You are currently viewing اصغر ندیم سید کے ناول ’’جہاں آباد کی گلیاں‘‘ کا  اجمالی جائزہ

اصغر ندیم سید کے ناول ’’جہاں آباد کی گلیاں‘‘ کا  اجمالی جائزہ

علی حسن

ایم فل اسکالر، شعبہ اردو، جی سی یونیورسٹی لاہور

اصغر ندیم سید کے ناول ’’جہاں آباد کی گلیاں‘‘ کا  اجمالی جائزہ

Ali Hassan

M.phil scholar, Department of Urdu, GC University Lahore

A brief overview of Asghar Nadeem Syed’s novel “Jahanabad ki Galiyan.”

Abstract: Novel “Jahanabad ki Galiyan” is set against the harsh backdrop of General Zia-ul-Haq’s military dictatorship in Pakistan, a time remembered as one of the darkest periods in the country’s history. The story follows a protagonist who recounts his personal journey during this oppressive era. After the execution of Prime Minister Zulfikar Ali Bhutto, the protagonist writes a bold poem defying the regime, an act that leads to his imprisonment in Lahore’s historic Shahi Qila. Eventually, he is exiled to London, where he begins to see the flaws and hypocrisy within Pakistan’s political elite. In London, he also witnesses the struggles of marginalized people, many of whom are poor Pakistani laborers and their vulnerable wives, brought to the UK under false promises of better lives. The novel examines how Zia’s regime facilitated the migration of these workers, but often at the cost of their exploitation and broken families. After 11 years, the protagonist returns to Pakistan, only to find a country and a city that feel completely foreign. His wife and infant son have disappeared, lost in the turmoil of Zia’s repressive rule. In the end, the story explores the deep emotional and social costs of dictatorship, showing how both personal relationships and the nation itself were shattered by tyranny, yet also highlighting the resilience and memory that survive in the face of such devastation.

Key words: Military dictatorship, Marginalized people, Asghar Nadeem syad, Martial Law, Repressive rule, Social Costs

پاکستان پر مارشل لاء کے دور بڑے بھاری گزرے ہیں۔ ایسے ہی ایک دور کی سیاہ داستان کو احاطہ تحریر میں لاتا ناول “جہاں آباد کی گلیاں” ہے۔ یہ ناول 2023ء میں شائع ہوا جس کا پسِ منظر  ضیاء الحق کے مارشل لاء کا سخت دور ہے۔ کہانی متکلم کردار کے گرد گھومتی ہے جو اپنی کہانی اپنی زبانی بیان کرتا ہے۔ ناول کا آغاز 3 اپریل 1978ء کی ایک بوجھل شام سے ایسے کردار کی کہانی سے ہوتا ہے جو کالج میں لیکچرار ہے اور اپنی مختصر تنخواہ سے بڑے کنبے کی کفالت کر رہا ہے۔ اس کی بیوی حاملہ ہے جس سبب وہ ہسپتال کی راہداری میں پریشان بیٹھا باپ بننے کی خبر سننے کے لیے بے چین ہے۔

“تین اپریل کی شام اب رات میں بدل رہی تھی اور کسی کو معلوم نہیں تھا یہ رات جو آج اتر رہی ہے یہ کتنی طویل ہوگی۔ کم سے کم مجھے تو اس وقت سوچنے کی فرصت ہی نہیں تھی۔ ہماری شامیں اور ہماری راتیں ہمیشہ کہیں اور طے ہوتی ہیں۔ انہیں کسی حد تک جانا ہے، یہ فیصلہ اس شام نہیں ہو سکتا تھا۔” 1

چار اپریل کی صبح یہ خبر آتی ہے کہ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ اس خبر سے چاروں طرف اداسی اور غصے کی لہر دوڑ جاتی ہے، لوگ سڑکوں پر احتجاجاً خود کشیاں کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ انٹلکچوئل لوگ یہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اچانک بھٹو کو پھانسی کیوں کر ہو گئی اور انہیں کسی دوسرے مسلمان ملک جلا وطن کیوں نہ کر دیا گیا۔ پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیب انقلاب کے خواب دیکھنے لگے کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد اب عوام سڑکوں پر نکلے گی اور انقلاب کا خواب، جو ترقی پسندوں نے ہمیشہ دیکھا، پورا ہو جائے گا۔

“ان دنوں انقلابی ترقی پسند ہمیں فرانز فینن، مارکس، پابلو نرودا، ناظم حکمت اور بریخت پڑھا چکے تھے اور ہمیں لگتا تھا پاکستان میں بھی ویسے ہی انقلاب آئے گا جیسے دنیا کے اور ملکوں میں آیا ہے۔ یہ نہیں جانتے تھے کہ لاکھوں لاشوں پر انقلاب کا پھریرا لہراتا ہے۔ یہ حقیقت نہ ہم سننا چاہتے تھے اور نہ دیکھنا چاہتے تھے۔” 2

متکلم کردار کی یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے نومولود بیٹے کا نام ذوالفقار علی رکھے کیونکہ وہ اسی شب پیدا ہوا جب بھٹو کو پھانسی دی جا رہی تھی۔ مگر وہ حکومتی جبر کے ڈر سے یہ نام رکھنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد انقلابی شاعروں نے اس واقعے کو نظموں میں ڈھالا اور ایک کتاب بعنوان “خوشبو کی شہادت” 3 مرتب کر کے شائع کی گئی۔ کتاب کے چھپتے ہی حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی۔ اور ساتھ ہی لکھاریوں کو حکم دیا گیا کہ اگر وہ اپنی کوئی بھی تحریر شائع کرنا چاہتے ہوں تو اس کی باقاعدہ اجازت لینا ہوگی۔ اس واقعے کے بعد ادیبوں کو گھروں سے اٹھایا جانے لگا۔ راتوں کے اندھیروں میں ادیبوں کو گھر سے اٹھا جیل کی سلاخوں تک کا مرحلہ طے کروایا جاتا۔  زیادہ عتاب کا شکار شاعر ٹھہرے کیونکہ “ادیبوں سے زیادہ خطرے میں شاعر ہوتا ہے کہ شاعر کی آواز جلد عوام تک پہنچتی ہے۔” 4

اسی دوران پپو کے قاتلوں کو سر عام پھانسی دی گئی، جس سے ہر گلی بازار حکومتی قہر کا شکار نظر آنے لگا۔

اک تیر ساعد جیسی صدا ہر مکان میں

لوگوں کو ان کے گھروں میں ڈرا دینا چائیے 5

شراب پر پابندی عائد کر دی گئی۔ شام پڑتے ہی سڑکوں پر ناکے لگا دیے جاتے اور جیلوں کے دروازے کھل جاتے۔ انقلابی ادیب ہر وقت خوف میں مبتلا رہنے لگے کہ نہ جانے کب ان کو اچانک اٹھا لیا جائے اور کسی گمنام جگہ پر قید کر دیا جائے۔

اسی دوران متکلم کردار نے دنیا کی بہترین سوشلسٹ شاعری کا اردو میں ترجمہ کیا تاکہ مزاحمت کرتے ہوئے مارش لاء کے خلاف اپنے غم و غصے کو کسی چور دروازے سے ٹھنڈا کیا جا سکے۔ ملکی حالات نہایت خراب ہو چکے تھے۔ سندھ اور بلوچستان میں احتجاج اور خودکشیاں زور پکڑتی جا رہی تھیں۔ انقلابیوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا اور جیالے رضا کارانہ طور پر گرفتاریاں دے رہے تھے۔ جیلوں میں ہر وقت محافل سجی رہتیں اور انقلابی ترانے گائے جاتے۔ ہر انقلابی انفرادی سطح پر اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے تھا۔

“میں خاموشی سے نظمیں لکھ رہا تھا اور مزاحمتی شاعری کے تراجم بھی کر رہا تھا۔ کئی فوری طور پر نئے رسالے اسی مقصد سے نکل رہے تھے۔ ان میں یہ شاعری چھپ رہی تھی۔” 6

متکلم کردار اپنے بیوی، بچے کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا۔ اپنی بیوی اور نومولود بچے کا ہر طرح سے خیال رکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ مختلف ممالک کی انقلابی شاعری اور مزاحمتی ادب پڑھنے میں مصروف تھا۔

“سعدیہ کو معلوم ہی نہ تھا کہ میں کیا سوچ رہا ہوں، کیا لکھ رہا ہوں۔ ٹی ہاؤس میں کیا چل رہا ہے اور ملک میں ہم جیسے سوچنے والوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میں بھی اسے نہیں بتانا چاہتا تھا کہ ہم آنے والے دنوں کے خوابوں میں رہنا سیکھ رہے تھے۔” 7

ایک روز اچانک رات گیارہ بجے گھر کی گھنٹی بجی، دروازہ کھلتے ہی سیکیورٹی اہلکار اندر داخل ہوئے اور متکلم کردار کی آنکھ پر پٹی باندھ، گاڑی میں ڈال کسی نامعلوم جیل میں لے گئے۔ متکلم کردار اسی سوچ میں مستغرق تھا کہ آخر اس کا جرم کیا ہے۔ اخر اسے کیوں ایک مجرم کی طرح گھر سے یوں اٹھا کر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ “مجھے اس بات کی سمجھ نہ آئی کہ اپنے سے کئی گنا دشمن سے لڑنے والی فوج ایک عام سے شاعر سے کیوں ڈر جاتی ہے۔” 8

متکلم کردار کو پہلی رات ایک صحافی کے ہمراہ اس جیل میں ٹھہرایا گیا جہاں کبھی بھگت سنگھ اور بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کو قید رکھا گیا تھا۔ دوسرے دن اسے شاہی قلعے میں بنائی گئی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ اس پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس نے شاعری کے ذریعے مختلف اداروں کو للکارا ہے۔ وردی اور بھاری بوٹ جیسے الفاظ شاعری میں استعمال کرتے ہوئے معاشرے کو بغاوت پر اکسانے کی جرأت کی ہے۔ مگر اس کو گھر سے اٹھانے سے جیل میں ڈالنے والوں تک سب بے وردی آتے تھے۔

“وردی کوئی بھی ہو صرف وہاں آتی تھی جہاں مجھے باور کرانا ہوتا تھا کہ تم نے کس ادارے کو للکارا ہے جبکہ میں نے تو کسی ادارے کو نہیں للکارا تھا۔ ایک شاعر جو سوچتا ہے وہ لکھ رہا تھا۔ شاعر کو جب محسوس ہو کے دشمن چند باغیوں کے شبے میں پورے جنگل کو آگ لگا دے گا تو نقصان باغیوں کا نہیں جنگل اور اس کے جانوروں کا ہوتا ہے۔ شاعر تو بس اتنی سی بات سمجھانے کے لیے لکھتا ہے۔” 9

آئے دن اس پر مختلف طریقوں سے ظلم کیا جاتا رہا تاکہ اذیت دینے  کے مخصوص طریقوں کے مسلسل استعمال سے کہیں وہ ستم برداشت کرنے کا عادی نہ ہو جائے اور اس کی اذیت کم نہ ہو جائے۔

