You are currently viewing اردو اور گوجری زبان کا لسانی رشتہ

اردو اور گوجری زبان کا لسانی رشتہ

ڈاکٹر لیاقت علی

اردو اور گوجری زبان کا لسانی رشتہ

تلخیص/Abstract

گوجری زبان، جو برصغیر کی قدیم زبانوں میں شمار ہوتی ہے، وسط ایشیا سے ہجرت کرنے والی گوجر قوم کے ذریعے ہندوستان میں رائج ہوئی اور ایک زمانے میں لینگوا فرینکا (مشترکہ عوامی زبان) کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔تحقیقی شواہد کے مطابق گوجری زبان نے برصغیر کی متعدد علاقائی زبانوں جیسے پنجابی، سندھی، راجستھانی، مارواڑی، دکنی اور کھڑی بولی کو متاثر کیا، اور اردو زبان کی بنیادیں بھی گوجری زبان و ادب پر استوار ہوئیں۔ متعدد صوفی شعرا جیسے امیر خسروؔ، شاہ باجنؔ، اور سید نورالدینؔ ست گرو کے کلام میں خالص گوجری الفاظ کی جھلک ملتی ہے، جو اردو کے ابتدائی شعری سرمائے میں شامل ہیں۔

اس مضموں  میں اردو اور گوجری کے صرفی و نحوی اشتراک جیسے ضمائر، مصادر، جملوں کی ساخت، افعال اور روزمرہ محاورات کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی جموں و کشمیر میں رائج گوجری زبان کے موجودہ ادبی سرمائے اور معروف شعرا کے نمونے پیش کر کے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ گوجری زبان آج بھی اردو کے شانہ بشانہ شعری و نثری اصناف میں زندہ ہے۔

کلیدی الفاظKey Words/
اردو، گوجری، لسانی رشتہ، تقابلی لسانیات، صوتیات، صرف و نحو، آریائی زبانیں، دکن، دہلی و دوآبِ گنگ و جمنا، گوجر قوم، لینگوا فرینکا، تاریخی اثرات، عربی و فارسی اثرات، جموں و کشمیر، قواعدی مماثلت، ذخیرۂ الفاظ، ضمائر و افعال، مصادر، محاورات و ضرب الامثال، صوفیانہ کلام، امیر خسروؔ، جمیل جالبی، جی۔اے۔ گریئرسن، قدیم اردو، دکنی اردو، گجرات، راجستھانی/پنجابی/سندھی اثرات، گوجری ادب، صنفِ سخن کی مماثلت، مزید تحقیق۔

                                                                                                                                                                          

نسل انسان کا ارتقا عرب سے شروع ہوا تو زبان کا ارتقا بھی لازمی بات ہے  وہاں سے شروع ہوا ہو۔ حضرت آدم نسل انسانی کے جد امجد ہیں اور تمام دنیا ان کی اولاد ہے ۔ لہذا تمام زبانیں بھی ان کی زبان سے پھوٹتی ہیں۔ برصغیر ہندو پاک کوسیکڑوں زبانوں اور بولیوں کی وجہ سے زبانوں کا گھر کہا جاتا ہے ۔   ان زبانو ں اوربولیوں کو کسی حد تک  جغرافیائی حد بندیوں اور دور قدیم میں رسل و رسائل اور حمل و نقل کے ذرایع کے فقدان کا نتیجہ  کہہ سکتے ہیں۔ لیکن دور جدید جسے سائنس کا دور کہتے ہیں ،  میں سائنسی ایجادات و اختراعات کی بدولت یہ  فاصلے  گھٹ گئے ہیں اور آج پوری دنیا ایک علمی گاؤں میں سمٹ کر رہ گئی ہے ۔ ایسے گاؤں کو ظاہر ہے ایک  ایسی زبان  کی ضرورت ہے جو ذریعہ افہام ہو اور یہ زبان انگریزی ہے  لیکن اس کے ساتھ اگر یہ بھی کہا جائے کہ اردو زبان جسے صرف بر صغیر ہندو پاک کی زبان  سمجھاجاتا تھا آج دنیا کے کونے کونے میں اپنی بستیاں بسائے ہوئے ہے تو غلط نہ ہوگا۔اردو زبان  کی پیدائش اور اس کے مولد کے بارے میں متعدد نظریات پیش کئے گئے جن کا اظہار کرنا بے محل ہے  لیکن  اب یہ بات مزید محتاج تحقیق نہیں رہی کہ اردو جو جدید آریائی  زبان  ہےجس کا مولدو منشادہلی اور دو آب گنگ و جمن ہے ۔ بہر حال میرا روئے سخن اردو اور گوجری زبان کا لسانی رشتہ ہے تو براہ راست اپنے موضوع کی طرف چلتا ہوں ۔

