۸
۲۔ اردو کے منتخب خاکے، یوصف ناظم،۲۰۰۸
۳۔ کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی، ابنِ کنول،۲۰۲۰
Mohsina Nigar
Research Scholar,Rohelkhand University,Bareilly