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا 10

کبھی اسے شکنجوں میں ڈال دیا جاتا تو کبھی تیز روشنی سے حواس باختہ کرنے کی کوشش کی جاتی۔ کبھی اندھیرے میں چوہے چھوڑے جاتے تو کبھی ٹھنڈے پانی سے وجود شل کیا جاتا۔ آخر جب وہ ظلم و ستم اور سخت اذیت برداشت کرتے ہوئے بھی سوچتا رہا تو اسے اس غرض سے کہ “اس کی زبان نہیں، اس کا دماغ بول رہا ہے۔”11 بجلی کے جھٹکے لگائے گئے تاکہ وہ سوچنے کی قوت کھو بیٹھے۔ اب اس کی حالت یہ تھی کہ:

“مجھے وقت کا شعور نہیں رہا تھا۔ مجھے کبھی کبھی یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کون ہوں۔ اب چار سو واٹ کا بلب میرے سر پر دن رات جلنے لگا تھا۔ ویسے دن تھا نہ رات، وقت وہاں پر ایک جگہ جامد ہو چکا تھا۔ معلوم نہیں مجھے وہاں کتنا عرصہ ہو چکا تھا۔” 12

ایک روز مرکزی کردار کی بیوی اپنے فوجی رشتہ دار کی سفارش سے اپنے شوہر سے ملنے جیل جا پہنچی مگر وہاں وہ اپنے شوہر کو پہچان ہی نہ سکی کہ آخر اس کا شوہر چند مہینوں میں ہی اتنا بوڑھا کیسے ہو گیا۔ اپنے شوہر کو بمشکل پہچانتے ہوئے وہ کہنے لگی: “تمہارے بال سفید ہو گئے۔ تم وہ نہیں ہو، کیا کیا ظالموں نے؟ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا تمہیں کہاں لے گئے ہیں۔ تم لاپتہ قرار دیے گئے ہو حکومت کے اداروں کے کاغذات میں۔” 13

وہاں اس نے اپنے شوہر کو بتایا کہ ایک حکومتی جہاز اغوا کیا گیا ہے جس کے بدلے میں سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور انگلینڈ بھیجنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ جن سیاسی قیدیوں کی رہائی کے ناموں کی فہرست بھیجی گئی ہے اس میں مرکزی کردار کا نام بھی شامل کروایا گیا ہے۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ اس شام اسے لندن روانہ کر دیا جائے گا۔ یہ کہتے ہوئے وہ چلی جاتی ہے اور وہ کردار سوچنے لگتا ہے کہ آخر یہ کیسی ملاقات تھی کہ بیوی ملنے آئی اور صرف اطلاع دیتے ہوئے چلی گئی اور اب اسے زبردستی دوسرے ملک بھیج دیا جائے گا۔

ہجر سے ہجر تک تھی یہ ہجرت

وہ ملا۔۔۔ مل کے کھو گیا یعنی 14

مرکزی کردار یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کا گھر اس سے چھینا جا رہا ہے۔ اور چاہے وہ جیل میں تھا مگر اپنے ملک میں ہونے کا احساس اسے سکون دیتا تھا، مگر اب اس سے اس کی پہچان بھی چھین لی جائے گی اور وہ محض سیاسی پناہ گزیں بن کر رہ جائے گا۔

آشیاں جل گیا گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے

اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے 15

وہ یہ محسوس کرنے لگا کہ اب نہ ہی ادبی محفلیں ہوا کریں گی اور نہ ہی اس کے وہ خواب، جو کبھی اس نے آنکھوں میں سجائے تھے، شرمندۂ تعبیر ہوں گے۔ آخر ایک فلائٹ کے ذریعے اس سمیت ان تمام لوگوں کو جو حکومت کے لیے خطرہ تھے لندن روانہ کر دیا گیا۔ وہاں انہیں رہنے کے لیے فلیٹ فراہم کیے گئے۔ مرکزی کردار کو جو فلیٹ دیا گیا وہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جنگِ عظیم دوم کے قیدیوں کے لیے تعمیر کیے جانے والے فلیٹ میں شامل تھا۔ اس کے ساتھ جس قیدی کو ٹھہرایا گیا اس کا نام قادر سولنگی تھا اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کے خاص ملازموں میں سے ایک تھا۔ وہ کردار ایک جگہ اپنے متعلق یوں بتاتا ہے کہ:

“بابا بھٹو شہید کا خاص الخاص خادم۔ ان کے جوتے میں ہی سیدھے کرتا تھا۔ لاڑکانہ سے ہوں۔ خاص بھٹو شہید کی حویلی کا نوکر۔ ازل سے نوکر ہوں سائیں۔ میری اولاد ہوگی تو وہ بھی ان کی نوکر ہوگی۔” 16

اسی کردار نے فلیٹ کی صفائی کی اور اسے انسانوں کے رہنے کی جگہ کے قابل بنایا۔ اس کے متعلق مرکزی کردار یہ سوچتا ہے کہ اسے اس کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانا ہوگا اور پھر انہیں اپنے حق میں استعمال کرنا ہوگا تاکہ دیارِ غیر میں سکون نصیب ہو سکے۔

ناول کے متکلم کردار کے لیے لندن میں پہلی خوشی یہ تھی کہ وہ جتنا چاہے پیدل چل سکتا تھا اور اسے قادر سولنگی کی صورت مفت کا ملازم بھی مل گیا تھا۔ آہستہ آہستہ مرکزی کردار پر یہ واضح ہونے لگا کہ قادر سولنگی کتنے کام کا آدمی ہے۔ قادر سولنگی نے چند ہی دن میں لندن کے عوامی ذرائع آمد و رفت کی تمام معلومات حاصل کر لی اور یہ بھی معلوم کر لیا کہ لندن سے کہاں کہاں اچھا، معیاری اور سستا کھانے پینے کا سامان مل سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کے پاس سندھ کی بے شمار کہانیاں تھیں جو وہ مرکزی کردار کو سناتا تھا۔ ایک دن اس نے ناول کے متکلم کردار کو یہ کہانی سنائی کہ کس طرح اس کے ایک دوست نے اپنی بیوی اور اس کے عاشق کو قتل کیا اور کیسے وہ حضرت شہباز قلندر کی درگاہ کا ملنگ ٹھہرا۔ لوگوں کے گم ہونے کے متعلق اس نے بتایا کہ: “نہ آسمان کھا جاتا ہے نہ زمین نگل لیتی ہے۔ بندہ بھیس بدل لیتا ہے اور آپ کے پاس کہیں نہ کہیں ہوتا ہے۔”17

لندن میں آہستہ آہستہ پاکستانی سیاستدانوں کی دوہری شخصیت کھلنے لگی اور مرکزی کردار کو یہ معلوم ہوا کہ کس طرح سیاستدان پاکستان سے لندن آ کر عیاشی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور پاکستانی عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آخر حالات سازگار ہوتے ہی دوبارہ پاکستانی حکومت میں شامل نظر آتے ہیں۔ اچانک اسے سجاد ظہیر کا وہ خواب یاد آ جاتا ہے جس کا بیان “لندن کی ایک رات” میں موجود ہے اور ساتھ ہی ہندوستانیوں کی جنگِ عظیم دوم میں جبری شمولیت اور آخر عام عوام کا پناہ کی تلاش اور ہجرت کی آڑ میں بے ثمر قربانیاں دینا اسے رونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ ایسی قربانیاں تھیں کہ قربان ہونے والوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ وہ کیوں قتل کیے جا رہے ہیں اور آخر ان کا قصور کیا ہے۔

“قربانی کا تصور یہ ہوتا ہے کہ جو قربانی دے رہا ہوتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی پسند اور مرضی سے یہ قربانی پیش کر رہا ہے اور اس کی جان اس قربانی میں جا بھی سکتی ہے جیسے ہماری فوج کے جوان دشمن کی خلاف لڑتے ہوئے قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو لاکھوں جانیں گنوائیں وہ تو غریب خاندان اپنے وطن کی خاطر ہجرت کر رہے تھے اور تاریک راہوں میں مارے گئے۔” 18

کوئی دوست نہ ہونے کے سبب، مرکزی کردار لندن کی سڑکوں پر آوارہ پھرتا رہتا ہے اور کسی ایسے دوست کی تلاش میں ہوتا ہے جسے وہ جلاوطنی کا کرب بتا سکے اور کھل کر اس کے سامنے رو سکے۔ مگر وہاں اس کا کوئی دوست نہ تھا۔ لہٰذا وہ بے کار گھومتا پھرتا اور آخر تھک کر واپس فلیٹ میں آ جایا کرتا۔

اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے

جینے کا اب تو ایک ہی ڈھنگ رہ گیا 19

آخر متکلم کردار ایک کتے کو اپنا دوست بناتا ہے مگر اس کتے کا مالک اس ڈر سے کہ کہیں وہ شخص اسے چرا نہ لے، کہیں اور لے جاتا ہے۔ یوں مرکزی کردار پھر تنہا ہو جاتا ہے۔

ایک روز قادر سولنگی مرکزی کردار سے کہتا ہے کہ اسے جتوئی صاحب، جو کہ سندھی سیاست دان ہیں، مل گئے ہیں۔ وہ ان کے پاس جا رہا ہے، ان کی نوکری کرے گا اور ادھر ہی رہا کرے گا۔ یوں مرکزی کردار فلیٹ میں بھی اکیلا ہو جاتا ہے۔ ایک روز متکلم کردار کی ملاقات ایک لائلپوری شاعر سے ہوتی ہے جو اس کا دوست بن جاتا ہے اور اسے ترقی پسندی کے سیاہ گوشوں کے متعلق بتاتا ہے کہ شاعر حضرات بات تو طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے کی کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے شاعری میں طبقاتی تفریق ڈال رکھی ہے اور سمندر پار کے شاعروں کو اس وجہ سے شاعر تسلیم نہیں کرتے کہ وہ لاہور، لکھنؤ یا دہلی سے تعلق نہیں رکھتے۔

“ہم ورکر کلاس ہیں، محنت کر کے یہاں رہ رہے ہیں، ہم کسی چندے یا فنڈ پر نہیں بیٹھے ہوئے۔ وہ سمجھتے ہیں ہم دہلی، کراچی، لاہور اور لکھنو میں نہیں بیٹھے ہوئے تو ہمیں شاعری کا نہیں پتہ۔ ہم مشہور نہیں ہوئے تو کیا ہوا، ادھر ہم نے اردو کی شمع جلا رکھی ہے۔” 20

ایک روز قادر سولنگی مرکزی کردار کو جتوئی صاحب کے فلیٹ میں لے جاتا ہے کیونکہ وہاں ایک نجی محفل ہے جس میں شاعری کا تڑکا لگایا جانا ضروری ہے۔ مگر وہاں صرف وہ شاعری اثر کر سکتی ہے جو نعرے بازی پر مبنی ہو، نظمیہ شاعری وہاں پرتاثیر نہیں ہو سکتی۔ ایسا ہی ہوتا ہے اور آخر مرکزی کردار وہاں سے دوسرے روز، اداس واپس لوٹ آتا ہے۔