گوجری زبان جو ہندوستان کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے  نہ  صرف بر صغیر ہند و پاک  میں بلکہ افغانستان ، وسط ایشائی ریاستوں سے ہو کر شمالی اور جنوبی یورپ تک بولی جاتی ہے ۔ہندوستان میں گوجری  زبان کےتاریخی شواہد پانچویں صدی عیسوی کے بعد ہی ملتے ہیں اور پھر تیرہویں صدی عیسوی تک ہندوستان میں گوجر حکومتوں کے واضح ثبوت دیکھنے میں آتے ہیں ۔مولوی عبدالمالک مرحوم نے اپنی کتاب ” شاہان ِ گوجر” میں لکھا ہے ” گوجر قوم کا تعلق آریا ء نسل سے تھا مگر ہندوستان میں آنے کا زمانہ یقین کرنا مشکل ہے “وہ مزید اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پہلی صدی تا پانچویں ق م ہو سکتی ہے۔   ایک اور مقام پر انہوں نے لکھا ہے کہ گوجر وسط  ایشیا سے آئے  لکھتے ہیں کہ ” وسط ایشیا میں خانہ بدوشوں کے درمیان جنگ ہوئی یہ جنگ مہینوں جارہی ۔ گوجر قوم بحرہ خذر کے ساتھ ساتھ آباد تھی یہ بحرہ حذر سے ہجرت کر کے ہندو کش کے دشوار گزار پہاڑوں کو عبور کر کے کابل ، پنجاب ، کشمیر اور ہزارہ میں آباد ہوئے۔ اس کے بعد گوجروں کے  ہجرت کا سلسلہ جاری  رہا۔”اس طرح کے بے شمار نظریات موجود ہیں جن  کو یہاں بیان کرنے کی  گنجائش نہیں ۔ لیکن یقیناً  ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ  اس دور میں گوجری عالمگیری  زبان  رہی ہوگی اور اسی زبان کو سر پرستی بھی رہی ہوگی ۔ اس دور میں ادیبوں اور شاعروں نے کافی مقدار میں گوجری ادب تخلیق کیاجس  میں شعر ی ادب زیادہ ہے اور وہ بھی اکثر صوفیانہ کلام ہے۔ ان شعراء میں سید نورالدین ست گرو، حضرت امیر خسروؔ، شاہ میراں جی، شاہ باجن ، شاہ علی جیوگامی، برہان الدین جانم ، خوب محمد چشتی اور امین گجراتی کے  نام قابل ذکر ہیں جن کے گوجری کلام کو آگے پیش کیا جائے گا۔ گوجری زبان کو  ہندوستان میں خاص کر  گجرات میں مرکزی حیثیت حاصل رہی۔   ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی ” تاریخ اردو ادب ” میں لکھتے ہیں “جب دکن میں اردو  کے نئے مراکز ابھرے تو وہاں کے اہل علم ادب نے قدرتی طور پر گوجری ادب کی روایت کو اپنایا۔ دکن میں جب اردو کا چرچا ہوا اور اسے سرکاری دربار کی سرپرستی حاصل ہوئی تو وہاں کے ادیبوں اور شاعروں کی نظر گوجری ادب پر ہی گئی اس ادب کو معیار تسلیم کر کے انہوں نے اس ادب کے تمام عناصر کو اپنے ادب میں جذب کر لیا۔” ڈاکٹر جمیل جالبی سترہویں صدی تک گوجری زبان کی ادبی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو بولنے والوں کو گوجری سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی کیونکہ  گوجری زبان اور اردو کا لسانی رشتہ بہت قریبی ہے  بلکہ یہ کہا جائے تو کوئی مغالطہ نہیں ہو گا کہ  اردو زبان کی بنیادیں ہی گوجری ادب پر ہیں۔

بر صغیر ہند و پاک  کی یہ  زبانیں گوجری  زبان سے بہت متاثر ہیں مثلاً  پنجابی ، سندھی، مارواڑی ، میواتی ، گجراتی ، جودھپوری، برج بھاشا،دکنی اور کھڑی بولیاں وغیرہ ۔ڈاکٹر غلام حسین اظہرؔ ایک مضمون رقمطراز ہیں:

” گوجری زبان کی گرائمر بہت اہم حقائق کی نشاندہی کرتی ہے ۔ اس کے مطالعے  سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ اس زبان کی وسعت اور مختلف زبانوں سے اس کی گہری مماثلت ہے ۔ مثلاً برج بھاشا ، راجستھانی، میواتی اور سندھی سے یہ زبان کئی لحاظ سے مماثل ہے۔”1؎

اظہر غلام حسین:  گوجر ی اور اردو- گوجری گرائمر کی روشنی میں ، ص 283۔

ڈاکٹر  جمیل جالبی ؔ  ” تاریخ ادب اردو ” میں ایک اور مقام پر یوں رقمطراز ہیں :

“اسی زبان کا ایک روپ ہمیں گجرات میں ملتا ہے جسے ” گجری”یا بولئی گجرات” کا نام دیا جاتا ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب گوجر قوم فاتح کی حیثیت سے ہندوستان میں داخل ہوئی تو اس نے اپنے جنوبی مقبوضات کے تین حصے کئے ۔ سب سے بڑے حصے کا نام مہاراٹھ ، دوسرے کا گوجر راٹھ اور تیسرے کا سوراٹھ رکھا۔ ہندوستان کے ترک فاتحوں نے گوجر راٹھ ان کی زبان سے ادا ہونا مشکل تھا، گجرات بنا دیا۔ براعظم کے مغرب اور مکر ان و سندھ کے نیچے ، خلیج گچھ سے ملحق علاقہ آج بھی ترک فاتحوں کے اسی نام ” گجرات ” سے موسوم ہے ۔2؎

جالبی،ڈاکٹر جمیل: تاریخ اردو ادب جلد اول،  ص 89

حافظ محمود شیرانی جنہوں نے صوفیائے کرام اور شعراء کے گم گشتہ کلام کو بڑی جانفشانی سے منظر عام پر لایا ۔ گوجری زبان کے متعلق یہ کہا:

گوجری سے مراد مسلمانان ِ گجرات کی اردو ہے ۔ گوجری یا گجری کی اصطلاح دیر تک استعمال ہوتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بارہویں صدی ہجری کی ابتدا ء میں بھی اس کا رواج پایا جاتا ہے ۔”3؎

مقالات حافظ شیرانی جلد اول مرتبہ مظہر محمد شیرانی ص 282

یورپین مایر لسانیات جارج گریئرسن کے مطابق:

گوجر معمولی حکمران نہ تھے بلکہ وہ ایک عام زبان بولتے تھے جو لینگو افرانکا کی حیثیت سے ملک میں رائج تھی۔ جو ان کے زیر ِ حکومت تھا۔ ان کی یہ زبان ایک الگ حیثیت کی حامل تھی جس کو ” گوجری” کہتے تھے جو مختلف مقامات پر ذرا سے مختلف لہجے میں بولی جاتی تھی۔”4؎

G.A Grierson,The linguistic survey of India vol-I. P-10.

متذکرہحوالاجات کے علاوہ  دیگر حوالے بھی تواریخ کی کتب میں موجود ہیں لیکن اس مختصر مقالے میں تفصیلاً احاطہ کرنا مشکل ہے۔ ان حوالاجات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گوجری زبان بر صغیر ہند و پاک کے ہر خطے میں تھوڑے بہت لہجے کےفرق کے ساتھ باقاعدہ طور پر عوامی اور سرکار ی زبان رہی ہے ۔جس وقت  گوجری زبان نے اپنی مرکزیت کھو دی تو یہ زبان مقامی لہجوں میں تقسیم ہو گئ اور  گوجری زبان کی ادبی بنیادوں پر دوسری زبانوں کے ڈھانچے تعمیر ہونا شروع ہو گئے۔ کہیں گجراتی کہیں راجستھانی ، کہیں ہریانوی ، کہیں سندھی، کہیں پنجابی اور کہیں ہندوستانی کا نام دے کر اردو اور ہندوی زبانوں نےبھی اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ جموں و کشمیر میں  گوجر چونکہ مذہب اسلام کو ماننے والے ہیں اس لئے جموں و کشمیر میں بولی جانے والی گوجری زبان پر عربی اور فارسی کے واضح اثرات دیکھنے میں آتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں کئی معروف بولیاں رائج ہیں لیکن آٹھ معروف اور اہم زبانوں  یعنی کشمیری ، پہاڑی،ڈوگری، بلتی ، دردی ، پنجابی ،لداخی اور گوجری  کو جموں و کشمیر کا آئینی   تحفظ حاصل  ہے۔ گوجری  زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لئے قائم ” اکیڈمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگویجز”میں پہاڑی اور گوجری کے لئے ایک ساتھ شعبہ قائم کیا گیا ہے  یہاں ان زبانوں میں مختلف موضوعات پر سالانا بیسوں کتب شائع ہوتی ہیں ۔