ایک روز طیفا بٹ جو کہ پاکستانی تاجر اور لندن میں لاہوری تکہ شاپ کا مالک ہے کے توسط سے مرکزی کردار کی ملاقات محمد نذیر خیالی پسروری سے ہوتی ہے۔ یہ کردار لندن میں “صدائے پاکستان” اخبار کا مالک ہے۔ پاکستان میں اخبار مافیہ کا حصہ بنا رہا، مختلف طریقوں سے سرکاری اَراضی اپنے نام الاٹ کروانے میں کامیاب ہوا اور جب 1977ء میں پاکستان میں مارشل لاء لگا تو راتوں رات لندن بھاگ آیا۔ لندن میں اخبار نکالنا شروع کیا اور اپنا کاروبار مضبوط کرنے لگا۔ وہ اپنے تجربات مرکزی کردار کو بتاتے ہوئے پاکستانی اخبارات کا کَچّا چِٹّھا کھول کر رکھ دیتا ہے۔ ایک جگہ وہ یوں کہتا ہے کہ:

“خبر کی جگہ خبر ہی لیا کرتی ہے مگر ذرا گھوم پھرا کے۔ وہ ایسے کہ مارش لاء کو سیدھی خبر گولی کی طرح لگتی ہے۔ اس لیے اخبار والوں نے کالم نویسوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے رکھنا شروع کر دیا ہے۔ کیونکہ کالم نویس کے پاس زبان کے چور دروازے ہوتے ہیں جن سے وہ جھانک کر قاری کو اندر کی خبر بتا سکتا ہے۔” 21

پسروری نے مرکزی کردار کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ اس کے اخبار “صدائے پاکستان” کو خواتین کے پڑھنے کے قابل بنائے تاکہ اخبار صحیح معنوں میں کاروبار کا ذریعہ بن سکے۔ مرکزی کردار نے اخبار کو خواتین کے پڑھنے کے قابل بنانے کے لیے شاعری کا تڑکا لگایا اور لندن میں مقیم پاکستانی خواتین کی کہانیاں شائع کرنا شروع کیں۔ ایک روز ایک عورت اخبار کے دفتر آئی اور متکلم کردار کو اپنی کہانی سنائی کہ کس طرح اس کے شوہر نے دھوکے سے شادی کی اور پھر اسے لندن بلایا۔ مگر جب وہ لندن پہنچی تو اسے معلوم پڑا کہ وہ شخص، جو اب اس کا شوہر تھا، پہلے سے ہی گوری سے شادی کیے بیٹھا ہے۔ اس بات پر مرکزی کردار کہتا ہے کہ آگے کی کہانی وہ مکمل کر سکتا ہے تو وہ عورت یہ کہہ کر اسے خاموش کر دیتی ہے کہ: “آپ کر تو لیں گے مگر جس طرح یہ کہانی مجھ پر گزری یا گزر رہی ہے شاید آپ اسے مکمل نہ کر سکیں۔” 22

پھر وہ بتاتی ہے کہ کس طرح اس کا شوہر ہر شام شراب کے نشے میں ڈوب جاتا ہے اور کیسے اس کا ہمیشہ ریپ ہوتا آیا ہے۔ یہ کہتی ہوئی وہ دفتر سے چلی جاتی ہے۔

1977ء کے مارشل لاء کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری تباہ ہونا شروع ہوئی اور بڑا آرٹ محض دلالی کا راستہ قرار پایا۔ جو بھی لڑکی فلمی دنیا میں قدم رکھتی، ہیروئن بننے کی خواہش میں دبئی اور لندن جیسے شہروں میں سپلائی ہو جاتی۔

“اب فلمیں صرف اور صرف عورتوں کے دھندے کے کاروبار کا ذریعہ بن چکی تھیں جس میں سٹوڈیو مالکان، فلمی صحافی، ڈائریکٹر، تکنیک کار، ڈسٹری بیوٹر سبھی ملوث ہو چکے تھے کہ سب کی روٹی روزی عورتوں کی دلالی کے ساتھ جُڑی ہوئی تھی۔” 23

پھر ایک دن قادر سولنگی متکلم کردار کو جتوئی کی پارٹی میں لے گیا تا کہ وہاں شاعری کا تڑکا لگایا جا سکے۔ اس محفل میں پاکستانی فلم انڈسٹری کی مشہور ہیروئن بھی موجود تھی جس نے کئی گانوں پر رقص کیا اور پھر جتوئی کے ساتھ اس کی خواب گاہ میں چلی گئی۔ لندن میں ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کی اتنے لوگ جمع ہو چکے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایک منی برصغیر دوبارہ لندن میں نمودار ہو رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو ایک روز وہاں کا وزیراعظم بھی کوئی ایشیائی ہوگا۔ “صدائے پاکستان” اخبار کے حوالے سے مرکزی کردار کا جوش آہستہ آہستہ مانند پڑتا گیا۔ ایک روز اس کی ملاقات لندن کے ایک پاکستانی کاروباری کنگ سے ہوئی جس کے توسط سے وہ ایک ایسے کلب میں رات گزارنے جا پہنچا، جس میں جانے کی تمنا تو مرکزی کردار رکھتا تھا مگر اتنے پاؤنڈ موجود نہ تھے کہ وہ وہاں جا سکتا۔

“یہ کلب میں نے کیا دیکھنا تھا، میری تو لندن میں اوقات بس جتوئی صاحب کی محفل تک تھی۔ یہ مجھے آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ عربی اور ایشیائی باشندوں کی ضروریات اور نفسیات کو سامنے رکھ کے بنایا گیا ہے۔” 24

وہاں متکلم کردار نے جوئے میں پندرہ سو پاؤنڈ جیتے، جو کہ اسے یوں محسوس ہوا کہ ایک منصوبے کے تحت اسے یہ پاؤنڈ جیتوائے گئے ہیں تاکہ وہ جوئے کی لت میں مبتلا ہو کر اپنی ساری دولت اس کنویں میں جھونک دے۔ اس رات کے بعد مرکزی کردار نے کبھی ادھر کا رخ نہ کیا۔ ایک روز پسروری نے مرکزی کردار کو ایک ایسی نوکری کی خبر دی جس میں قیدیوں کی اخلاقی تربیت اور عدالتوں میں ان کی ترجمانی کرنا تھی۔ متکلم کردار فوراً اس کے لیے تیار ہو گیا اور سیاسی پناہ گزیں ہونے کے ناطے اسے وہ نوکری بآسانی مل گئی۔

“میرا کام ہفتے میں ایک بار کسی بھی جیل میں قیدیوں کی اصلاح کے لیے انہیں اخلاقی اور انسانی اقدار کی تربیت دینا تھا۔ پھر کسی بھی قیدی کو ترجمان کی ضرورت ہوتی تو میں ایمرجنسی کال پر تھا۔” 25

سب سے پہلے وہ ایک ایسی جیل میں گیا جہاں ایسے بچے قید تھے جو کسی نہ کسی طرح ڈرگز کی سمگلنگ کے کاروبار میں ملوث تھے۔ ایک بچے نے اسے بتایا کہ اس کے ماں باپ نے اسے یہ کہتے ہوئے ایک آدمی کے حوالے کیا کہ تم دبئی جاؤ گے اور وہاں بہت کچھ کھانے کو ملے گا۔

“وہاں ہم سب لڑکوں کو ایک جگہ رکھا گیا۔ وہ عربی لوگ تھے۔ وہ اونٹوں پر ہمیں باندھ دیتے اور وہ اونٹ جب دوڑ لگاتے تھے، ہماری چیخیں نکل جاتی تھیں۔ اس سے اونٹ اور زیادہ دوڑتے تھے۔” 26

پھر اس نے بتایا کہ اسے دبئی سے برطانیہ پڑھنے کے لیے بھیجا گیا مگر جب وہ برطانیہ کے ایئرپورٹ پر اترا تو اس کے بیگ میں سے ڈرگز برآمد ہوئے اور یوں وہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہاں ایک ایسا بچہ بھی موجود تھا جس کے مسلمان باپ نے اپنی گوری بیوی کو مسلمان کرنے کی کوشش میں اس پر اتنے ستم ڈھائے کہ وہ بھاگ گئی اور بچہ چھوڑ گئی۔ باپ کی عدم توجہ کے سبب بچے نے خود سب کچھ سیکھنا سیکھ لیا اور ایک دن فلموں میں کیے جانے والے قتل کا عملی تجربہ کیا اور باپ کو قتل کر ڈالا۔  وہ اب کچھ بھی نہیں کہتا تھا سوائے “میں نے مار دیا۔”27

ایک روز مرکزی کردار خواتین کی جیل میں لیکچر دینے گیا تو اس کی ملاقات اس عورت سے ہوئی جو اخبار کے دفتر اسے اپنی کہانی سنانے آئی تھی۔ جیل میں اس عورت نے مرکزی کردار کو بتایا کہ آخر اس نے ہمت کی اور اپنے اس شوہر کو جو دن رات اس کا ریپ کیا کرتا تھا مار ڈالا اور اس کی گوری سوتن بھاگ گئی۔

وہاں متکلم کردار کی ملاقات ایک ایسی قیدی عورت سے بھی ہوئی جس نے اسے بتایا کہ وہ لاہور کالج فار ویمن کی طالب علم، ڈیبیٹر اور شاعرہ تھی جسے احمد فراز کی شاعری بے حد پسند تھی۔

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں

یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے

کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں 28

اور ریڈیو پر ناصر کاظمی کی غزلیں بڑی چاہت سے سنا کرتی تھی۔

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا 29

کالج کی چہیتی لڑکی کا جب لندن سے رشتہ آیا تو اس کے والدین نے لڑکے کو بغیر دیکھے، اپنی لڑکی کو عروسی جوڑے میں لندن روانہ کر دیا۔ وہ لڑکا ایک انگریزی پب میں کام کرتا تھا۔ ایک روز وہ اپنے مالک کو خود کے گھر لے کر آیا اور اپنی بیوی کا ریپ کروایا۔ “گوروں کے بعد اس نے کالوں کو لانا شروع کر دیا اور یہ کاروبار اس نے پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں تک پھیلا دیا۔”30 آخر اس لڑکی نے ہمت کی، اپنے شوہر کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

ایک لڑکی نے اپنی کہانی مرکزی کردار کو بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے چچا کا لڑکا لندن آیا اور رشتے کا پیغام بھیجا تو اس کے والدین نے فوراً شادی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اسے شادی کے دن جو زیورات پہنائے گئے وہ لڑکے نے خود لندن سے بھیجے تھے اور اتنے بھاری تھے کہ چلنا مشکل تھا۔ جب عروسی جوڑے میں لڑکی برطانیہ کے ایئرپورٹ پر اتری تو اسے پکڑ لیا گیا اور جب زیورات کو توڑا گیا تو ان کے اندر ڈرگز تھے۔ وہ تو جیل میں ڈال دی گئی مگر اس کے چچا کا بیٹا اور نام نہاد شوہر پکڑ میں نہ آ سکا۔

مردوں کی جیل میں مرکزی کردار کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے اپنی گوری بیوی کو اسلامی تبلیغ کے نام پر قتل کر دیا تھا اور چاہتا تھا کہ جج کو یہ سمجھایا جائے کہ کافر کو قتل کرنا گناہ نہیں ہے۔ اور ایک ایسے شخص سے بھی مکالمہ ہوا جس نے برطانیہ میں پلی بڑھی بیٹیوں کی زندگی غیرت کے نام پر قربان کر ڈالی تھی۔ اتنی کہانیاں سن کر مرکزی کردار یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ پاکستان اندر اور باہر سے کس تیزی سے بدل رہا ہے اور مارشل لاء نے ملک کو کس طرح تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

مرکزی کردار لندن میں تین دن جیلوں میں اخلاقیات پر لیکچر دیتا اور عدالتوں میں قیدیوں کے ترجمانی کرتا، جس سے وہ اتنے پاؤنڈ کما لیتا کہ جب چاہے شراب پی سکے اور گھر فون کر سکے۔ ایک دن اپنے بیٹے کی آواز سننے کے لیے وہ فون میں سکے پہ سکہ ڈالتا گیا مگر اس کے بیٹے نے اسے اجنبی خیال کرتے ہوئے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ جب فون بند ہوا تو اسے خیال آیا کہ وہ واقعی اپنے بیٹے کے لیے اجنبی ہے، جسے چند نظموں کی بدولت جلا وطنی برداشت کرنا پڑی۔ وہ تو بس ایک شاعر تھا جس کی نظموں سے ایک سربراہ ڈر گیا اور اسے سیاسی پناہ گزیں بننے پر مجبور کر دیا گیا۔

لیکن کبھی کبھی ایک نظم اتنی طاقتور

ہو جاتی ہے

کہ ایک ظالم بادشاہ کے سامنے ڈٹ جاتی ہے

خود نہیں مرتی

اسے مار دیتی ہے  31

بی بی سی میں پروگرام کے لیے بش ہاؤس کی کینٹین میں بیٹھے مرکزی کردار کی ملاقات احمد رضوی سے ہوئی جو جتوئی صاحب کے ساتھ بیٹھا، محو گفتگو تھا۔ جب جتوئی نے احمد رضوی کو بتایا کہ یہ شخص شاعر ہے اور اسی جہاز میں یہاں آیا ہے جس میں جیالے اور دیگر سیاسی پناہ گزیں آئے تھے تو احمد رضوی نے مصطفیٰ زیدی کا ایک شعر پڑھنے کی ناکام کوشش کی تو مرکزی کردار نے فوراً کہا:

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے 32

تو رضوی بہت متاثر ہوا اور اسے ایک نجی پارٹی میں آنے کی دعوت دی۔ دوسرے روز شام کے وقت جب متکلم کردار رضوی کے دروازے پر پہنچا تو رضوی کو پہچان نہ سکا کیونکہ رضوی نے کچن کا اپیرن پہن رکھا تھا۔ جب مرکزی کردار اندر داخل ہوا تو رضوی کی لائبریری، جس میں ترقی پسند ادب بھرا پڑا تھا، دیکھ کر دنگ رہ گیا۔

“اب جو میں نے لائبریری دیکھی تو پورا ترقی پسند ادب موجود تھا۔ کیا فیض، کیا فراز، کیا سبط حسن، کیا کیفی اعظمی، کیا علی سردار جعفری، کیا عصمت چغتائی، کیا سجاد ظہیر۔ میں بھٹو صاحب کا قائل ہو گیا کہ انہوں نے 1970ء اور 1977ء کے الیکشن میں کیسے کیسے جاگیر داروں اور وڈیروں کو ٹکٹیں دیں جو دنیا کی نظر میں جاگیر دار تھے لیکن وہی پاکستان کی قسمت بدل سکتے تھے۔” 33

اس کے ساتھ ہی اسے ملتانی خاندان جیسا کہ قریشی، گیلانی، گردیزی، رضوی اور درانی وغیرہ کی علم دوستی کے قصے یاد آ جاتے ہیں اور سندھی روشن خیالی کی داستانیں اس کے ذہن میں گردش  کرنے لگتی ہیں۔

اتنے میں دیگر مہمان بھی آ جاتے ہیں اور بحثیں چل نکلتی ہیں۔ مرکزی کردار محسوس کرنے لگتا ہے کہ سجاد ظہیر کی “لندن کی ایک رات”34 کی طرح یہ بھی لندن کی ایک اور رات ہے، جس میں پاکستانی سیاست کے حوالے سے فیصلے ہوں گے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور “تاریخ کی جڑیں اپنا انتقام ہزاروں سالوں تک لیتی ہیں۔”35

وہاں رات گئے تک بھٹو کی پھانسی اور فوجی اشرافیہ کا پاکستانی سیاست میں کردار پر بحثیں ہوتی رہیں اور آخر شراب کی گہری تاثیر کے ساتھ محفل برخاست ہوئی۔ چند روز بعد متکلم کردار کو اپنے اپارٹمنٹ، جو اسے حکومت نے سیاسی پناہ کے لیے الاٹ کر رکھا تھا، کا خیال آتا ہے تو وہ ادھر کا رخ کرتا ہے۔ راستے میں اس کی ملاقات ترقی پسند نظریات کے حامی ایک شخص سے ہوتی ہے جو اسے ایک گھر میں ہونے والے ترقی پسند اجلاس میں لے جاتا ہے۔ اس اجلاس میں یہ طے پاتا ہے کہ ایک ایسی جلاوطن حکومت قائم کی جائے جس میں عام آدمی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ “بیٹھے بیٹھے صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی کابینہ بنا دی گئی۔ مجھے بھی وزیرِ تعلیم کا عارضی چارج دینے کی منظوری ہو گئی۔” 36

اس جلاوطن حکومت میں جتوئی اور رضوی جیسے سیاست دانوں کو شامل نہ کیا گیا، گویا یہ نچلے اور درمیانے طبقے پر مشتمل ایک آئیڈیل حکومت تھی۔ اس اجلاس کا اختتام بھی شراب کے گہرے نشے پر ہوا اور پھر سب اپنی اپنی راہوں پر بکھر گئے۔

مرکزی کردار اجلاس سے اس شخص کے ہمراہ، جو اسے اجلاس میں لایا تھا، نکلا اور ایک پب میں جا کر پسندیدہ شراب پینے لگا اور وہاں سے نکلتے ہی اس کی منزل وہ فلیٹ تھا جو حکومت نے اسے الاٹ کر رکھا تھا۔ مگر شراب کے نشے کے سبب وہ بآسانی وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔ راستے میں اس نے کھمبے سے لگی ایک سیکس ورکر دیکھی تو اسے اس کی قیمت ادا کرتے ہوئے اپنے فلیٹ تک لے گیا، بلکہ اسے فلیٹ تک وہی عورت لے کر گئی۔ جب وہ فلیٹ کے مرکزی کمرے تک پہنچ چکے تو اس عورت نے مرکزی کردار کو اپنا جسم پیش کیا مگر ہونٹوں کا بوسہ لینے سے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ “یہ ہونٹ صرف میرے بیٹے کے لیے ہیں۔” 37

“اب میں نے محسوس کیا کہ جسموں کی اپنی انانیت اور حکومت ہوتی ہے۔ وہ کسی محبت نام کے فریب سے آشنا نہیں ہوتے۔ کسی عشق کے بے معنی فلسفے کے تابع نہیں ہوتے۔ جب جسموں کا ملاپ ایک ازلی تجربہ ہے تو پھر اسے کسی ایسے دھوکے کی قطعی ضرورت نہیں ہونی چاہیے جسے شاعروں سے لے کر صوفیاء نے ایک آفاقی اور نایاب دائمی انسانی تجربہ بنا دیا۔” 38

بجھی روح کی پیاس لیکن سخی

مرے ساتھ میرا بدن بھی تو ہے 39

زندگی معرکہء روح و بدن ہے مشتاق

عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا 40

اس عورت، جس کا نام جیسمین تھا، نے فلیٹ سے جاتے ہوئے مرکزی کردار سے پوچھا کہ کیا وہ اکیلا رہتا ہے۔ تو اس نے بتایا کہ وہ یہاں نہیں رہتا بلکہ کبھی کبھار یہاں آیا کرتا ہے۔ اس عورت نے کہا کہ اگر وہ فلیٹ اسے کرائے پر دے دے تو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں ٹھہر جائے کیونکہ اس کے بیٹے کو نہیں معلوم کہ اس کی ماں کیا کام کرتی ہے اور پہلے وہ جہاں رہ رہی ہے وہاں ایک نرس بھی رہتی ہے اور ڈر ہے کہ کہیں نرس اس کا راز فاش نہ کر دے۔ ساتھ ہی اس نے یہ آفر بھی دی کہ اگر وہ کرایہ نہ لیا کرے تو جب چاہے اس کا جسم حاضر ہے۔ معاہدہ طے پا گیا اور وہ عورت چابی لے کر چلی گئی۔ صبح مرکزی کردار اخبار کے دفتر سے ہوتا ہوا طیفا بٹ کے ہوٹل پر گیا تو دیکھا وہاں پارٹی کی تیاری ہو رہی تھی۔ طیفا بٹ نے بتایا کہ وہاں ایک مذہبی جماعت کا پروگرام ہے جہاں احمدیوں کے مذہبی رہنما آ رہے ہیں۔ احمدیوں کے لندن میں وارد ہونے کی رمزیت کو طیفا بٹ نے یوں بے نقاب کیا کہ:

“بھٹو صاحب نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تو یہاں ان کی چاندی ہو گئی۔ وہ جونہی اقلیت قرار پائے، پاکستان سے سیاسی پناہ کا دروازہ کھل گیا اور بے روزگاروں کی قطار لگ گئی۔ جو اب تک بلکہ آنے والی کئی دہائیوں تک لگی رہے گی۔”41

وہاں سے مرکزی کردار لائلپوری شاعر کے ہمراہ کندن ریسٹورنٹ گیا۔ جہاں مہاجر تاجروں کا ایک اجلاس تھا، اس اجلاس میں یہ مدعا اٹھایا گیا کہ کراچی کماتا ہے جبکہ پنجاب کھاتا ہے۔ اب یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلے گا اور مہاجروں کو ان کا حق چھیننا پڑے گا۔

“اپ پاکستان کے ہائی کمیشن کے افسران وہاں سے کچھ کھائے بغیر چلے گئے جس سے یہ شبہ اور بھی طاقت پکڑ گیا کہ یہ پوری کاروائی جنرل ضیاء الحق کی طرف سے تھی۔”42

یہاں سے مرکزی کردار جتوئی کی اس پارٹی میں گیا جہاں چودھری برادران ایک خاص مقصد کے تحت موجود تھے۔ جب کھانا کھایا جا چکا تو انہوں نے جتوئی سے کہا کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ آپ وطن واپس آ کر حکومت میں شامل ہو جائیں۔ “اگر واپس پاکستان آ کر حکومت میں شامل ہو جائیں تو آپ پر تمام کیس واپس لے لیے جائیں گے۔”43

مگر جتوئی نے اس ڈیل سے انکار کر دیا اور چودھری برادران وہاں سے چلے گئے۔ مرکزی کردار کچھ دیر وہاں ٹھہرا اور پھر شاعری کا تڑکا لگا کر وہ بھی چلا آیا۔