The undying spirit  کے فاضل مصنف میجر جنرل (ریٹائرڈ) طارق نظامی نے کشمیر کی معروف زبانوں کی فہرست یوں کی ہے :

The main language are sena, Balti, ladakhi and Tibetan in north and kashmiri, Punjabi, Dogri, Pahari, Hindko and Gojri in the rest of the state”.5؎

Nizami Tariq, Gen.(R), Undying spirit. P-6

گوجری زبان و ادب اور اس کے قبیلے کی نشاندہی کرتے ہوئے عبدالباقی نسیم اپنے ایک مضمون ” گوجر اور گوجری زبان ” (دیباچہ سانجھو کھلاڑو) میں رقمطراز ہیں  :

“گوجری زبان و ادب اس بد نصیب اور خود فراموش گوجر قوم کا ورثہ ہے جو  برصغیر کی ایک قدیم ترین اور عظیم ترین قوم ہے ۔ اس قوم کے بادشاہوں راجوں مہاراجوں اور سلاطین و وزراء نے صدیوں نہیں بلکہ ہزاروں سال تک دنیا کے وسیع خطوں اور براعظموں پر حکومت کی ہے۔”6؎

مقالات حافظ محمود شیرانی جلد اول مرتبہ مظہر محمود شیرانی ،  ص 283

جموں و کشمیر میں بولے جانے والی گوجری یا پھر قدیم گوجری کا یہا ں تک اردو زبان  سے تعلق ہے تو  اصولِ قواعد کے مطابق گوجری اور اردو کے لسانی رشتے کی گہرائی اور اشتراکیت بہت مماثل ہے ۔ ان کی صرفی نحوی تراکیب ، فعلی مادوں ، مصادر، فعلی تراکیبوں ، کلمات استفہامیہ ، کلمات اشارات، کلمات زمانی، شخصی ضمائر ، اعداد تو صیفی محاورات، ضرب الامثال ، کہاوتیں ذخیرہ الفاظ ، تراکیب و بندش، جملوں کی ساخت لہجے اور روایات ، تلمیحات و اشارات اور طرز ِ فکر و احساس دونوں زبانوں میں مشترک ہیں۔مثال کے طور   گوجری زبان کے نمونےدیکھیے جس نے بعد میں اردو کا نام حاصل کیا اور یہ ہی اردو زبان کی بنیاد بھی ہے۔

یو سوارتھ کو جیو ڑ و سوار تھ چھوڑ نہ جائے

جب گوبند کی کرپا کری مارو منود سمجھیو آئے 7؎

مسعود حسین خان ڈاکٹر، مقدمہ تاریخ زبان اردو،  ص 69، 70

٭٭٭

جیو کسو نہ بھلی دھن پنو کا سونہ اٹھو

دونی دی اوسری وادی تن سو ان گنائی ڈٹھو 8؎

در دروازے جاء ِ کے کیئوڈٹھو گھڑیال

ایہہ ندوسا ماریئے ، ہم دوساں دا کیا حال؟ 9؎

بار پرائے بیسنا سائیں مجھے نہ دیہہ

جے توں ایویں اکھسی ، جیو سریروں لیہہ 10؎

٭٭٭

تنہا ںمکھ ڈراونے جنہاں وساریو ناؤں

ایتھے دکھ گھنیرے آگے ٹھور نہ ٹھاؤں11؎

٭٭٭

پچھلی رات نہ جاگیو جیو ندڑو مویوں

جے تیں رب وساریا رب نہ وسریوں 12؎

بابر علی سید،  مرتبہ کلام بابا فرید، ص  5، 23، 38، 55

مذکورہ بالا اشعار تیرھویں صدی کے ہیں جو قدیم اردو کے نمونے ہیں لیکن ان اشعار کا اگر آج کی گوجری سے موازنہ کیا جائے تو  کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ مثلاً بیسنا(بیٹھنا)، ٹھور(تھوڑا)، جنہاں (جن کو)، تنہاں(ان کو)، میرو(میرا)، کیئو ڈتھو( کیا دیکھا)اور پھر آخری شعر تو پورا آج کی گوجری زبان پر مشتمل ہے جس میں جاگیو(جاگا)، جیوندڑو(زندہ)، تیں(تم نے)، وساریا(بھول جانا)، نہ وسریو(نہیں بھولا) وغیرہ الفاظ آج بھی گوجری زبان کا سرمایہ ہیں۔