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا

اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں

اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں

اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا 44

عدالت میں ایک ہندوستانی مسلمان عورت کی ترجمانی کے لیے متکلم کردار کو بلایا گیا۔ جب وہ جیل پہنچا تو اس عورت نے اسے بتایا کہ وہ شاہی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایسی بد نصیب عورت ہے جسے دلال کے ہاتھوں بیچ دیا گیا۔ اس دلال نے اس عورت سے مختلف ملکوں میں دھندا کروایا اور ایک دن خود اس کا ریپ کرنے لگا۔ یہ دیکھتے ہوئے اس عورت نے کچن سے چُھری اٹھائی اور اس کے سینے میں اتار دی۔ اب وہ ایک بچے کی ماں بننے والی تھی اور چاہتی تھی کہ عدالت کو بتایا جائے کہ وہ یہ بچہ پیدا کرنا اور اس کی پرورش کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی کردار نے بطور مترجم اس کا کیس عدالت کو سمجھا دیا اور پھر اس نے بچے کو جنم دیا اور اس کی پرورش کرنے لگی۔

“میں نہیں بولا اور اسے دیکھتا رہا وہ بھی مجھے دیکھتی رہی مگر اس کی آنکھیں میرے لیے ممنونیت کا پیغام دے رہی تھیں۔ لندن میں ہندوستان کی دوسری تاریخ انگڑائی لے کر جنم لے چکی تھی۔” 45

لندن کا موسم بدل رہا تھا اور بدلتے ہوئے موسم میں مرکزی کردار کی زندگی معمول پر چل رہی تھی، جس کے دوران وہ کبھی کبھار گھر فون کر لیا کرتا تھا۔ ایک روز “نہرو سینٹر ” میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں انڈیا سے سینما کے لوگ، مؤرخ اور ادیب بلائے گئے تھے۔ مرکزی متکلم کردار لائلپوری شاعر کے ہمراہ وہاں جا پہنچا۔

سینما پر بات کرتے ہوئے کانفرنس میں یہ مدعا اٹھایا گیا کہ پاکستانی سینما ہندوستانی سینما کا چربہ تھا اس وجہ سے وہ کبھی پنپ نہ سکا اور ضیاء الحق کے دور میں اس کی رہی سہی انفرادیت اور خاصیت بھی ختم ہو گئی۔ مؤرخ نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان جناح نے نہیں بنایا بلکہ انہوں نے تو عوامی تحریک کے ذریعے برطانیہ کے مقصد کے لیے راستہ ہموار کیا جس کی آڑ میں انگریز نے برصغیر تقسیم کر دیا۔ جبکہ ادیب نے انسانی دوستی پر بات کی مگر اس کا اصل موضوع بھی پاکستانی ادب اور ادیب تھا۔

“اب مجھے محسوس ہوا یہ سب انڈین حکومت کی طرف سے بنگلہ دیش بننے کے بعد سپانسرڈ پروگرام تھا کہ پوری دنیا کو پاکستان کی آزادی کی متھ کے ٹوٹنے کی خوشخبری دے دی جائے اور اس کے لیے لندن سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی تھی۔” 46

وہاں سے نکلنے کے بعد مرکزی کردار اور لائلپوری شاعر دیر تک ایک پب میں بیٹھے کانفرنس میں تازہ کیے گئے زخموں کا درد محسوس کرتے رہے۔ ایک روز متکلم کردار اپنے اس فلیٹ میں گیا، جو اس نے کال گرل کو دے رکھا تھا۔  اس نے وہاں کیا دیکھا کہ وہ عورت ایک آدمی کے ساتھ سیکس کر رہی تھی اور اس کا بچہ چھپ کر دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا، اسے دیکھتے ہی وہ آدمی جو کال گرل کے ساتھ سیکس کر رہا تھا، فلیٹ سے باہر چلا گیا اور کال گرل بھی شرمندہ ہوئی کہ اس نے اپنے مقصد کے لیے فلیٹ استعمال کیا۔ مگر مرکزی کردار نے اس واقعے پر کوئی خاص تاثر نہ دیا۔ اگلی صبح اس عورت نے مرکزی کردار سے کہا کہ اس نے ایک دن اسے اپنے ہونٹ چومنے سے منع کر دیا تھا مگر “اب میں کہتی ہوں کہ یہ ہونٹ میرے بیٹے اور آپ کے لیے ہیں۔” 47

بے نظیر بھٹو نے جتوئی کے اپارٹمنٹ میں پارٹی کی ایک میٹنگ بلائی، جس میں جتوئی نے ناول کے متکلم کردار کو بھی مدعو کیا۔ وہاں مرکزی کردار کے تعارف کروائے جانے کے بعد، جب اسے بھی ٹکٹ دینے کی بات ہوئی تو اس نے ٹکٹ لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ سیاست میں پیسے کا تڑکا لگ چکا ہے۔ اب پیسے کے بغیر کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ آخر پارٹی نے اسے یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ لندن میں پارٹی کو آرگنائز کرے اور ایک جلسہ منعقد کروائے جہاں بی بی صاحبہ عوام سے خطاب کر سکیں۔ بی بی صاحبہ پارٹی ورکرز سے یہ کہتے ہوئے کہ:

“اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ فوجی حکومت یہاں بھی اپنا اثر استعمال کر رہی ہے۔ آپ سب کو یہاں بھی ڈرائیں گے، خریدیں گے اور آپ کو ہر طرح کے حربے سے متاثر کریں گے۔” 48

مگر آپ کو ثابت قدم رہنا ہے، میٹنگ برخاست کرتے ہوئے چلی گئیں۔ مرکزی کردار نے پارٹی کو آرگنائز کرنے کے لیے “صدائے پاکستان” اخبار استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور اسے ایک ایسے جنرل سٹور کا روپ دے دیا، جہاں دونوں اطراف کی خبریں موجود تھیں۔ یوں اشتہارات میں بھی اضافہ ہوا، اخبار کی مانگ بھی بڑھتی گئی اور مقصد بھی حاصل ہوتا نظر آنے لگا۔ بی بی صاحبہ کے جلسے کے دن اتنی عوام آئی کہ جلسے کے لیے منتخب کردہ ہال بھر گیا اور لوگوں نے کھڑے ہو کر خطاب سنا۔ عالمی میڈیا نے اس خبر کو خوب چمکایا۔

“بی بی سی اور دنیا کا میڈیا بول اٹھا۔ اس کا کتنا فائدہ بی بی صاحبہ کا ہوا یہ تو بعد میں معلوم ہونا تھا، البتہ لندن میں پاکستانی سیاست کا ایک اہم موڑ آ چکا تھا اور اسی موڑ پر میں نے بی بی صاحبہ کی پہلی مسلم دنیا کی وزیراعظم بننے کی پیش گوئی کر دی تھی۔” 49

پاکستان کے تمام معاملات فوجی اشرافیہ کے قابو میں تھے اور ملک میں ہر وقت نئی سے نئی تبدیلی رونما ہو رہی تھی جسے مؤرخ اور تاریخ دان سمجھنے سے قاصر تھے کہ اتنی تیزی سے ایک ملک میں تبدیلیاں کیسے رونما ہو سکتی ہیں۔ “فوجی حکمرانوں کے مشیران اس بات پر غور کر رہے تھے کہ روز روز کا مارشل لاء لگانے کے بجائے کوئی ایسا انتظام کیا جائے کہ روایتی سیاست کی جگہ کٹھ پُتلی سیاست کو عوام کے اندر مقبول کیا جائے۔” 50

مرکزی متکلم کردار جیل میں ترجمانی کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ وہاں اسے ایک ایسا قیدی ملا جس نے اس سے کہا کہ “میں پاگل ہونا چاہتا ہوں عدالت کی نظر میں۔” 51

عمر کا لمبا حصہ کر کے دانائی کے نام

ہم بھی اب یہ سوچ رہے ہیں پاگل ہو جائیں 52

مگر مرکزی کردار نے کہا کہ تم تو پاگل نہیں ہو تو قیدی نے جواب دیا کہ وہ بائی سیکشوئل ہے۔ اس نے گوری بیوی سے اپنی مرضی سے سیکس کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے اسے جیل میں بند کر دیا گیا۔ اب اگر اسے پاگل قرار دے دیا جاتا ہے تو وہ بچ سکتا ہے۔  مرکزی کردار نے اس کی عدالت میں ترجمانی کرتے ہوئے اس کی باتوں کا ہو بہو انگریزی کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ “میڈیکل بورڈ نے اسے ذہنی مریض کا درجہ دے دیا تھا۔” 53

اسی طرح ایک عورت کی بھی مرکزی کردار نے ترجمانی کی جو کہ Lesbian تھی اور جس پر الزام تھا کہ اس نے اپنی دوست کا خون کیا ہے۔ جبکہ حقیقت میں اس کی مقتول دوست پارلیمنٹ کی ممبر تھی، جس کے پاس برطانوی فوجی جرائم کی دستاویزات،جنہیں وہ پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہتی تھی، موجود تھیں۔ اسے ایک منصوبے کے تحت قتل کروا دیا گیا اور قتل کا الزام اس کی Lesbian دوست پر ڈال دیا گیا کہ اس کی دوست کی کسی دوسری عورت سے دوستی ہو گئی تھی جسے اس کی Lesbian دوست برداشت نہ کر سکی اور موقع ملتے ہی اس نے اپنی دوست کو مار ڈالا۔ “دنیا میں ہر جگہ ہر حکومت اور ہر فوج نے جنگی جرائم کیے ہوں گے مگر ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔”54

ایک شام مرکزی کردار طیفا بٹ کے ریسٹورنٹ گیا تو دیکھا کہ وہاں پاکستانی ہائی کمیشن کا عشائیہ ہو رہا تھا، جس میں تاجروں کے ساتھ ساتھ جرنیل بھی موجود تھے۔ پاکستانی سیاست اور مارشل لاء کی برکات پر تقریریں ہو رہی تھیں۔ ہر کوئی جرنل ضیاء الحق کے قصیدے پڑھنے میں مصروف تھا۔

“میرا اندازہ تھا کہ بی بی صاحبہ کی سرگرمیوں کا لندن میں جواب دینے کے لیے یہ جرنیل صاحب یہاں اس مشن سے آئے تھے کہ یہاں اسلامی انقلاب کے حق میں جلوس نکالے جائیں اور جہاں جہاں بی بی صاحبہ خطاب کریں وہاں اُن کے خلاف جلوس نکالا جائے۔” 55

دوسری شام مرکزی کردار اس جلاوطن حکومت کے اجلاس میں گیا جہاں وہ وزیرِ تعلیم کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر اسے محسوس ہوا کہ ان لوگوں میں پہلے جیسا جوش اور مارشل لاء کے خلاف کھڑے ہونے کا جذبہ اب موجود نہیں رہا اور جو تھوڑی بہت رمک باقی ہے وہ ان کی اپنی زندگی کی محرومیوں سے لڑنے میں ختم ہو رہی ہے۔ اس اجلاس میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور عالمی رائے عامہ کو فوجی حکومت کے خلاف کرنے، ہائیڈ پارک میں احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ لندن کے ٹریفلگر سکوائر پر خاموش احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ سب کی روحیں مایوسی کے سایے میں آ چکی تھیں۔

“یہ زمانہ اپنے گریباں چاک کرنے کا زمانہ تھا کہ مارشل لاء کی سنگین دیواروں سے سر ٹکرانے سے سر میں سمایا سودا بھی تباہ ہو چکا تھا۔ وقت تھا کہ طویل ہوتا جا رہا تھا۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اس مارشل لاء سے سمجھوتہ کر چکی تھیں اور اپنے عزائم کے لیے اس حکومت کو استعمال کر رہی تھیں۔”56

قفس کی تلیاں رنگین کیوں ہیں

یہاں پہ سر کو پھوڑا ہے کسی نے 57

دوسری طرف جو ادیب پاکستان میں موجود تھے وہ اکادمی ادبیات کے اجلاس میں شرکت کر کے ضیاء الحق سے وفاداری کا اعلان کر چکے تھے۔

اسی دوران مرکزی کردار جیسمین سے بھی ملتا رہا اور اس کے جسمانی لمس کو اپنی مرضی سے استعمال کرتا رہا۔ پاکستان سے کچھ شاعر لندن آئے تو لائلپوری نے انہیں اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا۔ اس دعوت میں مرکزی کردار بھی موجود تھا۔ جب سب شاعر دو دو پیگ پی چکے تو لائلپوری نے اپنی شاعری، جس میں مارشل لاء کی مخالفت کے ساتھ ساتھ ان ادیبوں اور شاعروں پر طنز بھی موجود تھا جو ضیاء الحق سے سمجھوتا کر چکے تھے، سنانا شروع کی۔ ایسی شاعری سن کر پاکستانی شاعر بھڑک اٹھے کے لائلپوری ان کی بے عزتی کر رہا ہے۔ ان میں سے ایک شاعر کہنے لگا کہ: “ہمارے گھر اور بچے پاکستان میں رہتے ہیں۔ ہم مارشل لاء سے پنگا نہیں لے سکتے۔ یہ مت سمجھو ہم آمریت کو پسند کرتے ہیں۔ ہم مصلحتاً خاموش ہیں۔” 58

اس کے ساتھ ہی تمام پاکستانی شعراء وہاں سے چل دیے اور محفل برخواست ہو گئی۔ ایک روز “صدائے پاکستان” کے دفتر میں ایک لڑکی آئی اور مرکزی کردار سے کہنے لگی کہ “مجھے آپ کے اخبار میں پناہ لینی ہے۔” 59 اور وجہ یہ بتائی کہ اس کا باپ اس کی شادی اپنے بھتیجے سے کروانا چاہتا ہے اور اس کے باپ کی یہ بھی خواہش ہے کہ وہ شادی کے بعد امرتسر جا کر خاندانی حویلی میں سکونت پذیر ہو۔ جبکہ وہ جیمز سے محبت کرتی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی کردار سوچنے لگا کہ یہ ایشیائی لوگوں کا مزاج ہے کہ روزی کے لیے ہجرت کر لینے کے بعد واپسی کی خواہش ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔

تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات

سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں 60

مرکزی کردار نے اسے نہ صرف دفتر میں پناہ دی بلکہ اس کی جیمز سے شادی بھی کروائی۔ اس شادی میں طیفا بٹ سمیت کئی پاکستانی، ہندوستانی لوگوں نے شرکت کی اور اسے بیٹی کی طرح رخصت کیا۔ ایک روز مرکزی کردار کو دو خط ملے، پہلا خط لاہور سے ایک دوست نے لکھا تھا جس میں پاکستان میں شراب کی عدم دستیابی اور سیاسی جبریت کا تذکرہ تھا جبکہ دوسرا خط ناروے سے ایک ایسے شخص کا تھا جو پاکستان سے ناروے گیا اور وہاں سیاسی پناہ حاصل کی۔ مگر وہاں ہر وقت وہ تنہائی میں ڈوبا خودکشی کے منصوبے بنا رہا تھا اور چاہتا تھا کہ تنہائی سے فرار کا کوئی راستہ ملے مگر تمام راستے بند ہو چکے تھے۔

“یہ خط پڑھ کر میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ ضیاء الحق نے کس کس کو شہید کرانا ہے یا کس کس کو شاہی قلعے یا ناروے کے لق و دق علاقے میں خودکشی پر مجبور کرنا ہے۔” 61

ایک شام جتوئی صاحب کے ہاں پارٹی تھی جس میں چند جرنیل بھی شامل تھے۔ وہاں مرکزی کردار کو شاعری سنانے کے لیے مدعو کیا گیا اور جب اس نے اپنی وہ نظم جس میں بھاری بوٹوں، شب خون مارنے اور بھاڑے کے فوجیوں کا تذکرہ تھا، سنائی تو جرنیل بھڑک اٹھے کہ یہ مارشل لاء کے خلاف ہے اور مرکزی کردار سے کہنے لگے کہ “تو پاکستان میں ہوتا تو ابھی کے ابھی شاہی قلعے میں تمہاری چمڑی ادھیڑ دی جاتی۔”62 یوں ہی کچھ دیر بحث ہوتی رہی۔ پھر جتوئی صاحب نے معاملہ ٹھنڈا کیا اور انہیں کھانا پیش کیا۔ جب وہ جانے لگے تو جتوئی صاحب نے اس ڈیل کو رد کرتے ہوئے انہیں رخصت کیا جو وہ مارشل لاء کے توسط سے لندن میں سیاست دانوں سے کرنے آئے تھے۔ جب وہ جا چکے تو خوب واہ واہ ہوئی کہ آخر شاعر کی شاعری نے اپنا کام دکھا دیا۔ شاعر اخبار کے دفتر مختلف اشتہارات پر غور کر رہا تھا تو سوچنے لگا کہ برطانیہ نے اپنے فائدے کے لیے ہندوستان میں ریلوے لائن بچھائی، نہری نظام ترتیب دیا، ادارے بنائے اور آخر ہندوستان کو تقسیم کر دیا۔ اب بھی وہ یہی کھیل کھیل رہا ہے اور کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی سیاست کے نام پر تقسیم در تقسیم کیے جا رہا ہے۔ برطانوی تاریخ دان اور مؤرخ ملکی فائدے کی خاطر ایک خاص نقطہ نظر تاریخی کتابوں میں محفوظ کرتے جا رہے ہیں۔ لندن میں اتنا عرصہ رہتے ہوئے مرکزی کردار کا پاکستانی بیوی اور بچے سے جذباتی رشتہ کمزور پڑتا جا رہا تھا اور جو خط پاکستان سے آ رہے تھے ان میں بھی پہلے والی گرمی موجود نہ تھی۔ اکثر وہ خواب میں دیکھتا کہ اپنے بیٹے کو گود میں لیے بیٹھا ہے، پولیس/فوج آتی ہے اور اس سے بچہ چھین لیتی ہے۔ وہ مزاحمت کرتے ہوئے خواب سے جاگ اٹھتا۔

کوئی خواب تھا جو بکھر گیا کوئی درد تھا جو ٹھہر گیا

مگر اس کا کوئی بھی غم نہیں جو گزر گیا سو گزر گیا 63

لندن میں رہتے ہوئے مرکزی کردار داخلی تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ وہ اندر سے ریزہ ریزہ ہو چکا ہے۔ وہ خود کو کافکا کے “مقدمہ”64 اور کامیو کے “طاعون”65 کا ایک کردار سمجھنے لگا تھا جس پر ایک ایسی سزا مسلّط ہو چکی تھی، جس کے لیے کوئی جرم تلاش کیا جانا تھا۔ یوں ہی ایک شام، لندن کی اداس سڑکوں پر گھومتے گھومتے وہ اس شخص کے اپارٹمنٹ جا پہنچا جس کا نام یونس تھا اور ایک ترقی پسند اجلاس میں اس نے مرکزی کردار کو اپنا پتہ دیا تھا۔ وہ شخص ایک ایسے کلب کا ممبر تھا جہاں انڈین کتھک کا پروگرام ہوتا تھا اور ہر کسی کو اپنا فن پیش کرنے کی عام اجازت تھی۔ وہ شخص مرکزی کردار کو ساؤتھ ایشین کلب میں، کتھک سے محظوظ ہونے کے لیے، لے کر گیا۔ وہاں سٹیج پر گروپ کی صورت کتھک کیا جا رہا تھا۔

“روح اور جسم کا رِدھم اور پھر اجتماعی حرکات سے ایک کہانی ہم تک پہنچ رہی تھی۔ لگتا تھا یہ گروپ الگ الگ جسم نہیں رکھتا۔ ان سب کا ایک جسم ہے جو ایک ساتھ سانس لیتا ہے، ایک ساتھ متحرک ہوتا ہے۔” 66

وہاں مرکزی کردار نے بھی اپنی شاعری پیش کی اور خوب داد سمیٹی۔ ایک بار انڈین ادیبوں اور شاعروں کی ایک کانفرنس میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں مرکزی کردار نے محسوس کیا کہ “ہندوستان کے شاعر چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم، سب پاکستان کے قیام سے نا خوش ہیں اور وہ چاہتے تھے کہ تمام مسلمان مل کر رہتے تو ہندوستان میں اپنی حیثیت اقلیت کی بجائے برابری پر منوا سکتے تھے۔” 67

مرکزی کردار جب بھی جیسمین سے ملتا یا اس کے متعلق سوچتا تو فوراً اسے اس میں، سوگندھی 68 اور سلطانہ 69  جیسی ہزاروں عورتیں نظر آتیں مگر وہ سوچتا کہ وہ منٹو ،عصمت چغتائی، کرشن چندر یا بیدی نہیں ہے جو جیسمین کی کہانی کو امر کر سکتا۔ مگر اس عرصے میں اسے جیسمین سے بیوی جیسی مانوسیت ہو چکی تھی اور وہ اس کے بیٹے میں اپنے بیٹے کا عکس دیکھنے لگا تھا۔

مرکزی کردار کو ایک مرتبہ عدالت میں ایک ایسی عورت کی ترجمانی کرنا پڑی جس کا تعلق حیدر آباد دکن کے ایک مسلمان گھرانے سے تھا۔ اس کے والد نے پیسوں کی خاطر اپنی بیٹی لندن کے ایک امیر آدمی کے ہاتھوں بیچ دی۔ اس امیر آدمی نے اس عورت کو لندن میں لا کر دھندہ کروانے کا کاروبار شروع کیا ۔ ہر روز نئے نئے کردار اس کا ریپ کرتے اور امیر آدمی کو پیسے دیتے ہوئے نکل جاتے۔

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا 70

یہاں یہ معلوم پڑتا ہے کہ ایک اور امراؤ جان ادا معاشرے میں پیدا ہو گئی ہے، جسے زندانیِ تقدیر نے گھر سے کوٹھے پر لا پھینکا۔ 71 اس عورت کا بیان دیکھیے کہ: “جب ہم ادھر لندن میں آئے تو ہم کو ایک گھر میں، جو زیادہ بڑا نہیں تھا، لایا گیا۔ ہم کو کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ ہم ایک دن میں لڑکی سے عورت اور پھر عورت سے شاید ایک بوڑھی طوائف میں تبدیل ہو گئیں۔”72