امیر خسروؔ کے کلام کا اگر بغورمطالعہ کیا جائے تو جا بجا گوجری کلام  کا سامنا ہوگا:

ایسو پیر پایو نظام الدین اولیاء

عرب یار تیرو بسنت منایو13 ؎

نیاز احمد بسم اللہ، اردو گیت، ص 134

اس شعر میں ایسو(ایسا)، پایو(پانا) تیرو( تیرا)، منایو(منایا)وغیرہ خالص گوجری زبان کے الفاظ ہیں۔

حضرت بندہ نواز گیسو دراز کا رسالہ معراج العاشقین جیسے ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدائی نثر مانا ہے کی ایک مختصر عبارت نمونے کے طور پر پیش ہے :

“ایک تن کوں پانچ دروازے ہیں ۔ ہور پانچ دربان ہیں۔پَیلا تن واجب الوجود ، مقام اس کا شیطانی۔”14؎

مولوی عبدالحق ڈاکٹر ،  اردو کی ابتدائی نشونما میں صوفیا کرام کا کام، ص 62

اس عبارت میں تن (جسم)،   ہور(اور)، پَیلا(پہلا) جیسے الفاظ گوجری کا ثبوت ہیں جن کا مطالعہ کرنے کے بعد ڈاکٹر جمیل جالبی نے کہا:

“یہ گجری اردو کی بنیادی خصوصیت رہی ہے کہ اس نے دیسی الفاظ کو کثرت سے اپنے دامن میں جگہ دی ہے ۔ سارے قدیم گجری شعراء اسی زبان و بیان کے ترجمان ہیں ۔”15؎

جمیل جالبی ڈاکٹر ،  تاریخ ادب اردوحصہ اول، ص 423

مشترکہ زبان گوجری اور اردوکےباہمی اشتراک کو اگر قواعد یعنی علم ہجا، علم صرف اور علم نحوکے ترازوں میں تولا جائے تو بے شمار مثالیں مل جاتی ہیں۔ مثلاً:

لفظ  موضوع:

اردو                        گوجری

کھانا               :         کھانا/کھانو

عبادت             :         عبادت

نیک               :         نیک

مکان              :         مکان

کلمہ/جملہ:

اردو                            گوجری

قران مجید اللہ کی کتب ہے                  قران اللہ کی کتاب ہے

ہر مسلمان پر نماز فرض ہے                 ہر مسلمان پر نماز فرض ہے

اردو ، آخر میں (ا ) آتا ہے جبکہ گوجری میں (و) ، جمع کی صورت میں (ا) آخر میں آتا ہے جبکہ اردو میں (ین ، ئے) وغیرہ آتے ہیں۔ مثلاً:

          اردو                            گوجری

          میں اسکول جاؤں گا                       ہوں اسکول جاؤں گو

          وہ کہاں گئے ہیں                         ویہہ کیاں گیا ہیں

          وہ آتا رہے گا                            وہ آتو رہے گو

          ہم آتے رہیں گے                        ہم آتا رہاں گا

          وہ روئے گا                     وہ روئے گو

اردو میں “ہوں ” کوئی الگ ضمیر نہیں جبکہ گوجری میں” ہوں” (میں) ایک ضمیر ہے جو واحد مونث یا مذکر متکلم کو ظاہر کرتی ہے۔ مثلاً:

          اردو                            گوجری

            میں رو رہی ہوں                        ہوں رو رہی ہوں

          میں پکڑوں                             ہوں پکڑوں

          میں گئی ہوں                             ہوں گئی ہوں

اب تک تو قدیم اردو اور گوجری کے اشتراک  کے ثبوت پیش کئے گے جو کافی حد تک لازم و ملزوم ہیں ۔ جموں و کشمیر میں بولی جانے والی گوجری زبان کے گوجری شعرا کے کلام کو بھی نمونے کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے تا کہ اندازہ ہو سکے کے کس قدر گوجری زبان اور اردو میں مماثلت ہے :