آخر ایک روز اس نے ہمت کی اور اپنے خرید دار کو ابدی نیند سلا دیا۔ جس جرم میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ مرکزی کردار نے عدالت میں اس کی ترجمانی کی اور اسے معمولی سزا دلوانے میں کامیاب رہا۔

کچھ عرصہ بعد پھر ساؤتھ ایشین کلب میں ایک پروگرام کی متکلم کردار کو خبر ملی، وہ وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی کتھک کر رہی ہے اور قیامت ڈھا رہی ہے۔ “رقاص غائب ہو گیا اور رقص باقی رہا۔” 73

اپنی ہستی کو مٹا کر رقص کر 74

اس کے بعد مرکزی کردار نے اپنی شاعری سنائی اور وہاں سے چل دیا۔ چلتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ وہ لڑکی،جو کلب میں کتھک کر رہی تھی، اس کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ چلتے چلتے دونوں ایک پب میں جا بیٹھے اور شراب پینے لگے۔ اس لڑکی نے مرکزی کردار کو بتایا کہ اس کا نام دیپتی بینر جی ہے۔ اس کی ماں نے اس کے باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے مرد سے شادی کر لی اور اس کے باپ نے اسے ایک فرانسیسی یتیم خانے میں بھیج دیا۔ وہاں اس نے تربیت حاصل کی اور کتھک اپنے والد سے سیکھا۔ اس کے والد ہر روز دو گھنٹے اسے یتیم خانے میں کتھک سیکھانے آیا کرتے تھے۔ اس کے ہنر کو دیکھ کر فرانسسی عورت نے پیرس میں اس کے شو ترتیب دیئے اور خوب پیسہ کمایا۔ وہاں اسے ایک لڑکے،جو کہ میوزیشن تھا، سے محبت ہوئی۔ وہ اس کے ساتھ بھاگ گئی اور کئی ملکوں میں اس کے ساتھ مل کر شو کیے اور اب اسے چھوڑ چکی تھی۔ ایک اپارٹمنٹ میں اکیلی رہتی ہے اور لندن میں شو کیا کرتی ہے۔ مرکزی کردار نے رات دیپتی کے اپارٹمنٹ میں بسر کی اور صبح اس کی کتھک اکیڈمی کا اشتہار اپنے اخبار “صدائے پاکستان” میں لگانے کا وعدہ کرتے ہوئے، وہاں سے نکل آیا۔ اخبار کے دفتر پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ بی بی صاحبہ کو لاہور جانے کی اجازت مل گئی ہے اور وہ جلاوطن لوگوں کے ہمراہ لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گی۔ پسروری نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے، اخبار کے لیے زیادہ سے زیادہ اشتہار حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا اور مرکزی کردار کو خبروں کی سرخیاں بنانے کی ذمہ داری دی۔

جتوئی صاحب کے اپارٹمنٹ میں ایک میٹنگ ہونا تھی، جس میں یہ طے پانا تھا کہ بی بی صاحبہ کے ساتھ کون کون لاہور جائے گا۔ اس میٹنگ میں مرکزی متکلم کردار کو بھی مدعو کیا گیا۔ جب وہ وہاں پہنچا تو وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا۔

“جو لوگ آئے ان میں چوری کھانے والے مجنوں بھی تھے۔ ایسے جیالے بھی تھے جنہوں نے کوئی قربانی نہیں دی تھی۔ ایسے سیاست دان بھی تھے جو مارشل لاء سے پہلے اور بھٹو کی پھانسی سے پہلے انگلینڈ میں کاروبار کے لیے آ چکے تھے۔”75

کچھ دن بعد اسے بتایا گیا کہ کوئی بھی جلا وطن شاعر ساتھ نہیں جا رہا اور اس کی سیٹ کسی امیر ادمی نے پارٹی کو چندہ دیتے ہوئے خرید لی ہے۔

ہر نئے حادثے پہ حیرانی

پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی 76

“اب پاکستان میں تبدیلی آنے والی تھی، کیسے آنی تھی، کیسے حکومت تبدیل ہونی تھی، کوئی نہیں جانتا تھا مگر آسمان پر اس کی تیاری جاری تھی۔” 77

لاہور میں بی بی صاحبہ کا بھرپور استقبال ہوا اور دیگر سیاسی لوگ جو خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے بیٹھے تھے ان کے بھی مقاصد پورے ہونے کا وقت آن پہنچا۔ اب لندن میں مرکزی کردار کی واحد دلچسپی دیپتی تھی جس کے ساتھ وہ وقت گزارتا اور اس کا کتھک دیکھنے ساؤتھ ایشین کلب جاتا۔ مرکزی کردار کی ہی کوششوں سے دیپتی نے کتھک اکیڈمی شروع کی اور کئی لڑکوں، لڑکیوں کو کتھک سکھانے لگی۔

اسی دوران متکلم مرکزی کردار کو عدالت میں ایک ایسے لڑکے کی ترجمانی کے لیے بلایا گیا، جس نے اپنی ماں کو قتل کیا تھا۔ جب مرکزی کردار نے اس سے پوچھا کہ اس نے اپنی ماں کو کیوں قتل کیا تو اس نے کہا کہ “میرے میں غیرت آگئی تھی۔” 78 بہرحال مرکزی کردار نے عدالت میں اس کی ترجمانی کی اور اس کی بتائی ہوئی کہانی عدالت کو سنائی۔

دیپتی اور مرکزی کردار ایک فلیٹ میں رہنے لگے اور ان کے درمیان دوستی بھی ہو گئی۔ دوستی کی بنیاد پر مرکزی کردار نے دیپتی کے لیے ایک نظم بھی لکھ ڈالی، مگر ان کے درمیان جسمانی تعلق قائم نہ ہوا۔ اس حوالے سے مرکزی کردار نے ایک جگہ یوں کہا کہ:

“دوستی کو شادی یا انسانی نفسانی سیکس سے جوڑنا دنیا کی سب سے گھٹیا بات مجھے سمجھ میں آتی ہے۔ وہ ایسے کہ پانچ سے دس منٹ کے اس ایکٹ میں محبت کی جگہ کچھ اور بات ہوتی ہے جو جسمانی ہارمون اور لبیڈو کے زیر اثر ہوتی ہے۔ اس کا دماغ اور احساس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔” 79

یہاں فرائیڈ کے نظریات کی گونج سنائی دیتی ہے۔80 کچھ عرصے بعد دیپتی نے ہی کہا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے مگر ایسی شادی جس میں باہمی قبولیت ہو مگر رسمی شادی طے نہ پائے اور پھر وہ جسمانی رشتے میں بندھ گئے۔ دوسری طرف پاکستان میں مارشل لاء حکومت نیا کاروباری فارمولا ترتیب دے چکی تھی جس کی بازگشت کئی دہائیوں تک سنی جانا تھی اور ایک نئے انقلابی اندھیرے کا دور شروع ہونے والا تھا۔

“اب تو مجھے سورج نکلنے سے پہلے کے اندھیرے نے بتا دیا تھا کہ نکلنے والا سورج کتنا گدلا ہوگا، کتنا دھندلا اور داغدار ہوگا۔”81

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں 82

ایک روز کلب میں دیپتی کا شو شروع ہو چکا تھا کہ پولیس آئی اور مرکزی کردار کو ساتھ چلنے کا کہا۔ جب وجہ پوچھی گئی تو پولیس نے بتایا کہ مرکزی کردار کو الاٹ کیے گئے اپارٹمنٹ میں جیسمین نامی عورت کا قتل ہوا ہے، جسے اس کے بیٹے نے موت کے گھاٹ اتار ہے۔ مرکزی کردار ساتھ گیا اور ضروری کاروائی مکمل ہونے کے بعد واپس آگیا۔ کچھ روز بعد دیپتی نے مرکزی کردار کی شاعری کو کوریو گراف کرنے اور کتھک کی صورت پیش کرنے کا منصوبہ بنایا اور دونوں اس کی تیاری کرنے لگے۔ ایک ساتھ رہنے کے باوجود مرکزی کردار اپنا خرچ خود اٹھاتا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ جب ایک دوسرے پر بوجھ بنتے ہیں تب جدائیاں جنم لیتی ہیں۔

“میں دیپتی پر بوجھ نہیں تھا اور اسے اس کا علم تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں دیپتی کا رکھیل بن جاؤں۔ اگر ایسا ہوتا تو بہت جلدی ہمارے درمیان فاصلے نکل آتے مگر ایسا نہیں ہوا۔” 83

اب دیپتی نے مرکزی کردار کی شاعری کو کوریو گراف کرنا شروع کیا۔ مرکزی متکلم کردار نے مختلف قوموں کے مزاج کو اپنی شاعری کا حصہ بنانے کے لیے ان کی شاعری کو پڑھنا شروع کیا تو اس نے یہ جانا کہ ہر قوم کو کسی نہ کسی قدیم ہیرو کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر قوم کا کوئی نہ کوئی المیہ ہوتا ہے۔ اگر المیہ ہر قوم کے مزاج میں شامل نہ ہوتا تو شاید ارسطو کا نظریہ کتھارسس 84 وجود میں ہی نہ آتا۔

ایک روز مرکزی کردار کو پاکستان سے خط ملا جس میں اس کی بیوی نے اسے یہ اطلاع دی تھی کہ وہ اس سے خلع لینا چاہتی ہے، تاکہ وہ پاکستان میں اپنے کزن، جو کہ فوج میں میجر تھا، سے شادی کر سکے۔ مرکزی کردار نے خط پڑھ کر اسے آزاد کر دیا اور یہ سوچنے لگا کہ اس میں قصور خود اس کا ہے، اس کی بیوی کا ہے، یا مارشل لاء کی وجہ سے یہ نوبت آئی ہے۔ مارشل لاء کا خیال آتے ہی اسے وہ تمام مظالم یاد آ جاتے ہیں، جو مارشل لاء نے عوام پر، قدرتی حسن پر ڈھائے اور زرعی زمین پر سوسائٹیاں قائم کرتے ہوئے قدرتی ماحول کو تباہ و برباد کر دیا۔ ساتھ ہی اسے مجید امجد کی نظم یاد آ جاتی ہے کہ:

آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار

اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال

مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل 85

جب پاکستانی آسمان پر ضیاء الحق کا گیارہ سالہ اقتدار جہاز کے اندر پھٹا تو لندن میں جلاوطن حضرات میں سے بعض خوشی سے جھوم اٹھے کہ اب وہ واپس پاکستان جا سکیں گے۔ مگر کچھ کسی بھی زمین پر نہیں اترنا چاہتے تھے کیونکہ ان کی زندگی تنہائی کے چوہوں نے کتر کتر کر بے جان کر دی تھی۔ 86 پاکستانی ایمبیسی کا جلاوطن حضرات کو پاسپورٹ جاری کرنے کا ارادہ خوش آئیند تھا، مگر اس وقت تک تمام جلاوطن “باغ و بہار” 87  کے درویشوں کی مانند اپنے گلے میں کفنیاں ڈال چکے تھے۔