خیراں نال رب اپنو دیس دسے پورو ہوئے ارمان تمام میرو

ذبیعؔ پونچھ ، کشمیر روجور ، جموں سارا دیس ناں ہوئے سلام میرو 16؎

ذبیع ،محمد اسماعیل ، انتظار ، ص 49

س۔ سال کئی گزریا بچھڑیا ں ناں گزر گئی اک عمر تنہائیاں ماں

حائل ہوئی بچکا ر دیوار پہڑی انگا اونگا کا سجناںپہیائیاں ماں 17؎

ایضاً۔۔۔ ص 90

ڈاکٹر صابر آفاقی جنہوں نے گوجری زبان و ادب کی آبیاری میں کافی محنت کی ۔ حمد کاایک نمونہ ” پیغامِ انقلاب” سے :

نیلو فرش بچھایو ، رب نے                   تنبو اُچولایو، رب نے

سارو جگ لشکایو ، رب نے                  لاٹو ایک جلایو رب نے

فر اس ماں انسان بنایو

رونق  کو  سامان  بنایو

ایک نظم سے ایک بند :

اپنو آپ سیان رےپہائی                  خود ناںہن پہچان رے پہائی

سچا رب ناں جان رے پہائی       یوای کہے قرآن رے پہائی

اپنی ذات نظارہ دیہے

فطرت کا لشکارا دیہے18؎

آفاقی صابر ڈاکٹر ، پیغام انقلاب ، ص 28، 42

میاں نظام الدینلارویؔ جو بہت بڑے صوفی تھے۔ ان کلے گوجری کلام سے ایک شعر ملاحظہ ہو:

اتھرواں  نا  پچھے  کوئی  دسو  کتوں  آویں  تم

کڈھ کے رَت کلیجہ بچوں پانی کیوں بنانویں تم

محمد اسرائیل اثرؔ:

چھپا رکھیو تھو آج تک راز الفت میں زمانہ تیں

توں بُلبُل کس تیں سن آئی اثرؔ کا دل کو افسانو 19؎

آفاقی ، صابر ڈاکٹر، گوجر ی ادب، ص 22، 24

متذکرہ بالا قدیم اردو کلام اور گوجری کلام کے درمیان بحث سے ان کا آپسی رشتہ تلاش کرنا مشکل نہیں، چونکہ دونوں زبانوں کی صوتیات ایک جیسی ہیں اور بغور مطالعہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ گوجری صوتیات بہت قدیم ہیں جبکہ اردو زبان جدید ہے ۔ مجموعی طور پر یہ کہ اردو کے شانہ بہ شانہ آج کی گوجری زبان میں بھی تمام اصناف سخن موجود ہیں۔ جن کے مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گوجری زبان شعر و نثر دونوں میں بہت زرخیز ہےاور اردو اور گوجری کےلسانی رشتے میں  جتنی گہرا ئی  ہے اس کو مزید تحقیق کی  ضرورت ہے ۔اس مقالے کا اختتا م گوجری شاعر محمد اسرائیل مہجورؔ کے ان اشعار سےکرتا ہوں:

بولی   گوجری   ہن   کا   گوجراں   کی               رہی  نہیں  ہُن  جنہاں  کی  شان  پہلی

انہاںگلاںناں کد ویہہ لوک سمجھیں                  نہیں  جنہاں  کی   جان   پہچان    پہلی

پتو  کسے  بھی  گل  کو  لگے  تا ہیں                 دیکھے    جد    تاریخ    انسان     پہلی

رہیا جگ   تیںاج   مہجورؔ   پچھے                 پہلا  لوک   تے   نالے  زبان  پہلی

گوجری   جہی    زبان       کہڑی                  اردو   اس   کی ہوئی    اولاد    پیدا 20؎

راجوری، مہجورؔ محمد اسرائیل ، نغمہ کہسار ،  ص  73

ترجمہ: آج کے گوجروں کی زبان گوجری ہے لیکن اب اس کی پہلے والی شان نہیں رہی اور اس کو وہ لوگ نہیں سمجھتے جو اس کو نہیں پہچانتے۔ پرانی باتوں کا پتا چلتا ہے جب قدیم تاریخ کا مطالعہ کیا جائے آج وہ لوگ بہت پیچھے رہ گے ہیں جن کی یہ زبان تھی۔ جس بیٹے کی ماں اچھی ہوتی ہے اس کا بیٹا بھی اچھا ہوتا ہے۔  گوجری جیسی زبان کوئی نہیں ، اردو اسی زبان کی اولاد ہے۔

  1. LIAQAT AL

Assistant Professor (Urdu)

Discipline of Urdu, School Of Humanities,

IGNOU, Maidan Garhi, New Delhi-110068.

Mobile: +91-7051446156

E-mail: liaqatali@ignou.ac.in

Leave a Reply