دیپتی نے جب مرکزی کردار کی جلاوطنی تجربات پر مبنی شاعری کو کتھک کی زبان میں پیش کیا تو اس کی دھوم مچ گئی اور انہوں نے مل کر لندن اور پھر پیرس میں کئی شو کیے اور خوب شہرت کمائی۔ مگر کبھی کبھی اچانک مرکزی کردار کے منہ سے بیوی، جو کہ اب اس کی بیوی نہیں رہی تھی، کا نام نکل جاتا تو وہ چونک اٹھتا اور سوچنے لگتا کہ آخر تمام شاعروں کی زندگی ایسے ہی کیوں ہوا کرتی ہے۔ میر، غالب اور پھر داغ کی زندگی جس کا قصہ “کئی چاند تھے سرِ آسماں”  88 میں شمس الرحمن فاروقی نے لکھا اور پھر مجاز، جون، جالب، ناصر اور کہیں نہ کہیں وہ خود۔ آخر سارا ملبہ شاعری اور مارش لاء پر ڈال وہ دل کو تسلی دے لیتا۔ دیپتی کی کتھک کہانی اتنی مشہور ہوئی کہ انہیں بھارت شو کرنے کی آفر ہوئی۔ بھارت میں مرکزی کردار کی شاعری اور دیپتی کے کتھک نے قیامت ڈھا دی اور تمام اخبارات ان کے پروگراموں کی تعریف اور تبصروں سے بھر گئے۔ بمبئی میں ان کی ملاقات ایک طوائف سے ہوئی جس نے انہیں گھر کھانے پر مدعو کیا ۔ وہ گھر نہیں تھا در اصل وہ ایک کوٹھا تھا جہاں وہ طوائف کئی لڑکیوں کو مختلف ہنر سکھا رہی تھی، تاکہ وہ جلد از جلد جسم کی مشقت سے چھٹکارا پا سکیں۔

“آپ کو میں کلا کی ایک اور شکل دکھانا چاہتی ہوں۔ آپ کتھک کرتی ہیں، کمال کرتی ہیں۔ بھارت نائٹم بھی کرتی ہوں گی۔ میں آپ کو صرف جسموں کا ناچ دکھاؤں گی، وہ جسم جو دن رات صرف جسم ہی ہوتے ہیں۔” 89

جب مرکزی کردار اور دیپتی وہاں پہنچے تو ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ وہاں مختلف علاقوں سے آئی/بیچی گئی لڑکیاں موجود تھیں۔ کچھ لڑکیوں کے دشمن ان کے خواب تھے، تو کچھ رشتوں کی جبریت کا شکار ہو کر کوٹھے پر پہنچی تھیں۔ آخر بھارت سے مرکزی کردار اور دیپتی ایک انوکھا تجربہ، نئی شہرت لے کر واپس لندن پہنچے۔ لندن پہنچتے ہی انہیں پاکستان میں موجود گوئٹے انسٹیٹیوٹ کی طرف سے لاہور میں پروگرام کرنے کی آفر ملی۔ یہ آفر سنتے ہی مرکزی کردار کی روح پھڑک اٹھی کہ اب لاہور کو جا کر منانا چاہیے اور ٹوٹے تعلق کو ایک نئی صورت میں جوڑنا چاہیے۔  دیپتی اور مرکزی متکلم کردار لاہور پہنچے۔ مرکزی کردار نہ ہی پاک ٹی ہاؤس گیا اور نہ ہی سابق بیوی اور بیٹے سے رابطہ کیا، بلکہ تمام تر توجہ پروگرام پر مرکوز رکھی۔ پروگرام والے دن لوگ کی بھیڑ تھی۔ دیپتی اور مرکزی متکلم کردار کی باہمی فنکاری نے اس بھیڑ کے دل موہ لیے۔ کتھک پروگرام کے بعد مرکزی کردار کی کتاب کے حوالے سے ایک بیٹھک تھی، اور ساتھ  ہی “بک سائیننگ” کی تقریب ہونا تھی۔ اس تقریب میں مرکزی کردار نے بے شمار کتابوں پر دستخط کیے اور جب تمام لوگ چلے گئے تو ایک گیارہ سالہ بچہ کتاب لے کر دستخط کروانے آیا۔ “اس نے نام بتایا جس میں میرا نام بھی شامل تھا تو میں نے اسے دیکھا، دیکھتا رہ گیا۔ جسے میں پالنے میں چھوڑ گیا تھا، یہ تو وہی تھا، وہی نقش، وہی سب کچھ” 90  اور اس کی سابق بیوی اور اس کا میجر شوہر دور سایوں کی طرح نظر آ رہے تھے۔ مرکزی کردار اپنے بیٹے کو سینے سے لگانا چاہتا تھا مگر بیچ میں سالوں کے فاصلے حائل تھے۔ کتاب دیتے وقت مرکزی کردار بس اس کے ہاتھ کو چھو سکا اور وہ کتاب لیتا ہوا واپس چلا گیا۔

حوالہ جات

  1. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 8
  2. ایضاً، ص: 10
  3. سلیم شاہد، خوشبو کی شہادت، مرتب، لاہور: بھٹو لیگیسی فاؤنڈیشن، 2019ء
  4. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 14
  5. منیر نیازی، دشمنوں کے درمیان شام، لکھنؤ: کتاب نگر، 1975ء، ص: 54
  6. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 17
  7. ایضاً، ص: 18
  8. ایضاً، ص: 19
  9. ایضاً، ص: 23
  10. مرزا اسد اللہ خاں غالب، دیوانِ غالب، علی گڑھ: مکتبہ الفاظ، 1981ء، ص: 67
  11. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 30
  12. ایضاً، ص: 32
  13. ایضاً، ص: 33
  14. ادریس بابر، یونہی، لاہور: کاروان بک ہاؤس، سن ندارد، ص: 96
  15. راز الہٰ آبادی، منزلیں، الہ آباد: تقسیم کارو ناشر، 1987ء، ص: 103
  16. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 43
  17. ایضاً، ص: 47
  18. ایضاً، ص: 57
  19. فنون، جدید غزل نمبر، جلد 8، شمارہ نمبر 3-4، لاہور:، جنوری 1969ء، ص: 669۔
  20. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 63
  21. ایضاً، ص: 80
  22. ایضاً، ص: 83
  23. ایضاً، ص: 87
  24. ایضاً، ص: 93
  25. ایضاً، ص: 95
  26. ایضاً، ص: 97
  27. ایضاً، ص: 100
  28. احمد فراز، جاناں جاناں، لکھنؤ: نصرت پبلشرز، سن ندارد، ص: 13
  29. ناصر کاظمی، برگ نے، نئی دہلی: شانِ ہند پبلی کیشنز، 1990ء، ص: 85
  30. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 107
  31. اصغر ندیم سید، ادھوری کلیات، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2014ء، ص: 191
  32. مصطفٰے زیدی، شہر آذر، کراچی: جوش اکیڈمی، سن ندارد، ص: 164
  33. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 120
  34. ایضاً، ص: 123
  35. سجاد ظہیر، لندن کی ایک رات، نئی دہلی: نیشنل بک ٹرسٹ، 2005ء
  36. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء،ص: 131-132
  37. ایضاً، ص: 137
  38. ایضاً، ص: 137
  39. https://www.rekhta.org/poets/sarvat-husain/ghazals?lang=ur Retrieved on 20 June 2024
  40. احمد مشتاق، کلیاتِ احمد مشتاق، الہ آباد: شب خون کتاب گھر، 2004ء، ص: 136
  41. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 143
  42. ایضاً، ص: 147
  43. ایضاً، ص: 151
  44. جبیب جالب، کلیاتِ جبیب جالب، لاہور: ماورا پبلشرز، 1993ء، ص: 181
  45. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 154
  46. ایضاً، ص: 158
  47. ایضاً، ص: 162
  48. ایضاً، ص: 166
  49. ایضاً، ص: 175
  50. ایضاً، ص: 176
  51. ایضاً، ص: 176-177
  52. شہریار، کلیاتِ شہریار، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2008ء، ص: 485
  53. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 178
  54. ایضاً، ص: 181
  55. ایضاً، ص: 182
  56. ایضاً، ص: 184
  57. https://sufinama.org/poets/raghib-moradabadi/all?lang=ur Retrieved on 21 June 2024
  58. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 189
  59. ایضاً، ص: 190
  60. افتخار عارف، حرفِ باریاب، دہلی: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، 1996ء، ص: 11
  61. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 198
  62. ایضاً، ص: 201
  63. رضوان الرضا رضوان، ڈاکٹر، ادراک کے سائے تلے، علی گڑھ: ایویروز اکیڈمی، 2014ء، ص: 48
  64. فرانز کافکا، پُراسرار مقدمہ، مترجم: رحم علی الہاشمی، نئی دہلی: ناولستان جامعہ نگر، 1980ء
  65. البرٹ کامیو، طاعون، مترجم: انیس ناگی، لاہور: گوتم پبلشرز، 1993ء
  66. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 212
  67. ایضاً، ص: 213
  68. سعادت حسن منٹو، منٹو کے افسانے، لاہور: مکتبہ اُردو، 1941ء، ص: 223
  69. سعادت حسن منٹو، کالی شلوار، لاہور: ظفر برادرز، 1941ء، ص: 19
  70. ساحر لدھیانوی، کلیاتِ ساحر، لاہور: فرید بک ڈپو، سن ندارند، ص: 475
  71. مرزا ہادی رسواء، امراؤ جان ادا، نئی دہلی: مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، 2012
  72. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 219
  73. ایضاً، ص: 221
  74. https://www.rekhta.org/poets/arif-imam/ghazals?lang=ur Retrieved on 22 June 2024
  75. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 232
  76. https://www.rekhta.org/poets/baqi-siddiqui/all?lang=ur Retrieved on 22 June 2024
  77. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 236
  78. ایضاً، ص: 239
  79. ایضاً، ص: 243
  80. سلیم اختر، ڈاکٹر، تین بڑے نفسیات دان، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2016ء، ص: 77
  81. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 246
  82. فیض احمد فیض، نسخہ ہائے وفا، دہلی: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، 1984ء، ص: 116
  83. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 253
  84. سجاد باقر رضوی، ڈاکٹر، مغرب کے تنقیدی اصول، اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان پاکستان، 2012ء، ص 57
  85. مجید امجد، کلیاتِ مجید امجد، مرتب: ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، لاہور: فرید بک ڈپو، 2011ء، ص: 352
  86. انیس ناگی، چوہوں کی کہانی، لاہور: سارنگ پبلی کیشنز، 1995ء
  87. میر امن دہلوی، باغ و بہار، مرتب: رشید حسن خاں، دہلی: انجمن ترقی اردو، 1992ء
  88. شمس الرحمٰن فاروقی، کئی چاند تھے سرِ آسماں، کراچی: شہرزاد، 2006ء
  89. اصغر ندیم سید، جہاں آباد کی گلیاں، لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، 2023ء، ص: 280
  90. ایضاً، ص: 296

Leave a Reply